زندگی کی خوشی رب کی طرف سے
خوشی اور اطمینان
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 37:4, Ecclesiastes 3:12-13, واعظ 2:24 and زبور 127:1.
☀ صبح کا لمحہ
رب سے لطف اندوز ہو تو جو تیرا دل چاہے وہ تجھے دے گا۔
زبور 37:4
آج کا دن آرام کے لیے بنایا گیا، معافی مانگنے کے لیے نہیں۔
ہفتے کے دن بھی اکثر ہمارے دل میں ایک عجیب بوجھ رہتا ہے، جیسے آرام کرنا کوئی فضول کام ہو، جیسے کچھ نہ کرنا بھی گناہ لگے۔ گھر کی صفائی، ملاقاتیں، وہ کام جو ہفتے کے دنوں میں چھوٹ گئے، سب ذہن میں گھومتے رہتے ہیں۔
مگر داؤد کچھ اور کہتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ خدا میں خوش ہونا ایک حکم ہے، ایک دعوت ہے۔ اور اس خوشی کے ساتھ ایک وعدہ جڑا ہے، وہ آپ کے دل کی خواہشیں پوری کرے گا۔ یہ خواہشیں صرف بڑی روحانی باتیں نہیں، یہ وہ سادہ چیزیں بھی ہیں جو دل کو سکون دیتی ہیں، ایک اچھی کتاب، بچوں کے ساتھ کھیل، چائے کا کپ، باغ میں بیٹھنا۔
خدا کو آپ کی چھوٹی خوشیوں سے دلچسپی ہے۔ وہ اس دن سے دور نہیں بیٹھا کہ آپ اتوار کی تیاری کریں اور پھر واپس دین کے کاموں میں لگ جائیں۔ وہ آج کے آرام میں، آج کی مسکراہٹ میں، آج کی خاموشی میں بھی موجود ہے۔ اس میں خوش رہنا کوئی سستی نہیں، یہ اعتماد کا اظہار ہے کہ وہ ہمارا خیال رکھتا ہے۔
آج
آج کوئی ایک ایسا کام کریں جو واقعی آپ کے دل کو خوش کرے، دس منٹ کے لیے، اور شروع کرنے سے پہلے دل سے کہہ دیں، یہ وقت میں تیرے لیے لے رہا ہوں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
مَیں نے جان لیا کہ انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں ہے کہ وہ خوش رہے اور جیتے جی زندگی کا مزہ لے۔ کیونکہ اگر کوئی کھائے پیئے اور تمام محنت مشقت کے ساتھ ساتھ خوش حال بھی ہو تو یہ اللہ کی بخشش ہے۔
Ecclesiastes 3:12-13
کیا صرف آرام کرنا، کچھ حاصل کیے بغیر، وقت کا ضیاع ہے؟
ہفتے کے باقی دن ہم اپنے کام کو ناپتے ہیں، کتنا ہوا، کتنا باقی ہے۔ آج، چھٹی کے دن بھی، وہی ترازو ہمارے ذہن میں چلتا رہتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ سکون کے یہ لمحے کسی طرح کمائے جانے چاہئیں، ورنہ ہم نکمے ہیں۔
مگر واعظ کچھ اور کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کھانا، پینا، اپنے کام میں بھلائی دیکھنا، یہ کوئی انعام نہیں جو ہم نے جیتا ہو۔ یہ خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ سادہ سی بات، مگر گہری۔ آرام کرنا، ہنسنا، میز پر بیٹھ کر کھانا، یہ سب خدا کے ہاتھ سے آتا ہے، ہماری فہرست سے نہیں۔
آج ہفتہ ہے۔ کوئی کام کی گھنٹی نہیں بجے گی، کوئی ای میل تعاقب نہیں کرے گا۔ خدا نے آج کا دن اسی لیے بنایا ہے کہ ہم اس میں خوشی محسوس کریں، بغیر شرمندگی کے۔ کھانے کی خوشبو، بچوں کی آوازیں، کسی پرانے دوست سے بات، یہ سب اس کی نعمت ہیں۔
آج
آج دوپہر کے کھانے پر بیٹھیں تو ایک لمحہ رک کر، بلند آواز میں کہیں، شکریہ، یہ کھانا، یہ ساتھ، تیری طرف سے ہے۔ اسے کہہ کر ہی کھانا شروع کریں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
انسان کے لئے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کھائے پیئے اور اپنی محنت مشقت کے پھل سے لطف اندوز ہو۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ اللہ ہی یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔
واعظ 2:24
کپ ابھی ہاتھ میں ہے، اس سے اٹھتی بھاپ چہرے کو چھو رہی ہے، اور میز پر روٹی کا ٹکڑا ابھی گرم ہے۔ واعظ اس دوپہر کے کھانے کو دیکھتا ہے اور رک جاتا ہے، جیسے کوئی بات پہلی بار سمجھ میں آئی ہو۔
یہ آدمی جس نے محلات بنائے، باغ لگائے، دولت جمع کی، وہ آخر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سب سے بڑی بات ایک عام کھانا کھانا اور اس میں لطف اٹھانا ہے۔ یہ بات چبھتی ہے۔ ہم اپنی چھٹیوں کو بھی کارکردگی بنا دیتے ہیں، جیسے آرام بھی کوئی کمانی جانے والی چیز ہو۔
مگر واعظ کہتا ہے یہ خدا کے ہاتھ سے ہے۔ نہ ہم اپنی محنت سے یہ خوشی خرید سکتے ہیں، نہ اپنی منصوبہ بندی سے۔ یہ ایک تحفہ ہے جو اچانک، بغیر اجازت کے، ایک عام دوپہر میں اتر آتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا آج ہم اسے قبول کرنے کو تیار ہیں، یا ہم اسے بھی ایک اور کام میں بدل دیں گے؟
ہفتہ کا دن ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم کچھ نہ کریں سوائے شکر کے۔ نہ کوئی فہرست، نہ کوئی مقصد، صرف میز پر بیٹھنا اور جو سامنے ہے اسے دیکھنا۔
آج
آج دوپہر کا کھانا آہستہ کھائیں۔ فون کو دراز میں رکھ دیں، پہلا لقمہ لینے سے پہلے آنکھیں بند کریں اور بلند آواز میں کہیں، یہ بھی خدا کے ہاتھ سے ہے۔
☾ شام کا لمحہ
سلیمان کا زیارت کا گیت۔ اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر رب شہر کی پہرا داری نہ کرے تو انسانی پہرے داروں کی نگہبانی عبث ہے۔
زبور 127:1
سلیمان نے یہ زبور اُس وقت لکھا جب وہ خود بہت بڑی بڑی عمارتیں بنا رہا تھا، محل اور ہیکل، اپنے ہاتھوں کی مہارت اور اپنی دولت پر بھروسا کرتے ہوئے۔ پھر بھی وہ لکھتا ہے کہ اگر خدا نہ بنائے تو سب کچھ بےکار ہے۔ یہ کسی کمزور آدمی کا اعتراف نہیں، ایک کامیاب بادشاہ کا سچ ہے۔
آج ہفتے کا دن تھا۔ شاید آپ نے گھر کی صفائی کی، کوئی چیز ٹھیک کی، باغیچے میں وقت لگایا، یا بس بچوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔ ہاتھ تھکے ہوں گے، مگر دل کو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب کوششیں اکیلی کافی نہیں۔ جو گھر آج مکمل ہوا، جو خاندان آج اکٹھا بیٹھا، اُس کے پیچھے کوئی بڑا ہاتھ ہے جو نظر نہیں آتا۔
یہ آیت ہمیں تھکنا نہیں سکھاتی، بلکہ کام کے بعد سکون سے سانس لینا سکھاتی ہے۔ ہم بناتے ہیں، مگر خدا قائم رکھتا ہے۔ ہم نگرانی کرتے ہیں، مگر اصل حفاظت اُسی کی طرف سے آتی ہے۔ یہ سوچ رات کو بےفکر سونے کی راہ کھول دیتی ہے۔
آج
آج کی شام، اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو جائیں، ہاتھ چوکھٹ پر رکھیں، اور آہستہ سے یہ دعا کہیں، خدا، اس گھر کو اپنے ہاتھ میں رکھ، جو میں نے کیا وہ تیرے سپرد ہے۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
4رب سے لطف اندوز ہو تو جو تیرا دل چاہے وہ تجھے دے گا۔
12مَیں نے جان لیا کہ انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں ہے کہ وہ خوش رہے اور جیتے جی زندگی کا مزہ لے۔
13کیونکہ اگر کوئی کھائے پیئے اور تمام محنت مشقت کے ساتھ ساتھ خوش حال بھی ہو تو یہ اللہ کی بخشش ہے۔
24انسان کے لئے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کھائے پیئے اور اپنی محنت مشقت کے پھل سے لطف اندوز ہو۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ اللہ ہی یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔
1سلیمان کا زیارت کا گیت۔ اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر رب شہر کی پہرا داری نہ کرے تو انسانی پہرے داروں کی نگہبانی عبث ہے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں