بائبل کی تشریح

یسعیاہ 66:1

بائبل

متن

خداوند ایک ہی جملے میں ہیکل کی ساری شان کو اپنی جگہ پر رکھ دیتے ہیں: ”آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی، تو پھر وہ گھر کہاں ہے جو تم میرے لئے بناؤ گے؟“ یہ سوال کسی اجنبی کا نہیں بلکہ اُس خدا کا ہے جس کے نام پر وہ عمارت کھڑی کی گئی تھی۔ وہ آگے پوچھتے ہیں، ”وہ جگہ کہاں ہے جہاں مَیں آرام کروں گا؟“ یعنی تم میرے لئے کون سی چاردیواری بناؤ گے جو مجھے سما سکے، اور کون سا تکیہ رکھو گے جس پر میں ٹک جاؤں؟ اگلی ہی آیت میں جواب آ جاتا ہے، مگر وہ جواب پتھر اور لکڑی کا نہیں: ”مَیں اُسی کا خیال رکھتا ہوں جو مصیبت زدہ اور شکستہ دل ہے، جو میرے کلام کے سامنے کانپتا ہے۔“ عمارت کا سوال دل کے سوال میں بدل جاتا ہے۔

مرکزی نکتہ

یہ آیت عبادت گاہ کے خلاف نہیں، عبادت گاہ کے غلط استعمال کے خلاف ہے۔ انسان ہمیشہ خدا کو کسی حد میں باندھنا چاہتا ہے، اِس لئے نہیں کہ وہ خدا سے محبت کرتا ہے بلکہ اِس لئے کہ قابو میں آیا ہوا خدا کم خطرناک لگتا ہے۔ ہیکل کو تعویذ بنا لیا گیا تھا: قربانیاں جاری رہیں، بخور جلتا رہے، اور زندگی جیسی چاہے چلتی رہے۔ خداوند اِس سودے کو توڑ دیتے ہیں۔ جو ذات کائنات کو تخت اور چوکی کی طرح برتتی ہے، اُسے ہماری اینٹوں کی ضرورت نہیں۔ مگر یہاں حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی بےحد خدا ”آرام“ کی جگہ تلاش کرتے ہیں، اور وہ جگہ ٹوٹا ہوا دل ہے۔ عظمت اور نرمی ایک ہی سانس میں۔ یہی فضل کی بنیاد ہے: خدا نیچے آتے ہیں، ہم اوپر نہیں چڑھتے۔

نجات کا سلسلہ

یہ آیت بائبل میں دو بار گونجتی ہے، اور دونوں بار فیصلہ کن موقع پر۔ اعمال کی کتاب میں ستفنس عین اُس لمحے یہی الفاظ دہراتا ہے جب اُس پر ہیکل کے خلاف بولنے کا الزام ہے؛ وہ ثابت کرتا ہے کہ ہیکل پر سب سے سخت تنقید خود یسعیاہ نبی کی زبان سے آئی تھی۔ اور یوحنا کی انجیل میں خداوند یسوع ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنے بدن کو ہیکل کہتے ہیں۔ یہیں پر یسعیاہ کا سوال اپنا جواب پا لیتا ہے۔ ”وہ جگہ کہاں ہے جہاں مَیں آرام کروں گا؟“ خدا نے وہ جگہ پتھروں میں نہیں بلکہ ایک انسانی زندگی میں بنائی، اُس مرد میں جو مصیبت زدہ اور شکستہ دل تھا۔ مسیح وہ مقام ہے جہاں بےحد خدا ٹھہرے۔

آئینہ

ہم سب کے پاس اپنی اپنی چھوٹی ہیکلیں ہیں۔ کسی کے لئے وہ اتوار کی حاضری ہے، کسی کے لئے خدمت کا عہدہ، کسی کے لئے صبح کی باقاعدہ دعا جسے وہ خاموشی سے خدا کے سامنے رسید کی طرح پیش کرتا ہے۔ یہ چیزیں بُری نہیں، مگر ہم اِن کے پیچھے چھپ سکتے ہیں۔ دفتر میں جو سمجھوتے آپ کرتے ہیں، گھر میں جو لہجہ آپ استعمال کرتے ہیں، پیسوں کے بارے میں جو خاموشی آپ نے پال رکھی ہے، اِن سب کو ہم عبادت کی چاردیواری سے باہر رکھ دیتے ہیں۔ خداوند پوچھتے ہیں: وہ گھر کہاں ہے؟ اور پھر خود بتاتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دل میں آرام کرتے ہیں، یعنی وہیں جہاں آپ اُنہیں آنے نہیں دینا چاہتے۔ آج رات دعا شروع کرنے سے پہلے آیت 1 بلند آواز سے پڑھیں، پھر ایک جملے میں خدا کے سامنے وہ ٹوٹی ہوئی بات کہہ دیں جسے آپ اب تک دعا کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔

کلام کی گواہی

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیکل کی مخالفت ہیکل کے بانی سے ہی شروع ہوئی۔ سلیمان بادشاہ نے مخصوصیت کی دعا میں خود تسلیم کیا کہ آسمان بلکہ آسمانوں کا آسمان بھی خدا کو سما نہیں سکتا، تو یہ گھر کیا ہے۔ یعنی پہلے دن سے معلوم تھا کہ عمارت ایک نشان ہے، قید خانہ نہیں۔ دوسری طرف یرمیاہ نبی کو اُن لوگوں سے نمٹنا پڑا جو ہیکل کے دروازے پر کھڑے ہو کر ”رب کی ہیکل، رب کی ہیکل“ کا نعرہ لگاتے تھے جیسے وہ کوئی حفاظتی منتر ہو۔ یسعیاہ 66 اِسی غلط فہمی پر آخری وار ہے، اور آیت 3 میں قربانی اور قتل کو برابر رکھ کر بات اِتنی سخت کر دی جاتی ہے کہ سننے والا سانس روک لے۔

ایک باریک نکتہ

”پاؤں کی چوکی“ کو جلدی سے نہ گزاریں۔ قدیم مشرق میں بادشاہ کے تخت کے نیچے ایک چوکی ہوتی تھی جس پر وہ پاؤں رکھتا تھا، اکثر اُس پر مفتوح دشمنوں کی تصویریں بنی ہوتی تھیں۔ زبور میں عہد کا صندوق اور ہیکل خدا کی چوکی کہلاتے ہیں۔ مگر یہاں خداوند پیمانہ بدل دیتے ہیں: پوری زمین اُن کی چوکی ہے۔ اگر ساری زمین محض پاؤں رکھنے کی جگہ ہے، تو یروشلم کی ہیکل اُس چوکی پر ایک چھوٹا سا نقطہ ہے۔ اور دوسرا لفظ ”آرام“ ہے، عبرانی میں منوحہ، وہی لفظ جو سبت اور موعودہ ملک کی سکونت کے لئے آتا ہے۔ خدا جگہ نہیں، ٹھکانا ڈھونڈتے ہیں؛ اور ٹھکانا ایک دل ہے۔

پہلے سننے والے

یسعیاہ کے اِس آخری باب کے سننے والے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ملبے سے ہیکل دوبارہ کھڑی ہو رہی ہے، یا کم از کم اُس کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ جلاوطنی سے لوٹی ہوئی ایک غریب، تقسیم شدہ جماعت، جس کے لئے نئی عمارت امید کا سب سے بڑا نشان تھی۔ اُن کے کانوں میں یہ سوال تسلی نہیں، جھٹکا تھا: تم میرے لئے کون سا گھر بناؤ گے؟ آیت 5 بتاتی ہے کہ اُن کے اپنے بھائی اُن سے نفرت کرتے اور خدا کے نام پر اُنہیں رد کرتے تھے۔ یعنی مذہبی ادارہ موجود تھا مگر کانپتے دلوں کو باہر دھکیل رہا تھا۔ اُنہوں نے سنا کہ خدا عمارت کے ساتھ نہیں، شکستہ دل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی بات بعد میں ایک مصلوب نجات دہندہ میں مجسم ہوئی۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”ہیکل“ ہے جسے آپ نے لاشعوری طور پر خدا کے ساتھ ایک محفوظ سودا بنا رکھا ہے؟

اگر خدا کا آرام کرنے کا مقام ٹوٹا ہوا دل ہے، تو آپ اپنی جماعت میں ایسے کسی شخص کو کیسے پہچانیں اور قبول کریں گے جسے دوسرے رد کر چکے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 66:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 66:1 کا کیا مطلب ہے؟
خداوند ایک ہی جملے میں ہیکل کی ساری شان کو اپنی جگہ پر رکھ دیتے ہیں: ”آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی، تو پھر وہ گھر کہاں ہے جو تم میرے لئے بناؤ گے؟“ یہ سوال کسی اجنبی کا نہیں بلکہ اُس خدا کا ہے جس کے نام پر وہ عمارت کھڑی کی گئی تھی۔ وہ آگے پوچھتے ہیں، ”وہ جگہ کہاں ہے جہاں مَیں آرام کروں گا؟“ یعنی تم میرے لئے کون سی چاردیواری بناؤ گے جو مجھے سما سکے، اور کون سا تکیہ رکھو گے جس پر میں ٹک جاؤں؟ اگلی ہی آیت میں جواب آ جاتا ہے، مگر وہ جواب پتھر اور لکڑی کا نہیں: ”مَیں اُسی کا خیال رکھتا ہوں جو مصیبت زدہ اور شکستہ دل ہے، جو میرے کلام کے سامنے کانپتا ہے۔“ عمارت کا سوال دل کے سوال میں بدل جاتا ہے۔
یسعیاہ 66:1 کس بارے میں ہے؟
یہ آیت بائبل میں دو بار گونجتی ہے، اور دونوں بار فیصلہ کن موقع پر۔ اعمال کی کتاب میں ستفنس عین اُس لمحے یہی الفاظ دہراتا ہے جب اُس پر ہیکل کے خلاف بولنے کا الزام ہے؛ وہ ثابت کرتا ہے کہ ہیکل پر سب سے سخت تنقید خود یسعیاہ نبی کی زبان سے آئی تھی۔ اور یوحنا کی انجیل میں خداوند یسوع ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنے بدن کو ہیکل کہتے ہیں۔ یہیں پر یسعیاہ کا سوال اپنا جواب پا لیتا ہے۔ ”وہ جگہ کہاں ہے جہاں مَیں آرام کروں گا؟“ خدا نے وہ جگہ پتھروں میں نہیں بلکہ ایک انسانی زندگی میں بنائی، اُس مرد میں جو مصیبت زدہ اور شکستہ دل تھا۔ مسیح وہ مقام ہے جہاں بےحد خدا ٹھہرے۔
یسعیاہ 66:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیکل کی مخالفت ہیکل کے بانی سے ہی شروع ہوئی۔ سلیمان بادشاہ نے مخصوصیت کی دعا میں خود تسلیم کیا کہ آسمان بلکہ آسمانوں کا آسمان بھی خدا کو سما نہیں سکتا، تو یہ گھر کیا ہے۔ یعنی پہلے دن سے معلوم تھا کہ عمارت ایک نشان ہے، قید خانہ نہیں۔ دوسری طرف یرمیاہ نبی کو اُن لوگوں سے نمٹنا پڑا جو ہیکل کے دروازے پر کھڑے ہو کر ”رب کی ہیکل، رب کی ہیکل“ کا نعرہ لگاتے تھے جیسے وہ کوئی حفاظتی منتر ہو۔ یسعیاہ 66 اِسی غلط فہمی پر آخری وار ہے، اور آیت 3 میں قربانی اور قتل کو برابر رکھ کر بات اِتنی سخت کر دی جاتی ہے کہ سننے والا سانس روک لے۔
یسعیاہ 66:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ کے اِس آخری باب کے سننے والے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ملبے سے ہیکل دوبارہ کھڑی ہو رہی ہے، یا کم از کم اُس کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ جلاوطنی سے لوٹی ہوئی ایک غریب، تقسیم شدہ جماعت، جس کے لئے نئی عمارت امید کا سب سے بڑا نشان تھی۔ اُن کے کانوں میں یہ سوال تسلی نہیں، جھٹکا تھا: تم میرے لئے کون سا گھر بناؤ گے؟ آیت 5 بتاتی ہے کہ اُن کے اپنے بھائی اُن سے نفرت کرتے اور خدا کے نام پر اُنہیں رد کرتے تھے۔ یعنی مذہبی ادارہ موجود تھا مگر کانپتے دلوں کو باہر دھکیل رہا تھا۔ اُنہوں نے سنا کہ خدا عمارت کے ساتھ نہیں، شکستہ دل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی بات بعد میں ایک مصلوب نجات دہندہ میں مجسم ہوئی۔
یسعیاہ 66:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خدا کا آرام کرنے کا مقام ٹوٹا ہوا دل ہے، تو آپ اپنی جماعت میں ایسے کسی شخص کو کیسے پہچانیں اور قبول کریں گے جسے دوسرے رد کر چکے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Isaiah 66 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 9

خدا یہاں اپنے آپ کو دائی کی طرح پیش کرتا ہے: "کیا مَیں بچے کو ماں کے پیٹ تک لاؤں اور اُسے پیدا ہونے نہ دوں؟" سوچو، وہ تمہاری زندگی میں جو کام شروع کر چکا ہے، اُسے ادھورا چھوڑنا اُس کی فطرت کے خلاف ہے۔ انتظار کی تکلیف اِس بات کی نشانی نہیں کہ وہ بھول گیا، بلکہ یہ کہ کچھ جنم لینے والا ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟