پَیدایش 12
متن
خداوند ایک بوڑھے آدمی سے بات کرتا ہے اور اُس کی پوری دنیا کاٹ دیتا ہے: وطن، رشتے دار، باپ کا گھر، سب چھوڑ دے اور اُس ملک کی طرف چل جس کا پتا ابھی بتایا بھی نہیں گیا۔ ساتھ میں ایک وعدہ ہے جو زمین کی حد سے بہت آگے جاتا ہے، ”دنیا کی تمام قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔“ ابرام پچہتّر برس کی عمر میں سارئی اور لوط کو لے کر نکل پڑتا ہے، کنعان پہنچتا ہے، سِکم اور بیت ایل میں قربان گاہیں بناتا ہے اور رب کا نام لے کر عبادت کرتا ہے۔ پھر کال پڑتا ہے۔ وہی آدمی جو ایمان میں نکلا تھا، بھوک سے بچنے مصر جا بستا ہے، اپنی بیوی کو بہن کہلواتا ہے، اور فرعون کے محل میں سارئی کے چھن جانے کا خطرہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ باب کا اختتام ابرام کی نہیں، خدا کی مداخلت سے ہوتا ہے۔
دل کی بات
یہ باب اِس بات پر قائم ہے کہ خدا کا کلام حقیقت کو پیدا کرتا ہے۔ گیارہویں باب کے آخر میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سارئی بانجھ ہے، اور اگلی ہی سانس میں خدا ایک بےاولاد جوڑے سے ”ایک بڑی قوم“ بنانے کا اعلان کرتا ہے۔ یہاں کوئی انسانی امکان نہیں، صرف ایک آواز ہے۔ برکت اِس آواز کی دین ہے، ابرام کی خوبی کا انعام نہیں؛ متن ہمیں اُس کی نیکی، تقویٰ یا لیاقت کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بتاتا۔ اور یہ برکت جمع کرنے کے لیے نہیں دی جاتی: ابرام برکت پاتا ہے تاکہ ”دوسروں کے لئے برکت کا باعث“ ہو۔ خدا ایک آدمی کو چنتا ہے تاکہ کسی کو باہر نہ چھوڑے۔ اور جب وہی چُنا ہوا آدمی مصر میں ڈر کر اپنی بیوی کو داؤ پر لگا دیتا ہے، تو وعدہ ٹوٹتا نہیں، کیونکہ وہ کبھی ابرام کی ہمت پر ٹکا ہی نہ تھا۔ فضل یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
سِکم کے بلوط کے نیچے کھڑے ابرام کو خدا کہتا ہے، ”مَیں تیری اولاد کو یہ ملک دوں گا۔“ اولاد ابھی نہیں، ملک ابھی کسی اور کا ہے۔ یہیں سے وہ لمبی لکیر شروع ہوتی ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے: خدا وعدہ کرتا ہے، اور پھر صدیوں تک اُس وعدے کو انسانی ناکامی کے بیچ سے گزار کر پورا کرتا ہے۔ ابرام سے قوم بنی، قوم سے داؤد کا گھرانہ، اور اُس گھرانے سے وہ ایک، جس میں ”دنیا کی تمام قومیں“ واقعی برکت پاتی ہیں۔ ایک اَور بات پر غور کریں: ابرام کو نکلنا پڑا تاکہ برکت آئے؛ مسیح نے بھی باپ کا گھر چھوڑا اور پردیسی کی حیثیت سے آیا۔ فرق یہ ہے کہ ابرام اپنی جان بچانے کے لیے بیوی کو خطرے میں ڈالتا ہے، جبکہ مسیح اپنی دلہن کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے۔ وہی وعدہ، مگر آخرکار ایک وفادار آدمی کے ہاتھوں میں۔
آئینہ
کال ہر ایمان کا امتحان لیتا ہے۔ آپ کے لیے وہ نوکری کا خاتمہ ہو سکتا ہے، ٹیسٹ کی رپورٹ، یا وہ خاموش گھر جہاں بچے بڑے ہو کر چلے گئے۔ اور کال میں ہم سب وہی کرتے ہیں جو ابرام نے کیا: ہم حساب لگانا شروع کرتے ہیں۔ ابرام کا جھوٹ بےوقوفی نہیں، بہت عقل مندی سے سوچی ہوئی حکمتِ عملی ہے، اور اُس کی قیمت کوئی اور چکاتا ہے۔ اپنے آپ سے پوچھیے: میری سلامتی کا انتظام کس کے کندھوں پر رکھا ہے؟ وہ ملازم جسے میں کم دیتا ہوں، وہ بیوی جس کی تھکن میرے کیرئیر کا ایندھن ہے، وہ دوست جس سے میں نے سچ چھپایا تاکہ میری عزت بچی رہے؟ اور پھر یاد رکھیے کہ ابرام مصر سے نکالا تو گیا، مگر چھوڑا نہیں گیا۔ آج رات سونے سے پہلے اُس کمرے میں کھڑے ہو کر، جہاں آپ کی فکر سب سے زیادہ جاگتی ہے، بلند آواز سے خداوند کا نام لیں اور اُس کا ایک وعدہ زبان سے دہرائیں، جیسے ابرام نے خیمے کے پاس قربان گاہ بنا کر کیا تھا۔
کلام کی گونج
عبرانیوں کا مصنف اِسی منظر کو ایمان کی تعریف بناتا ہے: ابرام نکلا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ کہاں جا رہا ہے، اور موعودہ ملک میں بھی خیموں ہی میں رہا۔ یعنی وعدہ ملنے کے بعد بھی وہ عارضی زندگی گزارتا رہا؛ ایمان مالکانہ حق نہیں، انتظار ہے۔ دوسری طرف پولس رسول گلتیوں میں آیت 3 کے آخری جملے کو ”پہلے سے سنائی گئی خوش خبری“ کہتا ہے۔ اُس کے نزدیک ”دنیا کی تمام قومیں تجھ سے برکت پائیں گی“ کوئی اضافی جملہ نہیں بلکہ انجیل کا پہلا اعلان ہے، صدیوں پہلے ایک بےاولاد بوڑھے کے کان میں۔ اِس روشنی میں پیدایش 12 کوئی قومی داستان کا آغاز نہیں رہتا؛ یہ اُس منصوبے کا آغاز ہے جس میں آپ اور میں، جو ابرام کے خون سے نہیں، شامل کیے گئے ہیں۔
ایک باریک نکتہ
آیت 6 میں ایک جملہ ہے جسے پڑھنے والا اکثر پھلانگ جاتا ہے: ”اُس زمانے میں ملک میں کنعانی قومیں آباد تھیں۔“ راوی یہ محض تاریخی معلومات کے طور پر نہیں لکھتا۔ ابرام ایک خالی ملک میں نہیں پہنچا۔ جہاں وہ کھڑا ہے، وہاں پہلے سے شہر ہیں، دیوتا ہیں، فوجیں ہیں، اور مورِہ کا بلوط غالباً کوئی مقامی مقدّس مقام تھا۔ اور عین اُسی جگہ خدا کہتا ہے، ”مَیں تیری اولاد کو یہ ملک دوں گا۔“ ابرام کے پاس اِس ملک میں ایک قبر کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ وہ قربان گاہ اِسی لیے اہم ہے: وہ قبضے کا نشان نہیں، ایمان کا نشان ہے۔ کسی اور کی زمین پر ایک آدمی پتھر رکھ کر کہتا ہے، جو تُو نے کہا وہ سچ ہے، چاہے آنکھ اُس کی تردید کرے۔
مشکل سوال
سب سے کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ سزا غلط آدمی کو ملتی ہے۔ ابرام جھوٹ بولتا ہے، اور مویشی، غلام اور اونٹ لے کر امیر ہو جاتا ہے؛ فرعون، جو لاعلمی میں ہے، بیماریوں کی زد میں آ جاتا ہے۔ اور آخر میں ایک بُت پرست بادشاہ خدا کے چُنے ہوئے آدمی کو اخلاقیات پر لیکچر دیتا ہے، ”تُو نے میرے ساتھ کیا کِیا؟“ متن ابرام کا دفاع نہیں کرتا اور اُس کی تعریف بھی نہیں کرتا۔ اِس خاموشی کو بھرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کا انتخاب اخلاقی اہلیت کی بنیاد پر نہیں، اور یہ بات ہمیں تسلی بھی دیتی ہے اور بےچین بھی کرتی ہے۔ خدا سارئی کے سبب سے مداخلت کرتا ہے، اُس عورت کے لیے جس کی زبان اِس پورے واقعے میں ایک بار بھی نہیں کھلتی۔ وعدہ اُس کے فضل سے بچتا ہے، ہماری صفائی سے نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
کال کے وقت میری پہلی جبلت کیا ہوتی ہے: قربان گاہ بنانا یا مصر کی طرف چلنا، اور اِس بار قیمت کون چکاتا ہے؟
جو برکت مجھے ملی ہے (وقت، پیسہ، ہنر، اثر)، وہ کن لوگوں تک پہنچ رہی ہے، یا میں نے اُسے اپنے خیمے کے اندر ہی رکھ چھوڑا ہے؟
Genesis 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 12 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 12 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Genesis 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ابرام ڈر گیا اور خاموش رہا، اور سارئی فرعون کے محل میں چلی گئی۔ کوئی اُس کے لئے نہ بولا۔ لیکن لکھا ہے، ”تب رب نے ابرام کی بیوی سارئی کی خاطر فرعون اور اُس کے گھرانے کو بڑی مصیبتوں میں ڈال دیا۔“ جہاں تیرے اپنے تجھے بچانے سے ڈر گئے، وہاں خدا خود اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ تیری خاموشی کو بھی سنتا ہے۔
چنانچہ ابرام روانہ ہوا جس طرح رب نے اُسے کہا تھا۔" کوئی سوال نہیں، کوئی نقشہ نہیں، بس روانگی۔ اور وہ پچہتر سال کا تھا۔ ہم سوچتے ہیں کہ نئی شروعات جوانی کا حق ہے، مگر خدا نے ایک بوڑھے آدمی کو بلایا اور اُس نے خیمہ اُکھاڑ دیا۔ تُو کس عمر کا انتظار کر رہا ہے؟ شاید خدا آج ہی تجھے کہہ رہا ہے، اُٹھ اور چل۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
