مکاشفہ 22:12
متن
مکاشفہ کے آخری صفحے پر خداوند یسوع خود بولتے ہیں، اور اُن کے الفاظ مختصر مگر بھاری ہیں: ”دیکھو، مَیں جلد آنے کو ہوں۔ مَیں اجر لے کر آؤں گا اور مَیں ہر ایک کو اُس کے کاموں کے موافق اجر دوں گا۔“ تین باتیں ایک ہی سانس میں کہی گئی ہیں: آنا، اجر، اور ہر ایک کے کام۔ خداوند خالی ہاتھ نہیں لوٹتے؛ وہ اپنے ساتھ کچھ لے کر آ رہے ہیں، اور وہ کچھ ہر شخص کے نام کے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ یہ جملہ اُس منظر کے فوراً بعد آتا ہے جہاں فرشتہ کہتا ہے کہ ”وقت قریب آ گیا ہے“ اور جہاں راست باز اور گھنونے شخص، دونوں کو اپنی روش پر چلتے رہنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا پردہ گرنے سے پہلے آخری اعلان۔
مرکز
یہاں انجیل کی وہ سچائی سامنے آتی ہے جسے ہم اکثر ادھورا بیان کرتے ہیں: نجات مفت ہے، مگر زندگی بے وزن نہیں۔ اِسی باب میں زندگی کا پانی ”مفت“ پیش کیا جاتا ہے، اور اُسی باب میں کاموں کے موافق اجر کا وعدہ ہے۔ یہ تضاد نہیں۔ فضل ہمیں خریدتا نہیں، بلکہ بدلتا ہے، اور جو بدلا ہوا ہے وہ نظر آتا ہے: صبر، سچائی، وفاداری، دبے ہوئے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونا۔ خداوند یہ نہیں فرماتے کہ مَیں تمہارے کاموں کے بدلے تمہیں قبول کروں گا، بلکہ یہ کہ مَیں تمہیں نظرانداز نہیں کروں گا۔ اور غور کریں: اجر کوئی الگ چیز نہیں جو وہ کہیں سے لاتے ہیں؛ وہ خود آ رہے ہیں۔ اصل انعام اُن کا چہرہ ہے، جسے آیت چار میں دیکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
مشترک دھاگا
”مَیں اجر لے کر آؤں گا“ ایک پرانی گونج ہے۔ یسعیاہ ۴۰ میں نبی اعلان کرتا ہے کہ رب قوت کے ساتھ آ رہا ہے اور اُس کا اجر اُس کے ساتھ ہے، اور وہاں یہ خبر جلاوطن، تھکے ہوئے لوگوں کے لئے تسلی ہے: تمہارے سالوں کا حساب کسی کے پاس محفوظ ہے۔ مکاشفہ کے آخر میں وہی آواز اب یسوع کے منہ سے نکلتی ہے، اور اگلی ہی آیت میں وہ خود کو ”الف اور ے، اوّل اور آخر“ کہتے ہیں۔ جو تاریخ کے دونوں سروں کو تھامے ہوئے ہے، وہی درمیان میں ہونے والے چھوٹے کاموں کا حساب رکھتا ہے۔ صلیب پر اُنہوں نے مزدوری کے بغیر کام کیا؛ جی اُٹھنے میں باپ نے اُنہیں اجر دیا۔ اب وہ اُسی ترتیب میں اپنے لوگوں کو شامل کرتے ہیں: پہلے وفاداری، پھر تاج۔
آئینہ
اِس آیت کا کانٹا یہ ہے کہ یہ ہماری دو مخالف خواہشوں کو ایک ساتھ چھوتی ہے۔ ایک طرف وہ ڈر جو رات کو جگاتا ہے: کیا میری زندگی بے کار گزر رہی ہے؟ دفتر میں کوئی میرا نام نہیں لیتا، گھر میں میری خدمت روزمرہ کا حصہ سمجھی جاتی ہے، بیمار ماں کی تیمارداری کے سال کسی رجسٹر میں درج نہیں۔ اِس ڈر کے لئے یہ آیت شفا ہے: خداوند اجر لے کر آ رہے ہیں، اور وہ ”ہر ایک کو“ دیں گے، بھیڑ کو نہیں، آپ کو۔ دوسری طرف وہ فخر جو ہر تعریف کو جیب میں ڈال لیتا ہے: میری خدمت، میرا حلقہ، میرے چندے۔ اگر اصل اجر اُس دن آنا ہے، تو آج کی تالیاں پیشگی وصول کی ہوئی رقم ہیں، اور جو پیشگی لے چکا وہ دوبارہ نہیں لیتا۔ یہی آیت ہماری بے صبری کو بھی بے نقاب کرتی ہے: ہم چاہتے ہیں کہ انصاف ابھی ہو، ہمارے دیکھتے ہوئے ہو، اور ترجیحاً ہمارے مخالف پر ہو۔
آج دس منٹ نکالیں: ایک ایسے شخص کو، جس کی محنت کسی کو نظر نہیں آتی (کلیسیا کی صفائی کرنے والا، رات کی شفٹ کا ساتھی، وہ رشتہ دار جو خاموشی سے سب سنبھالتا ہے)، پیغام بھیجیں اور اُس کا وہ ایک کام نام لے کر بتائیں جو آپ نے دیکھا ہے۔ کوئی نصیحت نہ لکھیں، صرف گواہی دیں کہ وہ کام دیکھا گیا۔
کلام کے دوسرے حوالے
پولس رسول ۲-کرنتھیوں ۵ میں لکھتے ہیں کہ ہم سب مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے حاضر ہوں گے تاکہ ہر ایک اپنے بدن سے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ پائے۔ یہ اُسی سکے کا دوسرا رخ ہے: پولس بھی نجات کو فضل کہتے ہیں اور پھر بھی کاموں کے جانچے جانے کی بات کرتے ہیں، بالکل جیسے مکاشفہ ۲۲ میں مفت پانی اور اجر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ دوسری طرف اِسی باب کی آیت ۱۴ کو نہ بھولیں: مبارک وہ ہیں ”جو اپنے لباس کو دھوتے ہیں“۔ داخلے کا حق دھلے ہوئے لباس سے ملتا ہے، یعنی لیلے کے خون سے؛ اجر کا پیمانہ کام ہیں۔ دروازہ فضل ہے، اندر کی روشنی میں ہمارے دن گنے جاتے ہیں۔
پہلے سننے والے
جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”اجر“ ہوا ہے، وہ مِستھوس ہے، یعنی مزدور کی وہ دیہاڑی جو شام کو ہاتھ میں رکھی جاتی تھی۔ ایشیائے کوچک کی اُن جماعتوں میں غلام، بُنکر، بندرگاہ کے مزدور بیٹھے تھے، وہ لوگ جنہیں مسیح کے نام کی وجہ سے صنفی انجمنوں سے نکالا جا رہا تھا اور جن کی کمائی سکڑ رہی تھی۔ اُن کے کانوں میں یہ فقرہ کوئی مجرد الٰہیات نہیں تھا بلکہ اُجرت کی تھیلی کی آواز تھی: مالک آ رہا ہے اور اُس کے ہاتھ میں ہمارا حساب ہے۔ اور جو رومی افسر اُن کا حساب لکھتا تھا، اُس کا رجسٹر آخری نہیں تھا۔
سیاق و سباق
پہلی صدی کے آخر میں یوحنا پتمس کے جزیرے پر جلاوطن ہیں اور یہ کتاب سات جماعتوں میں بلند آواز سے پڑھی جانی تھی، ایک ہی نشست میں۔ آیت ۱۲ اُس اختتامی حصے میں آتی ہے جہاں فرشتہ کہتا ہے کہ پیش گوئیوں پر مُہر نہ لگانا: یہ چھپانے والی کتاب نہیں، کھلی ہوئی طلبی ہے۔ ماحول میں شہنشاہ کی پوجا کا دباؤ ہے، وفاداری کا ثبوت قربانی کی چٹکی بھر بخور سے مانگا جاتا ہے، اور انکار کی قیمت روزگار اور بعض اوقات جان ہے۔ اِس دباؤ کے بیچ خداوند اپنی آمد کو ”جلد“ کہتے ہیں، نہ اِس لئے کہ گھڑی بتائیں، بلکہ اِس لئے کہ وفاداری کو سانس ملے۔
غور کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا کام ہے جسے آپ صرف اُس صورت میں کرتے ہیں جب کوئی دیکھ رہا ہو، اور وہ کون سا ہے جو آپ اُس دن کی اُجرت کے یقین پر کرتے ہیں؟
اگر اصل اجر خداوند کا چہرہ ہے، تو آپ آج کن چیزوں سے اپنی محنت کا بدلہ پیشگی وصول کر رہے ہیں؟
Revelation 22:12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مکاشفہ 22:12 کا کیا مطلب ہے؟
مکاشفہ 22:12 کس بارے میں ہے؟
مکاشفہ 22:12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مکاشفہ 22:12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مکاشفہ 22:12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Revelation 22 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تیری باتیں قابلِ اعتماد اور سچی ہیں۔ جب میرا دل ڈانواں ڈول ہوتا ہے تو مجھے کسی اندازے پر نہیں بلکہ تیرے پکے وعدے پر کھڑا ہونا نصیب ہے۔ شکریہ کہ تُو نے اپنے خادموں کو اندھیرے میں نہیں چھوڑا بلکہ دکھایا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں