بائبل کی تشریح

یسعیاہ 55

پڑھیں

متن

بابل کی گلیوں میں جیسے کوئی پھیری والا آواز لگاتا ہے، ویسے ہی خدا پکارتے ہیں: ”کیا تم پیاسے ہو؟ آؤ، سب پانی کے پاس آؤ!“ مگر یہ سوداگر قیمت نہیں مانگتا، بلکہ الٹا کہتا ہے کہ مَے اور دودھ مفت ہے، اور اُس محنت مشقت پر سوال اُٹھاتا ہے جو کبھی سیر نہیں کرتی۔ اِس دعوت کے ساتھ ایک عہد جُڑا ہے، وہی اَن مٹ مہربانیاں جن کا وعدہ داؤد سے ہوا تھا، اب پوری قوم کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ پھر لہجہ بدلتا ہے: ابھی تلاش کرو، ابھی پکارو، بُری راہ چھوڑو، کیونکہ خدا فراخ دلی سے معاف کرتے ہیں۔ اور باب اِس یقین پر ختم ہوتا ہے کہ خدا کا کلام بارش کی طرح خالی ہاتھ نہیں لوٹتا: جلاوطن خوشی سے نکلیں گے، پہاڑ گائیں گے، اور کانٹےدار جھاڑی کی جگہ جونیپر اُگے گا۔

اصل مرکز

یہاں دو معیشتیں آمنے سامنے ہیں۔ ایک وہ جس میں ہر چیز کی قیمت ہے، اور آپ کی قیمت اُتنی ہی ہے جتنی آپ ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری وہ جس میں دینے والا اتنا امیر ہے کہ قیمت مانگنا اُس کی توہین ہو گی۔ خدا سوال یہ نہیں کرتے کہ تمہارے پاس پیسے کیوں نہیں، بلکہ یہ: ”جو سیر نہیں کرتا اُس کے لئے محنت مشقت کیوں کرتے ہو؟“ یعنی مسئلہ آپ کی غربت نہیں، آپ کی غلط خریداری ہے۔ اور غور کیجیے کہ آیت ۸ کا وہ مشہور جملہ، کہ میرے خیالات تمہارے خیالات سے بلند ہیں، کسی مبہم اسرار کے بارے میں نہیں بلکہ آیت ۷ کی معافی کے بارے میں ہے۔ خدا کی سوچ ہم سے اِس لیے اونچی ہے کہ وہ اُس حد تک معاف کرتے ہیں جہاں ہمارا حساب کتاب ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہ فضل محض پیشکش نہیں؛ کلام بارش کی طرح کام کر کے ہی لوٹتا ہے۔

سلسلۂ نجات

آیت ۳ میں کچھ حیران کن ہوتا ہے۔ داؤد سے کیا گیا وعدہ، جو ایک خاندان اور ایک تخت سے بندھا تھا، اب ہجوم کے سامنے کھول دیا جاتا ہے: ”مَیں تمہارے ساتھ ابدی عہد باندھوں گا۔“ بادشاہت جلاوطنی میں ختم ہو چکی تھی، تخت خالی تھا، مگر خدا وعدہ منسوخ نہیں کرتے بلکہ اُسے چوڑا کر دیتے ہیں۔ اور آیت ۴ میں وہ شخصیت اُبھرتی ہے جو ”اقوام کے سامنے میرا گواہ“ اور ”اقوام کا رئیس اور حکمران“ ہو گا۔ پولس رسول نے انطاکیہ میں یہی آیات لے کر کہا کہ داؤد کی وہ اَن مٹ مہربانیاں مسیح کے جی اُٹھنے میں پوری ہوئیں (اعمال ۱۳)۔ یعنی مفت مَے اور دودھ کوئی خوش خیالی نہیں تھی؛ اُس کی قیمت بعد میں، صلیب پر، کسی اور نے ادا کی۔ دعوت مفت ہے، سستی نہیں۔

آئینہ

آپ جانتے ہیں کہ آپ کس چیز پر پیسے اور راتیں خرچ کر رہے ہیں۔ شاید وہ ترقی جو ملنے کے تین ہفتے بعد بےمزہ ہو گئی۔ شاید لوگوں کی رائے، جس کے لیے آپ ہر تقریب میں تھوڑا سا اپنے آپ کو بیچ آتے ہیں۔ شاید وہ فون، جسے آپ تھکن میں کھولتے ہیں اور اُس سے زیادہ تھک کر بند کرتے ہیں۔ یسعیاہ آپ کو کاہل نہیں کہہ رہا؛ الٹا وہ آپ کی محنت مانتا ہے اور اُسی کو المیہ کہتا ہے: اتنی مشقت، اور پھر بھی سیری نہیں۔ اور شاید سب سے گہری چبھن یہ ہے کہ آپ خدا کے ساتھ بھی وہی حساب کتاب چلاتے ہیں، کہ پہلے اپنے آپ کو قابلِ قبول بناؤں، پھر آؤں۔ آیت ۷ اُس دروازے کو توڑ دیتی ہے: خدا ”فراخ دلی سے معاف کر دیتا ہے“۔ آج ہی اپنے پچھلے ہفتے کا کیلنڈر یا اخراجات کھولیں، ایک اندراج پر انگلی رکھیں اور بلند آواز میں کہیں: ”یہ روٹی نہیں ہے“؛ پھر آیت ۱ کی دعوت زور سے پڑھیں۔

مشکل سوال

اگر سب کچھ مفت ہے تو آیت ۶ کیوں کہتی ہے ”ابھی رب کو تلاش کرو جبکہ اُسے پایا جا سکتا ہے“؟ اِس جملے میں ایک کھڑکی ہے جو بند بھی ہو سکتی ہے۔ فضل بےقیمت ہے، مگر لامحدود وقت تک دستیاب ہونے کی ضمانت متن نہیں دیتا۔ یہ بات ہمیں بےچین کرتی ہے، اور کرنی بھی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہمیشہ ہماری سہولت کے وقت پر منتظر ملیں۔ یسعیاہ اِس کی وضاحت نہیں کرتا کہ کھڑکی کب بند ہوتی ہے، اور اِس خاموشی کو بھرنا ہماری غلطی ہو گی۔ جو وہ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ ابھی وہ ”قریب ہی ہے“۔ ملتوی کرنا صرف سستی نہیں، وہ ایک فیصلہ ہے۔ اور دل کی سختی کوئی حادثہ نہیں ہوتی؛ وہ آہستہ آہستہ، ہر ٹالے ہوئے دن سے بنتی ہے۔

پہلے سننے والے

یہ لوگ بابل میں تھے، شکست خوردہ، بےتخت، اور اپنے پڑوسیوں کی نظر میں ایک ہارے ہوئے خدا کے پرستار۔ بابل کے بازار سامان سے بھرے تھے اور جلاوطنوں کی جیبیں ہلکی۔ ایسے میں ”پیسے دیئے بغیر خریدو“ محض روحانی استعارہ نہیں تھا؛ یہ اُن کی اصل بےبسی پر رکھی گئی انگلی تھی۔ اور آیت ۱۲ کا وعدہ کہ ”تم خوشی سے نکلو گے“ اُن کے کانوں میں مصر سے نکلنے کی گونج رکھتا تھا، مگر اِس بار جلدی اور خوف کے بغیر، سلامتی سے۔ کانٹےدار جھاڑی کی جگہ جونیپر کا اُگنا اُس صحرا کے بارے میں تھا جس سے اُنہیں گزرنا تھا۔ یعنی راستہ خود بدل جائے گا۔ وعدہ آسمانی نہیں، جغرافیائی تھا: گھر واپسی۔

کلام کی گونج

یسوع نے عید کے آخری دن یروشلم میں کھڑے ہو کر پکارا کہ جو پیاسا ہو وہ اُس کے پاس آ کر پیئے (یوحنا ۷)۔ لفظ، لہجہ اور کھلی آواز، سب یسعیاہ ۵۵ سے اُٹھائے گئے ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ اب پکارنے والا خود چشمہ ہے۔ اور پوری بائبل کے آخری صفحے پر یہی دعوت دوبارہ گونجتی ہے، جہاں روح اور دلہن کہتی ہیں ”آ“ اور پیاسے کو مفت زندگی کا پانی پیش کیا جاتا ہے (مکاشفہ ۲۲)۔ کتابِ مقدس ایک باغ سے شروع ہو کر ایک بازار کی صدا پر ختم ہوتی ہے، اور وہ صدا قیمت نہیں مانگتی۔ جو بارش آیت ۱۰ میں زمین پر گرتی ہے، وہ آخر میں بیج نہیں بلکہ ایک شہر اُگاتی ہے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ اِس وقت کس چیز کے لیے سب سے زیادہ محنت کر رہے ہیں، اور ایمانداری سے بتائیے: کیا وہ آپ کو سیر کرتی ہے؟

آیت ۷ کہتی ہے کہ خدا ”فراخ دلی سے معاف کر دیتا ہے“۔ آپ کے دل میں کون سی بات ہے جسے آپ خود سے بھی زیادہ فراخ دلی سے معاف ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 55 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 55 کا کیا مطلب ہے؟
بابل کی گلیوں میں جیسے کوئی پھیری والا آواز لگاتا ہے، ویسے ہی خدا پکارتے ہیں: ”کیا تم پیاسے ہو؟ آؤ، سب پانی کے پاس آؤ!“ مگر یہ سوداگر قیمت نہیں مانگتا، بلکہ الٹا کہتا ہے کہ مَے اور دودھ مفت ہے، اور اُس محنت مشقت پر سوال اُٹھاتا ہے جو کبھی سیر نہیں کرتی۔ اِس دعوت کے ساتھ ایک عہد جُڑا ہے، وہی اَن مٹ مہربانیاں جن کا وعدہ داؤد سے ہوا تھا، اب پوری قوم کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ پھر لہجہ بدلتا ہے: ابھی تلاش کرو، ابھی پکارو، بُری راہ چھوڑو، کیونکہ خدا فراخ دلی سے معاف کرتے ہیں۔ اور باب اِس یقین پر ختم ہوتا ہے کہ خدا کا کلام بارش کی طرح خالی ہاتھ نہیں لوٹتا: جلاوطن خوشی سے نکلیں گے، پہاڑ گائیں گے، اور کانٹےدار جھاڑی کی جگہ جونیپر اُگے گا۔
یسعیاہ 55 کس بارے میں ہے؟
آیت ۳ میں کچھ حیران کن ہوتا ہے۔ داؤد سے کیا گیا وعدہ، جو ایک خاندان اور ایک تخت سے بندھا تھا، اب ہجوم کے سامنے کھول دیا جاتا ہے: ”مَیں تمہارے ساتھ ابدی عہد باندھوں گا۔“ بادشاہت جلاوطنی میں ختم ہو چکی تھی، تخت خالی تھا، مگر خدا وعدہ منسوخ نہیں کرتے بلکہ اُسے چوڑا کر دیتے ہیں۔ اور آیت ۴ میں وہ شخصیت اُبھرتی ہے جو ”اقوام کے سامنے میرا گواہ“ اور ”اقوام کا رئیس اور حکمران“ ہو گا۔ پولس رسول نے انطاکیہ میں یہی آیات لے کر کہا کہ داؤد کی وہ اَن مٹ مہربانیاں مسیح کے جی اُٹھنے میں پوری ہوئیں (اعمال ۱۳)۔ یعنی مفت مَے اور دودھ کوئی خوش خیالی نہیں تھی؛ اُس کی قیمت بعد میں، صلیب پر، کسی اور نے ادا کی۔ دعوت مفت ہے، سستی نہیں۔
یسعیاہ 55 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اگر سب کچھ مفت ہے تو آیت ۶ کیوں کہتی ہے ”ابھی رب کو تلاش کرو جبکہ اُسے پایا جا سکتا ہے“؟ اِس جملے میں ایک کھڑکی ہے جو بند بھی ہو سکتی ہے۔ فضل بےقیمت ہے، مگر لامحدود وقت تک دستیاب ہونے کی ضمانت متن نہیں دیتا۔ یہ بات ہمیں بےچین کرتی ہے، اور کرنی بھی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہمیشہ ہماری سہولت کے وقت پر منتظر ملیں۔ یسعیاہ اِس کی وضاحت نہیں کرتا کہ کھڑکی کب بند ہوتی ہے، اور اِس خاموشی کو بھرنا ہماری غلطی ہو گی۔ جو وہ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ ابھی وہ ”قریب ہی ہے“۔ ملتوی کرنا صرف سستی نہیں، وہ ایک فیصلہ ہے۔ اور دل کی سختی کوئی حادثہ نہیں ہوتی؛ وہ آہستہ آہستہ، ہر ٹالے ہوئے دن سے بنتی ہے۔
یسعیاہ 55 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسوع نے عید کے آخری دن یروشلم میں کھڑے ہو کر پکارا کہ جو پیاسا ہو وہ اُس کے پاس آ کر پیئے (یوحنا ۷)۔ لفظ، لہجہ اور کھلی آواز، سب یسعیاہ ۵۵ سے اُٹھائے گئے ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ اب پکارنے والا خود چشمہ ہے۔ اور پوری بائبل کے آخری صفحے پر یہی دعوت دوبارہ گونجتی ہے، جہاں روح اور دلہن کہتی ہیں ”آ“ اور پیاسے کو مفت زندگی کا پانی پیش کیا جاتا ہے (مکاشفہ ۲۲)۔ کتابِ مقدس ایک باغ سے شروع ہو کر ایک بازار کی صدا پر ختم ہوتی ہے، اور وہ صدا قیمت نہیں مانگتی۔ جو بارش آیت ۱۰ میں زمین پر گرتی ہے، وہ آخر میں بیج نہیں بلکہ ایک شہر اُگاتی ہے۔
یسعیاہ 55 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آیت ۷ کہتی ہے کہ خدا ”فراخ دلی سے معاف کر دیتا ہے“۔ آپ کے دل میں کون سی بات ہے جسے آپ خود سے بھی زیادہ فراخ دلی سے معاف ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے؟

Isaiah 55 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے