مکاشفہ 6
متن
لیلا باری باری چھ مُہریں کھولتا ہے۔ پہلی چار پر چار گھوڑے نکلتے ہیں: فتح کا سفید گھوڑا، خونریزی کا سرخ، قحط کا کالا جس کے سوار کے ہاتھ میں ترازو ہے، اور موت کا ہلکا پیلا گھوڑا جس کے پیچھے پاتال چلتی ہے۔ پانچویں مُہر پر یوحنا قربان گاہ کے نیچے شہیدوں کی روحیں دیکھتا ہے جو پکار رہی ہیں، ”کتنی دیر اَور لگے گی؟“ چھٹی مُہر پر زمین و آسمان ہل جاتے ہیں اور دنیا کے بادشاہ سے لے کر غلام تک چٹانوں میں چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرکزی بات
تیسری مُہر پر غور کیجیے: ”ایک دن کی مزدوری کے لئے ایک کلو گرام گندم۔“ پہلی صدی کے ایشیائے کوچک میں رہنے والا مزدور یہ سُن کر کانپ جاتا، کیونکہ عام حالات میں ایک دن کی اُجرت سے آٹھ گنا زیادہ گندم ملتی تھی۔ یہ قحط نہیں، مہنگائی ہے؛ وہ خاموش عذاب جو بھوک سے پہلے عزت کو مارتا ہے۔ اور ساتھ ہی حکم: ”تیل اور مَے کو نقصان مت پہنچانا“، یعنی امیروں کے باغ محفوظ ہیں، غریب کی روٹی نہیں۔ یہ باب کہتا ہے کہ تاریخ کی یہ ساری تلخی خدا کی نظر سے باہر نہیں۔ گھوڑے خود نہیں دوڑتے؛ اُنہیں بلایا جاتا ہے، اختیار ”دیا جاتا ہے“، حد مقرر ہوتی ہے (”زمین کا چوتھا حصہ“)۔ بدی بے لگام نہیں، مگر لیلے کے ہاتھ میں مُہریں ہیں۔
نجات کی کہانی کا سلسلہ
پہلا گھوڑا سوال اُٹھاتا ہے۔ سفید رنگ، کمان، تاج۔ یوحنا کے سننے والوں کے ذہن میں فوراً پارتھی تیرانداز آتے، وہی مشرقی گھڑسوار جن سے روم کو ہمیشہ خوف رہا۔ مگر ساتھ ہی رومی فاتح کی وہ شاندار جلوسی سواری بھی، جس میں شہنشاہ سفید گھوڑے پر تاج پہنے شہر میں داخل ہوتا تھا۔ یہی اصل چوٹ ہے: جسے دنیا ”فتح“ کہتی ہے، آسمان کے دربار میں وہ پہلا گھوڑا ہے جس کے پیچھے تلوار، ترازو اور موت چلتے ہیں۔ سلطنتیں فتح کو خوشخبری کہتی ہیں؛ مکاشفہ اُسے مُہر کہتا ہے۔ اور اصل فاتح وہ ہے جو تخت کے بیچ ذبح شدہ لیلا ہے۔ صلیب سے لے کر تخت تک کا یہ راستہ پورے کلام کا دھاگا ہے۔
آئینہ
ہم مہنگائی کو خبروں کا موضوع سمجھتے ہیں اور جنگ کو دوسروں کا مسئلہ۔ مگر یہ باب آپ کے بٹوے، آپ کی خوراک اور آپ کی حفاظت کو مذہبی سوال بنا دیتا ہے۔ جب بجلی کا بل بڑھتا ہے، جب بچے کی فیس مشکل ہو جاتی ہے، جب خاندان کا کوئی فرد بیماری سے چلا جاتا ہے، تو دل خاموشی سے پوچھتا ہے: کیا کوئی کنٹرول میں ہے؟ اور ہمارا دوسرا خفیہ گناہ یہ ہے کہ ہم ”تیل اور مَے“ کی طرف بھاگتے ہیں، اپنی چھوٹی سی محفوظ دنیا، جب تک پڑوسی کی گندم ختم ہو رہی ہو۔ آج ہی ایک کام کیجیے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیے جسے اِس مہینے کھانے یا بل کی فکر ہے، اور آج رات سونے سے پہلے اُسے فون کر کے پوچھیے کہ کیا ضرورت ہے۔
سوال
پانچویں مُہر کی پکار کو نرم نہ کیجیے۔ شہید انتقام مانگتے ہیں، معافی نہیں: ”تُو کب تک… ہمارے شہید ہونے کا انتقام نہ لے گا؟“ اور جواب اَور بھی کھٹکتا ہے۔ اُنہیں تسلی نہیں دی جاتی کہ ”بس ہو گیا“، بلکہ کہا جاتا ہے کہ ”مزید تھوڑی دیر آرام کرو“، کیونکہ ابھی گنتی پوری نہیں ہوئی؛ اَور بھائیوں کو مرنا ہے۔ یعنی خدا نے شہادتوں کی تعداد مقرر کی ہے اور اُس تعداد کے پورا ہونے تک انتظار ہے۔ یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ مَیں اِسے سمجھانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ صرف اتنا کہوں گا کہ سفید لباس اُسی وقت دیا گیا: انصاف ملتوی ہے، مگر عزت نہیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار نہ گھوڑے ہیں نہ بادشاہ، بلکہ لیلا۔ وہی ہاتھ جو مُہریں کھولتا ہے، وہی ہاتھ کبھی کیلوں سے چھدا تھا۔ سوچیے کہ اِفسس یا سمرنہ کی کسی چھوٹی سی کلیسیا میں، دیے کی روشنی میں، یہ الفاظ پہلی بار پڑھے گئے: اُن کے لیے لیلا کوئی دور کی تصویر نہ تھی، وہ خود روزانہ قیصر کے مجسموں اور مندروں کے دھوئیں کے درمیان جیتے تھے۔ اور آخر میں دنیا کے طاقتور چٹانوں سے منت کرتے ہیں کہ ہمیں ”لیلے کے غضب“ سے چھپا لو۔ غضب والا لیلا؛ یہ ترکیب جان بوجھ کر بے جوڑ ہے۔ جو محبت صلیب پر خاموش رہی، وہی محبت آخر میں ظالم کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔
کلام کی گواہی
زکریاہ نبی کی رویا میں بھی رنگ برنگے گھوڑے زمین کا چکر لگاتے ہیں اور فرشتہ پوچھتا ہے ”کب تک؟“؛ یوحنا اُسی پرانی پکار کو اُٹھا کر لیلے کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اور چھٹی مُہر کی زبان ہوسیع اور یسوع کے اُس فرمان سے گونجتی ہے جہاں لوگ پہاڑوں سے کہتے ہیں کہ ہم پر گر پڑو۔ یسوع نے یہ یروشلیم کے فیصلے کے بارے میں کہا تھا؛ یوحنا دکھاتا ہے کہ وہ دن ہر سلطنت پر آتا ہے۔ سوال ایک ہی رہ جاتا ہے، اور متن اُسے کھلا چھوڑ دیتا ہے: ”کون قائم رہ سکتا ہے؟“ ساتواں باب اِسی کا جواب ہے، مگر پہلے اِس سوال کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھنا ضروری ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ ”تیل اور مَے“ کیا ہے جو محفوظ ہے، جبکہ آپ کے قریب کسی کی ”گندم“ ختم ہو رہی ہے؟
جب خدا آپ کی پکار کا جواب ”مزید تھوڑی دیر“ دیتا ہے، تو آپ کے دل میں کیا بدلتا ہے: ایمان، غصہ، یا خاموشی؟
Revelation 6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مکاشفہ 6 کا کیا مطلب ہے؟
مکاشفہ 6 کس بارے میں ہے؟
مکاشفہ 6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مکاشفہ 6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مکاشفہ 6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Revelation 6 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اور آسمان کے ستارے زمین پر یوں گر گئے جس طرح انجیر کے درخت کے کچے پھل آندھی کے جھونکوں سے گر جاتے ہیں۔“ غور کریں، ستارے جو صدیوں سے ہمارے سروں پر جمے ہیں، یہاں کچے پھل کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔ جو چیزیں آپ کو اٹل لگتی ہیں، نوکری، صحت، نام، وہ اُس کے ایک جھونکے کی مار ہیں۔ تو آج آپ کا دل کس پر ٹکا ہے؟
پہلی مہر کھلتی ہے اور ایک سفید گھوڑا نکل آتا ہے: ”وہ فتح مند کی حیثیت سے نکلا تاکہ فتح پائے۔“ کتنا شاندار منظر، مگر یہ مسیح نہیں۔ سفید رنگ اور تاج ہونے سے کوئی بھی سچا نہیں بن جاتا۔ آج بھی بہت کچھ کامیاب اور چمکدار دکھائی دیتا ہے اور دل کو کھینچتا ہے۔ ٹھہر کر پوچھ: جس کے پیچھے میں چل رہا ہوں، اُس کے ہاتھوں میں کمان ہے یا کیلوں کے نشان؟
اُس کے سوار کو زمین پر سے صلح سلامتی چھیننے کا اختیار دیا گیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں۔“ غور کریں، سلامتی چھینی جاتی ہے، یعنی وہ پہلے سے ہمارے پاس تحفے کے طور پر تھی۔ ہم اِسے معمولی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ آج آپ کے گھر میں جو خاموش امن ہے، وہ خدا کی مہربانی ہے۔ اور وہ زبان جو اِسے توڑ سکتی ہے، وہ بھی آپ ہی کی ہے۔
اے خدا، جب موت اور تباہی کی خبریں چاروں طرف سے آتی ہیں تو دل ڈر جاتا ہے۔ جنگ، بھوک اور بیماری کے سائے ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ مگر تُو ہی ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ ہمیں تھام لے، اور اپنی محبت میں ہمارا ڈر گھلا دے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
