۲-پطرس 1
متن
پطرس رسول اپنے آخری ایام میں یہ خط لکھ رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کے جسم کی "جھونپڑی" جلد ڈھا دی جائے گی، اِس لئے وہ ایمان داروں کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ اللہ نے اُنہیں سب کچھ عطا کیا ہے تاکہ وہ خدا ترس زندگی گزار سکیں، اور اِسی بنا پر اُنہیں ایمان میں اخلاق، علم، ضبطِ نفس، ثابت قدمی اور محبت کی سیڑھی چڑھنی ہے۔ آخر میں وہ کوہِ تبدیلی کا وہ منظر یاد کرتا ہے جہاں اُس نے اپنی آنکھوں سے مسیح کا جلال دیکھا تھا، اور نبیوں کے کلام کی روشنی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اصل نکتہ
یہ خط ایک بوڑھے آدمی کی وصیت ہے جو موت کے دروازے پر کھڑا ہے۔ اور اُس کی وصیت یہ نہیں کہ "ہمت مت ہارنا"، بلکہ یہ کہ اللہ نے اپنی الٰہی قدرت سے پہلے ہی سب کچھ دے دیا ہے، اب تمہارا کام ہے کہ "پوری لگن سے کوشش" کرو۔ یہاں فضل اور محنت آپس میں لڑتے نہیں، ایک دوسرے کو تھامتے ہیں۔ ایمان دار "اُس کی الٰہی ذات میں شریک" ہو جاتا ہے، یہ حیرت انگیز فقرہ ہے، مطلب یہ نہیں کہ انسان خدا بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ اُس کے کردار میں اُس کے ساتھ شرکت پاتا ہے۔ اِسی لئے فہرست ایمان سے شروع ہو کر محبت پر ختم ہوتی ہے۔
مشترک دھاگہ
کوہِ تبدیلی کا حوالہ اتفاق نہیں۔ پطرس اُس لمحے کو یاد کرتا ہے جب باپ کی آواز نے کہا، "یہ میرا پیارا فرزند ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔" یہ وہی الفاظ ہیں جو یسعیاہ کے خادم اور زبور کے بادشاہ کی گونج ہیں۔ پطرس اپنی کہانی کو کوئی نئی روحانی تحریک کے طور پر نہیں، بلکہ نبیوں کے پیغام کی تکمیل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ "پَو پھٹ کر صبح کا ستارہ" کا تصور بھی پرانے عہد نامے سے آتا ہے، مسیح ہی وہ روشنی ہے جس کی طرف تمام انبیاء کی چراغیں اشارہ کرتی تھیں۔ یہاں پرانا اور نیا عہد ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
آئینہ
یہ فہرست، ایمان سے محبت تک، ہمارے وقت کی روحانیت کو بےچین کر دیتی ہے۔ ہم "ایمان" پر رک جانا پسند کرتے ہیں، جیسے کہ ذہنی طور پر مسیح کو قبول کر لینا کافی ہو۔ پطرس کہتا ہے: ایمان صرف پہلا زینہ ہے۔ اگر آپ کے کاروبار میں دیانت داری نہیں (اخلاق)، اگر آپ اپنے غصے یا خواہشات پر قابو نہیں پا سکتے (ضبطِ نفس)، اگر مصیبت میں آپ فوراً بکھر جاتے ہیں (ثابت قدمی)، اگر آپ کے گھر میں بہن بھائیوں سے شفقت نہیں، تو پطرس کے مطابق آپ "اندھے" ہیں اور "بھول گئے" ہیں کہ آپ کو کس چیز سے پاک کیا گیا تھا۔ یہ سخت لفظ ہے۔ لیکن یہ اُس شخص کا لفظ ہے جس نے خود مسیح کو تین بار جھٹلایا تھا اور واپس بحال کیا گیا تھا۔
سوال
اگر اللہ نے "الٰہی قدرت سے ہمیں وہ سب کچھ عطا کیا ہے"، تو پھر "پوری لگن سے کوشش" کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ کیا یہ تضاد نہیں؟ پطرس اِس کشیدگی کو حل نہیں کرتا، وہ اِس میں رہتا ہے۔ شاید اِسی لئے کہ ایمان کی زندگی ایک مشین نہیں جسے چالو کر کے چھوڑ دیا جائے۔ فضل بیج ہے، لیکن بیج کو بڑھنا پڑتا ہے، اور بڑھنے میں ہماری شرکت ہوتی ہے۔ یہ راز ختم نہیں ہوتا، لیکن اِسے قبول کرنے سے ہم دو غلطیوں سے بچتے ہیں: نہ ہم اپنی محنت پر فخر کر سکتے ہیں، نہ ہم سستی کا بہانہ بنا سکتے ہیں کہ "سب کچھ خدا کرے گا"۔
پس منظر
پہلی صدی کے ایمان دار ایسے معاشرے میں رہ رہے تھے جہاں یونانی فلسفے نے جسم کو حقیر اور روح کو اعلیٰ سمجھایا تھا۔ ایسے میں جھوٹے استاد یہ کہتے تھے کہ چونکہ جسم بےکار ہے، اِس لئے اخلاقی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں، جو مرضی کرو۔ پطرس کے پہلے قاری اِس لہر میں ڈوب رہے تھے۔ جب پطرس "دنیا کی بُری خواہشات سے پیدا ہونے والے فساد" کی بات کرتا ہے، تو وہ کوئی فلسفیانہ گفتگو نہیں کر رہا، وہ اُن گھروں کی بات کر رہا ہے جہاں شراب، بدکاری اور لالچ نے ایمان داروں کو گھیر لیا تھا۔ اور جب وہ کہتا ہے "ہم چالاکی سے گھڑے قصے کہانیوں پر انحصار نہیں کر رہے تھے"، تو وہ اُس زمانے کے دیوتاؤں کے افسانوں کا جواب دے رہا ہے، ہمارا خداوند تصور نہیں، تاریخ ہے، ہم نے اُسے دیکھا تھا۔
بین المتون
"یہ میرا پیارا فرزند ہے" وہ آواز پہلی بار مسیح کے بپتسمے پر متی 3 میں سنائی دی تھی۔ پطرس اُس ایک لمحے کو دو بار یاد کرتا ہے، اپنی زندگی کے شروع میں اور آخر میں، جیسے وہ لنگر ہو جس
2 Peter 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-پطرس 1 کا کیا مطلب ہے؟
۲-پطرس 1 کس بارے میں ہے؟
۲-پطرس 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-پطرس 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-پطرس 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Peter 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پطرس جانتا تھا کہ اُس کا وقت قریب ہے: ”کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے جلد ہی اپنا یہ خیمہ چھوڑنا پڑے گا۔“ خیمہ، مکان نہیں۔ عارضی ٹھکانہ۔ اور یہ جان کر وہ خاموش نہیں بیٹھا بلکہ اور زیادہ یاد دلاتا رہا۔ تُو اپنے خیمے کو سجانے میں لگا ہے یا اُس میں رہتے ہوئے کسی کے کام آ رہا ہے؟
پطرس نے پہاڑ پر مسیح کا جلال اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، پھر بھی وہ ہمیں کلام کی طرف بھیجتا ہے: ”یہ ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جو کسی تاریک جگہ پر چمکتا ہے۔“ چراغ پوری رات کو دن میں نہیں بدلتا، وہ صرف اگلا قدم دکھاتا ہے۔ شاید آپ کے حالات کی تاریکی ابھی نہ ٹلے، لیکن جو روشنی آپ کے ہاتھ میں ہے وہ کافی ہے، جب تک صبح کا ستارہ آپ کے دل میں چمک نہ اُٹھے۔
اے خُداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو نے مجھے صرف ایمان پر نہیں چھوڑا، بلکہ پرہیزگاری، صبر اور دینداری کی نعمت بھی بخشی۔ شکر کہ تُو میرے نفس پر قابو پانے میں میری مدد کرتا ہے، اور آزمائشوں میں صبر سکھا کر مجھے اپنی صورت پر ڈھالتا جاتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
