اِفسِیوں 6
متن
پولس رسول گھر کی چوکھٹ سے بات شروع کرتے ہیں: بچے ماں باپ کے تابع رہیں، والدین بچوں کو غصہ نہ دلائیں بلکہ خداوند کی تربیت میں پالیں، غلام دل سے یوں خدمت کریں جیسے مسیح کی، اور مالک دھمکیوں سے باز رہیں کیونکہ آسمان پر اُن کا بھی ایک مالک ہے جو ”جانب دار نہیں ہوتا“۔ پھر اچانک منظر بدلتا ہے: میدانِ جنگ۔ ”اللہ کا پورا زرہ بکتر پہن لیں“، کیونکہ اصل مقابلہ گوشت پوست کے دشمنوں سے نہیں۔ خط دعا، تُخِکُس کی خبر اور فضل کی برکت پر ختم ہوتا ہے۔
مرکزی بات
غور کیجیے کہ زرہ بکتر کس کا ہے۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ اپنی ہمت کا لباس پہنو؛ وہ کہتے ہیں ”اللہ کا“ زرہ بکتر۔ یسعیاہ ۵۹ میں خداوند خود جنگ کے لیے اُٹھتے ہیں: راست بازی کا سینہ بند اور نجات کا خود اُن کے اپنے بدن پر ہے، کیونکہ کوئی انسان بچانے کو موجود نہ تھا۔ پولس وہی سامان اُتار کر کلیسیا کو پہنا دیتے ہیں۔ یہ فضل کی تصویر ہے: ہم جو ہتھیار اُٹھاتے ہیں وہ ہماری فتح کا سامان نہیں بلکہ خدا کی فتح کا لباس ہے۔ اور مقصد بھی فتح نہیں، بلکہ ”قائم رہ سکیں“۔ کھڑے رہنا ہی ایمان کی کامیابی ہے۔
سلسلۂ کلام
پولس دو جگہ صاف طور پر پرانے عہدنامے میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ پہلے دس احکام: ”اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا“، اور اُس کے ساتھ زمین پر لمبی عمر کا وعدہ۔ اصل میں یہ وعدہ کنعان کی سرزمین سے جُڑا تھا، مگر پولس افسس کے غیریہودی سننے والوں کو یہ حکم دیتے ہوئے وعدے کو محدود نہیں کرتے: عہد کی برکت اب ہر اُس گھرانے تک پھیل چکی ہے جو مسیح میں ہے۔ دوسری جگہ یسعیاہ کا جنگجو خدا ہے، اور اُس کے ساتھ ”صلح سلامتی کی خوش خبری“ سنانے والے قدم، جو یسعیاہ ۵۲ کے اُس قاصد کی یاد دلاتے ہیں جس کے پاؤں پہاڑوں پر خوش خبری لاتے ہیں۔ مسیح نے وہ جنگ لڑی؛ کلیسیا فاتح کی وردی پہنتی ہے۔
آئینہ
آیت ۴ کو جلدی سے مت پڑھیے۔ ”اپنے بچوں سے ایسا سلوک مت کریں کہ وہ غصے ہو جائیں۔“ یہ نافرمان بچوں کے بارے میں نہیں، بلکہ اُن والدین کے بارے میں ہے جو طنز، موازنے اور مستقل تنقید سے بچے کے دل میں ایک خاموش آگ جلا دیتے ہیں۔ اور آیت ۶ اُس کام کو بے نقاب کرتی ہے جو صرف نگرانی میں اچھا ہوتا ہے: ”نہ صرف اُن کے سامنے ہی اور اُنہیں خوش رکھنے کے لئے۔“ آپ کے دفتر میں، آپ کے کاروبار میں، وہ کام کیسا ہے جو کوئی نہیں دیکھتا؟ اور آیت ۱۲ دونوں طرف کاٹتی ہے: نہ ہر مشکل کے پیچھے شیطان کو ڈھونڈیے، نہ ہر مخالف انسان کو اصل دشمن سمجھیے۔
پہلے سننے والے
افسس جادو، تعویذ اور روحانی خوف کا شہر تھا؛ ارتمس کا مندر وہاں کی شان تھا۔ ایسے لوگوں کے لیے ”آسمانی دنیا کی شیطانی قوتوں“ کا ذکر کوئی استعارہ نہیں تھا، بلکہ وہ دنیا تھی جس سے وہ کل تک تعویذ خرید کر خود کو بچاتے تھے۔ پولس اُن سے تعویذ چھین کر خدا کا زرہ بکتر تھما دیتے ہیں۔ اور تصور کیجیے: خط کلیسیا کی مجلس میں پڑھا جا رہا ہے، اور ایک ہی کمرے میں غلام اور مالک دونوں بیٹھے ہیں۔ غلام کو براہِ راست مخاطب کیا جانا، اُسے اخلاقی فیصلے کا اہل ماننا، اُس زمانے کے لیے حیران کن تھا۔ مالک کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اُس کا بھی ایک مالک ہے۔
مرکزی کردار
پولس خود اِس باب کے آخر میں سامنے آتے ہیں، اور تصویر عجیب ہے: ”زنجیروں میں جکڑا ہوا مسیح کا ایلچی“۔ ایلچی وہ ہوتا ہے جسے بادشاہ کی طرف سے مکمل تحفظ حاصل ہو؛ زنجیر میں بندھا سفیر ایک تضاد ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کو زرہ بکتر پہننے کو کہہ رہا ہے، وہ خود ایک سپاہی کی نگرانی میں بیٹھا ہے۔ مگر وہ رہائی کی دعا نہیں مانگتے۔ وہ الفاظ مانگتے ہیں، اور دلیری: ”دعا کریں کہ مَیں مسیح میں اُتنی دلیری سے یہ پیغام سناؤں جتنا مجھے کرنا چاہئے۔“ یہ ایک ایسے آدمی کی آواز ہے جو جانتا ہے کہ ہمت بھی مانگی جاتی ہے، پیدا نہیں کی جاتی۔
پس منظر
یہ خط تقریباً ۶۰ عیسوی کے آس پاس قید سے لکھا گیا، غالباً روم سے، اور غالباً افسس سمیت کئی کلیسیاؤں میں گھمایا گیا۔ تُخِکُس صرف قاصد نہیں، خبر لانے والا بھائی ہے، تاکہ ”آپ کو تسلی ملے“؛ قدیم دنیا میں خط اور خبر ہی رشتے کی رگ تھے۔ گھرانے کے یہ احکام رومی معاشرے کے اُس نظام کے اندر بولے گئے جہاں گھر کے سربراہ کو بیوی، بچوں اور غلاموں پر تقریباً مطلق اختیار حاصل تھا۔ پولس اُس ڈھانچے کو راتوں رات نہیں گراتے، مگر اُس کی بنیاد کے نیچے بارود رکھ دیتے ہیں: ایک ہی مالک، جو جانب دار نہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سا کام صرف اُس وقت اچھا ہوتا ہے جب کوئی دیکھ رہا ہو، اور اُسے ”خداوند کی خدمت“ سمجھ کر کرنے سے کیا بدلے گا؟
پولس نے زنجیروں میں رہائی نہیں، دلیری مانگی۔ آپ اپنی موجودہ تنگی میں کیا مانگ رہے ہیں، اور کیا مانگنا چاہیے؟
Ephesians 6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 6 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 6 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 6 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خدا کا شکر کہ تُو اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ تُخِکُس جیسے بھائیوں کو بھیجتا ہے تاکہ ہمیں ایک دوسرے کے حال کا پتا چلے اور ہماری حوصلہ افزائی ہو۔ شکر کہ تُو آج بھی ہمارے دلوں کو دوسروں کی باتوں اور دعاؤں سے تسلی دیتا ہے۔
اے خدا، میری اپنی طاقت جلد ختم ہو جاتی ہے۔ جب دل تھک جائے اور ہمت جواب دے دے، تو مجھے اپنی قدرت میں مضبوط کر۔ میں تیرے سہارے کھڑا رہنا چاہتا ہوں، اپنے بل بوتے پر نہیں۔ آج مجھے وہ زور بخش جو صرف تجھ سے ملتا ہے۔
خدا کا پورا زرہ بکتر پہن لیں تاکہ آپ ابلیس کے حیلوں کا سامنا کر سکیں۔“ غور کریں، یہ ہتھیار آپ کے نہیں، خدا کے ہیں۔ آپ کو انہیں بنانا نہیں، صرف پہننا ہے۔ اور پولس ”پورا“ کہتا ہے، آدھا نہیں۔ ہم اکثر ایمان کی ڈھال تو اُٹھا لیتے ہیں مگر سر پر نجات کا خود رکھنا بھول جاتے ہیں۔ آج صبح آپ نے کیا کیا پہنا؟
شکر ہے کہ آپ نے ہمیں خالی ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ خدا باپ اور خداوند عیسیٰ مسیح کی طرف سے سلامتی، محبت اور ایمان بخشا ہے۔ آپ کی سلامتی ہمارے بےچین دلوں کو تھام لیتی ہے، اور آپ کی محبت ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے۔ اس تحفے کے لیے آپ کے شکرگزار ہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
