گِنتی 34
متن
موآب کے میدان میں، یریحو کے عین سامنے، خیموں کی قطاروں کے بیچ ایک فہرست پڑھی جاتی ہے: درۂ عقربیم، قادس برنیع، حصر ادّار، لبو حمات، زِفرون۔ رب موسیٰ کے ذریعے اُس ملک کی چاروں سرحدیں کھینچتا ہے جو اسرائیل کو میراث میں ملنے والا ہے: جنوب میں ادوم اور دشتِ صین سے لے کر مغرب میں بحیرۂ روم کا ساحل، شمال میں ہور پہاڑ اور حمات کا راستہ، اور مشرق میں کِنّرت کی جھیل سے دریائے یردن کے کنارے کنارے بحیرۂ مُردار تک۔ پھر حکم آتا ہے: یہ ملک قرعہ ڈال کر ساڑھے نو قبیلوں میں تقسیم ہو گا، کیونکہ اڑھائی قبیلے یردن کے مشرق میں اپنا حصہ لے چکے ہیں۔ آخر میں بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جاتے ہیں جو اِلی عزر اور یشوع کے ساتھ یہ تقسیم انجام دیں گے۔
مرکزی بات
وعدہ یہاں جغرافیہ بن جاتا ہے۔ ابرہام سے کیا گیا عہد اب ناپی ہوئی زمین، مقررہ کونوں اور ناموں والی بستیوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ اہم ہے: خدا کا فضل ہوا میں معلق جذبہ نہیں، وہ مٹی، پانی اور پتھر پر اُترتا ہے۔ مگر سرحد کا دوسرا پہلو بھی دیکھیے: سرحد حد بھی ہے۔ اسرائیل کو یہ آزادی نہیں دی جاتی کہ جہاں تک تلوار پہنچے وہاں تک قبضہ کر لے۔ رب خود فرماتا ہے، ”یہ تمہارے ملک کی سرحدیں ہوں گی۔“ مالک وہی رہتا ہے؛ قوم صرف ”میراث“ پانے والی ہے، لوٹ کا مال سمیٹنے والی نہیں۔ جہاں انسان لامحدود توسیع چاہتا ہے، وہاں خدا کافی حصہ دیتا ہے اور اُس کے گرد لکیر کھینچ دیتا ہے۔
سنہری تار
اِس فہرست میں ایک نام چونکا دیتا ہے: ”یہوداہ کے قبیلے کا کالب بن یفُنّہ۔“ اُسی کالب کو، جو چالیس سال پہلے قادس برنیع سے واپس آ کر اکیلا یقین رکھتا تھا کہ یہ ملک مل سکتا ہے، اب زمین بانٹنے کا اختیار ملتا ہے۔ اور جس قادس برنیع کے جنوب سے سرحد گزرتی ہے، وہی وہ جگہ ہے جہاں پہلی نسل نے انکار کیا تھا۔ ناکامی کا مقام اب نقشے پر محض ایک سرحدی نشان ہے؛ خدا کا وعدہ انسان کے انکار سے بڑا نکلا۔ یہی تار آگے بڑھتی ہے: ابرہام سے کیا گیا زمین کا وعدہ مسیح میں اُس میراث تک پہنچتا ہے جو پطرس کے بقول آسمان پر محفوظ رکھی گئی ہے۔ پہلے مٹی، پھر نئی سرشت، آخر میں نئی زمین۔
آئینہ
قرعہ ڈالنے کا حکم بےوجہ نہیں۔ جہاں انسان بانٹتے ہیں، وہاں زور آور بہترین وادی لے جاتا ہے اور کمزور پتھریلی ڈھلان پر رہ جاتا ہے۔ قرعہ سب کا منہ بند کر دیتا ہے: تمہارا حصہ تمہاری سفارش سے نہیں، رب کے ہاتھ سے آیا ہے۔ اب اپنے اندر جھانکیے۔ وہ تنخواہ، وہ مکان، وہ رشتہ، وہ جسم جو آپ کو ملا ہے: آپ اُسے حصہ سمجھتے ہیں یا کم تقسیم؟ خاندان میں وراثت کے جھگڑے، بھائی کے بڑے گھر پر خاموش جلن، ساتھی کی ترقی پر تلخ تبصرہ، یہ سب اُسی بےچینی کی اولاد ہیں جو اپنی سرحدیں قبول نہیں کرتی۔ آج ایک کاغذ پر اپنی زندگی کی تین اصل حدیں لکھیے (آپ کا کام، آپ کا گھر، آپ کی صحت) اور ہر ایک کے سامنے بلند آواز میں کہیے: ”یہ میرا حصہ ہے، رب کے ہاتھ سے۔“
سوال
موسیٰ یہ تمام سرحدیں سنتا، دہراتا اور سمجھاتا ہے، مگر خود اُن کے اندر قدم نہیں رکھے گا۔ وہ نقشہ کھینچنے والا ہے جو گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ اور دوسری بات جو کھلتی ہے: اِن سرحدوں کے اندر پہلے سے لوگ بستے تھے، اُن کے کنویں، قبریں اور دیوتا وہاں تھے۔ متن ایک لفظ بھی اُن کے بارے میں نہیں کہتا؛ صرف لکیریں۔ یہ خاموشی تکلیف دیتی ہے، اور اُسے چھپانا بےایمانی ہو گی۔ بائبل خود اِسے فضل اور عدالت کے درمیان رکھتی ہے، اور اسرائیل کو خبردار کرتی ہے کہ وہی پیمانہ اُس پر بھی لگے گا؛ جلاوطنی میں یہی ہوا، سرحدیں سمٹ گئیں۔ نیز اسرائیل نے یہ پورا نقشہ کبھی حاصل نہ کیا۔ وعدہ دیا گیا، مگر مکمل نہ ہوا: ایک کھلا زخم جو مسیح تک پہنچتا ہے۔
دوسرے مقامات کی گونج
یشوع کی کتاب میں یہی حکم عمل بنتا ہے: قرعے ڈالے جاتے ہیں، اور کالب سب سے پہلے اپنے پہاڑ کا مطالبہ کرتا ہے، اُسی ایمان کے ساتھ جو چالیس سال زندہ رہا۔ اِس کے برعکس حزقی ایل نبی جلاوطنی کے اندھیرے میں دوبارہ سرحدیں کھینچتا ہوا دیکھتا ہے اور ہر قبیلے کا حصہ پھر مقرر کرتا ہے: یعنی سرحدیں مٹ جانے کے بعد بھی خدا نقشہ نویس رہتا ہے۔ اور نئے عہد میں پطرس اُسی لفظ ”میراث“ کو اٹھا کر کہتا ہے کہ وہ آسمان پر محفوظ ہے، نہ مرجھانے والی، نہ ناپاک ہونے والی۔ گنتی ۳۴ کی خشک فہرست اور وہ آیت ایک ہی زنجیر کے دو سرے ہیں۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ سن رہے تھے، اُنہوں نے زندگی میں کبھی زمین کا ایک ٹکڑا نہیں رکھا تھا۔ وہ خیموں میں پیدا ہوئے، خیموں میں پلے، اور اُن کے باپ دادا مصر میں ایسے کسان تھے جہاں ساری زمین فرعون کی تھی اور کسان صرف مزدور۔ اب وہ سن رہے ہیں کہ ہر خاندان کا اپنا حصہ ہو گا، اپنی انجیر، اپنا کنواں۔ مقامات کے نام اُن کے لیے محض الفاظ نہیں تھے: تجارتی قافلوں کے راستے، چشمے، گزرگاہیں۔ اور بارہ ناموں کا باقاعدہ پڑھا جانا قبائلی عزت کا معاملہ تھا: ہر قبیلے کا گواہ موجود، تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہ سکے کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ یہ فہرست اُن کے کانوں میں دستاویزِ ملکیت کی طرح بجی، اور بےزمین لوگوں کے لیے یہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز تھی۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کی کون سی سرحد آپ کو تنگ لگتی ہے، اور اگر آپ اُسے رب کے ہاتھ سے ملا حصہ مانیں تو آج کیا بدلے گا؟
موسیٰ نے وہ ملک تقسیم کیا جس میں خود داخل نہ ہوا؛ آپ کس کام میں خدمت کر رہے ہیں جس کا پھل غالباً آپ نہیں، کوئی اور کھائے گا؟
Numbers 34 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
گِنتی 34 کا کیا مطلب ہے؟
گِنتی 34 کس بارے میں ہے؟
گِنتی 34 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
گِنتی 34 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
گِنتی 34 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Numbers 34 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے اِلی عزر امام اور یشوع بن نون کو نام لے کر مقرر کیا تاکہ وہ ملک تقسیم کریں۔ تُو نے میری میراث کو اتفاق کے حوالے نہیں کیا بلکہ خود بندوبست کیا۔ شکر کہ آج بھی تُو بھروسے کے لائق لوگ کھڑے کرتا ہے جو تیری مرضی کے مطابق حصہ بانٹتے ہیں۔
خدا نے اسرائیل کو زمین دی، مگر بےحد نہیں۔ سرحد یردن کے ساتھ ساتھ نیچے اُترتی ہے اور دریائے مُردار پر رُک جاتی ہے: "یہ تمہارے ملک کی سرحدیں ہوں گی۔" کتنا عجیب ہے کہ وراثت کا کنارہ ایک بےجان سمندر ہے۔ تیری زندگی کی حدیں بھی کہیں نہ کہیں ختم ہوتی ہیں۔ کیا تُو اُنہیں قید سمجھتا ہے یا اُس کا مقرر کردہ حصہ؟ جو خدا حد باندھتا ہے، وہی اندر کی زمین بھی بھرتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
