ایوب 34
متن
الیہو اپنی دوسری تقریر شروع کرتا ہے اور سننے والوں کو دعوت دیتا ہے: آئیں، مل کر جانچ لیں کہ کیا درست ہے۔ پھر وہ ایوب کے اُس دعوے کو نشانہ بناتا ہے کہ خدا نے اُسے اُس کے حق سے محروم کیا، اور دلیل دیتا ہے کہ قادرِ مطلق کے لئے ناانصافی کرنا ممکن ہی نہیں، کیونکہ وہ زمین کا مالک ہے، ہر قدم دیکھتا ہے، اور امیر و غریب میں فرق نہیں کرتا۔ آخر میں وہ ایوب کے منہ میں ایک دعا ڈالنا چاہتا ہے: ”جو کچھ مجھے نظر نہیں آتا وہ مجھے سکھا“، لیکن ساتھ ہی اُس پر یہ فیصلہ بھی صادر کر دیتا ہے کہ وہ ”شریروں کے سے جواب“ دیتا ہے۔
مرکزی بات
الیہو کی بنیادی بات اٹل ہے: خدا کا اقتدار اور خدا کا انصاف الگ الگ چیزیں نہیں۔ ”یہ تو ممکن ہی نہیں کہ قادرِ مطلق ناانصافی کرے“ (آیت 10)۔ اُس کی دلیل خوبصورت ہے: کسی نے خدا کو دنیا کا انتظام سونپا نہیں، لہٰذا اُس کے پاس کسی کو خوش کرنے یا کسی سے کچھ چھپانے کی کوئی وجہ نہیں۔ رشوت، جانب داری اور مصلحت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں طاقت کسی اَور پر منحصر ہو۔ خدا کسی پر منحصر نہیں، اِس لئے وہ رئیسوں کی طرف داری نہیں کرتا۔ اخلاقی طور پر یہ زہریلا بھی ہے اور شفا بخش بھی: جو حاکم اپنی طاقت کو بےلگام سمجھتا ہے، اُس کے سر پر ایک ایسا تخت ہے جسے ”تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں“۔
کلام کا دھاگا
یہاں ایک ایسی بات کہی جا رہی ہے جو پوری بائبل میں گونجتی ہے: خدا کی حکومت مظلوموں کی چیخ سے جڑی ہوئی ہے (آیت 28)۔ مصر میں اسرائیل کی چیخ، نبیوں کے ہاں بیواؤں کا نوحہ، اور آخر میں صلیب۔ لیکن دھاگا ایک اَور موڑ بھی لیتا ہے۔ الیہو کا اصول ہے: ہر آدمی کو اُس کے اعمال کا مناسب اجر ملتا ہے (آیت 11)۔ خداوند یسوع مسیح میں یہ اصول ٹوٹتا نہیں، بلکہ اُن کے کندھوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک بےقصور آدمی ”تیر“ سے زخمی ہوا اور خدا نے اُس کے حق میں فوراً فیصلہ نہ سنایا۔ ایوب کا معاملہ صرف ایوب کا نہیں تھا؛ وہ ایک سایہ تھا اُس کا جو بےگناہ ہو کر سزا اُٹھائے گا۔
آئینہ
الیہو کی سب سے تیز بات آیت 19 ہے: خدا نہ رئیسوں کی جانب داری کرتا ہے، نہ عُہدے داروں کو ترجیح دیتا ہے، ”کیونکہ سب ہی کو اُس کے ہاتھوں نے بنایا ہے“۔ اب اپنے دن کو دیکھیں۔ دفتر میں جس کا ای میل آپ فوراً پڑھتے ہیں اور جس کا تین دن پڑا رہتا ہے۔ گھر میں جس بچے کی بات آپ سنتے ہیں اور جس کی نہیں۔ وہ نوکر، وہ درزی، وہ رکشہ والا جس سے آپ کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ ہم سب چھوٹے چھوٹے تختوں پر بیٹھے ہیں، اور ہر تخت پر جانب داری کا لالچ رہتا ہے۔ آیت 22 اِسے بےنقاب کرتی ہے: ”کہیں اِتنی تاریکی یا گھنا اندھیرا نہیں ہوتا کہ بدکار اُس میں چھپ سکے۔“ وہ حساب جو کوئی نہیں دیکھتا، وہ پیغام جو ڈیلیٹ ہو گیا، وہ فیصلہ جس کی اصل وجہ آپ نے کسی کو نہیں بتائی۔
آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس پر آپ کو کسی بھی طرح اختیار ہے، اور اُس نام کے سامنے بلند آواز میں آیت 32 کے الفاظ خدا سے کہیں: ”جو کچھ مجھے نظر نہیں آتا وہ مجھے سکھا۔“
کلام سے کلام
آیت 32 کی دعا زبور 19:12 کی بہن ہے، جہاں داؤد اپنے ”پوشیدہ گناہوں“ سے پاک ہونے کی درخواست کرتا ہے۔ دونوں جگہ یہ اعتراف ہے کہ ہمارا ضمیر مکمل گواہ نہیں؛ ہمیں اپنے ہی اندھے دھبوں کے بارے میں تعلیم کی ضرورت ہے۔ اور آیت 19 کا اصول رومیوں 2:11 میں پولس رسول کے ہاں قانون بن جاتا ہے: خدا کسی کا طرف دار نہیں۔ پولس یہ بات یہودی اور غیریہودی کے فرق کو گرانے کے لئے کہتا ہے۔ یعنی الیہو کا الٰہیات کا نکتہ انجیل میں کلیسیا کا سماجی ڈھانچہ بن جاتا ہے: جہاں خدا جانب داری نہیں کرتا، وہاں اُس کے لوگ بھی نشستوں کی درجہ بندی نہیں کر سکتے۔
سوال
مشکل سوال یہ ہے: الیہو کی باتیں زیادہ تر درست ہیں، پھر بھی وہ ایوب پر ظلم کر رہا ہے۔ آیت 7 میں وہ اُسے ”بُرا“ کہتا ہے اور آیت 36 میں اُس کی ”پوری جانچ پڑتال“ کی خواہش کرتا ہے، یعنی مزید تکلیف۔ صحیح اصول اور بےرحم اطلاق ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ اِس سے زیادہ کھٹکنے والی بات آیت 29 ہے: ”اگر وہ خاموش بھی رہے تو کون اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟“ الیہو یہ خدا کی برتری ثابت کرنے کے لئے کہتا ہے، لیکن یہ جملہ اُس کے پورے نظام میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ اگر خدا خاموش رہ سکتا ہے، تو ہر خاموشی گناہ کا ثبوت نہیں۔ متن اِس دراڑ کو بھرتا نہیں۔ ہمیں بھی نہیں بھرنی چاہئے۔
ایک باریک بات
آیت 28 پر رُکیں: ”پست حالوں کی چیخیں اللہ کے سامنے اور مصیبت زدوں کی التجائیں اُس کے کان تک پہنچیں۔“ الیہو یہ بتا رہا ہے کہ خدا زورآوروں کو کیوں توڑتا ہے: کسی مجرد اصول کی خاطر نہیں، بلکہ اِس لئے کہ کسی کی آواز اُس تک پہنچی۔ خدا کا انصاف رپورٹوں سے نہیں، چیخوں سے حرکت میں آتا ہے۔ اور یہی الیہو کی ٹریجڈی ہے: ایوب کی چیخ اُس کے سامنے موجود ہے، مگر وہ اُسے شکایت سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ ہم دُور کے مظلوموں کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنے سامنے بیٹھے شخص کے آنسو کو ”ناشکری“ کہہ دیتے ہیں۔ کان، جو آیت 3 کے مطابق چکھنے کا آلہ ہے، ذائقہ کھو بیٹھتا ہے۔
غور کے سوالات
کس شخص کی شکایت آپ نے حالیہ دنوں میں یہ سوچ کر ٹال دی کہ ”یہ خود ہی قصوروار ہے“؟
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ایسا ہے جسے آپ اندھیرا سمجھتے ہیں، حالانکہ آیت 21 کے مطابق ہر قدم خدا کو نظر آتا ہے؟
Job 34 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 34 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 34 کس بارے میں ہے؟
ایوب 34 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 34 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 34 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 34 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
الیہو نے بات جاری رکھ کر کہا۔" پوری آیت بس اتنی ہے کہ وہ پھر بولنے لگا۔ ایوب کا زخم ابھی وہیں تھا، مگر باتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ کبھی کبھی ہم بھی کسی دکھے دل کے سامنے بولتے چلے جاتے ہیں۔ سوچ کر دیکھ، آج تیرے لفظ کسی کا بوجھ ہلکا کر رہے ہیں یا صرف تیری اپنی بات آگے بڑھا رہے ہیں؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
