گنتی کی کتاب کا تعارف: بیابان کا سفر اور خدا کی وفاداری
تعارف
ذرا تصوّر کیجیے: سینا کے بیابان میں ایک خیمہ کھڑا ہے۔ باہر لاکھوں لوگوں کا پڑاؤ ہے، مٹی، دھواں، بکریاں، بچّے، بوڑھے۔ مصر کی غلامی کو چھوڑے ہوئے ابھی صرف تیرہ مہینے گزرے ہیں۔ اور اِس مقام پر خدا اپنے بندے موسیٰ سے جو پہلی بات فرماتے ہیں وہ نہ کوئی جنگی حکمتِ عملی ہے، نہ راستے کا نقشہ۔ وہ فرماتے ہیں: اِن لوگوں کو گِن لو۔ نام بہ نام، گھرانے بہ گھرانے۔
یہ عجیب بات ہے۔ ایک ایسی قوم جو آگے چل کر بار بار بغاوت کرے گی، شکایت کرے گی، اور جس کی ایک پوری نسل اِسی بیابان میں دفن ہو جائے گی، اُس قوم کی گنتی خدا خود کرواتے ہیں۔ کیوں؟
اِس صفحے پر ہم گنتی کی کتاب کو اُسی سوال کی روشنی میں پڑھیں گے، اور دیکھیں گے کہ بیابان کی ریت میں خدا کی وفاداری کس طرح قدم بہ قدم ثابت ہوتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
خدا گنتا ہے، کیونکہ وہ کھوتا نہیں۔
زیادہ تر تعارف گنتی کی کتاب کو "ناکامی کی کتاب" کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ ہم اِسے دوسری طرف سے پڑھیں گے۔ یہ کتاب دو مردم شماریوں کے درمیان لکھی گئی ہے: باب 1 میں ایک نسل گِنی جاتی ہے جو بیابان میں مر جاتی ہے، اور باب 26 میں ایک نئی نسل گِنی جاتی ہے جو ملک میں داخل ہوتی ہے۔ نسل بدل گئی، وعدہ نہ بدلا۔ چرواہا اپنی بھیڑوں کو گنتا ہے کیونکہ وہ اُنہیں کھونا نہیں چاہتا۔ اِس زاویے سے گنتی کی کتاب انسان کی بےوفائی کا ریکارڈ نہیں، بلکہ خدا کی گنتی کی کتاب ہے، اور گنتی بذاتِ خود فضل کا ایک عمل ہے۔
بائبل گنتی کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
گنتی کی کتاب توریت یعنی موسیٰ کی پانچ کتابوں میں چوتھے نمبر پر آتی ہے۔ عبرانی بائبل میں اِس کا نام "بمِدبار" ہے، جس کا مطلب ہے "بیابان میں"، اور یہ نام کتاب کی پہلی آیت کے الفاظ سے لیا گیا ہے۔ یونانی ترجمے (سپتواجنتا) میں اِسے "اَرِتھموئی" یعنی "گنتیاں" کہا گیا، اور لاطینی سے ہوتا ہوا یہی نام اُردو میں "گنتی" بن گیا۔ دونوں نام سچّے ہیں: یہ بیابان کی کتاب بھی ہے اور گنتی کی کتاب بھی۔ مقام بیابان ہے، مگر مرکزی کردار وہ خدا ہے جو اپنے لوگوں کو نام لے کر جانتا ہے۔
کتاب کا آغاز ہی اِس زاویے کو کھول دیتا ہے۔ گنتی 1:1 میں لکھا ہے: "اور خداوند نے بنی اسرائیل کے ملکِ مصر سے نکلنے کے بعد دوسرے سال کے دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ کو دشتِ سینا میں خیمۂ اجتماع کے اندر موسیٰ سے کہا۔" غور کیجیے کہ خدا کہاں سے بولتے ہیں: "خیمۂ اجتماع کے اندر"۔ خروج کی کتاب خیمے کی تعمیر پر ختم ہوتی ہے، احبار اُس خیمے میں عبادت کے اصول سکھاتی ہے، اور گنتی اُسی خیمے سے نکلنے والی آواز سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی جو خدا بیابان میں اپنی قوم کو چلنے کا حکم دے رہے ہیں، وہ کوئی دور بیٹھا حاکم نہیں؛ وہ اُن کے درمیان خیمہ لگا کر رہنے والا خدا ہے۔ خدا اپنے لوگوں کے بیچ میں ڈیرا ڈالتا ہے۔
کتاب کا مصنّف روایتی طور پر موسیٰ کو مانا جاتا ہے، اور کتاب خود اِس کی گواہی دیتی ہے، مثلاً گنتی 33:2 میں درج ہے کہ موسیٰ نے خداوند کے حکم سے سفر کی منزلیں لکھیں۔ یسوع مسیح اور رسولوں نے بھی توریت کو موسیٰ سے منسوب کیا۔ بعض تفصیلات، جیسے موسیٰ کی حلیمی کے بارے میں گنتی 12:3 کا جملہ، غالباً بعد کے کسی تحریری انتظام کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر اِس سے کتاب کے مواد کی اصل اور اختیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاریخی اعتبار سے، اگر ہم 1 سلاطین 6:1 کے حساب کو لیں تو خروج تقریباً 1446 قبلِ مسیح میں ہوا، اور گنتی کی کتاب کے واقعات تقریباً 1444 سے 1406 قبلِ مسیح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کتاب کا دورانیہ تقریباً اڑتیس سال اور نو مہینے ہے: دوسرے سال کے دوسرے مہینے سے لے کر موآب کے میدانوں تک، جہاں استثنا کی کتاب شروع ہوتی ہے۔
مگر اِس کتاب کا دل صرف تاریخ نہیں۔ اِس کا دل ایک سوال ہے جو خدا خود پوچھتے ہیں۔ جب جاسوسوں کی رپورٹ کے بعد قوم رو پڑی اور مصر لوٹنے کی بات کرنے لگی تو گنتی 14:11 میں خداوند فرماتے ہیں: "اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ لوگ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اور باوجود اِن سب نشانوں کے جو میں نے اُن کے درمیان دکھائے ہیں کب تک مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے؟" یہ کتاب کا مرکزی زخم ہے۔ مسئلہ کنعان کے دیو قامت لوگ نہیں تھے، مسئلہ ایمان کی کمی تھی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی باب میں موسیٰ کی شفاعت کے جواب میں خدا فرماتے ہیں کہ میں نے تیرے کہنے کے مطابق معاف کیا۔ سزا بھی آتی ہے اور معافی بھی؛ نسل بیابان میں گر جاتی ہے مگر قوم ختم نہیں ہوتی۔
یہی تضاد پوری کتاب میں چلتا ہے۔ انسان کی بےوفائی سچ ہے، مگر خدا کی وفاداری اُس سے بڑی ہے۔ بلعام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اِس کتاب کا کلیدی اعلان ہیں: "خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے اور نہ وہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلے" (گنتی 23:19)۔ جو خدا باب 1 میں گِنتا ہے، وہی خدا باب 26 میں دوبارہ گِنتا ہے۔ درمیان میں قبرستان ہے، مگر آخر میں وعدہ زندہ ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
گنتی کی کتاب بائبل میں تنہا کھڑی نہیں۔ وہ پیدایش کے وعدوں سے جُڑی ہوئی ہے اور یسوع مسیح کی صلیب پر جا کر کھلتی ہے۔
پیدایش میں خدا نے ابرہام سے کہا تھا کہ تیری نسل آسمان کے ستاروں کی مانند بےشمار ہو گی اور میں تجھے یہ ملک دوں گا۔ گنتی کی پہلی مردم شماری اُسی وعدے کی رسید ہے: چھ لاکھ سے زیادہ لڑنے کے قابل مرد، یعنی وہ قوم جو کبھی ستّر لوگوں کا ایک خاندان تھی۔ اور کتاب کا اختتام اُسی وعدے کے دوسرے حصّے پر ہوتا ہے: زمین کی تقسیم، سرحدوں کی تفصیل، پناہ کے شہر۔ یعنی خدا جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں، چاہے راستے میں پوری ایک نسل اپنی بےاعتقادی سے خود کو محروم کر لے۔
پرانے عہد نامے میں بیابان کی یہ یادداشت بار بار لوٹتی ہے۔ زبور 95 میں اسرائیل کو خبردار کیا جاتا ہے کہ مریبہ اور مسّہ کی طرح اپنے دل سخت نہ کرو۔ زبور 78 اور زبور 106 گنتی کی کتاب کے واقعات کو ایک نوحے کی طرح دہراتے ہیں، تاکہ اگلی نسلیں اُنہی گڑھوں میں نہ گریں۔ نبیوں کے ہاں بیابان کا زمانہ کبھی عبرت کے طور پر یاد آتا ہے اور کبھی اُس ابتدائی محبت کے طور پر جب قوم دُلہن کی طرح خدا کے پیچھے چلی تھی۔
نیا عہد نامہ اِس کتاب کو اور بھی قریب لے آتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 10 میں پولس رسول بیابان کے واقعات گِنواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں ہماری عبرت کے لیے لکھی گئیں جن پر زمانوں کے آخر آ پہنچے ہیں۔ عبرانیوں 3 اور 4 میں مصنّف گنتی 14 کی نسل کو سامنے رکھ کر کلیسیا سے التجا کرتا ہے کہ آج اگر تم اُس کی آواز سنو تو اپنے دل سخت نہ کرو، تاکہ کوئی اُس آرام میں داخل ہونے سے رہ نہ جائے۔ یہودا کا خط بلعام کی لالچ اور قورح کی بغاوت کا ذکر کرتا ہے۔ گویا بیابان کلیسیا کے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے۔
مگر سب سے روشن پُل گنتی 21 سے یوحنا 3 تک جاتا ہے۔ جب سانپوں کے کاٹنے سے لوگ مر رہے تھے تو خدا نے سانپوں کو ہٹایا نہیں، بلکہ ایک علاج اونچا کر دیا: "تب موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنا کر اُسے ایک بانس پر لٹکا دیا اور جب کسی سانپ کے کاٹے ہوئے آدمی نے اُس پیتل کے سانپ پر نظر کی تو وہ جیتا بچا" (گنتی 21:9)۔ صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح نے نیکدیمس سے فرمایا: "اور جس طرح موسیٰ نے بیابان میں سانپ کو اونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے" (یوحنا 3:14)۔
یہاں ہمارا زاویہ اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔ جو خدا گنتا ہے، وہ کھوتا نہیں۔ اور وہ کھوتا نہیں اِس لیے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو اونچے پر چڑھا دیا۔ خداوند یسوع نے فرمایا کہ باپ نے جو کچھ مجھے دیا ہے اُس میں سے میں کچھ کھو نہ دوں، اور یہ بھی کہ وہ اپنی بھیڑوں کو نام لے کر بلاتا ہے۔ بیابان کی مردم شماری اُسی کتاب کی پہلی جھلک ہے جس کا ذکر مکاشفہ میں برّے کی کتابِ حیات کے طور پر ہوتا ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
گنتی کی کتاب چھتیس ابواب پر مشتمل ہے، اور اِسے سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ جغرافیہ ہے: قوم کہاں کھڑی ہے۔
پہلا حصّہ، باب 1 سے 10:10 تک، سینا کے دامن میں گزرتا ہے۔ یہاں پڑاؤ کی ترتیب دی جاتی ہے: بارہ قبیلے خیمۂ اجتماع کے چاروں طرف، تین تین قبیلے ہر سمت، اور بیچ میں خدا کی حضوری۔ لاویوں کی خدمت، کاہنوں کی ذمہ داریاں، نذیر کی منّت، فسح کا دوسرا موقع، چاندی کے نرسنگے، اور ابر کا ستون جو اُٹھتا ہے تو قوم چلتی ہے اور ٹھہرتا ہے تو قوم ٹھہرتی ہے۔ یہ حصّہ بظاہر خشک تفصیلات سے بھرا ہے، مگر اِس کا پیغام گہرا ہے: بےترتیب غلاموں کا ہجوم اب ایک منظّم، مقدّس، عبادت کرنے والی قوم بن رہا ہے جس کے وسط میں خدا رہتا ہے۔
دوسرا حصّہ، باب 10:11 سے 21:35 تک، بیابان کا سفر ہے، اور یہی کتاب کا سب سے تاریک اور سب سے سبق آموز حصّہ ہے۔ تبعیرہ میں شکایت، قبروت ہتاوہ میں گوشت کی ہوس، مریم اور ہارون کا موسیٰ پر اعتراض، قادس برنیع سے بھیجے گئے بارہ جاسوس، قوم کی بغاوت اور چالیس سال کی سزا، قورح، داتن اور ابیرام کی بغاوت، ہارون کی کونپل والی لاٹھی، سرخ گائے کی رسم، مریبہ کا پانی، اور آخر میں پیتل کا سانپ۔ اِس پورے حصّے کی ساخت تقریباً ایک ہی سانچے میں ڈھلی ہے: نعمت، پھر شکایت، پھر عدالت، پھر شفاعت، پھر رحم۔ یہ سلسلہ اتنی بار دہرایا جاتا ہے کہ قاری کو دکھ ہونے لگتا ہے۔ مگر یہی تکرار اصل نکتہ ہے؛ خدا کا رحم بھی اُتنی ہی بار لوٹتا ہے۔
تیسرا حصّہ، باب 22 سے 36 تک، موآب کے میدانوں میں ہے، ملک کی دہلیز پر۔ یہاں بلعام کی حیرت انگیز کہانی ہے، جو پیسوں کے لیے اسرائیل پر لعنت بھیجنے آیا مگر اُس کے منہ سے صرف برکتیں نکلیں۔ پھر بعل فغور کا گناہ، دوسری مردم شماری، صلافحاد کی بیٹیوں کا مقدمہ، یشوع کی تقرری، قربانیوں کا سالانہ کیلنڈر، منّتوں کا قانون، مدیان کے خلاف جنگ، دریائے یردن کے پار بسنے والے قبیلے، سفر کی منزلوں کی فہرست، ملک کی سرحدیں، اور پناہ کے شہر۔ لہجہ بدل چکا ہے: اب شکایت نہیں، منصوبہ بندی ہے۔
مگر کتاب کی اصل ریڑھ کی ہڈی جغرافیہ نہیں بلکہ دو مردم شماریاں ہیں۔ باب 1 اور باب 26۔ اِن دو گنتیوں کے درمیان پوری ایک نسل دفن ہو جاتی ہے، اور گنتی 26:64 یہ بات صاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ دوسری گنتی میں پہلی گنتی کا کوئی آدمی باقی نہ تھا سوائے کالب اور یشوع کے۔ یہ کتاب کا سب سے سنجیدہ جملہ ہے اور سب سے پُرامید بھی۔ سنجیدہ، کیونکہ بےاعتقادی کی قیمت حقیقی ہے۔ پُرامید، کیونکہ خدا نے دوبارہ گِنا۔ وہ نئی نسل کے نام بھی لکھواتے ہیں، اُنہیں بھی حصّہ دیتے ہیں، اُن کے ساتھ بھی چلتے ہیں۔
اِسی لیے اِس کتاب کے بنیادی موضوعات یہ ہیں: خدا کی حضوری کا تقدّس، ایمان اور بےاعتقادی کا فرق، شفاعت کی طاقت، قیادت کا بوجھ، اور سب سے بڑھ کر، خدا کی وہ وفاداری جو انسان کی ناکامی سے ٹوٹتی نہیں۔ وعدہ انسان کے ایمان سے بڑا ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
گنتی کی کتاب کی تین آیتیں ایسی ہیں جن پر رُک کر سوچنا پوری کتاب کو کھول دیتا ہے۔
پہلی، ہارونی برکت۔ گنتی 6:24 میں خداوند کاہنوں کو یہ الفاظ سکھاتے ہیں: "خداوند تجھے برکت دے اور تجھے محفوظ رکھے۔" اگلی دو آیتوں میں یہ برکت مکمل ہوتی ہے: خداوند اپنے چہرے کو تجھ پر جلوہ گر فرمائے اور تجھ پر مہربان رہے، خداوند اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کرے اور تجھے سلامتی بخشے۔ اور پھر خدا فرماتے ہیں کہ یوں وہ میرا نام بنی اسرائیل پر رکھیں گے اور میں اُنہیں برکت دوں گا۔ اِس پر غور کیجیے: ایک ایسی قوم جو بیابان میں جانے والی ہے، جس کے اکثر افراد وہاں مر جائیں گے، اُن کے اوپر خدا اپنا نام رکھ دیتے ہیں۔ گنتی کی مردم شماری صرف اعداد کا کام نہیں تھا؛ یہ نام لکھنے کا کام تھا، اور خدا اپنے نام والے لوگوں کو بھولتے نہیں۔
دوسری، کالب کی آواز۔ گنتی 13:30 میں لکھا ہے: "اور کالب نے موسیٰ کے سامنے لوگوں کو چپ کرا کے کہا کہ آؤ ہم ایک دم چڑھ جائیں اور اُس پر قبضہ کریں کیونکہ ہم اُس پر غالب آنے کی قدرت رکھتے ہیں۔" بارہ جاسوسوں نے ایک ہی ملک دیکھا تھا، ایک ہی دیواریں، ایک ہی قد آور لوگ۔ فرق نظارے میں نہیں تھا، فرق نظر میں تھا۔ دس نے اپنے آپ کو دیو قامتوں کے سامنے ٹڈّے کی مانند ناپا؛ کالب نے دیو قامتوں کو خدا کے وعدے کے سامنے ناپا۔ ایمان حالات سے آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، بلکہ حالات کو صحیح پیمانے سے ناپنے کا نام ہے۔ اور دھیان رہے کہ یہی کالب اُن دو میں سے ایک ہے جن کے نام دونوں مردم شماریوں میں آتے ہیں۔
تیسری، مریبہ کا فیصلہ۔ گنتی 20:12 میں لکھا ہے: "اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا چونکہ تم نے میرا یقین نہ کیا کہ بنی اسرائیل کی نظر میں میری تقدیس کرتے اِس لیے تم اِس جماعت کو اُس ملک میں جو میں نے اُن کو دیا ہے لے جانے نہ پاؤ گے۔" خدا نے چٹان سے کلام کرنے کو کہا تھا، موسیٰ نے غصّے میں اُسے دو بار مارا اور کہا، "اے باغیو، سنو، کیا ہم تمہارے لیے اِس چٹان سے پانی نکالیں؟" پانی پھر بھی نکلا، کیونکہ خدا کا فضل موسیٰ کے مزاج کا محتاج نہیں تھا۔ مگر قیمت بھاری تھی۔ جتنی بڑی ذمہ داری، اُتنی بڑی جوابدہی۔ اور یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیاب خدمت اور خدا کے ساتھ سچّی فرمانبرداری ایک چیز نہیں۔
گنتی کی کتاب پڑھنے کی عملی رہنمائی
اگر آپ نے کبھی گنتی کی کتاب شروع کر کے باب 7 کی قربانیوں کی فہرست پر ہار مانی ہے تو آپ اکیلے نہیں۔ اِس کتاب کو پڑھنے کا ایک سلیقہ ہے، اور وہ سلیقہ اِسے دلچسپ ہی نہیں، بلکہ بدل دینے والا بنا دیتا ہے۔
سب سے پہلے، اِسے خروج اور احبار کے تسلسل میں پڑھیے۔ خروج آزادی کی کتاب ہے، احبار عبادت کی، اور گنتی سفر کی۔ اگر آپ کو یاد رہے کہ باب 1 کی آواز خیمۂ اجتماع کے اندر سے آ رہی ہے، تو ساری تفصیلات ایک زندہ خدا کی موجودگی کے گرد ترتیب پا جاتی ہیں۔
دوسرے، کتاب کو تین ہفتوں میں تین حصّوں میں بانٹ لیجیے۔ پہلے ہفتے باب 1 سے 10 تک پڑھیے اور ہر دن یہ سوال لکھیے کہ خدا نے اِس انتظام کے ذریعے اپنی قوم کو کیا سکھایا۔ دوسرے ہفتے باب 11 سے 21 تک پڑھیے، اور شکایت کے ہر واقعے کے بعد دیکھیے کہ رحم کس شکل میں آیا۔ تیسرے ہفتے باب 22 سے 36 تک پڑھیے اور نوٹ کیجیے کہ لہجہ کیسے بدلتا ہے، شکایت سے وراثت کی طرف۔
تیسرے، چار ابواب ایسے ہیں جو ہر قاری کو ضرور گہرائی سے پڑھنے چاہییں: باب 6 (برکت)، باب 13 اور 14 (جاسوس اور بغاوت)، باب 20 (مریبہ)، اور باب 21 (پیتل کا سانپ)۔ اِن کے ساتھ زبور 95، 1 کرنتھیوں 10 اور عبرانیوں 3 اور 4 کو ملا کر پڑھیے۔ یوحنا 3:14 کو گنتی 21:9 کے ساتھ رکھ کر پڑھنا ایک خاص تجربہ ہے؛ وہاں بیابان اور صلیب ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔
چوتھے، فہرستوں سے مت گھبرائیے۔ جب آپ باب 7 کی بارہ بار دہرائی گئی قربانیوں تک پہنچیں تو تکرار کو بوجھ نہ سمجھیے؛ یہ خدا کا ہر قبیلے کو برابر عزّت دینا ہے۔ اور جب باب 26 میں دوبارہ نام پڑھیں تو رُک کر سوچیے کہ یہ وہ بچّے ہیں جو کبھی اپنے والدین کی شکایتیں سنتے تھے، اور اب خدا اُن کے نام لکھوا رہے ہیں۔
آخر میں، ہر مطالعے کے بعد ہارونی برکت کو اپنے اوپر اور اپنے گھرانے پر بول کر دعا ختم کیجیے۔ جس کتاب کا سفر قبروں سے گزرتا ہے، اُس کا دل برکت پر دھڑکتا ہے۔
آئینہ
آپ شاید اِس وقت اپنے بیابان میں ہیں۔ شاید نوکری ایسی جگہ پھنسی ہے جہاں نہ ترقی ہے نہ عزّت، اور ہر صبح اُٹھ کر آپ وہی راستہ طے کرتے ہیں جس کی کوئی منزل نظر نہیں آتی۔ شاید گھر میں ایک ایسا رشتہ ہے جو سالوں سے ٹھنڈا پڑا ہے۔ شاید جسم نے ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ہے، یا مہینے کے آخر میں حساب پورا نہیں ہوتا، یا تنہائی رات کو زیادہ اونچی آواز میں بولتی ہے۔
گنتی کی کتاب آپ سے جھوٹ نہیں بولے گی۔ وہ یہ نہیں کہے گی کہ بیابان مختصر ہوتا ہے یا کہ ایمان والوں کو ریت نہیں چبھتی۔ مگر وہ آپ سے ایک سوال ضرور پوچھے گی، وہی سوال جو خدا نے گنتی 14:11 میں پوچھا تھا: اِن سب نشانوں کے بعد بھی کب تک؟ آپ کے پیچھے بھی ایک مصر ہے جس سے خدا نے آپ کو نکالا۔ آپ کے پیچھے بھی ایک بحرِ قلزم ہے جہاں راستہ نہ ہوتے ہوئے راستہ بنا۔ سوال یہ نہیں کہ خدا نے ماضی میں کیا کِیا؛ سوال یہ ہے کہ آج آپ اُس پر بھروسا کرتے ہیں یا نہیں۔
اور یہیں آپ کو ایک بات کھٹک سکتی ہے: شکایت اور دعا میں بہت باریک فرق ہے۔ دونوں میں آپ اپنی تکلیف بولتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ دعا خدا سے بولتی ہے اور شکایت خدا کے بارے میں بولتی ہے، اکثر اُن لوگوں سے جو مدد نہیں کر سکتے۔ بیابان کی نسل نے چالیس سال اِسی فرق کو نہ سمجھنے میں گنوا دیے۔
مگر آئینہ صرف ڈانٹتا نہیں۔ وہ آپ کو یہ بھی دکھاتا ہے کہ آپ گِنے ہوئے ہیں۔ خدا نے آپ کو بھیڑ میں سے اُٹھا کر نام سے بلایا ہے۔ اگر آپ مسیح کے ہیں تو آپ کا نام ایک ایسی فہرست میں لکھا ہے جسے کوئی بیابان مٹا نہیں سکتا۔ اِس لیے آج اپنے دل کو سخت نہ کیجیے۔ آج ہی، اِسی بیابان میں، اونچے پر چڑھائے ہوئے مسیح کی طرف نظر اُٹھائیے اور جیتے رہیے۔
بچّوں کے لیے وضاحت
بچّوں کو گنتی کی کتاب سنانا مشکل لگتا ہے، کیونکہ اِس میں فہرستیں ہیں، قربانیاں ہیں، اور ایسی سزائیں جو حساس دلوں کو ڈرا سکتی ہیں۔ مگر اِس کتاب میں بچّوں کے لیے ایک نہایت خوبصورت تصویر چھپی ہے: ایک بہت بڑا خاندان جو ایک لمبے سفر پر ہے، اور خدا اُن کے بالکل بیچ میں خیمہ لگا کر رہتا ہے۔
سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ بچّے سے پوچھیں: جب تم اسکول کی سیر پر جاتے ہو تو استاد بار بار کیا کرتا ہے؟ گِنتا ہے۔ کیوں؟ تاکہ کوئی بچّہ پیچھے نہ رہ جائے۔ یہی بات خدا نے اپنی قوم کے ساتھ کی۔ اُس نے اُنہیں دو بار گِنا، کیونکہ وہ کسی کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ پھر آپ ابر کے ستون کی بات کیجیے: دن کو بادل، رات کو آگ، اور جب بادل اُٹھتا تو سب چلتے، اور جب ٹھہرتا تو سب ٹھہرتے۔ بچّے اِس تصویر کو فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ خدا راستہ دکھاتا ہے۔
بڑے بچّوں کے ساتھ آپ کالب اور یشوع کی بہادری پر بات کر سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ اکثریت کے غلط ہونے پر بھی سچ بولنا پڑتا ہے۔ اور پیتل کے سانپ کی کہانی کو خداوند یسوع کی صلیب سے جوڑیے: جیسے لوگوں کو صرف دیکھنا تھا اور وہ بچ گئے، ویسے ہی ہمیں یسوع پر نظر کرنی ہے۔
ہر عمر کا دل مختلف سوال پوچھتا ہے، اِس لیے ہمارے ہاں گنتی کی کتاب کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچّوں کے لیے (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والوں کے لیے (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ اپنے بچّے کی عمر کے مطابق وضاحت چُنیے اور ساتھ بیٹھ کر پڑھیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
گنتی کی کتاب کس نے لکھی؟
روایتی طور پر گنتی کی کتاب کا مصنّف موسیٰ کو مانا جاتا ہے، اور کتاب خود گواہی دیتی ہے کہ موسیٰ نے خداوند کے حکم سے سفر کی منزلیں لکھیں (گنتی 33:2)۔ خداوند یسوع مسیح اور رسول بھی توریت کی پانچوں کتابوں کو موسیٰ سے منسوب کرتے ہیں۔ بعض جملے، جیسے موسیٰ کی حلیمی کے بارے میں گنتی 12:3 کا بیان، غالباً بعد کے کسی تحریری انتظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر اِس سے کتاب کے الٰہی اختیار یا اُس کے مواد کی تاریخی بنیاد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
گنتی کی کتاب کو "گنتی" کیوں کہا جاتا ہے؟
یہ نام یونانی ترجمے سے آیا ہے، جہاں اِسے "گنتیاں" کہا گیا کیونکہ کتاب میں دو بڑی مردم شماریاں درج ہیں، ایک باب 1 میں اور دوسری باب 26 میں۔ عبرانی بائبل میں اِس کا نام "بمِدبار" یعنی "بیابان میں" ہے، جو پہلی آیت کے الفاظ سے لیا گیا ہے اور کتاب کے مواد کو زیادہ درستی سے بیان کرتا ہے۔ دونوں نام مل کر پوری تصویر دیتے ہیں: ایک بیابان، اور ایک خدا جو اُس بیابان میں بھی اپنے لوگوں کو نام لے کر گِنتا ہے۔
گنتی کی کتاب میں کتنے باب ہیں اور یہ کتنے عرصے کا بیان ہے؟
گنتی کی کتاب میں چھتیس باب ہیں۔ اِس کا بیان مصر سے نکلنے کے دوسرے سال کے دوسرے مہینے سے شروع ہوتا ہے اور موآب کے میدانوں پر ختم ہوتا ہے، یعنی تقریباً اڑتیس سال اور نو مہینے کا عرصہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن اڑتیس برسوں میں سے اکثر پر کتاب تقریباً خاموش ہے؛ تفصیل پہلے دو برسوں اور آخری سال پر مرکوز ہے۔ درمیان کا طویل عرصہ گویا ایک خاموش وقفہ ہے، اُس نسل کا انتظار جو بیابان میں ختم ہو رہی تھی۔
بنی اسرائیل چالیس سال تک بیابان میں کیوں بھٹکتے رہے؟
اِس کی وجہ فاصلہ نہیں بلکہ بےاعتقادی تھی۔ قادس برنیع سے بھیجے گئے بارہ جاسوسوں میں سے دس نے کہا کہ ہم اِس قوم پر غالب نہیں آ سکتے، اور قوم رو کر مصر لوٹنے کی بات کرنے لگی۔ تب خداوند نے پوچھا کہ یہ لوگ کب تک مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے (گنتی 14:11)، اور فیصلہ فرمایا کہ جاسوسی کے چالیس دنوں کے بدلے چالیس سال، اور بیس برس سے اوپر کی وہ ساری نسل بیابان ہی میں مرے گی۔ یعنی سزا بےاعتقادی کے فیصلے کا منطقی نتیجہ تھی۔
موسیٰ وعدے کے ملک میں داخل کیوں نہ ہو سکے؟
گنتی 20 میں جب قوم پانی کے لیے جھگڑی تو خدا نے موسیٰ کو حکم دیا کہ چٹان سے کلام کرو۔ موسیٰ نے غصّے میں قوم کو باغی کہہ کر چٹان کو دو بار مارا۔ پانی تو نکلا، مگر خداوند نے فرمایا کہ چونکہ تم نے میرا یقین نہ کیا اور بنی اسرائیل کی نظر میں میری تقدیس نہ کی، اِس لیے تم اِس جماعت کو اُس ملک میں لے جانے نہ پاؤ گے (گنتی 20:12)۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ قیادت جتنی بڑی ہو، جوابدہی بھی اُتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔
پیتل کے سانپ کا مطلب کیا ہے؟
جب قوم کی شکایت کے باعث زہریلے سانپ آئے اور لوگ مرنے لگے تو خدا نے سانپوں کو ہٹانے کے بجائے ایک علاج دیا: موسیٰ نے پیتل کا سانپ بنا کر بانس پر لٹکا دیا اور جس نے اُس پر نظر کی وہ جیتا بچا (گنتی 21:9)۔ یہ نجات کا بنیادی اصول ہے: بچاؤ ہماری کوشش سے نہیں بلکہ ایمان کی نظر سے آتا ہے۔ خداوند یسوع نے خود اِسے اپنی صلیب کی پیشین گوئی قرار دیا جب اُنہوں نے فرمایا کہ ابنِ آدم بھی اُسی طرح اونچے پر چڑھایا جائے گا (یوحنا 3:14)۔
ہارونی برکت کیا ہے اور کیا آج کلیسیا اِسے استعمال کر سکتی ہے؟
ہارونی برکت گنتی 6:24 سے 26 میں درج ہے اور اِس کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے: "خداوند تجھے برکت دے اور تجھے محفوظ رکھے۔" خدا نے یہ الفاظ کاہنوں کو سکھائے تاکہ وہ اُن کے ذریعے خدا کا نام قوم پر رکھیں۔ آج بھی دنیا بھر کی کلیسیائیں عبادت کے اختتام پر یہی برکت بولتی ہیں، اور یہ بالکل مناسب ہے۔ یہ جادوئی کلمات نہیں بلکہ خدا کے اپنے وعدے کا اعلان ہیں، جو مسیح میں ہمارے لیے پوری طرح کھل جاتا ہے۔
بلعام کون تھا اور اُس کی گدھی کا واقعہ کیوں درج ہے؟
بلعام ایک غیر اسرائیلی نجومی اور پیشین گو تھا جسے موآب کے بادشاہ بلق نے پیسے دے کر بلایا تاکہ وہ اسرائیل پر لعنت بھیجے۔ مگر جتنی بار اُس نے منہ کھولا، خدا نے اُس سے برکت ہی کہلوائی۔ راستے میں اُس کی گدھی کا بولنا اور فرشتے کو دیکھنا اِس بات کا ایک طنزیہ مظاہرہ ہے کہ ایک مشہور غیب دان ایک جانور سے بھی کم دیکھ رہا تھا۔ نئے عہد نامے میں بلعام لالچی مذہبی پیشوائی کی علامت بن جاتا ہے، کیونکہ اُس نے بعد میں اسرائیل کو گناہ میں پھنسانے کا مشورہ دیا۔
کیا گنتی کی کتاب کے اعداد تاریخی طور پر درست ہیں؟
کتاب میں لڑنے کے قابل مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے، جس سے کل آبادی تقریباً بیس لاکھ بنتی ہے، اور بعض لوگ اِسے بیابان کے حالات کے لحاظ سے بڑی تعداد سمجھتے ہیں۔ کچھ عالم عبرانی لفظ "الف" کے مختلف معنوں پر بحث کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اعداد کو لفظی مانتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ یہ قوم چالیس سال تک معجزانہ طور پر مَن سے پلتی رہی۔ کلامِ مقدّس کے اختیار پر یقین رکھتے ہوئے ہم اعداد کو سچّا مانتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھتے ہیں کہ متن کا اصل زور اعداد پر نہیں بلکہ وعدے کی تکمیل پر ہے۔
قورح کی بغاوت سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
قورح، داتن اور ابیرام نے دو سو پچاس سرداروں کے ساتھ مل کر موسیٰ اور ہارون کے اختیار کو چیلنج کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ساری جماعت مقدّس ہے۔ بات بظاہر روحانی تھی مگر جڑ میں حسد اور اقتدار کی خواہش تھی، اور خدا نے اِس کا نہایت سنجیدہ جواب دیا۔ اِس سے ہم سیکھتے ہیں کہ خدا کے مقرر کردہ انتظام کے خلاف بغاوت دراصل خدا کے خلاف بغاوت بن جاتی ہے۔ یہودا کا خط اِسی واقعے کو جھوٹے اُستادوں کے بارے میں ایک تنبیہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔
نذیر کی منّت کیا تھی؟
گنتی 6 میں نذیر کی منّت ایک رضاکارانہ وقف ہے جس میں کوئی مرد یا عورت ایک مقررہ مدّت کے لیے خود کو خداوند کے لیے الگ کرتا تھا۔ اِس دوران وہ انگور کی کسی پیداوار کو نہ کھاتا، اپنے بال نہ کٹواتا، اور لاش کو نہ چھوتا۔ یہ کوئی اعلیٰ درجے کی مسیحیت نہیں بلکہ ایک مخصوص عہد کا اظہار تھا۔ سمسون اور یوحنّا بپتسمہ دینے والا اِس کی یاد دلاتے ہیں۔ آج ہمارے لیے اِس کا سبق یہ ہے کہ محبت کبھی کبھی ایسی قربانی چاہتی ہے جو کوئی قانون ہم سے نہیں مانگتا۔
گنتی کی کتاب پڑھنے کی شروعات کہاں سے کروں؟
اگر آپ پہلی بار پڑھ رہے ہیں تو باب 13 اور 14 سے شروع کیجیے، کیونکہ وہاں کتاب کا دل دھڑکتا ہے: کالب کا ایمان اور قوم کی بےاعتقادی۔ پھر باب 20 اور 21 پڑھیے، اور اُس کے بعد باب 6 کی برکت پر رُکیے۔ جب یہ چار جگہیں آپ کے دل میں بیٹھ جائیں تو کتاب کو شروع سے آخر تک تین حصّوں میں پڑھیے: سینا، بیابان، اور موآب کے میدان۔ ساتھ میں 1 کرنتھیوں 10 اور عبرانیوں 3 اور 4 ضرور کھولیے، تاکہ بیابان کا سبق آپ کے اپنے سفر پر لاگو ہو۔
اختتام میں
گنتی کی کتاب کا آغاز نام لکھنے سے ہوتا ہے اور اختتام زمین بانٹنے سے۔ درمیان میں قبریں ہیں، شکایتیں ہیں، سانپ ہیں، اور ایک ایسی نسل ہے جو اپنی ہی بےاعتقادی کے سبب دروازے پر پہنچ کر لوٹ گئی۔ پھر بھی یہ کتاب مایوسی پر ختم نہیں ہوتی، کیونکہ باب 26 میں خدا دوبارہ گِنتے ہیں۔ یہی اِس کتاب کا سب سے بڑا اعلان ہے: انسان کی بےوفائی خدا کے وعدے کو منسوخ نہیں کرتی۔ وہ گِنتا ہے کیونکہ وہ کھوتا نہیں۔
اور یہ گنتی صلیب پر جا کر مکمل ہوتی ہے۔ جو سانپ بانس پر اُٹھایا گیا تھا وہ ایک اشارہ تھا؛ اصل نجات اُس وقت آئی جب ابنِ آدم اونچے پر چڑھایا گیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔ آپ کا بیابان جتنا بھی لمبا ہو، آپ کے اوپر وہی برکت بولی گئی ہے جو ہارون نے بیابان کی نسل پر بولی تھی۔
اب اِس کتاب کو کھولیے۔ باب 13 اور 14 سے شروع کیجیے، پھر باب 21 کو یوحنا 3 کے ساتھ پڑھیے، اور آخر میں باب 6 کی برکت کو اپنے گھرانے پر بول کر دعا کیجیے۔ بیابان میں بھی خدا کا نام آپ پر رکھا گیا ہے۔
