زبور 136
متن
ہیکل کے صحن میں ایک آواز اُٹھتی ہے: "رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے" — اور جواب میں سینکڑوں گلے ایک ساتھ گونجتے ہیں: "اُس کی شفقت ابدی ہے۔" چھبیس بار۔ ہر مصرعے کے بعد وہی جواب، بغیر کسی تبدیلی کے۔ یہ زبور ایک فہرست ہے جو آسمان کی تخلیق سے شروع ہوتی ہے، سورج اور چاند سے ہوتی ہوئی مصر کی اُس رات تک پہنچتی ہے جب پہلوٹھے مارے گئے، پھر بحرِ قُلزم کے دو پھٹے ہوئے حصوں میں سے گزرتی ہے، ریگستان کی لمبی قیادت اور سیحون اور عوج کی شکست سے ہوتی ہوئی اُس جملے پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں تاریخ اچانک ذاتی ہو جاتی ہے: "جس نے ہمارا خیال کیا جب ہم خاک میں دب گئے تھے۔" اور آخر میں، سب سے عام اور سب سے روزمرہ بات: وہ تمام جانداروں کو خوراک دیتا ہے۔
مرکزی بات
اِس زبور کا پورا وزن اُس ایک دہرائے جانے والے فقرے پر ٹکا ہے: "اُس کی شفقت ابدی ہے۔" عبرانی لفظ یہاں خیسد ہے، یعنی وہ وفادار محبت جو عہد سے جُڑی ہوئی ہے، وہ مہربانی جو محض جذبہ نہیں بلکہ وعدہ ہے۔ اور دیکھیے کہ یہ فقرہ کس کس چیز کے ساتھ جوڑا گیا ہے: ستاروں کی تخلیق کے ساتھ بھی، اور فرعون کی فوج کے ڈوبنے کے ساتھ بھی۔ یعنی خدا کی شفقت صرف نرم چیزوں میں ظاہر نہیں ہوتی؛ وہ اُس وقت بھی کام کر رہی ہوتی ہے جب وہ ظالم کو روکتا ہے۔ یہی اِس زبور کا دعویٰ ہے: کائنات کی بنیاد کوئی اندھا قانون نہیں، بلکہ ایک ایسا خدا ہے جس کی وفاداری ختم نہیں ہوتی، اور جس کی قدرت اُسی وفاداری کی خدمت کرتی ہے۔
مشترکہ دھاگا
یہ زبور تاریخ کو ایک زنجیر کی طرح پروتا ہے: تخلیق، رہائی، صحرا، میراث۔ ہر کڑی ایک ہی دھات سے بنی ہے، یعنی خدا کی وفادار محبت۔ اور یہ زنجیر زبور پر ختم نہیں ہوتی۔ جب خداوند یسوع مسیح نے فسح کی رات روٹی توڑی اور شاگردوں کے ساتھ گیت گایا، تو یہی ہَلّیل کے زبور گائے جاتے تھے؛ وہ اُس میز پر بیٹھا تھا جہاں مصر سے رہائی کا شکر ادا کیا جاتا تھا، اور چند گھنٹوں بعد خود وہ پہلوٹھا بننے والا تھا جس پر سزا آ پڑی تاکہ قوم بچ جائے۔ زبور کہتا ہے "جس نے ہمیں اُن کے قبضے سے چھڑایا جو ہم پر ظلم کر رہے تھے" — صلیب پر وہی ہاتھ ایک بڑے قبضے، گناہ اور موت کے خلاف اُٹھا۔ وہی خیسد، نئی گہرائی میں۔
آئینہ
ہم شکر گزاری کو موڈ کی چیز سمجھتے ہیں: جب دل ہلکا ہو تو شکر، جب بل ادا نہ ہوں تو خاموشی۔ یہ زبور اِس عادت کو توڑتا ہے، کیونکہ یہ ایک حکم ہے اور ایک دہرایا جانے والا جواب، ایسا جواب جو آپ کو اُس وقت بھی دینا ہے جب آپ کا جی نہ چاہے۔ غور کیجیے کہ قوم نے یہ آیت صحرا کے برسوں کے بعد گائی، ہارے ہوئے سالوں کے بعد گائی، اور اُس لمحے کو بھی شامل کیا جب "ہم خاک میں دب گئے تھے"۔ آپ کی ذلت کا سال بھی فہرست میں جگہ پاتا ہے۔ آج ایک کاغذ لیجیے اور اپنی زندگی کے چار موڑ لکھیے، ہر ایک کے نیچے یہی جملہ لکھیے: "کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے" — اور پھر اُسے بلند آواز میں پڑھیے۔
پہلے سننے والے
تصور کیجیے اُس ہجوم کا جو بابل سے لوٹنے کے بعد ایک معمولی سی ہیکل کے سامنے کھڑا ہے۔ اُن کے پاس داؤد جیسا تخت نہیں، شان و شوکت نہیں، شہر کی دیواریں ادھوری ہیں۔ اور وہ گا رہے ہیں کہ خدا نے بڑے بادشاہوں کو شکست دی، کہ اُس نے ملک میراث میں دیا۔ یہ محض ماضی کی یاد نہیں تھی، یہ ایک دعویٰ تھا: جو خدا سیحون اور عوج کے سامنے نہیں جھکا، وہ فارس کے سامنے بھی نہیں جھکتا۔ اور جب وہ آیت 23 پر پہنچتے، "جب ہم خاک میں دب گئے تھے"، تو یہ جلاوطنی کا زخم تھا جو گیت میں بدل گیا تھا۔ قوم نے اپنی تاریخ کا سب سے شرمناک باب بھی شکر کی فہرست میں شامل کر لیا۔
ایک باریک بات
آیت 25 پر رُکیے: "جو تمام جانداروں کو خوراک مہیا کرتا ہے۔" ابھی ابھی ہم سمندر کے پھٹنے اور بادشاہوں کے گرنے کی بات کر رہے تھے، اور اچانک بات کھانے کی ہو رہی ہے؛ اور وہ بھی صرف اسرائیل کے کھانے کی نہیں، ہر جاندار کے۔ چڑیا، بیل، صحرا کا گیدڑ، پڑوسی قوم کا کسان۔ زبور یہ کہہ کر ایک دروازہ کھول دیتا ہے: جو خدا قوموں کو ہلاتا ہے، وہی روزانہ خاموشی سے دنیا کا دسترخوان بچھاتا ہے۔ معجزہ اور روٹی ایک ہی ہاتھ سے آتے ہیں۔ اور یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خیسد کی سب سے عام شکل ڈرامائی نہیں، بلکہ وہ پلیٹ ہے جو آج شام آپ کے سامنے رکھی جائے گی۔
مرکزی کردار
اِس زبور میں کوئی انسانی ہیرو نہیں۔ موسیٰ کا نام تک نہیں آتا۔ ہر فعل کا کرتا ایک ہی ہے: اُس نے بنایا، اُس نے نکالا، اُس نے تقسیم کیا، اُس نے قیادت کی، اُس نے خیال کیا۔ یہ خدا اکیلا کام کرتا ہے، "جو اکیلا ہی عظیم معجزے کرتا ہے"، اور پھر بھی وہ تنہا نہیں رہتا؛ وہ اپنی قوم کو "اپنے خادم اسرائیل" کہتا ہے اور اُنہیں ملک دیتا ہے۔ یہی اُس کا مزاج ہے: بے حد طاقتور اور بے حد جُڑا ہوا۔ وہ ستارے بناتا ہے اور خاک میں دبے لوگوں کو یاد رکھتا ہے۔ اِن دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں، کیونکہ دونوں ایک ہی وفاداری سے نکلتے ہیں، اور وہ وفاداری ختم نہیں ہوتی۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا باب ایسا ہے جسے آپ نے اب تک شکر کی فہرست سے باہر رکھا ہے، اور آپ کو کیا ڈر ہے کہ اُسے شامل کرنے سے ہوگا؟
اگر خدا کی شفقت روزمرہ کی خوراک میں بھی اُتنی ہی سچی ہے جتنی سمندر کے پھٹنے میں، تو آپ کے معمول کے دن میں کون سی چیز ہے جسے آپ نے معجزہ سمجھنا چھوڑ دیا ہے؟
Psalms 136 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 136 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 136 کس بارے میں ہے؟
زبور 136 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 136 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 136 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 136 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
