قُضاۃ 19
متن
ایک لاوی اپنی داشتہ کو منانے بیت لحم جاتا ہے، سُسر کی مہمان نوازی میں دن گزار کر دیر سے روانہ ہوتا ہے، اور یبوسیوں کے شہر میں رات گزارنے سے انکار کر کے "اسرائیلی" شہر جِبعہ کا رُخ کرتا ہے۔ وہاں کوئی اُسے گھر نہیں بلاتا سوائے ایک اجنبی بوڑھے کے، اور رات کو شہر کے مرد گھر گھیر لیتے ہیں۔ لاوی اپنی داشتہ کو باہر دھکیل کر دروازہ بند کر دیتا ہے؛ صبح وہ دہلیز پر مُردہ پڑی ہے۔ وہ لاش کو بارہ ٹکڑوں میں کاٹ کر پورے اسرائیل میں بھیج دیتا ہے۔
مرکزی نکتہ
یہ باب خدا کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولتا، اور یہی اُس کی سب سے تیز بات ہے۔ اِس پورے واقعے میں نہ کوئی نبی بولتا ہے، نہ رب کوئی قاضی کھڑا کرتا ہے، نہ آسمان سے کوئی ہاتھ بڑھ کر مظلوم کو بچاتا ہے۔ لاوی کہتا ہے، "اِس وقت مَیں رب کے گھر جا رہا ہوں"، مگر رب اُس کے فیصلوں میں کہیں موجود نہیں۔ باب کا آغاز ہی تشخیص ہے: "اُس زمانے میں جب اسرائیل کا کوئی بادشاہ نہیں تھا"۔ مذہبی زبان باقی ہے، عہد کی روح رخصت ہو چکی ہے۔ گناہ کی انتہا یہ نہیں کہ لوگ خدا کو بھول جائیں، بلکہ یہ کہ وہ خدا کا نام لیتے ہوئے ایک انسان کو دروازے سے باہر پھینک دیں۔
سلسلۂ کلام
یہ کہانی جانی پہچانی لگتی ہے، اور یہ اتفاق نہیں۔ پیدایش ۱۹ میں بھی مسافر شام کو شہر میں آتے ہیں، ایک اجنبی اُنہیں چوک سے اپنے گھر لے جاتا ہے، شہر کے مرد گھر گھیر لیتے ہیں، میزبان "ایسی شرم ناک حرکت مت کرنا" کہتا ہے اور اپنی بیٹیوں کی پیشکش کرتا ہے۔ فرق فیصلہ کن ہے: سدوم میں فرشتے دروازہ سنبھال لیتے ہیں اور بھیڑ اندھی ہو جاتی ہے؛ جِبعہ میں کوئی فرشتہ نہیں آتا۔ اسرائیل سدوم بن گیا ہے، بلکہ اُس سے بدتر، کیونکہ یہ عہد کا قبیلہ ہے۔ اور غور کریں: عورت بیت لحم سے ہے، اُسی شہر سے جہاں سے آگے چل کر داؤد اور مسیح آئیں گے۔ قضاۃ کی کتاب اِس اندھیرے سے ایک تڑپ پیدا کرتی ہے: ایسا بادشاہ چاہیے جو دروازے کے باہر خود کھڑا ہو جائے۔ صلیب پر ٹھیک یہی ہوا: مسیح نے اپنی دلہن کو باہر نہیں دھکیلا، خود باہر گئے۔
آئینہ
لاوی نے کوئی تشدد اپنے ہاتھ سے نہیں کیا۔ اُس نے صرف دروازہ بند کیا۔ یہی اُس کی مذمت ہے، اور یہیں یہ باب ہمیں پکڑتا ہے۔ ہم بھی وہ لوگ ہیں جو خود ظلم نہیں کرتے، بس اُس رات سو جاتے ہیں: وہ رشتہ دار جس کے گھر میں مار پیٹ کی خبریں ہیں اور ہم "خاندانی معاملہ" کہہ کر ٹال دیتے ہیں؛ وہ ملازم جس کی تنخواہ روکی جا رہی ہے اور ہم کاروبار کی مجبوری بتا دیتے ہیں؛ وہ عورت کلیسیا میں جس کی شکایت پر ہم "بات نہ بڑھاؤ" کہتے ہیں۔ لاوی کے الفاظ اُس صبح "اُٹھو، ہم چلتے ہیں" ہر اُس آدمی کی زبان ہیں جو اپنی سہولت کو کسی کی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ آج ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس کی تکلیف سے آپ نے دروازہ بند کیا ہے، اور وہ نام سامنے رکھ کر بلند آواز میں دعا کریں۔
ایک تفصیل
"ہاتھ دہلیز پر رکھے ہیں"۔ یہ جملہ پورے باب کا مقدمہ ہے۔ دہلیز مہمان نوازی کی سرحد ہے، اُس گھر کی حد جہاں مسافر کو پناہ ملنی تھی۔ عورت وہاں تک پہنچی، اُس نے آخری طاقت سے ہاتھ اُس چوکھٹ پر رکھا جس کے پیچھے اُس کا شوہر محفوظ سو رہا تھا۔ کتاب یہ نہیں بتاتی کہ وہ باہر مری یا دہلیز پر؛ خاموشی جان بوجھ کر ہے۔ اور اُس کا نام؟ پورے باب میں ایک بار بھی نہیں۔ وہ "داشتہ" ہے، ایک رشتے کا نام، شخص کا نہیں۔ کلامِ مُقدّس یہاں بےنامی کو خود گواہی بنا دیتا ہے: جو لوگ ہمارے نظام میں گنتی سے باہر ہیں، اُن کے ہاتھ خدا کی دہلیز پر پڑے ہیں۔
سامعین کا خاکہ
پہلے سننے والے جانتے تھے کہ جِبعہ کہاں ہے: وہ ساؤل کا شہر تھا، اسرائیل کے پہلے بادشاہ کا آبائی مقام۔ اِس کہانی کا آخری منظر بھی اُن کے لیے آشنا تھا۔ لاوی نے لاش کے بارہ ٹکڑے قبیلوں کو بھیجے؛ آگے ۱-سموئیل ۱۱ میں ساؤل بیل کے ٹکڑے اسی طرح بھیج کر اسرائیل کو جنگ کے لیے جمع کرے گا۔ سننے والے کان کھڑے کرتے: کیا بادشاہت اِس اندھیرے کا علاج ہے یا اُسی کا تسلسل؟ اور جب لوگ کہتے ہیں "جب سے ہم مصر سے نکل کر آئے ہیں ایسی حرکت دیکھنے میں نہیں آئی"، تو یہ خروج کی یاد ہے: جو قوم غلامی سے چھڑائی گئی، وہ اب اپنے ہی درمیان غلامی سے بدتر کام کر رہی ہے۔
پس منظر
قضاۃ کا زمانہ ہے، جب مرکزی حکومت نہیں اور ہر قبیلہ اپنے حساب سے جیتا ہے۔ لاوی افرائیم کے کسی "دُوردراز کونے" میں رہتا ہے، یعنی زمین سے محرومی کے باعث بکھرے لاویوں میں سے ایک، جس کی روزی مقامی مہربانی پر ٹکی ہے۔ داشتہ کا رشتہ نکاح سے کم درجے کا، مگر معاہدہ رکھتا تھا؛ عورت کے میکے واپس جانے میں ایک احتجاج تھا۔ اُس دنیا میں مسافر کی حفاظت میزبان کی عزت کا معاملہ تھی، اِسی لیے بوڑھا آدمی کہتا ہے "ہر صورت میں چوک میں رات مت گزارنا"۔ اور یاد رکھیں کہ لاوی نے یبوس کو "اجنبیوں کا شہر" کہہ کر رَد کیا تھا۔ اُس کا مذہبی حساب یہی تھا کہ اپنوں میں محفوظ رہیں گے۔ اُس رات یہ حساب خون میں غلط ثابت ہوا۔
غور و فکر کے سوالات
کہاں آپ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ "اپنے لوگوں" کے درمیان چیزیں محفوظ ہیں، جبکہ حقیقت میں وہاں دروازے بند ہیں؟
اِس باب میں خدا خاموش ہے۔ اُس خاموشی کو پڑھ کر آپ کے دل میں شکایت جاگتی ہے یا ذمہ داری؟ کیوں؟
Judges 19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
قُضاۃ 19 کا کیا مطلب ہے؟
قُضاۃ 19 کس بارے میں ہے؟
قُضاۃ 19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
قُضاۃ 19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
قُضاۃ 19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Judges 19 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، وہ اجنبی جو چوک میں بیٹھا رہا اور کسی نے اُسے اپنے گھر نہ بلایا، آج بھی ہمارے آس پاس موجود ہے۔ ہماری آنکھیں کھول تاکہ ہم اُنہیں دیکھ سکیں جو نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دل اور ہمارے دروازے تنگ نہ ہوں، بلکہ تیری محبت کی طرح کھلے رہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
