پَیدایش 18
متن
دن کی گرمی عروج پر تھی اور ابراہیم ممرے کے درختوں کے سائے میں اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھا تھا، جب اچانک تین مرد اُس کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ دوڑ کر اُن کا استقبال کرتا ہے، سجدہ کرتا ہے، اور جلدی جلدی ایک شاہانہ دعوت تیار کرواتا ہے: میدہ، بچھڑا، لسی اور دودھ۔ کھانے کے دوران مہمان اعلان کرتے ہیں کہ ایک سال بعد بوڑھی سارہ کے ہاں بیٹا ہو گا، اور سارہ خیمے کے پیچھے سے سن کر اندر ہی اندر ہنس پڑتی ہے۔ پھر مہمان سدوم کی طرف رُخ کرتے ہیں، اور رب ابراہیم کو اپنا ارادہ بتاتے ہیں۔ اِس پر ابراہیم وہ عجیب سودا شروع کرتا ہے جو پچاس راست بازوں سے شروع ہو کر دس پر جا کر تھمتا ہے۔
اصل بات
اِس باب میں دو باتیں ایک ہی دوپہر میں آپس میں بندھ جاتی ہیں: خدا کی وہ برکت جو بانجھ رحم سے زندگی نکالتی ہے، اور خدا کا وہ انصاف جو ایک شہر کی چیخوں کا حساب لیتا ہے۔ ہم اکثر اِنہیں الگ الگ خانوں میں رکھتے ہیں، فضل کو نرم اور عدالت کو سخت سمجھ کر۔ لیکن یہاں دونوں ایک ہی زبان سے نکلتے ہیں۔ "کیا رب کے لئے کوئی کام ناممکن ہے؟" یہ سوال صرف سارہ کے پیٹ کے بارے میں نہیں؛ یہ اُس خدا کا تعارف ہے جو مُردہ حالات میں سے عہد کا وارث پیدا کرتا ہے اور جو بگڑی ہوئی وادی میں دس راست بازوں کی خاطر پوری بستی بخش دینے کو تیار ہے۔
اور غور کیجیے کہ خدا نے یہ فیصلہ ابراہیم سے چھپایا نہیں۔ "مَیں ابراہیم سے وہ کام کیوں چھپائے رکھوں؟" چناؤ یہاں مراعات نہیں بلکہ شراکت ہے: جسے خدا نے برکت کے لئے چنا، اُسے وہ اپنے انصاف کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کرتا ہے۔ عہد کا مطلب یہی ہے، خدا کا اپنے بندے کو اپنے کاموں میں سنجیدگی سے شریک کرنا۔
مشترکہ دھاگا
دو دھاگے اِس دوپہر سے نکل کر پوری بائبل میں دوڑتے ہیں۔ پہلا: خدا اُس جگہ سے زندگی نکالتا ہے جہاں سے کچھ نکل ہی نہیں سکتا۔ سارہ کا رحم بند ہے، اُس کا جسم اُس کے اپنے الفاظ میں "گھسے پھٹے لباس کی مانند" ہے، اور وہیں سے عہد کا وارث آتا ہے۔ صدیوں بعد جبرائیل ایک کنواری سے تقریباً وہی جملہ کہے گا جو یہاں کہا گیا: خدا کے لئے کچھ ناممکن نہیں۔ اسحاق سے لے کر خالی قبر تک ایک ہی خدا کام کر رہا ہے۔
دوسرا دھاگا زیادہ چبھنے والا ہے۔ ابراہیم پوچھتا ہے کہ کیا چند راست باز پوری بستی کو بچا سکتے ہیں، اور خدا ہر بار ہاں کہتا ہے، دس تک۔ سدوم میں دس نہ نکلے۔ لیکن سوال زندہ رہا، اور صلیب پر اُس کا جواب یوں آیا کہ ایک راست باز پوری دنیا کے لئے کافی ٹھہرا۔ ابراہیم کی سودے بازی مسیح کی شفاعت کا ابتدائی خاکہ ہے۔
آئینہ
سارہ کی ہنسی ہمیں پہچانی ہوئی لگتی ہے۔ وہ بےدین نہیں، صرف حقیقت پسند ہے: عمر گزر چکی، جسم تھک چکا، وعدہ پچیس سال سے التوا میں ہے۔ ہم بھی یہی کرتے ہیں، اُس شادی کے بارے میں جو ٹھنڈی پڑ چکی ہے، اُس بیٹے کے بارے میں جو کلیسیا چھوڑ گیا، اُس عادت کے بارے میں جس سے دس سال سے لڑ رہے ہیں۔ ہم اُمید کو خطرناک سمجھ کر ہنس دیتے ہیں تاکہ دوبارہ مایوس نہ ہوں۔ اور پھر، پکڑے جانے پر، سارہ کی طرح انکار کرتے ہیں: "مَیں نہیں ہنس رہی تھی۔"
دوسری طرف ابراہیم آئینہ اُلٹا کر دکھاتا ہے۔ وہ اُس شہر کے لئے لڑتا ہے جو اُس کا نہیں۔ ہم عموماً اپنے مخالفوں کے انجام پر خاموش رہتے ہیں، بلکہ چپکے سے مطمئن۔
آج ہی ایک کاغذ پر اُس شخص یا اُس محلے کا نام لکھیے جسے آپ نے دل میں لاعلاج قرار دے دیا ہے، اور وہ نام اونچی آواز میں خدا کے سامنے رکھ کر ابراہیم کی طرح ایک بار سودا کیجیے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار وہ خدا ہے جو کھانا کھاتا ہے۔ یہ حیران کن ہے: قادرِ مطلق درخت کے سائے میں بیٹھ کر لسی اور بچھڑے کا گوشت لیتا ہے جبکہ ابراہیم کھڑا خدمت کرتا ہے۔ یہ وہی خدا ہے جو سوال پوچھتا ہے حالانکہ جواب جانتا ہے: "تیری بیوی سارہ کہاں ہے؟" اور "سارہ کیوں ہنس رہی ہے؟" وہ اُترتا ہے تاکہ خود دیکھے، گویا الزامات پر بھی بغیر تحقیق کے فیصلہ نہ ہو۔
اُس کی سختی اور نرمی ایک ساتھ چلتی ہیں۔ سارہ کا جھوٹ وہ برداشت نہیں کرتا، "نہیں، تُو ضرور ہنس رہی تھی"، مگر وعدہ واپس نہیں لیتا۔ ابراہیم کی بار بار کی جسارت پر وہ غصہ نہیں کرتا بلکہ ہر بار جھک جاتا ہے۔ یہ ایسا منصف ہے جو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔
پہلے سننے والے
اسرائیل نے یہ کہانی ایسے لوگوں کے طور پر سنی جو خود ایک بانجھ آغاز کی پیداوار تھے: ایک بےاولاد جوڑا، ایک غلام قوم، ایک ایسی قوم جس کے پاس شمار کے قابل کچھ نہ تھا۔ اُن کے لئے سارہ کی ہنسی قومی سوانح تھی۔
اُنہوں نے بحیرۂ مُردار کے کنارے کی جھلسی ہوئی زمین اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی؛ سدوم اُن کے لئے افسانہ نہیں بلکہ ایک عبرتناک منظر تھا۔ اِس لئے آیت 19 اُن کے کانوں میں چیخ کر گونجی: ابراہیم کی اولاد اِسی لئے چنی گئی کہ وہ "رب کی راہ پر چل کر راست اور منصفانہ کام کریں۔" چناؤ اُن کے لئے تحفظ کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا بلکہ ذمہ داری۔ سدوم کے خلاف "آہیں" وہی لفظ ہے جو مصر میں مظلوموں کی فریاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
پس منظر
منظر ممرے ہے، حبرون کے قریب بلوط کے درختوں کا جھنڈ، جہاں ابراہیم خانہ بدوش کی طرح خیموں میں رہتا ہے۔ دوپہر کی گرمی وہ وقت ہے جب کوئی سفر نہیں کرتا، اِس لئے تین اجنبیوں کا اچانک کھڑا ہونا ہی غیرمعمولی ہے۔ صحرائی معاشرے میں مہمان نوازی زندگی اور موت کا معاملہ تھی؛ مسافر کو ٹھکانا نہ دینا قتل کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ ابراہیم کی دعوت مگر رواج سے کہیں آگے ہے: سولہ کلو میدہ اور ایک موٹا تازہ بچھڑا، یہ ایک پورے قبیلے کا کھانا ہے۔
پچھلے باب میں ختنے کا عہد باندھا گیا تھا؛ ابراہیم ننانوے برس کا ہے۔ نیچے وادی میں سدوم آباد ہے، جہاں اُس کا بھتیجا لوط رہتا ہے۔ سودے بازی کا انداز بازار کا ہے، مگر داؤ پر انسانی جانیں ہیں۔
غور کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا وعدہ ہے جس پر آپ نے ہنسنا شروع کر دیا ہے، اور آپ اُس ہنسی کو خدا کے سامنے تسلیم کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟
ابراہیم نے اُس شہر کے لئے شفاعت کی جو اُس کا اپنا نہ تھا۔ آپ کے آس پاس کون سی جگہ یا کون سا گروہ ایسا ہے جس کے حق میں آپ نے کبھی دعا کرنے کی زحمت نہیں کی؟
Genesis 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 18 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 18 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Genesis 18 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
