بائبل کی تشریح

یرمیاہ 42

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یروشلم کے گرنے کے بعد جو مٹھی بھر لوگ بچے تھے، وہ یوحنان بن قریح اور دوسرے افسروں کے ساتھ یرمیاہ کے پاس آتے ہیں اور بڑی عاجزی سے کہتے ہیں: ہمارے لئے دعا کریں، ہمیں بتائیں کہ ہم کہاں جائیں۔ وہ قسم کھاتے ہیں کہ خدا کا جواب "اچھا لگے یا بُرا"، وہ ضرور مانیں گے۔ دس دن بعد جواب آتا ہے: اِس ملک ہی میں رہو، بابل کے بادشاہ سے نہ ڈرو، مَیں تمہیں پنیری کی طرح لگاؤں گا۔ لیکن اگر مصر جاؤ گے تو جس تلوار اور کال سے بھاگ رہے ہو وہی وہاں تمہارا پیچھا کرے گا۔ اور یرمیاہ دو ٹوک کہتا ہے: آپ نے اپنے آپ کو سخت دھوکا دیا ہے۔

مرکزی بات

یہ باب اُس خوف ناک ممکنہ صورت کو کھولتا ہے کہ انسان خدا سے ہدایت مانگ سکتا ہے جبکہ اُس کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہو۔ اُنہوں نے دعا مانگی، گواہ کے طور پر خداوند کا نام لیا، اطاعت کی قسم کھائی، اور پھر وہی کیا جو وہ پہلے سے کرنا چاہتے تھے۔ دعا یہاں تابع ہونے کا راستہ نہیں بلکہ ایک مہر ہے جو اپنے فیصلے پر لگوانی ہے۔ اِس کے مقابل خدا کا کردار حیران کن ہے: "مجھے اُس مصیبت پر افسوس ہے جس میں مَیں نے تمہیں مبتلا کیا ہے۔" جو خدا عدالت کر چکا ہے وہی ملبے میں کھڑے لوگوں کو تعمیر اور پنیری کا وعدہ دیتا ہے۔ فضل موجود ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہاں رہو جہاں خدا نے رکھا ہے۔

سلسلۂ کلام

یرمیاہ کی بلاہٹ کے وقت اُسے یہی الفاظ دیئے گئے تھے، گرانا اور اُکھاڑنا، تعمیر کرنا اور لگانا (یرمیاہ ۱:۱۰)۔ اب وہی الفاظ ایک ٹوٹے ہوئے بچے کھچے گروہ پر لگائے جا رہے ہیں، اور یہی خدا کے نجات کے منصوبے کی بنیادی ترتیب ہے: پہلے عدالت، پھر نئی پنیری۔ مسیح میں یہ ترتیب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے، جہاں عدالت اُس پر گرتی ہے اور پنیری ہم بنتے ہیں۔ دوسری بات: یرمیاہ ایک درمیانی ہے جو دعا کرتا ہے اور پھر "لفظ بہ لفظ" کلام پہنچاتا ہے، کسی بات سے محروم نہیں رکھتا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے یہی کہا کہ جو کچھ مَیں نے باپ سے سنا، سب تم کو بتا دیا (یوحنا ۱۵:۱۵)۔ یرمیاہ کا سایہ، مسیح کا اصل۔

آئینہ

مصر ہمیشہ کسی گناہ کی صورت میں نہیں آتا؛ وہ عموماً ایک معقول منصوبے کی شکل میں آتا ہے۔ وہ نوکری جو زیادہ محفوظ ہے، وہ شہر جہاں جنگی نرسنگا نہیں سنائی دے گا، وہ رشتہ جس میں تنہائی کا خطرہ کم ہے، وہ قرض جو فی الحال سانس دلا دے گا۔ اور ہمارا دل، جیسے اِن افسروں کا، مشورہ ڈھونڈتا ہے مگر تصدیق چاہتا ہے۔ سب سے کاٹنے والا جملہ یہی ہے: "آپ نے اپنے آپ کو سخت دھوکا دیا ہے۔" دوسروں کو دھوکا دینا آسان ہے، مگر یہاں دھوکا اندر کی طرف ہے۔ آج ہی کریں: ایک کاغذ پر وہ ایک فیصلہ لکھیں جو آپ کے سامنے ہے، اُس کے نیچے آیت ۶ کے الفاظ لکھیں، "خواہ اُس کی ہدایت ہمیں اچھی لگے یا بُری"، اور اُنہیں بلند آواز سے پڑھیں۔

سامعین

یہ لوگ نہ باغی سپاہی تھے نہ کافر؛ یہ صدمے کے مریض تھے۔ شہر جل چکا تھا، ہیکل ملبہ تھی، اور ابھی ابھی جدلیاہ کا قتل ہوا تھا، یعنی وہ گورنر جسے بابل نے مقرر کیا تھا۔ اُن کے ذہن میں ایک ہی خیال گونجتا تھا: بابل بدلہ لینے آئے گا۔ اِس پس منظر میں "بابل کے بادشاہ سے خوف مت کھانا" کہنا سیاسی طور پر بے وقوفی لگتا تھا۔ اور مصر؟ مصر کا مطلب روٹی، دریائے نیل، کاروبار، اور یہودی بستیاں جو پہلے سے وہاں موجود تھیں۔ مگر ہر یہودی کے کانوں میں مصر کا ایک اور مطلب بھی تھا: وہ جگہ جہاں سے خدا نے اُنہیں نکالا تھا۔ مصر واپس جانا خروج کو اُلٹا چلانا تھا۔

سوال

سب سے مشکل بات یہ ہے کہ خدا نے دس دن خاموشی اختیار کی۔ اگر جواب اِس قدر واضح تھا تو تاخیر کیوں؟ متن وضاحت نہیں کرتا، اور ہمیں اِسے کھلا چھوڑنا ہو گا۔ مگر ایک بات نظر آتی ہے: دس دن میں اُن کا اپنا منصوبہ پکتا رہا۔ خدا کا کلام کسی خالی ذہن میں نہیں آیا بلکہ ایک ایسے دل میں آیا جو اِس دوران مصر کی طرف مزید جھک چکا تھا۔ کیا انتظار اُن کے لئے موقع تھا یا امتحان؟ شاید دونوں۔ اور یہ ہمیں تسلی نہیں دیتا، کیونکہ ہم بھی جواب کے انتظار میں اکثر خالی نہیں بیٹھتے، ہم فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک تفصیل

آیت ۱۶ کے ایک لفظ پر ٹھہریں: "پیچھا کرتا رہے گا"۔ تلوار اور کال کو شکاری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ خطرہ ایک جگہ ہے اور سلامتی دوسری جگہ، لہٰذا حل نقل مکانی ہے۔ خدا کہتے ہیں: تم جگہ بدل سکتے ہو، تعلق نہیں۔ جس چیز سے تم بھاگ رہے ہو وہ جغرافیہ نہیں بلکہ عدالت ہے، اور عدالت سرحدیں نہیں مانتی۔ یہی وجہ ہے کہ انجیل صرف نئی جگہ نہیں دیتی، وہ نیا مقام دیتی ہے: مسیح میں۔ صلیب پر اُس شکاری نے ایک ہی شخص کو پکڑا، اور وہ بھاگا نہیں۔

غور و فکر

کیا کوئی ایسا معاملہ ہے جس میں مَیں دعا کر رہا ہوں مگر درحقیقت اپنے فیصلے کی تصدیق چاہتا ہوں؟

میرا "مصر" آج کس معقول اور محفوظ منصوبے کی شکل میں سامنے ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 42 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 42 کا کیا مطلب ہے؟
یروشلم کے گرنے کے بعد جو مٹھی بھر لوگ بچے تھے، وہ یوحنان بن قریح اور دوسرے افسروں کے ساتھ یرمیاہ کے پاس آتے ہیں اور بڑی عاجزی سے کہتے ہیں: ہمارے لئے دعا کریں، ہمیں بتائیں کہ ہم کہاں جائیں۔ وہ قسم کھاتے ہیں کہ خدا کا جواب "اچھا لگے یا بُرا"، وہ ضرور مانیں گے۔ دس دن بعد جواب آتا ہے: اِس ملک ہی میں رہو، بابل کے بادشاہ سے نہ ڈرو، مَیں تمہیں پنیری کی طرح لگاؤں گا۔ لیکن اگر مصر جاؤ گے تو جس تلوار اور کال سے بھاگ رہے ہو وہی وہاں تمہارا پیچھا کرے گا۔ اور یرمیاہ دو ٹوک کہتا ہے: آپ نے اپنے آپ کو سخت دھوکا دیا ہے۔
یرمیاہ 42 کس بارے میں ہے؟
یہ باب اُس خوف ناک ممکنہ صورت کو کھولتا ہے کہ انسان خدا سے ہدایت مانگ سکتا ہے جبکہ اُس کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہو۔ اُنہوں نے دعا مانگی، گواہ کے طور پر خداوند کا نام لیا، اطاعت کی قسم کھائی، اور پھر وہی کیا جو وہ پہلے سے کرنا چاہتے تھے۔ دعا یہاں تابع ہونے کا راستہ نہیں بلکہ ایک مہر ہے جو اپنے فیصلے پر لگوانی ہے۔ اِس کے مقابل خدا کا کردار حیران کن ہے: "مجھے اُس مصیبت پر افسوس ہے جس میں مَیں نے تمہیں مبتلا کیا ہے۔" جو خدا عدالت کر چکا ہے وہی ملبے میں کھڑے لوگوں کو تعمیر اور پنیری کا وعدہ دیتا ہے۔ فضل موجود ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہاں رہو جہاں خدا نے رکھا ہے۔
یرمیاہ 42 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ کی بلاہٹ کے وقت اُسے یہی الفاظ دیئے گئے تھے، گرانا اور اُکھاڑنا، تعمیر کرنا اور لگانا (یرمیاہ ۱:۱۰)۔ اب وہی الفاظ ایک ٹوٹے ہوئے بچے کھچے گروہ پر لگائے جا رہے ہیں، اور یہی خدا کے نجات کے منصوبے کی بنیادی ترتیب ہے: پہلے عدالت، پھر نئی پنیری۔ مسیح میں یہ ترتیب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے، جہاں عدالت اُس پر گرتی ہے اور پنیری ہم بنتے ہیں۔ دوسری بات: یرمیاہ ایک درمیانی ہے جو دعا کرتا ہے اور پھر "لفظ بہ لفظ" کلام پہنچاتا ہے، کسی بات سے محروم نہیں رکھتا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے یہی کہا کہ جو کچھ مَیں نے باپ سے سنا، سب تم کو بتا دیا (یوحنا ۱۵:۱۵)۔ یرمیاہ کا سایہ، مسیح کا اصل۔
یرمیاہ 42 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مصر ہمیشہ کسی گناہ کی صورت میں نہیں آتا؛ وہ عموماً ایک معقول منصوبے کی شکل میں آتا ہے۔ وہ نوکری جو زیادہ محفوظ ہے، وہ شہر جہاں جنگی نرسنگا نہیں سنائی دے گا، وہ رشتہ جس میں تنہائی کا خطرہ کم ہے، وہ قرض جو فی الحال سانس دلا دے گا۔ اور ہمارا دل، جیسے اِن افسروں کا، مشورہ ڈھونڈتا ہے مگر تصدیق چاہتا ہے۔ سب سے کاٹنے والا جملہ یہی ہے: "آپ نے اپنے آپ کو سخت دھوکا دیا ہے۔" دوسروں کو دھوکا دینا آسان ہے، مگر یہاں دھوکا اندر کی طرف ہے۔ آج ہی کریں: ایک کاغذ پر وہ ایک فیصلہ لکھیں جو آپ کے سامنے ہے، اُس کے نیچے آیت ۶ کے الفاظ لکھیں، "خواہ اُس کی ہدایت ہمیں اچھی لگے یا بُری"، اور اُنہیں بلند آواز سے پڑھیں۔
یرمیاہ 42 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
یہ لوگ نہ باغی سپاہی تھے نہ کافر؛ یہ صدمے کے مریض تھے۔ شہر جل چکا تھا، ہیکل ملبہ تھی، اور ابھی ابھی جدلیاہ کا قتل ہوا تھا، یعنی وہ گورنر جسے بابل نے مقرر کیا تھا۔ اُن کے ذہن میں ایک ہی خیال گونجتا تھا: بابل بدلہ لینے آئے گا۔ اِس پس منظر میں "بابل کے بادشاہ سے خوف مت کھانا" کہنا سیاسی طور پر بے وقوفی لگتا تھا۔ اور مصر؟ مصر کا مطلب روٹی، دریائے نیل، کاروبار، اور یہودی بستیاں جو پہلے سے وہاں موجود تھیں۔ مگر ہر یہودی کے کانوں میں مصر کا ایک اور مطلب بھی تھا: وہ جگہ جہاں سے خدا نے اُنہیں نکالا تھا۔ مصر واپس جانا خروج کو اُلٹا چلانا تھا۔

Jeremiah 42 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟