ہر حال میں خدا سے وفاداری
وفاداری کا سفر
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 51:7, متی 25:15, دانی ایل 3:18 and اعمال 10:9.
☀ صبح کا لمحہ
زوفا لے کر مجھ سے گناہ دُور کر تاکہ پاک صاف ہو جاؤں۔ مجھے دھو دے تاکہ برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں۔
زبور 51:7
پاکیزگی کبھی کسی بڑی اور شاندار چیز سے نہیں آتی۔ زیتون کا درخت نہیں، دیودار کا تنا نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی جھاڑی جو دیوار کی درز سے اگتی ہے۔ زوفا۔ ایک عام سی بوٹی جو ہر گھر کے صحن میں مل جاتی تھی۔
مصر میں جب موت گھر گھر سے گزرنے والی تھی، اسرائیل کو بھیڑ کا خون چڑھانے کے لیے کوئی سنہری برتن نہیں دیا گیا۔ زوفا کا ایک گچھا کافی تھا، خون میں ڈبویا گیا اور چوکھٹ پر لگا دیا گیا۔ برسوں بعد، پاک ہونے کی رسموں میں بھی یہی معمولی پودا استعمال ہوتا رہا، پانی چھڑکنے کے لیے۔ اور صلیب پر، جب یسوع پیاسے تھے، تو ایک اسفنج زوفا کی ٹہنی پر رکھ کر ان کے ہونٹوں تک بڑھایا گیا۔ خدا نے ہمیشہ اپنی بچانے والی رحمت کو کسی عام سی چیز کے ذریعے ہم تک پہنچایا۔
داؤد جب اپنی کجی کے بعد یہ دعا مانگتا ہے، تو وہ کسی بڑی قربانی کا نہیں بلکہ اسی معمولی زوفا کا حوالہ دیتا ہے۔ گویا کہہ رہا ہو، مجھے صاف کرنے کے لیے میری کوئی بڑائی نہیں چاہیے، صرف تیرا ہاتھ چاہیے۔
آج
آج جب آپ گھر سے نکل کر ایمانداروں کے ساتھ جمع ہونے جا رہے ہیں، اس دعا کو اپنے الفاظ میں دہرائیں۔ صبح وضو یا ہاتھ دھوتے وقت آہستہ سے کہیں، مجھے دھو دے، اور میں برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں گا۔
✦ دوپہر کا لمحہ
پہلے کو اُس نے سونے کے 5,000 سِکے دیئے، دوسرے کو 2,000 اور تیسرے کو 1,000۔ ہر ایک کو اُس نے اُس کی قابلیت کے مطابق پیسے دیئے۔ پھر وہ روانہ ہوا۔
متی 25:15
غور کریں کہ یہ جملہ کس ترتیب میں لکھا گیا ہے۔ پہلے گنتی آتی ہے، پانچ، دو، ایک، اور آخر میں یہ فقرہ کہ یہ سب "اپنی حیثیت کے مطابق" دیا گیا۔ گنتی پہلے، پہچان بعد میں۔ یہ چھوٹی سی ترتیب بتاتی ہے کہ مالک نے پہلے ہر نوکر کو دیکھا، پھر رقم تقسیم کی۔ کوئی اندھا بٹوارہ نہیں تھا۔
ایک ٹیلنٹ کوئی معمولی سکہ نہیں تھا۔ یہ چاندی یا سونے کی ایک بھاری وزنی مقدار تھی، جس کی مالیت ایک عام مزدور کی بیس سال کی مزدوری کے برابر بنتی تھی۔ یعنی جس نوکر کو سب سے کم ملا، اسے بھی ایک عمر کی کمائی سے زیادہ سونپا گیا۔ یہ کوئی چھوٹا امتحان نہیں تھا، یہ بھروسے کا ایک بھاری بوجھ تھا۔
ہم اکثر اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کے پانچ ٹیلنٹ کے سامنے تولتے ہیں اور خود کو کم سمجھ لیتے ہیں۔ مگر یہاں ایک ٹیلنٹ بھی خزانہ ہے، مالک کی طرف سے حیثیت دیکھ کر سونپا گیا خزانہ۔
آج اتوار ہے، عبادت کا دن، اور یہی وقت ہے کہ اپنی دی گئی رقم کو گننا چھوڑ کر اس کے دینے والے کو یاد کریں۔
آج
آج دس منٹ نکال کر ایک کاغذ پر وہ ایک تحفہ یا صلاحیت لکھ دیں جو خدا نے آپ کو دی ہے، اور اسے بلند آواز میں دعا میں خدا کے سامنے شکر کے ساتھ پیش کر دیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
But if not, be it known to you, O king, that we will not serve your gods, nor worship the golden image which you have set up.
دانی ایل 3:18
کھڑے رہنا۔ صرف یہی ایک لفظ ذہن میں رکھیں۔
بابل کے میدان میں سب جھک گئے تھے۔ بادشاہ نبوکدنضر نے سونے کا بت بنایا تھا، اور جیسے ہی موسیقی بجتی، ہر شخص کو زمین پر گرنا پڑتا۔ یہ کوئی معمولی رسم نہ تھی، انکار کی سزا آگ کی بھڑکتی بھٹی تھی، بادشاہ کی طاقت کا سرِعام مظاہرہ۔ تین جوان، سدرک، میسک اور عبدنجو، اس ہجوم میں کھڑے رہ گئے۔
جب بادشاہ نے پوچھا کیا وہ اپنے خدا پر اتنا بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ بچا لے گا، تو انہوں نے ہاں نہیں کہا۔ انہوں نے کہا، اگر بچائے تو ٹھیک، اور اگر نہ بچائے تو بھی ٹھیک، ہم نہیں جھکیں گے۔ یہ جملہ آسان نہیں ہے۔ اس میں کوئی وعدہ چھپا نہیں ہے کہ آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کے پاس اس وقت کوئی یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ نکلیں گے۔ صرف یہ یقین تھا کہ وہ کس کے سامنے جھکیں گے اور کس کے سامنے نہیں۔
آج، جب ہم آپس میں اکٹھے ہو کر پرستش کرتے ہیں، تو یہی سوال کہیں نہ کہیں موجود رہتا ہے۔ کیا ہماری پرستش نتیجے سے جڑی ہے، یا وہ اس وقت بھی سچی رہے گی جب جواب نہ ملے؟ ان تین جوانوں نے یہ فرق کھڑے ہو کر دکھایا۔
آج
آج کلیسیا میں، یا جہاں بھی آپ اکٹھے ہوں، ایک گیت خاموشی سے، دل سے گائیں، اور اس لمحے دل میں یہ الفاظ دہرائیں، اگر نہ بھی بچائے تو بھی میں تیرے ہی سامنے جھکوں گا۔
☾ شام کا لمحہ
اگلے دن پطرس دوپہر تقریباً بارہ بجے دعا کرنے کے لئے چھت پر چڑھ گیا۔ اُس وقت کُرنیلیُس کے بھیجے ہوئے آدمی یافا شہر کے قریب پہنچ گئے تھے۔
اعمال 10:9
نمکین ہوا سمندر سے اٹھتی ہے، مچھلی سوکھنے کی بو گلیوں میں پھیلی ہے، اور یاپا کی بندرگاہ سے لنگر کھینچنے کی چرچراہٹ سنائی دیتی ہے۔ چھت کی ٹائیلیں دوپہر کی گرمی سے تپ رہی ہیں، اور پطرس کے پاؤں کے نیچے وہی گرمی محسوس ہو رہی ہے جبکہ نیچے کھانا تیار ہو رہا ہے۔
یاپا ایک بندرگاہی شہر تھا، بحیرہ روم کا دروازہ، جہاں سے جہاز دنیا کے کونے کونے کو جاتے تھے۔ یہی وہ شہر تھا جہاں سے یونس نبی کبھی خدا کے حکم سے بھاگ کر ایک جہاز پر سوار ہوا تھا۔ اب صدیوں بعد، اسی شہر کی ایک چھت پر خدا پطرس کی آنکھیں کھول رہا ہے، نہ بھاگنے کے لیے بلکہ بھیجنے کے لیے۔ چھتیں اُس زمانے میں دعا اور خاموشی کی جگہ تھیں، شہر کے شور سے دور، سمندری ہوا میں ٹھنڈک لیتے ہوئے دل کو خدا کے سامنے کھولنے کی جگہ۔
اسی خاموش لمحے میں خدا نے پطرس کو بتایا کہ اُس کی خوشخبری صرف اپنوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر قوم اور ہر گھر کے لیے ہے۔
آج اتوار ہے، وہ دن جب کلیسیا اکٹھی ہوتی ہے، ہر پس منظر سے لوگ ایک ہی چھت تلے۔ یاپا کی چھت یاد دلاتی ہے کہ خدا کا دل ہمیشہ ہماری حد بندیوں سے بڑا ہوتا ہے۔
آج
آج رات کسی ایسے شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس سے آپ فاصلہ محسوس کرتے ہیں، اور اُس کے لیے آواز میں ایک مختصر دعائے برکت کہیں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
7زوفا لے کر مجھ سے گناہ دُور کر تاکہ پاک صاف ہو جاؤں۔ مجھے دھو دے تاکہ برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں۔
15پہلے کو اُس نے سونے کے 5,000 سِکے دیئے، دوسرے کو 2,000 اور تیسرے کو 1,000۔ ہر ایک کو اُس نے اُس کی قابلیت کے مطابق پیسے دیئے۔ پھر وہ روانہ ہوا۔
9اگلے دن پطرس دوپہر تقریباً بارہ بجے دعا کرنے کے لئے چھت پر چڑھ گیا۔ اُس وقت کُرنیلیُس کے بھیجے ہوئے آدمی یافا شہر کے قریب پہنچ گئے تھے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں