۲-کُرِنتِھیوں 12
متن
پولس رسول اپنے آسمانی انکشافات کا ذکر کرتے ہیں، لیکن فوراً اُس کانٹے کا بھی جو اُن کے جسم میں چبھو دیا گیا تاکہ وہ مغرور نہ ہو جائیں۔ خداوند اُن کی تین بار کی التجا کے جواب میں کانٹا نہیں ہٹاتے، بلکہ فرماتے ہیں: ”میرا فضل تیرے لئے کافی ہے، کیونکہ میری قدرت کا پورا اظہار تیری کمزور حالت ہی میں ہوتا ہے۔“ باب کا آخری حصہ کرنتھس کی جماعت کے گناہوں پر پولس کے فکرمند دل کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔
مرکزی نکتہ
یہاں ایک الٰہی اصول سامنے آتا ہے جو پوری کتابِ مقدّس میں گونجتا ہے: خدا کی قدرت خالی برتنوں میں بھری جاتی ہے، بھرے ہوئے میں نہیں۔ پولس کو تیسرے آسمان تک لے جایا گیا، لیکن اُس تجربے کے ساتھ ہی ایک ”ابلیس کا پیغمبر“ باندھ دیا گیا۔ یہ محض نفسیاتی توازن نہیں، یہ فضل کی الٰہیات ہے۔ فضل کوئی اضافی چیز نہیں جو ہماری طاقت میں شامل ہو جائے، بلکہ وہ چیز ہے جو ہماری کمزوری میں ہمیں تھامے رکھتی ہے۔ جہاں انسان کہتا ہے ”مجھے شفا چاہئے تاکہ مَیں خدمت کر سکوں“، وہاں خدا کہتے ہیں ”تیری کمزوری ہی وہ جگہ ہے جہاں میری قدرت دکھائی دے گی۔“ یہ صلیب کی ہی منطق ہے، شکست کے ذریعے فتح۔
بڑا سلسلہ
پولس کا کانٹا صلیب کی چھاؤں میں کھڑا ہے۔ جس مسیح نے کمزوری میں مصلوب ہو کر دنیا کو فتح کیا، وہی اپنے رسول کو کمزوری ہی میں چلاتا ہے۔ یہ اُس پرانے نمونے کا تسلسل ہے جو پورے عہدنامۂ عتیق میں چلتا ہے: خدا بوڑھے ابرہام کو چنتے ہیں، ہکلاتے موسیٰ کو، سب سے چھوٹے داؤد کو۔ خدا کی سلطنت طاقتور کے کاندھوں پر نہیں چلتی، بلکہ اُن پر جو اپنی ناکافی حالت کو تسلیم کرتے ہیں۔ فردوس کی جھلک اور جسم کا کانٹا، دونوں ایک ہی رسول کو دیے گئے، کیونکہ عہد کا خدا اپنے لوگوں کو بلندی اور پستی، دونوں سے تراشتا ہے۔ مسیح کی قدرت پولس ”پر ٹھہری رہے“، یہ وہی خیمۂ اجتماع کا سایہ ہے جو اب ایک شخص پر اُتر آیا ہے۔
آئینہ
یہ متن ہماری اُس خواہش پر ہاتھ رکھتا ہے کہ ایمان کا مطلب مسائل کا حل ہو۔ ہم بھی تین بار نہیں، تیس بار مانگتے ہیں: یہ بیماری، یہ رشتہ، یہ مالی تنگی، یہ اولاد کی فکر، یہ کام کی جگہ کا دباؤ۔ اور جواب اکثر ”ہاں“ نہیں آتا، بلکہ ”میرا فضل کافی ہے“ آتا ہے۔ کیا ہم اِس جواب کو جواب مانتے ہیں، یا اِسے خاموشی سمجھ کر مایوس ہو جاتے ہیں؟ پولس یہاں ہمیں سکھاتے ہیں کہ کمزوری پر شرمندہ ہونا چھوڑ دیں۔ آپ کی وہ کمزوری جسے آپ چھپاتے پھرتے ہیں، شاید وہی جگہ ہے جہاں مسیح کی قدرت دوسروں پر ظاہر ہونے والی ہے۔ چھپانا فضل کو روکنا ہے۔
بین المتن
یعقوب یبوق کے کنارے فرشتے سے کشتی لڑ کر لنگڑا ہو گیا، اور اُسی رات اُس کا نام اسرائیل رکھا گیا۔ برکت اور معذوری ایک ہی رات میں۔ پولس کا تجربہ اُسی نمونے کا نیا ایڈیشن ہے۔ اور جب پولس رومیوں 8 میں لکھتے ہیں کہ ”ہم اپنی کمزوری میں نہیں جانتے کہ کیا دعا کریں“، تو یہاں کا کانٹا اُس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ یسعیاہ 55 کی وہ آواز بھی گونجتی ہے: ”میرے خیال تمہارے خیال نہیں۔“ خدا کا انکار ہماری ترقی کی مخالفت نہیں، اُس کی اپنی حکمت کا اظہار ہے۔
تفصیل
”کانٹا“ کا لفظ اہم ہے۔ پولس نہیں بتاتے کہ یہ کیا تھا، جسمانی بیماری، مخالفین، کوئی جذباتی بوجھ۔ اور یہ ابہام جان بوجھ کر رکھا گیا ہے۔ اگر پولس واضح کر دیتے، تو صرف وہی لوگ اُن سے رشتہ محسوس کرتے جن کا کانٹا اُن جیسا ہوتا۔ ابہام کے سبب ہر قاری اپنا کانٹا اِس میں رکھ سکتا ہے۔ مزید غور کریں: پولس اِسے ”ابلیس کا پیغمبر“ بھی کہتے ہیں اور ساتھ ہی مانتے ہیں کہ یہ اُنہیں ”چبھو دیا گیا“، یعنی خدا کی اجازت سے آیا۔ ایک ہی چیز شیطان کا حملہ بھی ہے اور خدا کا اوزار بھی۔ ایوب کی کتاب کی وہی پیچیدہ الٰہیات یہاں ایک جملے میں سمٹ آئی ہے۔
مرکزی کردار
پولس اِس باب میں ایک عجیب کشمکش میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف وہ فخر کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ کرنتھس کی جماعت اُنہیں نام نہاد ”خاص رسولوں“ سے کم سمجھ رہی ہے۔ دوسری طرف وہ جانتے ہیں کہ فخر کی سب سے پکی بنیاد اُن کی کمزوری ہے۔ وہ خود کو ”بےوقوف“ کہتے ہیں، اپنے آنسو چھپاتے نہیں، جماع
2 Corinthians 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 12 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 12 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ میری کمزوری میری رسوائی نہیں بلکہ تیری قدرت کی جگہ ہے۔ تُو نے سکھایا کہ "جب مَیں کمزور ہوتا ہوں تب ہی طاقت ور ہوتا ہوں۔" اُن دنوں کے لئے شکریہ جب میرے ہاتھ خالی تھے اور تُو نے خود مجھے تھام لیا۔
اے خدا، تیری باتیں اتنی گہری ہیں کہ الفاظ اُن کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ جو کچھ میں نہیں سمجھ پاتا، اُس پر بھی مجھے بھروسا کرنا سکھا۔ میرے دل میں وہ خاموش یقین پیدا کر کہ تُو ہر بات سے واقف ہے اور تیری قربت ہی میرے لیے کافی ہے۔
پولس اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جو اُس پر شک کر رہے تھے، اور پھر بھی کہتا ہے، ”مَیں خوشی سے اپنا سب کچھ آپ پر خرچ کروں گا، ہاں اپنے آپ کو بھی۔“ خرچ ہو جانا، جیسے موم بتی جو دوسروں کی روشنی کے لئے پگھلتی ہے۔ اور پھر وہ سوال، کیا کم محبت ملنے پر آپ محبت کرنا چھوڑ دیں گے؟ آپ کے دل میں کس کا نام آیا؟
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے پولس کو تیسرے آسمان تک اُٹھا لیا اور یوں ہمیں یقین دلایا کہ تیرا آسمانی گھر واقعی موجود ہے۔ شکر کہ جو باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں، وہ تُو جانتا ہے، اور ہم مسیح میں ہو کر تیری قربت پاتے ہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
