بائبل کی تشریح

امثال 21:27

پڑھیں
یہ آیت Church of Christ کی جانب سے منسوب ہے

متن

امثال ۲۱ باب کی ۲۷ آیت ایک ہی سانس میں دو ضربیں لگاتی ہے۔ پہلی ضرب یہ کہ بےدین آدمی جو قربانی پیش کرتا ہے، وہ خدا کے حضور قبول نہیں بلکہ "قابلِ گھن" ہے، یعنی ایسی چیز جس سے گھن آتی ہو، جو مکروہ ہو۔ دوسری ضرب اُس چھوٹے سے فقرے میں ہے: "خاص کر جب اُسے بُرے مقصد سے پیش کیا جائے۔" یعنی معاملہ صرف قربانی پیش کرنے والے کے ناپاک ہاتھوں کا نہیں، بلکہ اُس نیت کا بھی ہے جو قربانی کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ عبادت کا عمل بذاتِ خود بےدینی کو ڈھانپ نہیں سکتا؛ اور اگر عبادت کو کسی گھٹیا منصوبے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ اور بھی زیادہ گھناؤنی ہو جاتی ہے۔ مذہبی صورت یہاں کوئی ڈھال نہیں بنتی، بلکہ ایک اضافی الزام بن جاتی ہے۔

مرکزی بات

یہ آیت خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہتی ہے جو مذہبی لوگوں کو بےچین کر دیتی ہے: رب کو رشوت نہیں دی جا سکتی۔ اِسی باب کی دوسری آیت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے، "ہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، لیکن رب ہی دلوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔" اور تیسری آیت اِس سے بھی زیادہ صاف ہے: "راست بازی اور انصاف کرنا رب کو ذبح کی قربانیوں سے کہیں زیادہ پسند ہے۔" یعنی وہ خدا جس نے خود قربانی کا نظام مقرر فرمایا، اُسی نظام کو رد کر دیتا ہے جب اُسے اپنے آپ کو چھپانے کا پردہ بنا لیا جائے۔ یہاں فیصلہ کن بات یہ نہیں کہ آپ نے کیا پیش کیا، بلکہ یہ کہ پیش کرنے والا کون ہے اور کیوں پیش کر رہا ہے۔ عبادت خدا کو قابو میں کرنے کا آلہ نہیں؛ جہاں اُسے آلہ بنایا جائے، وہاں وہ عبادت نہیں رہتی، سودا بن جاتی ہے۔ اور خدا سودے بازوں سے گھن کھاتا ہے۔

سلسلۂ نجات میں اِس آیت کی جگہ

یہ آیت کتابِ مقدس کے ایک بہت پرانے سوال کو چھوتی ہے: خدا کسی قربانی کو کیوں قبول کرتا ہے اور کسی کو کیوں نہیں؟ پیدایش کے چوتھے باب میں ہابل کی نذر قبول ہوتی ہے اور قائن کی نہیں، اور متن ہمیں وجہ کھول کر نہیں بتاتا، صرف اِتنا کہ خدا پہلے شخص کو دیکھتا ہے، پھر اُس کے ہدیے کو۔ امثال ۲۱:۲۷ اُسی اصول کو ایک ضربی جملے میں سمیٹ دیتی ہے۔ اور یہی وہ خلا ہے جسے صرف مسیح پُر کرتے ہیں: تاریخ میں ایک ہی قربانی ایسی ہے جو پیش کرنے والے کی بےدینی سے آلودہ نہیں، کیونکہ پیش کرنے والا اور پیش کی جانے والی چیز دونوں پاک ہیں۔ صلیب اِس آیت کی منسوخی نہیں بلکہ اُس کا واحد جواب ہے: ہم اپنی قربانی کو صاف نہیں کر سکتے، اِس لیے ہمیں ایک ایسا کاہن چاہیے جس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کی جگہ اُٹھیں۔

آئینہ

یہ آیت اُس وقت چبھتی ہے جب ہم ایمانداری سے پوچھیں کہ ہمارے مذہبی اعمال کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ وہ ہدیہ جو اِس لیے دیا جاتا ہے کہ کلیسیا میں نام لیا جائے۔ وہ دعا جو گھر میں اِس لہجے میں کی جاتی ہے کہ بیوی یا بچے سُن لیں اور شرمندہ ہوں۔ وہ باقاعدہ حاضری جو کاروبار میں اعتماد بحال کرنے کا سستا طریقہ ہے۔ وہ روزہ جو ملازم کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا حساب برابر کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ امثال کہتی ہے: خدا اِن سب کو گنتا نہیں، اُن سے گھن کھاتا ہے۔ آج ہی دس منٹ نکالیں، ایک کاغذ پر وہ ایک مذہبی کام لکھیں جو آپ اِس ہفتے کریں گے، اور اُس کے نیچے صاف الفاظ میں لکھیں کہ آپ چاہتے ہیں لوگ اِسے دیکھ کر آپ کے بارے میں کیا سوچیں۔ پھر وہ کاغذ خدا کے سامنے پڑھ کر پھاڑ دیں۔

سوال

اگر بےدین کی قربانی مکروہ ہے، تو پھر آئے کون؟ کیونکہ اِسی باب کی دوسری آیت کے مطابق ہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، یعنی میں خود اپنی نیت کا قابلِ بھروسا گواہ نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے دل کی تہہ تک نہیں دیکھ سکتا، تو مجھے کیسے معلوم ہو کہ میری عبادت اُس فہرست میں نہیں آتی؟ یہاں سستی تسلی دینا بےایمانی ہو گی۔ سچ یہ ہے کہ ہماری عبادت کا کچھ حصہ شاید واقعی خدا کے لیے ناگوار ہے، اور ہم اُسے خود صاف نہیں کر سکتے۔ فرق اِس میں نہیں کہ کس کی نیت بےداغ ہے، بلکہ اِس میں کہ کون اپنی نیت کی جانچ کے لیے تیار ہے اور کون قربانی کو تفتیش سے بچنے کا پردہ بناتا ہے۔ باقی کو خدا کے حوالے کرنا ہی ایمان ہے۔

بین المتون

اِسی کتاب میں چند باب پہلے زناکار عورت راہگیر کو یہ کہہ کر بلاتی ہے کہ اُس نے آج ہی اپنی سلامتی کی قربانیاں چڑھائی ہیں اور گوشت گھر میں تیار ہے۔ یہ ٹھیک وہی "بُرا مقصد" ہے جس کی طرف ہماری آیت اشارہ کرتی ہے: قربانی کا گوشت گناہ کی دعوت کا سامان بن جاتا ہے۔ ۱-سموئیل ۱۵ میں ساؤل عمالیقیوں کا مالِ غنیمت قربانی کے لیے بچاتا ہے اور سموئیل جواب دیتا ہے کہ فرمانبرداری قربانی سے بہتر ہے۔ یسعیاہ ۱ اور عاموس ۵ میں خدا اپنے ہی مقرر کردہ تہواروں سے بیزاری ظاہر فرماتا ہے، کیونکہ ہاتھ خون سے بھرے ہیں۔ اور خداوند یسوع اُن فقیہوں پر افسوس کرتے ہیں جو بیواؤں کے گھر ہڑپ کرتے اور دکھاوے کے لیے لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اِس کے مقابل زبور ۵۱ کھڑا ہے: شکستہ اور خستہ دل کو خدا حقیر نہیں جانتا۔ یہی توازن ہے، رد قربانی کا نہیں، جھوٹ کا ہوتا ہے۔

سیاق و سباق

امثال کا یہ حصہ اُس دنیا میں لکھا گیا جہاں قربانی نجی عبادت نہیں بلکہ سماجی واقعہ تھی۔ جانور ذبح ہوتا، گوشت تقسیم ہوتا، خاندان اور مہمان کھاتے، اور سب دیکھتے کہ کس نے کتنا بڑا ہدیہ چڑھایا۔ دولت مند بےدین آدمی آسانی سے سب سے شاندار قربانی پیش کر سکتا تھا اور اُسی سے اپنی ساکھ خرید سکتا تھا۔ عبرانی میں یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے، توعیبہ، یعنی "مکروہ"، وہی لفظ ہے جو شریعت میں ناپاک اور حرام چیزوں کے لیے آتا ہے۔ یعنی حکمت کا اُستاد عبادت گاہ کی اپنی زبان اُٹھا کر عبادت گزار پر پھیر دیتا ہے: تیرا ہدیہ خود اُس فہرست میں آ گیا ہے جس سے تُو بچنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ کاہنوں کے خلاف بغاوت نہیں، بلکہ اُس نظام کے دل کی حفاظت ہے۔

غور و فکر

میری زندگی میں کون سا مذہبی عمل ایسا ہے جسے میں کسی ایسی بات کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتا ہوں جس کا سامنا میں نہیں کرنا چاہتا؟

اگر خدا میری عبادت سے پہلے مجھے دیکھتا ہے، تو کیا میں اُس سے یہ دعا کرنے کو تیار ہوں کہ وہ میرے دل کی جانچ پڑتال فرمائے، چاہے نتیجہ تکلیف دہ ہو؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Proverbs 21:27 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

امثال 21:27 کا کیا مطلب ہے؟
امثال ۲۱ باب کی ۲۷ آیت ایک ہی سانس میں دو ضربیں لگاتی ہے۔ پہلی ضرب یہ کہ بےدین آدمی جو قربانی پیش کرتا ہے، وہ خدا کے حضور قبول نہیں بلکہ "قابلِ گھن" ہے، یعنی ایسی چیز جس سے گھن آتی ہو، جو مکروہ ہو۔ دوسری ضرب اُس چھوٹے سے فقرے میں ہے: "خاص کر جب اُسے بُرے مقصد سے پیش کیا جائے۔" یعنی معاملہ صرف قربانی پیش کرنے والے کے ناپاک ہاتھوں کا نہیں، بلکہ اُس نیت کا بھی ہے جو قربانی کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ عبادت کا عمل بذاتِ خود بےدینی کو ڈھانپ نہیں سکتا؛ اور اگر عبادت کو کسی گھٹیا منصوبے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ اور بھی زیادہ گھناؤنی ہو جاتی ہے۔ مذہبی صورت یہاں کوئی ڈھال نہیں بنتی، بلکہ ایک اضافی الزام بن جاتی ہے۔
امثال 21:27 کس بارے میں ہے؟
یہ آیت کتابِ مقدس کے ایک بہت پرانے سوال کو چھوتی ہے: خدا کسی قربانی کو کیوں قبول کرتا ہے اور کسی کو کیوں نہیں؟ پیدایش کے چوتھے باب میں ہابل کی نذر قبول ہوتی ہے اور قائن کی نہیں، اور متن ہمیں وجہ کھول کر نہیں بتاتا، صرف اِتنا کہ خدا پہلے شخص کو دیکھتا ہے، پھر اُس کے ہدیے کو۔ امثال ۲۱:۲۷ اُسی اصول کو ایک ضربی جملے میں سمیٹ دیتی ہے۔ اور یہی وہ خلا ہے جسے صرف مسیح پُر کرتے ہیں: تاریخ میں ایک ہی قربانی ایسی ہے جو پیش کرنے والے کی بےدینی سے آلودہ نہیں، کیونکہ پیش کرنے والا اور پیش کی جانے والی چیز دونوں پاک ہیں۔ صلیب اِس آیت کی منسوخی نہیں بلکہ اُس کا واحد جواب ہے: ہم اپنی قربانی کو صاف نہیں کر سکتے، اِس لیے ہمیں ایک ایسا کاہن چاہیے جس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کی جگہ اُٹھیں۔
امثال 21:27 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اگر بےدین کی قربانی مکروہ ہے، تو پھر آئے کون؟ کیونکہ اِسی باب کی دوسری آیت کے مطابق ہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، یعنی میں خود اپنی نیت کا قابلِ بھروسا گواہ نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے دل کی تہہ تک نہیں دیکھ سکتا، تو مجھے کیسے معلوم ہو کہ میری عبادت اُس فہرست میں نہیں آتی؟ یہاں سستی تسلی دینا بےایمانی ہو گی۔ سچ یہ ہے کہ ہماری عبادت کا کچھ حصہ شاید واقعی خدا کے لیے ناگوار ہے، اور ہم اُسے خود صاف نہیں کر سکتے۔ فرق اِس میں نہیں کہ کس کی نیت بےداغ ہے، بلکہ اِس میں کہ کون اپنی نیت کی جانچ کے لیے تیار ہے اور کون قربانی کو تفتیش سے بچنے کا پردہ بناتا ہے۔ باقی کو خدا کے حوالے کرنا ہی ایمان ہے۔
امثال 21:27 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال کا یہ حصہ اُس دنیا میں لکھا گیا جہاں قربانی نجی عبادت نہیں بلکہ سماجی واقعہ تھی۔ جانور ذبح ہوتا، گوشت تقسیم ہوتا، خاندان اور مہمان کھاتے، اور سب دیکھتے کہ کس نے کتنا بڑا ہدیہ چڑھایا۔ دولت مند بےدین آدمی آسانی سے سب سے شاندار قربانی پیش کر سکتا تھا اور اُسی سے اپنی ساکھ خرید سکتا تھا۔ عبرانی میں یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے، توعیبہ، یعنی "مکروہ"، وہی لفظ ہے جو شریعت میں ناپاک اور حرام چیزوں کے لیے آتا ہے۔ یعنی حکمت کا اُستاد عبادت گاہ کی اپنی زبان اُٹھا کر عبادت گزار پر پھیر دیتا ہے: تیرا ہدیہ خود اُس فہرست میں آ گیا ہے جس سے تُو بچنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ کاہنوں کے خلاف بغاوت نہیں، بلکہ اُس نظام کے دل کی حفاظت ہے۔
امثال 21:27 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خدا میری عبادت سے پہلے مجھے دیکھتا ہے، تو کیا میں اُس سے یہ دعا کرنے کو تیار ہوں کہ وہ میرے دل کی جانچ پڑتال فرمائے، چاہے نتیجہ تکلیف دہ ہو؟

Proverbs 21 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے