۲-توارِیخ 36
متن
تین مہینے۔ اِتنی ہی دیر یوسیاہ کا بیٹا یہوآخز باپ کے تخت پر بیٹھا رہا، پھر مصر کا بادشاہ آیا اور اُسے یوں اُتار دیا جیسے کوئی کرسی سے چادر کھینچ لے۔ اِس کے بعد باب چار بادشاہوں کو تیزی سے ہمارے سامنے سے گزار دیتا ہے: یہویقیم، یہویاکین، صِدقیاہ، ہر ایک کے بارے میں وہی مختصر اور بےرحم فقرہ کہ ”اُس کا چال چلن رب اُس کے خدا کو ناپسند تھا۔“ نبوکدنضر بار بار آتا ہے، ہر بار کچھ نہ کچھ لے جاتا ہے، پہلے برتن، پھر خزانے، پھر لوگ۔ آخر میں رب کا گھر اور یروشلم کے محل جل جاتے ہیں، فصیل گر جاتی ہے، اور جو تلوار سے بچے وہ بابل میں غلام بن جاتے ہیں۔ زمین ستّر سال ویران پڑی رہتی ہے۔ اور پھر، بالکل اچانک، فارس کا خورس بولتا ہے: ”یروشلم کے لئے روانہ ہو جائیں۔“
اصل مرکز
اِس باب کا دل آیت پندرہ میں دھڑکتا ہے، اور یہ سب سے حیران کن جملہ ہے: ”بار بار رب اُن کے باپ دادا کا خدا اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بھیج کر اُنہیں سمجھاتا رہا، کیونکہ اُسے اپنی قوم اور سکونت گاہ پر ترس آتا تھا۔“ جلتے ہوئے ہیکل کی کہانی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اُس آگ سے پہلے صدیوں کی نرمی تھی۔ خدا کا غضب اچانک پھٹنے والا طوفان نہیں؛ وہ نظرانداز کی گئی محبت کا آخری نتیجہ ہے۔ اور یہاں مصنف ایک اور بات کہتا ہے جو ہمیں بےچین کرتی ہے: تباہی کا اصل کارندہ نبوکدنضر نہیں، ”رب نے سب کو نبوکدنضر کے حوالے کر دیا۔“ یعنی اسرائیل کا خدا اپنی شکست میں بھی مغلوب نہیں ہوا۔ جو قوم سمجھتی تھی کہ ہیکل اُس کا بیمہ ہے، اُس نے سیکھا کہ عمارت نہیں، عہد کی وفاداری زندگی بچاتی ہے۔
سلسلۂ نجات
توارِیخ کی کتاب کا اختتام عجیب ہے: کوئی خاتمہ نہیں، بلکہ ایک دروازہ جو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ”آپ میں سے جتنے اُس کی قوم کے ہیں یروشلم کے لئے روانہ ہو جائیں۔ رب آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو۔“ آخری لفظ حکم نہیں، دعوت ہے۔ مصنف اُن لوگوں کے لئے لکھ رہا تھا جو واپس آ چکے تھے اور ایک چھوٹی، غریب ہیکل کے سامنے کھڑے تھے، اور سوچ رہے تھے کہ کیا داؤد کا وعدہ راکھ میں دفن ہو گیا۔ جواب یہ ہے: نہیں، مگر وہ اب کسی عمارت یا کسی تختِ شاہی سے وابستہ نہیں رہا۔ متی اپنی نسب نامے کو جان بوجھ کر ”بابل کی جلاوطنی“ پر توڑتا ہے اور پھر جوڑتا ہے، کیونکہ جو بادشاہ آنے والا تھا وہ جلی ہوئی ہیکل کی جگہ اپنا بدن پیش کرے گا۔ خورس کی آواز اُسی راستے کا پہلا قدم ہے۔
آئینہ
صِدقیاہ کے بارے میں سب سے خوفناک جملہ یہ نہیں کہ اُس نے بغاوت کی، بلکہ یہ کہ ”اُس نے اپنے آپ کو نبی کے سامنے پست نہ کیا۔“ یرمیاہ اُس کے سامنے کھڑا تھا، آواز اُس کے کان میں تھی، اور اُس نے سر نہیں جھکایا۔ دل ایک دن میں سخت نہیں ہوتا؛ وہ ہر بار تھوڑا سا سخت ہوتا ہے جب ہم کوئی سچی بات سن کر کندھے اُچکا دیتے ہیں۔ آپ کے دفتر میں، آپ کی شادی میں، آپ کے پیسوں کے معاملے میں کوئی نہ کوئی یرمیاہ ہے: وہ بیوی جس نے تین سال پہلے کچھ کہا تھا، وہ دوست جس کے مشورے پر آپ ہنس دیے تھے۔ خدا کی نرمی اکثر ناگوار لوگوں کی زبان سے آتی ہے۔ آج ایک کاغذ پر اُس شخص کا نام لکھیں جس نے آخری بار آپ سے کوئی سچی مگر تکلیف دہ بات کہی، اور اُسے ابھی ایک پیغام بھیجیں: ”آپ نے جو کہا تھا، میں اُس پر دوبارہ سوچ رہا ہوں۔“
پس منظر
یہ سب چوبیس برسوں میں ہوا، تقریباً 609 سے 586 قبلِ مسیح کے درمیان۔ نینوہ گر چکا تھا، مصر اور بابل مشرق کی لاش پر لڑ رہے تھے، اور یہوداہ بدقسمتی سے بالکل بیچ کے راستے پر پڑا تھا۔ یوسیاہ مجِدّو میں مارا جا چکا تھا اور اُس کی اصلاحات کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ اِس دنیا میں چھوٹے بادشاہ اپنے تخت کرایے پر لیتے تھے: مصر کا بادشاہ اِلیاقیم کا نام بدل کر یہویقیم رکھ دیتا ہے، کیونکہ نام بدلنا مالکانہ حق کا اعلان تھا، جیسے کوئی جانور پر داغ لگا دے۔ چاندی اور سونے کا خراج قوم کی جیب سے نکلتا تھا۔ اور یروشلم کے لوگ پھر بھی یقین رکھتے تھے کہ رب کا گھر شہر میں ہے، اِس لئے شہر گر نہیں سکتا۔
مشکل سوال
آیت سترہ سے آسانی سے گزرنا ممکن نہیں: دشمن ”مقدِس میں گھسنے سے بھی نہ جھجکے۔ کسی پر بھی رحم نہ کیا گیا، خواہ جوان مرد یا جوان خاتون، خواہ بزرگ یا عمر رسیدہ ہو۔“ اور اِس کے فوراً بعد: ”رب نے سب کو نبوکدنضر کے حوالے کر دیا۔“ کیا وہ سولہ سالہ لڑکی بھی جو مقدِس کے صحن میں ماری گئی، یہویقیم کی گھنونی حرکتوں کی برابر شریک تھی؟ متن یہ دعویٰ نہیں کرتا۔ وہ ہمیں فرد فرد کا حساب نہیں دیتا، اور نہ ہی معصوموں کی موت کو خوبصورت بناتا ہے۔ گناہ ذاتی ہوتا ہے مگر اُس کا ملبہ اجتماعی گرتا ہے؛ بچے قرض میں پیدا ہوتے ہیں جو اُنہوں نے نہیں لیا تھا۔ یہ ہمیں تسلی نہیں دیتا۔ صرف اِتنا کہا جا سکتا ہے کہ جس گھر کو آگ لگی، وہ خدا کا اپنا گھر تھا، اور جس قوم پر ترس آتا تھا وہ اُسی کی قوم تھی۔
ایک باریک تفصیل
آیت اکیس میں ایک لفظ چپکے سے آتا ہے: سبت۔ ”زمین کو آخرکار سبت کا وہ آرام مل گیا جو بادشاہوں نے اُسے نہیں دیا تھا۔“ شریعت میں حکم تھا کہ ہر ساتویں سال کھیت خالی چھوڑے جائیں، زمین سانس لے، غریب اور جنگلی جانور اُس کی خودرو پیداوار کھائیں۔ صدیوں تک وہ سال چرا لیے گئے، کیونکہ پیداوار زیادہ ضروری لگتی تھی۔ اب زمین اپنا قرض خود وصول کرتی ہے: ستّر سال، خالی، خاموش، ویران۔ یہ خیال بےچین کر دینے والا ہے۔ آرام ملے گا؛ سوال صرف یہ ہے کہ اطاعت سے یا اُجاڑ سے۔ جو انسان اپنی زندگی سے سبت نکال دیتا ہے، وہ آرام کو مٹاتا نہیں، صرف اُسے مؤخر کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بیماری، ٹوٹ پھوٹ یا خالی گھر کی صورت میں دروازہ توڑ کر اندر آ جاتا ہے۔
غور کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سا شعبہ ایسا ہے جہاں آپ نے ”آرام“ کو مسلسل مؤخر کیا ہے، اور اُس کا قرض اب کس شکل میں وصول ہو رہا ہے؟
”رب آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو“ ایک بےدین بادشاہ کے منہ سے نکلا۔ آپ آج کن غیرمتوقع ذرائع سے آنے والی خدا کی آواز کو نظرانداز کر رہے ہیں؟
2 Chronicles 36 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-توارِیخ 36 کا کیا مطلب ہے؟
۲-توارِیخ 36 کس بارے میں ہے؟
۲-توارِیخ 36 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-توارِیخ 36 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-توارِیخ 36 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
2 Chronicles 36 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں