پَیدایش 18:12
متن
خیمے کے دروازے کے پیچھے سارہ کھڑی ہے اور سن رہی ہے۔ مہمان نے ابھی ابھی کہا ہے کہ ٹھیک ایک سال بعد اُس کے ہاں بیٹا ہو گا۔ سارہ کھل کر نہیں ہنستی، شور نہیں مچاتی، اعتراض نہیں کرتی؛ وہ ”اندر ہی اندر ہنس پڑی“۔ اور اُس ہنسی کے ساتھ ایک حساب کتاب بھی چلتا ہے، ایسا حساب جو عمر بھر کے تجربے سے نکلا ہے: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا جب مَیں بُڑھاپے کے باعث گھسے پھٹے لباس کی مانند ہوں تو جوانی کے جوبن کا لطف اُٹھاؤں؟ اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔“ یہ طنز نہیں، نہ ہی کفر؛ یہ ایک ایسی عورت کی آواز ہے جس کا جسم اُس سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا چکا ہے۔ اور یہ آواز اُس نے کسی کو سنائی نہیں، صرف اپنے دل میں کہی۔
مرکزی بات
یہاں اصل سوال ایمان اور بےایمانی کا سادہ فرق نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا تجربہ کس حد تک خدا کے کلام کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ سارہ غلط حساب نہیں لگا رہی۔ اُس کا جسم واقعی تھک چکا ہے، اُس کی عمر واقعی گزر چکی ہے، اور عقل کی رُو سے اُس کا ہنسنا درست ہے۔ لیکن متن یہ دکھاتا ہے کہ خدا کا وعدہ ہماری ممکنات کی فہرست کا انتظار نہیں کرتا۔ اِس سے بھی زیادہ چبھنے والی بات یہ ہے کہ خداوند خیمے کے اندر کی خاموش ہنسی کو بھی سنتے ہیں اور اُسے الفاظ میں دہرا دیتے ہیں۔ یعنی ہمارے وہ اندازے جو ہم کسی کو نہیں بتاتے، وہ بھی خدا کے سامنے کھلے ہیں۔ یہ ڈرانے کے لیے نہیں؛ یہ اِس لیے ہے کہ نجات اُسی جگہ پہنچے جہاں ہم نے خود سے بھی سچ بولنا چھوڑ دیا ہے۔
مشترکہ دھاگا
اِس ہنسی سے ایک نام نکلے گا۔ عبرانی میں ہنسنے کا لفظ "صاحق" ہے، اور جو بیٹا پیدا ہوا اُس کا نام اِضحاق رکھا گیا، یعنی "وہ ہنستا ہے"۔ سوچیں: خدا نے سارہ کی بےیقین ہنسی کو مٹایا نہیں، اُسے وعدے کے بیٹے کے ماتھے پر لکھ دیا۔ ہر بار جب سارہ اپنے بچے کو پکارتی، وہ اپنے اُس لمحے کو بھی پکارتی جب اُس نے خدا کو ناممکن کہا تھا۔ یہی طریقہ خدا کے کام کا ہے: وہ ہمارے بند راستوں سے اپنا راستہ بناتے ہیں۔ صدیوں بعد ایک اور عورت کو، مریم کو، ایک ناممکن حمل کی خبر دی گئی اور وہی دلیل دہرائی گئی جو یہاں آیت 14 میں ہے، ”کیا رب کے لئے کوئی کام ناممکن ہے؟“ مسیح اُسی سلسلے سے آتے ہیں جو ایک مُردہ رحم اور ایک دبی ہوئی ہنسی سے شروع ہوا تھا۔
آئینہ
وہ کون سی بات ہے جسے آپ نے چپکے سے بند فائل میں ڈال دیا ہے؟ شاید وہ رشتہ جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کبھی ٹھیک نہیں ہو گا، اِس لیے آپ نے بات کرنا ہی چھوڑ دیا۔ شاید وہ بیٹا یا بیٹی جس کے ایمان کے لیے آپ نے دعا کرنا آہستہ آہستہ کم کر دیا، کیونکہ "اب کیا فائدہ"۔ شاید وہ دفتر جہاں آپ نے مان لیا ہے کہ دیانت داری سے ترقی نہیں ہوتی، اور آپ نے خاموشی سے سمجھوتہ کر لیا۔ یا آپ کا اپنا جسم، آپ کی عمر، اور یہ خیال کہ اب بدلنے کا وقت گزر چکا۔ سارہ کی ہنسی زبان پر نہیں آئی، اور یہی سب سے خطرناک بات ہے: ہم اپنی ناامیدی کو کبھی دعا میں نہیں لاتے، صرف اُس کے مطابق جینے لگتے ہیں۔ اور جب خدا نے اُس سے پوچھا، تو اُس نے ڈر کر جھوٹ بولا۔
آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ پر ایک ہی جملے میں وہ بات لکھیں جس کے بارے میں آپ نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا ہے کہ "اب یہ ناممکن ہے"، اور وہ جملہ بلند آواز سے خدا کے سامنے پڑھ دیں۔
پہلے سامعین
جنہوں نے یہ قصہ سب سے پہلے سنا، وہ ایک ایسی قوم تھے جو خود کو ہمیشہ کمزور اور گنتی میں تھوڑا سمجھتے تھے، اور جن کے سامنے اکثر اپنے مستقبل کا دروازہ بند نظر آتا تھا۔ اُس دنیا میں بےاولادی صرف ذاتی دکھ نہیں تھی، وہ سماجی شرمندگی تھی؛ عورت کی عزت اور گھرانے کا مستقبل اولاد سے جُڑا ہوتا تھا۔ سارہ کے الفاظ اُن کے کانوں میں کسی اجنبی کی شکایت نہیں تھے بلکہ ہر اُس گھر کی آواز تھے جہاں پالنا خالی رہا۔ اور اُنہوں نے یہ سنا کہ اُن کی پوری قوم کی بنیاد کسی بے عیب ایمان پر نہیں، بلکہ ایک بوڑھے جوڑے اور ایک دبی ہوئی ہنسی پر رکھی گئی۔ یہ عاجز کرنے والی اور تسلی دینے والی بات ایک ساتھ تھی۔
مرکزی کردار
سارہ کو پچیس سال سے ایک وعدہ سنایا جا رہا تھا جو پورا نہیں ہوا۔ اُس نے خود ہاجرہ کے ذریعے اُسے پورا کرنے کی کوشش کی تھی اور اُس کا نتیجہ تلخی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ اب وہ اپنے آپ کو ”گھسے پھٹے لباس کی مانند“ کہتی ہے؛ یہ ایک ایسی عورت کی بےرحم ایمان داری ہے جو اپنے جسم کے بارے میں خوش فہمی میں نہیں رہتی۔ اُس کی ہنسی میں طنز سے زیادہ تھکن ہے۔ اور جب پکڑی جاتی ہے تو وہ ڈر کر مکر جاتی ہے، جیسا ہم سب کرتے ہیں۔ یہاں خدا کا کردار سب سے حیران کن ہے: وہ جھوٹ کو قبول نہیں کرتے، ”نہیں، تُو ضرور ہنس رہی تھی“، مگر وہ سزا بھی نہیں دیتے۔ وہ سچ پر اصرار کرتے ہیں تاکہ فضل کسی خیالی عورت کو نہیں بلکہ اصل سارہ کو ملے۔
سیاق و سباق
یہ واقعہ ممرے کے بلوط کے درختوں کے پاس پیش آتا ہے، دوپہر کی شدید گرمی میں، جب کوئی سفر نہیں کرتا۔ ابراہیم تقریباً ننانوے برس کا ہے، سارہ نواسی کی۔ مہمان نوازی اُس ثقافت میں شائستگی نہیں بلکہ مقدّس فرض تھی، اِسی لیے ابراہیم دوڑتا ہے، سولہ کلو میدہ گُندھواتا ہے اور بہترین بچھڑا ذبح کرتا ہے: یہ ایک شاہی دعوت ہے، معمولی کھانا نہیں۔ خیمے کی ساخت بھی اہم ہے؛ مرد باہر سائے میں بیٹھے ہیں، عورت پردے کے پیچھے، سنتی ہوئی مگر مخاطب نہیں۔ اور پھر مہمان اُس کا نام لیتے ہیں، ”تیری بیوی سارہ کہاں ہے؟“ وعدہ اُس کے کانوں تک پہنچانے کے لیے ہی کہا گیا۔ خدا اُسے گفتگو سے باہر نہیں رہنے دیتے۔
غور و فکر
آپ نے کون سی بات خدا سے کبھی زبان پر نہیں لائی کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ وہ اب ممکن ہی نہیں؟
سارہ نے ڈر کر انکار کیا؛ آپ اپنی بےاعتقادی کو عموماً کس طرح چھپاتے ہیں، خاموشی سے، مصروفیت سے، یا مذہبی الفاظ سے؟
Genesis 18:12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 18:12 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 18:12 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 18:12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 18:12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 18:12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Genesis 18 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں