خروج 15:26
متن
تین دن کی بےآب سرزمین کے بعد پانی تو ملا، مگر پینے کے قابل نہیں۔ اُسی کڑوے چشمے کے کنارے، جہاں لوگوں کے ہونٹ پھٹے ہوئے تھے اور زبانیں شکایت سے بھری تھیں، خدا اپنی قوم سے ایک عہد کی بات کرتا ہے: ”غور سے رب اپنے خدا کی آواز سنو! جو کچھ اُس کی نظر میں درست ہے وہی کرو۔ اُس کے احکام پر دھیان دو اور اُس کی تمام ہدایات پر عمل کرو۔“ اِس کے ساتھ ایک وعدہ جُڑا ہے اور ایک تنبیہ بھی: مصریوں پر آنے والی بیماریاں اسرائیل پر نہیں آئیں گی۔ اور آخر میں وہ نام جو پوری آیت کا وزن اُٹھاتا ہے: ”مَیں رب ہوں جو تجھے شفا دیتا ہے۔“
اصل بات
خدا یہاں کوئی نسخہ نہیں دیتا، اپنا نام دیتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ مَیں شفا کا بندوبست کروں گا، بلکہ کہتا ہے کہ شفا دینا میری ذات ہے۔ یہی فرق مذہب اور زندہ رشتے میں ہے۔ اور جو شرط اِس سے پہلے آتی ہے، وہ اجرت کمانے کی شرط نہیں بلکہ تعلق کی شکل ہے: سننا، دھیان دینا، عمل کرنا۔ یعنی اُس آواز پر بھروسا کرنا جو ابھی ابھی سمندر کو چیر چکی ہے۔ ساتھ ہی ایک سنجیدہ بات: جو ہاتھ شفا دیتا ہے وہی ہاتھ مصر پر بھاری پڑا تھا۔ خدا کی قدرت غیرجانب دار نہیں؛ اُس کے سامنے آپ یا تو فرعون کی جگہ کھڑے ہیں یا اُس قوم کی جگہ جو اُس کی آواز سنتی ہے۔ مارہ کا کڑوا پانی ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نجات دینے والا خدا روزمرہ کی پیاس سے بھی اُسی سنجیدگی سے نپٹتا ہے جس سے اُس نے فرعون کے رتھوں سے نپٹا۔
سلسلۂ کلام
مارہ میں ایک لکڑی کڑوے پانی میں ڈالی جاتی ہے اور پانی میٹھا ہو جاتا ہے۔ متن یہ نہیں بتاتا کہ لکڑی میں کوئی خاصیت تھی؛ اصل بات یہ ہے کہ موسیٰ نے التجا کی اور خدا نے راستہ دکھایا۔ لیکن تصویر رہ جاتی ہے: ایک درخت کا ٹکڑا، جو کڑواہٹ کے بیچ میں ڈالا جاتا ہے، اور کڑواہٹ ختم ہو جاتی ہے۔ صلیب کو زبردستی یہاں گھسیڑنے کی ضرورت نہیں، مگر نمونہ انکار بھی نہیں کیا جا سکتا: خدا کڑواہٹ کو بہا کر نہیں لے جاتا، وہ اُس میں کچھ داخل کرتا ہے۔ اور جو نام یہاں پہلی بار سنائی دیتا ہے، ”مَیں رب ہوں جو تجھے شفا دیتا ہے“، وہ صدیوں بعد گلیل کی گلیوں میں جسم اختیار کرتا ہے، جہاں کوڑھی کو چھوا جاتا ہے اور اندھے کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ مسیح شفا دینے والے خدا کا اعلان نہیں کرتے؛ وہ وہی خدا ہیں جو شفا دیتا ہے۔
آئینہ
آپ کی زندگی میں بھی کوئی مارہ ہے۔ شاید وہ رشتہ جو برسوں سے مرمت کا منتظر ہے، یا وہ تشخیص جو ڈاکٹر نے نرمی سے سنائی مگر وہ آپ کے سینے میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی، یا وہ ملازمت جہاں آپ ہر صبح دانت بھینچ کر جاتے ہیں۔ اور آپ بھی اسرائیل کی طرح حیران ہیں: جو خدا سمندر چیر سکتا ہے، وہ ایک چشمے کا ذائقہ ٹھیک کیوں نہیں کر دیتا؟ یہ متن آپ کی اُس خواہش کو بےنقاب کرتا ہے کہ خدا مسئلہ حل کرے اور پیچھے ہٹ جائے، جبکہ وہ خود کو دینا چاہتا ہے۔ ”غور سے رب اپنے خدا کی آواز سنو“ کا مطلب ہے کہ کڑواہٹ کے کنارے بھی کان کھلا رکھنا، نہ کہ صرف منہ۔
آج ایک کاغذ پر اپنی سب سے کڑوی صورتِ حال کا نام ایک جملے میں لکھیں، اور اُس کے نیچے بلند آواز سے یہ الفاظ پڑھیں: ”مَیں رب ہوں جو تجھے شفا دیتا ہے۔“
مشکل سوال
مگر ایک کانٹا باقی رہتا ہے۔ اگر فرمانبرداری سے بیماری ٹل جاتی ہے، تو کیا ہر بیمار شخص نافرمان ہے؟ ہم سب ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو خدا سے گہری محبت رکھتے تھے اور پھر بھی کینسر سے مرے۔ اِس آیت کو ایک میکانکی فارمولا بنا دینا ظلم ہے، اور ایوب کی پوری کتاب اُسی ظلم کے خلاف لکھی گئی ہے۔ یہاں خدا قوم سے بات کر رہا ہے، کسی فرد کی میڈیکل گارنٹی نہیں لکھ رہا، اور وہ جس چیز کا ذکر کرتا ہے وہ ”وہ بیماریاں… جو مصریوں پر لایا تھا“ ہیں، یعنی عدالت کی آفتیں، نہ کہ ہر بخار۔ پھر بھی تناؤ مکمل طور پر نہیں ٹوٹتا۔ متن ہمیں ایک وعدے کے ساتھ چھوڑتا ہے جس کی تکمیل ہم ہمیشہ اپنی زندگی میں دیکھ نہیں پاتے۔ اور شاید یہی ایمان کی اصل جگہ ہے: اُس نام پر بھروسا جب تجربہ اُس کی تصدیق نہیں کر رہا۔
پس منظر
یہ منظر مصر سے نکلنے کے چند ہی دن بعد کا ہے۔ ابھی مریم کا دف خاموش نہیں ہوا تھا، ابھی گیت کے بول ہوا میں تھے: ”رب میری قوت اور میرا گیت ہے۔“ پھر دشتِ شُور، اور تین دن بغیر پانی کے۔ قدیم مشرقِ قریب میں تین دن کا سفر ریوڑوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ موت کے قریب لے جاتا ہے۔ مارہ پہنچ کر اُمید جاگتی ہے اور فوراً ٹوٹ جاتی ہے؛ پانی ہے مگر کھارا۔ یہیں، فتح اور مایوسی کے درمیان، خدا ”اپنی قوم کو قوانین“ دیتا ہے، سینا سے بھی پہلے۔ یہ اتفاق نہیں۔ عہد کی پہلی کلاس آرام دہ مدرسے میں نہیں، پیاس کی حالت میں لگتی ہے، کیونکہ اطاعت وہیں حقیقی ثابت ہوتی ہے جہاں حالات اُس کے حق میں نہیں۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ الفاظ پہلی بار سن رہے تھے، وہ مصر کی آفتیں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے: پھوڑے، وبا، پہلوٹھوں کی موت۔ اُن کے لیے ”وہ بیماریاں جو مصریوں پر لایا تھا“ کوئی دھندلی تمثیل نہیں تھی بلکہ ایک تازہ یاد۔ وہ ایسے معاشرے سے نکلے تھے جہاں شفا دیوتاؤں اور جادوگروں کے منتروں سے مانگی جاتی تھی، جہاں بیماری کے لیے الگ معبود تھے اور ہر علاج کی ایک قیمت۔ اب وہ سنتے ہیں کہ جس نے فرعون کو ہرایا، وہی زخم باندھتا بھی ہے، اور اُس کا کوئی حریف نہیں۔ بعد میں، جلاوطنی کی نسلوں نے یہی آیت دوبارہ پڑھی اور پوچھا کہ ہم نے کیا سنا نہیں؟ اُن کے لیے یہ وعدہ سزا کا آئینہ بھی تھا اور گھر لوٹنے کی اُمید بھی۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا وہ کون سا ”مارہ“ ہے جہاں آپ خدا سے صرف حل مانگ رہے ہیں، اور اُس کی آواز سننے سے کترا رہے ہیں؟
اگر خدا کی شفا صرف جسم تک محدود نہیں، تو آج آپ کی زندگی کا کون سا حصہ سب سے پہلے اُس کے ہاتھ کا محتاج ہے؟
Exodus 15:26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 15:26 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 15:26 کس بارے میں ہے؟
خروج 15:26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 15:26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 15:26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Exodus 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
تیرا شکر ہے کہ تُو ابد تک بادشاہی کرتا رہے گا۔ دنیا کے تخت بدلتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں، مگر تیری حکمرانی قائم رہتی ہے۔ اسی لیے میرا دل خوف کے بجائے سکون پاتا ہے، کیونکہ میرا کل تیرے ہاتھ میں محفوظ ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں