یہوداہ 1
متن
یہ خط عیسیٰ مسیح کے خادم اور یعقوب کے بھائی یہوداہ کا ہے، جو اُن لوگوں کو لکھا گیا جو "خدا باپ میں پیارے ہیں اور عیسیٰ مسیح کے لئے محفوظ رکھے گئے ہیں۔" یہوداہ نجات کے موضوع پر ایک پُرسکون خط لکھنا چاہتا تھا، مگر جماعت میں گھس آئے ہوئے لوگوں کی خبر نے اُس کا قلم موڑ دیا: اب وہ ایمان کی خاطر جد و جہد کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔ درمیان میں وہ فیصلے کی پرانی مثالیں گنواتا ہے، جھوٹے اُستادوں کی تصویر تیز الفاظ میں کھینچتا ہے، اور آخر میں دعا، رحم اور اُس خدا کی تمجید پر ختم کرتا ہے جو ٹھوکر سے بچا سکتا ہے۔
مرکزی بات
سردار فرشتہ میکائیل ابلیس سے بحث کرتے وقت خود فیصلہ سنانے کی جرأت نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے، "رب آپ کو ڈانٹے!" یہ جملہ زکریا نبی کی کتاب کے تیسرے باب سے آیا ہے، جہاں رب کا فرشتہ شیطان کو یہی الفاظ کہتا ہے جب وہ یشوع امامِ اعظم پر الزام لگا رہا ہے۔ یہوداہ کا نکتہ یہی ہے: عدالت کا اختیار خدا کا ہے، ہمارا نہیں۔ اور یہیں جھوٹے اُستادوں کی اصل بیماری کھلتی ہے۔ وہ "خداوند کا اختیار رد کرتے" ہیں، فضل کو "توڑ مروڑ کر عیاشی کا باعث" بنا دیتے ہیں، یعنی معافی کو اجازت نامہ سمجھ لیتے ہیں۔ فضل جھوٹا نہیں پڑتا؛ اُسے مروڑا جاتا ہے، اور مروڑا ہوا فضل ایک نئی غلامی ہے۔
نجات کا سلسلہ
آیت پانچ میں یہوداہ ایک ایسی بات کہتا ہے جو کان کھڑے کر دیتی ہے: "خداوند نے اپنی قوم کو مصر سے نکال کر بچا لیا تھا توبھی اُس نے بعد میں اُنہیں ہلاک کر دیا جو ایمان نہیں رکھتے تھے۔" خروج کا واقعہ نجات کی سب سے بڑی تصویر ہے، مگر یہوداہ اُسے تنبیہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سرخ سمندر پار کرنا منزل نہیں تھا؛ بیابان میں ایمان کا امتحان باقی تھا۔ اِسی لیے قابیل، بلعام اور قورح کے نام آتے ہیں: عبادت کی حسد، پیسوں کا لالچ، اور مقرر کردہ اختیار کے خلاف بغاوت۔ یہ تینوں راستے آج بھی کھلے ہیں۔ اور حنوک کی پیش گوئی اِس سلسلے کو آگے بڑھاتی ہے: جو خداوند مصر سے نکالنے آیا تھا، وہی "سب کی عدالت کرنے آئے گا۔"
آئینہ
غور کریں کہ یہوداہ اِن لوگوں کو کہاں پکڑتا ہے: "رفاقتی کھانوں" میں۔ یعنی جماعت کے اندر، میز پر، ہمارے ساتھ۔ اُن کی نشانیاں کوئی بڑے بدعتی نظریے نہیں بلکہ عادتیں ہیں: "بڑبڑاتے اور شکایت کرتے رہتے ہیں"، "اپنے بارے میں شیخی مارتے اور اپنے فائدے کے لئے دوسروں کی خوشامد کرتے ہیں"، "پارٹی بازی کرتے" ہیں۔ بیابان کی نسل بھی بڑبڑاتی تھی؛ زبان سے شروع ہونے والی بغاوت لاشوں پر ختم ہوئی۔ اپنے دفتر، اپنے واٹس ایپ گروپ، اپنی کمیٹی کے بارے میں ایمانداری سے سوچیں: کس کی تعریف آپ اِس لیے کرتے ہیں کہ اُس سے کام نکلے گا؟ اور "ایسے چرواہے جو صرف اپنی گلہ بانی کرتے ہیں" کا جملہ خدمت کرنے والوں کے لیے تلوار ہے، کیونکہ خدمت میں اپنے آپ کو پالنا سب سے آسان چوری ہے۔
پہلے سننے والے
یہ لوگ گھروں میں جمع ہونے والی چھوٹی جماعتیں تھیں، جہاں مسافر مبلغوں کی مہمان نوازی ایمانی فرض تھی۔ اِس کھلے دروازے کا فائدہ اٹھا کر ہی کچھ لوگ "آپ کے درمیان گھس آئے ہیں۔" سننے والے یہودی پس منظر رکھتے تھے؛ سدوم، بلعام اور قورح کے نام اُن کے لیے محض قصے نہیں تھے بلکہ گھر کی کہانیاں تھیں، اور اُنہیں سمجھانے کی ضرورت نہ تھی۔ اُس معاشرے میں عزت اور شرم سب سے بڑی کرنسی تھی، اِس لیے "شرم ناک حرکتوں کی جھاگ" جیسے الفاظ اُن کے کانوں میں سماجی موت کی گھنٹی تھے۔ اور جب یہوداہ نے "ایک ہی بار سدا کے لئے مُقدّسین کے سپرد" کیے گئے ایمان کا ذکر کیا، تو وہ سمجھ گئے کہ نیا انکشاف نہیں بلکہ پرانی امانت اُن کے ہاتھ میں ہے۔
پس منظر
خط لکھنے والا اپنا تعارف "عیسیٰ مسیح کے خادم اور یعقوب کے بھائی" کے طور پر دیتا ہے۔ سب جانتے تھے کہ یعقوب کون ہے: یروشلم کی جماعت کا سربراہ اور خداوند کا بھائی۔ یہوداہ خون کے رشتے کا حوالہ نہیں دیتا؛ وہ خود کو غلام کہتا ہے۔ یہ خط غالباً پہلی صدی کے دوسرے نصف میں لکھا گیا، جب رسولوں کی نسل ڈھل رہی تھی اور جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اُن کے پاس آنے والا ہر کرشماتی اُستاد قابلِ اعتماد ہے یا نہیں۔ اختیار کا سوال کھلا پڑا تھا۔ اِسی لیے یہوداہ آیت سترہ میں کہتا ہے: "وہ کچھ یاد رکھیں جس کی پیش گوئی ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے رسولوں نے کی تھی۔" یادداشت ہی دفاع تھی۔
ایک مشکل سوال
یہوداہ حنوک کی پیش گوئی کا حوالہ دیتا ہے اور موسیٰ کی لاش پر جھگڑے کا ذکر کرتا ہے؛ دونوں باتیں ہماری بائبل کے کسی صفحے پر نہیں ملتیں بلکہ اُس زمانے کی یہودی کتابوں میں تھیں۔ اِسے آسانی سے سنبھالنے کی کوشش نہ کریں۔ یہوداہ اُن کتابوں کو کلامِ مقدّس کا درجہ نہیں دیتا؛ وہ ایک جانی پہچانی کہانی کو دلیل کے لیے استعمال کرتا ہے، جیسے پولس نے ایتھینے میں یونانی شاعروں کا حوالہ دیا۔ مگر سوال باقی رہتا ہے: کیوں یہ راستہ چُنا گیا؟ شاید اِس لیے کہ خدا اپنے لوگوں سے اُن کی زبان میں بات کرتا ہے، اُن کے حالات کے اندر سے۔ یہ ہمیں تھوڑا بےچین رکھتا ہے، اور اچھا ہے کہ رکھے: ایمان کی امانت مکمل ہے، مگر خدا کے کام کرنے کے طریقے ہماری صفائی پسندی سے بڑے ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
یہوداہ کے بیان کردہ "بڑبڑانا، شیخی، خوشامد" میں سے کون سی عادت آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ گھر کر چکی ہے، اور آپ اُسے کس نام سے چھپاتے ہیں؟
آیت اکیس کہتی ہے "اپنے آپ کو اللہ کی محبت میں قائم رکھیں"، اور آیت چوبیس کہتی ہے کہ خدا ہی آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اِس ہفتے آپ کی عملی زندگی میں یہ دونوں سچائیاں کہاں ملتی ہیں؟
Jude 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یہوداہ 1 کا کیا مطلب ہے؟
یہوداہ 1 کس بارے میں ہے؟
یہوداہ 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یہوداہ 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہوداہ 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jude 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
محبت کی ضیافت میں وہ بھی بیٹھے تھے، سب کے ساتھ کھاتے پیتے۔ یہوداہ اُن کے بارے میں کہتا ہے: "یہ ایسے بادل ہیں جنہیں ہَوا اِدھر اُدھر اُڑا لے جاتی ہے اور جو بارش نہیں دیتے۔" پیاسی زمین اُنہیں دیکھ کر اُمید باندھتی ہے، مگر کچھ نہیں برستا۔ سوچنے کی بات یہ ہے: جو لوگ تیرے قریب ہیں، کیا اُنہیں تجھ سے کچھ ملتا ہے، یا صرف تیرا سایہ گزر جاتا ہے؟
یہوداہ اپنے قارئین کو کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا بلکہ ایک پرانی یاد دلا رہا ہے: "آخری دنوں میں ایسے لوگ ہوں گے جو آپ کا مذاق اُڑائیں گے اور اپنی بےدین خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے۔" یعنی جب کوئی تیرے ایمان پر ہنستا ہے تو یہ اِس بات کی نشانی نہیں کہ خدا سو گیا ہے۔ تجھے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اُس ہنسی کے سامنے تُو کیا کرے گا، خاموشی سے پیچھے ہٹ جائے گا یا یاد رکھے گا کہ تیرا مالک سب جانتا ہے؟
یہوداہ سدوم کا ذکر کسی ڈراؤنی کہانی کی طرح نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ اُنہیں ”نمونہ“ بنا کر رکھا گیا۔ نمونہ کسی اور کے لیے نہیں، میرے اور تیرے لیے۔ مگر ہم اکثر آئینہ اُلٹا پکڑ لیتے ہیں اور دوسروں کے گناہ گننے لگتے ہیں۔ آج ذرا ٹھہر کر پوچھ: میرے اندر وہ کون سی چھوٹی سی ضد پل رہی ہے جسے میں نے معمولی سمجھ رکھا ہے؟
دوسروں کو آگ میں سے چھین کر بچائیں۔“ یہ آرام سے بیٹھ کر دیکھنے کی بات نہیں۔ آگ میں سے کسی کو کھینچنا ہو تو ہاتھ گرم ہوتے ہیں، کپڑے جھلستے ہیں۔ یہوداہ رحم کا حکم دیتا ہے، مگر ساتھ ہی خوف کا بھی، کیونکہ جسے تُو بچانے جا رہا ہے اُس کا گناہ تجھے بھی پکڑ سکتا ہے۔ کیا تیرے دل میں کسی کا نام ہے جسے تُو نے آگ کے قریب چھوڑ رکھا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
