لوقا 12:26
متن
عیسیٰ ایک سوال کے پیچھے دوسرا سوال رکھتے ہیں، اور دوسرا سوال پہلے سے زیادہ چبھتا ہے۔ پہلے وہ پوچھتے ہیں کہ کیا فکر کرتے کرتے کوئی اپنی زندگی میں ایک لمحے کا بھی اضافہ کر سکتا ہے، اور پھر یہ: ”اگر تم فکر کرنے سے اِتنی چھوٹی سی تبدیلی بھی نہیں لا سکتے تو پھر تم باقی باتوں کے بارے میں کیوں فکرمند ہو؟“ یعنی جو چیز ہمیں سب سے بڑی لگتی ہے، اپنی عمر، اپنی سلامتی، اپنے دنوں کی گنتی، اُسے خداوند ”چھوٹی سی“ کہہ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ اور اگر ہمارے ہاتھ اُس چھوٹی چیز پر بھی نہیں پہنچتے، تو باقی سب کے بوجھ کو اُٹھائے رکھنے کی منطق کہاں سے آتی ہے؟ یہ جواب نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جو خاموشی سے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔
مرکزی حقیقت
اِس ایک آیت میں پریشانی کو گناہ نہیں، بلکہ ناکامی کہا گیا ہے: ایسی محنت جس کا کوئی پھل نہیں۔ فکر اپنے آپ کو کارروائی کا بھیس پہناتی ہے، مگر وہ کچھ نہیں بناتی؛ نہ ایک لمحہ، نہ ایک سانس۔ خداوند ہمیں یہ نہیں سکھا رہے کہ زندگی سنبھالنا آسان ہے، بلکہ یہ کہ زندگی سنبھالنا ہمارے اختیار میں کبھی تھا ہی نہیں۔ اور یہی بات، جو پہلے سنتے ہی خوف پیدا کرتی ہے، آگے آسمانی باپ کی فکرمندی کا دروازہ کھولتی ہے (آیت ۳۰)۔ ایمان یہاں کسی مثبت سوچ کا نام نہیں، بلکہ اُس حد کو قبول کرنے کا نام ہے جو مخلوق ہونے کا حصہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ میں کیوں فکر کرتا ہوں، سوال یہ ہے کہ میں کس کے ہاتھ کو اپنے دنوں پر بھروسے کے قابل نہیں سمجھتا۔
سلسلۂ نجات میں اِس کی جگہ
خدا کے لوگ ہمیشہ اُس سرحد پر رہتے آئے ہیں جہاں کل کا بندوبست اُن کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ریگستان میں من ہر صبح صرف اُس دن کے لئے اُترتا تھا؛ جو ذخیرہ کرنا چاہتا، اُس کے پاس بدبودار سڑا ہوا اناج رہ جاتا (خروج ۱۶)۔ چالیس سال تک اسرائیل کو یہی ایک سبق سکھایا گیا: زندگی روزانہ ہاتھ سے وصول کی جاتی ہے، گودام سے نہیں۔ اِسی چیپٹر میں خداوند کے سامنے وہ بپتسمہ کھڑا ہے جسے لینا ضروری ہے (آیت ۵۰)، اور اُس دباؤ میں وہ خود بےفکری کا وہ راستہ چلتے ہیں جو ہمیں سکھا رہے ہیں: اپنے دن باپ کے ہاتھ میں دے دینا۔ فکر پر یہ فتح خالی نصیحت نہیں؛ یہ اُس شخص کے منہ سے آ رہی ہے جس نے اپنی جان کے معاملے میں بھی حساب لگانے سے انکار کر دیا۔
آئینہ
فکر کبھی خالی نہیں لگتی۔ رات کے دو بجے آپ اپنے بچے کے مستقبل کا حساب لگاتے ہیں، اُس رپورٹ کو دوبارہ دماغ میں دہراتے ہیں جو کل باس کے سامنے جانی ہے، اُس گلٹی کے بارے میں سوچتے ہیں جس کا ٹیسٹ ابھی باقی ہے، مہینے کے آخری دنوں کے خرچ گنتے ہیں۔ اور یہ سب اِس یقین کے ساتھ کہ اگر میں کافی سوچ لوں تو کچھ سنبھل جائے گا۔ خداوند کا سوال بےرحمی سے سیدھا ہے: کیا واقعی سنبھلا؟ آپ نے جو ہزار گھنٹے فکر میں لگائے، اُن سے ایک لمحہ بھی خریدا گیا؟ فکر ہماری نہ مانی ہوئی خودی کی سب سے مذہبی شکل ہے؛ ہم پریشان ہو کر خدا کی جگہ سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر تھک کر اُسے وفاداری کا نام دیتے ہیں۔
آج سونے سے پہلے ایک کاغذ پر صرف وہ ایک چیز لکھیں جس نے آج آپ کو سب سے زیادہ اندر سے کھایا، اُس کے نیچے لکھیں ”یہ میرے ہاتھ میں نہیں“، اور اُسے بلند آواز سے نام لے کر باپ کے سپرد کر دیں۔
سیاق و سباق
یہ باتیں کسی خاموش کمرے میں نہیں کہی جا رہیں۔ آیت ۱ کے مطابق کئی ہزار لوگ اِس قدر جمع تھے کہ ”وہ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے“۔ اِس رگڑ اور دھکم پیل میں کوئی چیخ کر اپنی میراث کا مقدمہ اُٹھاتا ہے (آیت ۱۳)، کیونکہ جس معاشرے میں زمین ہی روٹی، عزت اور بڑھاپے کا سہارا تھی، وہاں بھائی کے ہاتھ میں پھنسا ہوا حصہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ پھر امیر آدمی کی تمثیل، پھر گودام، پھر کوّے۔ گلیل کے کسان اور مزدور فصل کی ناکامی سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر جیتے تھے؛ اُن کے لئے ”کیا کھاؤں گا“ فلسفہ نہیں، اگلے ہفتے کا سچ تھا۔ اِسی حقیقی بھوک کے درمیان خداوند فکر کو بےبس ثابت کرتے ہیں، اور یہی اِس بات کو نرم نہیں، بلکہ زیادہ ہمت والا بناتا ہے۔
ایک باریک نکتہ
اردو ترجمے میں ”اِتنی چھوٹی سی تبدیلی“ کے پیچھے یونانی لفظ ہے ایلاخِستوس، یعنی سب سے چھوٹا، سب سے حقیر۔ اور یہ سب سے حقیر چیز کیا ہے؟ آپ کی عمر۔ آپ کے دنوں کی لمبائی۔ وہی چیز جس کے لئے ہم دوائیں، بیمہ، ورزش، بچت اور دعائیں سب لگا دیتے ہیں، خداوند کے پیمانے پر ”سب سے چھوٹی“ ہے۔ یہ ہماری قدر کی توہین نہیں؛ یہ نظر کی درستی ہے۔ اگر میری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ خدا کے ہاتھ میں ایک معمولی سی بات ہے، تو باقی سب کیا ہے؟ اور اُلٹ کر یہ سوال بھی اُٹھتا ہے: اگر وہ اِس ”چھوٹی“ چیز کو تھامے ہوئے ہیں، تو میں اُنہیں بڑی چیزوں کے لئے کم قابل کیوں سمجھتا ہوں؟
مرکزی کردار
اِس آیت میں کوئی کہانی نہیں، صرف ایک بولنے والا ہے، اور اُس کی آواز کا انداز غور کے قابل ہے۔ وہ ڈانٹتے نہیں، دلیل دیتے ہیں۔ وہ ہمیں فکر چھوڑنے کا حکم دینے کے بجائے ہمارے سامنے ہمارا ہی حساب رکھ دیتے ہیں اور ہمیں خود جوڑ لگانے دیتے ہیں۔ یہ اُس معلم کا طریقہ ہے جو جانتا ہے کہ خوف حکم سے نہیں مرتا، دیکھنے سے مرتا ہے۔ آگے وہ ہمیں ”کم اعتقادو“ کہتے ہیں (آیت ۲۸) اور پھر فوراً ”اے چھوٹے گلے“ (آیت ۳۲)۔ یہ ایک ہی سانس میں سرزنش اور شفقت ہے۔ ایسا خداوند ہمیں ہماری کمزوری پر جھوٹی تسلی نہیں دیتا، مگر ہمیں چھوڑ کر بھی نہیں جاتا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اُس کے سوالوں کے سامنے کتنی دیر خاموش بیٹھنے کو تیار ہیں۔
کلام کی گواہی
زبور ۳۹ میں داؤد خدا سے یہی مانگتے ہیں کہ مجھے میرے دنوں کی مقدار جتا دے تاکہ مجھے معلوم ہو کہ میں کتنا فانی ہوں۔ یعنی پرانے عہد کا ایماندار بھی اِسی سرحد پر کھڑا تھا، مگر وہ اپنے دنوں کا علم مانگتا ہے؛ عیسیٰ اپنے شاگردوں کو اُس علم کے بغیر جینا سکھاتے ہیں، صرف باپ کے علم پر بھروسا کر کے، کیونکہ ”تمہارے باپ کو پہلے سے معلوم ہے کہ تم کو اِن کی ضرورت ہے“ (آیت ۳۰)۔ فرق دیکھیں: زبور روشنی مانگتا ہے، انجیل رشتہ دیتی ہے۔ اور اِسی چیپٹر کا وہ امیر آدمی جو ”بہت سالوں“ کا حساب لگا کر اُسی رات مر گیا، فکر اور ذخیرہ کرنے کی اُسی ناکامی کی زندہ تصویر ہے جس کی طرف آیت ۲۶ اشارہ کرتی ہے۔
پہلے سننے والے
اُن مچھیروں، مزدوروں اور بیواؤں کے لئے، جن کی جیب میں دو پیسے کی پانچ چڑیاں بھی ایک خرچ تھیں، یہ بات ہوا میں تیرتی روحانیت نہیں تھی۔ وہ روم کے ٹیکس، ہیرودیس کی نظر اور فصل کی بےیقینی کے درمیان جیتے تھے، اور ابھی آگے یہ بھی سن رہے تھے کہ اُنہیں عبادت خانوں اور حاکموں کے سامنے گھسیٹ کر لے جایا جائے گا (آیت ۱۱)۔ اِس پس منظر میں ”کیوں فکرمند ہو؟“ ایک انقلابی جملہ تھا: تمہاری زندگی اُن کے ہاتھ میں نہیں جو تمہیں ڈراتے ہیں، اور نہ تمہارے اپنے حساب میں۔ جو لوگ روزانہ اپنی بےبسی کا سامنا کرتے ہیں، وہ اِس بات کو ہم سے جلد سمجھ لیتے ہیں؛ ہم جن کے پاس بہت سے گودام ہیں، ہمیں دیر لگتی ہے۔
ایک مشکل سوال
مگر پھر یہ کیوں ہوتا ہے کہ ایماندار بھی بھوکے مرتے ہیں، کینسر سے مرتے ہیں، بےروزگار رہتے ہیں؟ اگر خدا چڑیوں کو نہیں بھولتا، تو چڑیاں بھی تو گرتی ہیں۔ عیسیٰ ہمیں یہ ضمانت نہیں دیتے کہ کچھ برا نہیں ہو گا؛ اِسی چیپٹر میں وہ اُن کا ذکر کرتے ہیں جو جسم کو قتل کرتے ہیں (آیت ۴)۔ اُن کی دلیل حالات کی گارنٹی نہیں، بلکہ فکر کی بےکاری ہے۔ یہ آیت آرام نہیں دیتی، ہاتھ خالی کرتی ہے۔ اور یہاں تشریح کچھ دیر خاموش ہو جانی چاہیے، کیونکہ فکر اور بھروسے کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ منطق سے نہیں، کسی کے ساتھ چلنے سے طے ہوتا ہے۔ ہم صرف اِتنا جانتے ہیں کہ جس نے یہ کہا، وہ اپنے دن گنے بغیر صلیب تک گیا۔
غور و فکر کے سوالات
آج آپ نے سب سے زیادہ کس بات کی فکر کی، اور دیانت داری سے دیکھیں: اُس فکر نے واقعی کیا بدلا؟
اگر آپ کی عمر خدا کے ہاتھ میں ”سب سے چھوٹی“ بات ہے، تو آپ کی زندگی میں وہ کون سی بڑی بات ہے جسے آپ نے اُن کے ہاتھ سے واپس لے رکھا ہے؟
اپنے دنوں کی گنتی نہ جاننا آپ کو ڈراتا ہے یا آزاد کرتا ہے، اور یہ جواب آپ کے بھروسے کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
Luke 12:26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 12:26 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 12:26 کس بارے میں ہے؟
لوقا 12:26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 12:26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 12:26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، کئی بار میں تیرے پاس آ کر چاہتا ہوں کہ تو میرے حق میں فیصلہ سنا دے، میرے جھگڑے میرے مطابق نمٹا دے۔ مجھے معاف کر۔ میرا دل چیزوں کے بٹوارے سے زیادہ تیری محبت کا پیاسا ہو جائے۔ میری خواہشوں کو سنبھال، اور مجھے سکھا کہ اصل دولت تُو ہی ہے۔
اے باپ، میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ تیری ہی بخشش ہے۔ مجھے اِس دھوکے سے بچا کہ بڑے گودام میری زندگی کو محفوظ بنا دیں گے۔ مجھے سکھا کہ کھلے دل سے بانٹوں اور اپنی دولت تجھ میں ڈھونڈوں، کیونکہ اصل امیری تیرے قریب رہنے میں ہے۔
اے خدا، تُو میرے دل کے چھپے کونے بھی جانتا ہے۔ مجھے ایسا بننے سے بچا جو باہر سے کچھ اور اور اندر سے کچھ اور ہو۔ ریاکاری تھوڑی سی بھی ہو تو پورے وجود میں پھیل جاتی ہے، اِس لیے مجھے سچائی میں جینا سکھا، تیرے سامنے اور لوگوں کے سامنے بھی۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں