۱-سموئیل 28:11
متن
جادوگرنی کا سوال بالکل سادہ ہے: ”مَیں کس کو بُلاؤں؟“ گویا وہ کسی گاہک سے فہرست میں سے نام پوچھ رہی ہو۔ اور بھیس بدلے ہوئے بادشاہ کا جواب اُتنا ہی مختصر ہے: ”سموایل کو بُلا دیں۔“ ایک ہی آیت میں پوری داستان سمٹ آتی ہے: وہ آدمی جس نے خود ملک سے مُردوں سے رابطہ کرنے والوں کو مٹا دیا تھا، اب رات کی تاریکی میں، چہرہ چھپائے، اُسی دروازے پر کھڑا ہے، اور اُس نبی کو واپس مانگ رہا ہے جسے وہ زندگی بھر سن نہ سکا۔ نام لینے میں کوئی جھجک نہیں؛ ساؤل جانتا ہے کہ اُسے کس کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اُسے اپنی شرطوں پر چاہتا ہے۔
اصل بات
یہ آیت اِس لیے ہولناک نہیں کہ اِس میں جادو ہے، بلکہ اِس لیے کہ اِس میں ایک ایسی دعا ہے جو غلط دروازے پر کی جا رہی ہے۔ ساؤل نے پہلے رب سے پوچھا تھا اور آیت 6 کہتی ہے کہ ”کوئی جواب نہ ملا“۔ خدا کی خاموشی خلا نہیں تھی؛ وہ خود ایک جواب تھی، ایک بلاوا کہ ٹوٹ جاؤ، توبہ کرو، خالی ہاتھ واپس آؤ۔ مگر ساؤل خاموشی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ ہدایت چاہتا ہے، معافی نہیں؛ معلومات چاہتا ہے، تعلق نہیں۔ اور جب آسمان بند لگے تو انسان زمین کھودنے لگتا ہے، پاتال تک۔ یہی گناہ کی سب سے مہذب شکل ہے: خدا کی نعمتیں مانگتے رہنا مگر خدا کے آگے جھکنے سے انکار۔ ساؤل کو اُس رات لفظ مل بھی گیا، اور وہ لفظ اُسے زمین پر گرا گیا۔
بڑی کہانی کا دھاگا
اسرائیل کی تاریخ کا رخ اِسی رات مکمل طور پر داؤد کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ساؤل مُردوں میں سے ایک آواز مانگتا ہے، اور جو آواز آتی ہے وہ صرف عدالت سناتی ہے: بادشاہی چھن گئی، کل تُو میرے پاس ہوگا۔ یہی وہ خلا ہے جس میں پورا عہدِ عتیق سانس لیتا ہے، کہ مُردوں کی دنیا سے کوئی خبر نجات نہیں لا سکتی۔ اور پھر ایک قبر کھلتی ہے جسے کسی جادوگرنی نے نہیں کھولا، جس کے لیے کسی نے بھیس نہیں بدلا، جسے کوئی رات کے اندھیرے میں چھپ کر بُلانے نہیں گیا۔ مسیح پاتال سے بلوایا نہیں گیا، وہ خود جی اُٹھا، اور اُس کا پہلا لفظ سزا نہیں بلکہ سلامتی تھا۔ ساؤل نے جو چاہا، وہ اُسے مار گیا؛ جو مسیح دیتے ہیں، وہ زندہ کرتا ہے۔
آئینہ
آپ بھی جانتے ہیں کہ جب آسمان خاموش ہو تو انسان کیا کرتا ہے۔ نوکری کے فیصلے پر آپ تیسری، چوتھی، پانچویں رائے مانگتے ہیں، جب تک کوئی وہ نہ کہہ دے جو آپ سننا چاہتے تھے۔ بیماری کی رپورٹ کے بعد آدھی رات کو انٹرنیٹ پر تسلی ڈھونڈتے ہیں۔ رشتہ ٹوٹنے لگے تو کسی سے بھی مشورہ لے لیتے ہیں، بس اُس سے نہیں جس کے سامنے اپنا قصور ماننا پڑے گا۔ ساؤل کا گناہ بےدینی نہیں، بےصبری ہے۔ وہ دعا کرتا ہے، قَسم کھاتا ہے، روزہ بھی رکھتا ہے، مگر توبہ نہیں کرتا۔ اُسے ہدایت چاہیے تاکہ کل کی جنگ جیت سکے، معافی نہیں تاکہ خدا کا ہو سکے۔ آج ایک پرچی پر وہ سوال لکھیں جو آپ مہینوں سے خدا سے پوچھ رہے ہیں، اور اُس کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز میں ایک بار پڑھیں: ”خداوند، مجھے جواب سے زیادہ آپ کی معافی چاہیے۔“
مرکزی کردار
ساؤل کو محض بدکار سمجھنا اُس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ وہی آدمی ہے جس نے شریعت پر عمل کرتے ہوئے غیب دانوں کو ملک سے نکالا تھا۔ اُس کی دینداری جھوٹی نہیں تھی، ادھوری تھی۔ وہ خدا کا فرمانبردار تب تک رہتا ہے جب تک فرمانبرداری کا نتیجہ اُس کے حق میں ہو۔ اِس رات اُس کی پوری شخصیت کھل جاتی ہے: بھیس بدلا ہوا چہرہ، رات کا سفر، اور وہ لرزتی ہوئی قَسم ”رب کی حیات کی قَسم“ جو وہ رب کے حکم کو توڑنے کے لیے کھاتا ہے۔ یہی انسان کی سب سے گہری المناکی ہے، کہ ہم خدا کے نام سے خدا کی نافرمانی کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ آخر میں وہ زمین پر لمبا پڑا ہے، خالی پیٹ، خالی ہاتھ، اور جادوگرنی اُسے روٹی کھلا رہی ہے۔
کلام کی گونج
برسوں پہلے اِسی سموایل نے ساؤل سے کہا تھا کہ سرکشی غیب دانی کے گناہ کے برابر ہے۔ اُس وقت یہ ایک تشبیہ تھی؛ آج رات وہ تشبیہ حقیقت بن کر عین دور کے دروازے پر کھڑی ہے۔ جو دل ایک بار سننے سے انکار کرتا ہے، وہ آخرکار وہیں پہنچتا ہے جہاں اُسے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اور خداوند یسوع نے دولت مند اور لعزر کی تمثیل میں بالکل یہی بات کہی: اگر لوگ موسیٰ اور نبیوں کی نہیں سنتے تو مُردوں میں سے کسی کے جی اُٹھنے پر بھی نہیں مانیں گے۔ ساؤل اِس کا زندہ ثبوت ہے۔ اُسے مُردوں میں سے آواز ملی، اور اُس نے پھر بھی توبہ نہیں کی، صرف خوف سے گر پڑا۔
ایک باریک بات
غور کیجیے کہ ساؤل کس کا نام لیتا ہے۔ عبرانی میں سموایل کا نام اُس فعل سے جُڑا ہے جس کا مطلب ہے ”سننا“ (شَمَع)، وہی فعل جو اطاعت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور اِسی رات، اِسی ملاقات میں، سموایل ساؤل کے منہ پر یہ فردِ جرم رکھتے ہیں: ”تُو نے اُس کی نہ سنی۔“ ایک بادشاہ جو ساری عمر سن نہ سکا، اب اُس شخص کو بُلا رہا ہے جس کا نام ہی ”خدا نے سنا“ ہے۔ یہ محض لفظی کھیل نہیں؛ یہ پوری کتاب کا زخم ہے۔ آواز کبھی کم نہیں تھی۔ کان بند تھے۔ اور جب کان بند ہوں تو معجزہ بھی ہدایت نہیں دیتا، صرف فیصلہ سناتا ہے۔
غور کے لیے سوالات
خدا کی خاموشی میں آپ عملاً کہاں جاتے ہیں: کس شخص، کس عادت، کس اسکرین کے پاس، اور وہاں دراصل آپ کیا مانگ رہے ہوتے ہیں؟
کون سی بات خدا آپ سے پہلے ہی صاف کہہ چکے ہیں، جسے آپ نئی ہدایت مانگ کر ٹالتے آ رہے ہیں؟
1 Samuel 28:11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-سموئیل 28:11 کا کیا مطلب ہے؟
۱-سموئیل 28:11 کس بارے میں ہے؟
۱-سموئیل 28:11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-سموئیل 28:11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-سموئیل 28:11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Samuel 28 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب تیری خاموشی لمبی ہو جاتی ہے تو دل بےچین ہو کر اِدھر اُدھر جواب ڈھونڈنے لگتا ہے۔ مجھے بھیس بدل کر اندھیرے راستوں پر جانے سے بچا۔ مجھے صبر دے کہ تیرے انتظار میں ٹھہرا رہوں، کیونکہ سچی روشنی صرف تیرے پاس ہے۔
ساؤل کی زندگی کی سب سے تاریک رات ہے۔ وہ زمین پر گرا پڑا ہے، خدا خاموش، اور کل موت سامنے۔ اور جس عورت کو اُسی کے حکم نے ملک سے نکالا تھا، وہی اُس کے پاس آ کر دیکھتی ہے کہ وہ سخت پریشان ہے، اور کہتی ہے، ”مَیں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر آپ کی بات مانی۔“ جنہیں ہم نے کنارے کر دیا، اکثر وہی ہمارے ٹوٹنے کو سب سے پہلے پہچانتے ہیں۔ تُو نے کس کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں