یرمیاہ 29
متن
دو سرکاری قاصد، اِلعاسہ بن سافن اور جمریاہ بن خِلقیاہ، صِدقیاہ کا خراج لے کر بابل جا رہے ہیں، اور اُن کے سامان میں ایک اَور چیز بھی ہے: یرمیاہ کا خط۔ خط میں جلاوطنوں سے کہا گیا ہے کہ بابل میں گھر بناؤ، باغ لگاؤ، شادیاں کرو، اور اُس شہر کی سلامتی کے لیے دعا کرو جہاں تمہیں زبردستی لایا گیا ہے۔ جلد واپسی کی پیش گوئیاں جھوٹ ہیں؛ ستّر سال گزریں گے، پھر خدا اپنا پُرفضل وعدہ پورا کرے گا۔ خط کے آخر میں اُن جھوٹے نبیوں کے نام اور اُن کا انجام درج ہے۔
مرکزی بات
۵۹۷ ق م میں جو لوگ بابل لے جائے گئے، وہ محض قیدی نہیں تھے: فہرست دیکھیں، ”یہویاکین بادشاہ، اُس کی ماں اور درباری… کاری گر اور لوہار“۔ نبوکدنضر نے ملک سے ہتھیار بنانے والے ہاتھ اور حکومت چلانے والے دماغ نکال لیے۔ یہ لوگ فرات کی نہروں کے کنارے بسائے گئے، مٹی کی اینٹوں کے شہر میں، جہاں ہوا میں کھجور اور گارے کی بُو تھی اور کانوں میں مردوک کے جلوس کے ڈھول۔ اُن کا پورا ایمان اِس اُمید پر ٹکا تھا کہ یہ سب عارضی ہے، ہیکل ابھی قائم ہے، خدا جلد مداخلت کرے گا۔ اور خدا کا جواب آیا: مکان بناؤ۔ یعنی خدا اپنی قوم کو شکست کے اندر زندہ رہنا سکھا رہے ہیں، بغیر یہ کہے کہ شکست کوئی غلطی تھی۔
بڑی کہانی سے تعلق
اسرائیل کی تاریخ میں جلاوطنی صرف ایک سزا نہیں، ایک سانچہ بن جاتی ہے۔ خدا کی قوم اُس سرزمین سے باہر رہ کر بھی خدا کی قوم رہ سکتی ہے، ہیکل کے بغیر، بادشاہ کے بغیر، طاقت کے بغیر۔ یہی سانچہ آگے چل کر مسیح کی کلیسیا کا سانچہ بنتا ہے: ایک ایسی جماعت جو اپنے لیے سلطنت نہیں مانگتی بلکہ اُس شہر کی سلامتی کی دعا کرتی ہے جو اُسے پسند نہیں کرتا۔ اور ستّر سال کا وعدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نجات خدا کے وقت پر آتی ہے، انسان کی بےصبری پر نہیں۔ مسیح خود اُس ”دُور کے ملک“ میں آئے جہاں ہم تھے، اور واپسی کی راہ اُس وعدے سے کھلی جو صلیب پر پورا ہوا، نہ کسی سیاسی معجزے سے۔
آئینہ
آیت ۱۱ ہمارے ہاں تحفوں کے فریم پر لکھی جاتی ہے، مگر یہ اُن لوگوں کو لکھی گئی تھی جنہیں کہا گیا تھا: تم یہاں بوڑھے ہو گے۔ یہ آیت آپ کے حالات بدلنے کا وعدہ نہیں، بلکہ اُس خدا کی وفاداری کا اعلان ہے جس کے منصوبے آپ کی مدتِ زندگی سے بڑے ہیں۔ سوال یہ ہے: جس نوکری، جس شہر، جس رشتے، جس بیماری میں آپ ”عارضی طور پر“ رہ رہے ہیں، کیا آپ نے وہاں باغ لگانا شروع کیا ہے؟ یا آپ سامان بندھا رکھ کر سالوں سے انتظار میں بیٹھے ہیں؟ جلاوطنوں کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ بابل سے نفرت کیے بغیر بابل کا حصہ نہ بنیں۔ آج ہی ایک کاغذ پر اُس جگہ کا نام لکھیں جہاں آپ اپنی مرضی کے خلاف رہ رہے ہیں، اور بلند آواز سے ایک جملے کی دعا کریں کہ خدا اُس جگہ کو سلامتی دیں۔
سوال
ستّر سال کا مطلب یہ تھا کہ خط پڑھنے والوں میں سے تقریباً کوئی بھی واپسی نہ دیکھے گا۔ ”تمہیں اُمید دلا کر ایک اچھا مستقبل فراہم کریں گے“ اُن لوگوں سے کہا گیا جن کی قبریں بابل کی مٹی میں بننی تھیں۔ کیا یہ تسلی ہے یا ظلم؟ متن اِس کا آسان جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ خدا کا اچھا ارادہ نسلوں کے پیمانے پر کام کرتا ہے، اور ایمان کا مطلب کبھی یہ ہوتا ہے کہ آپ وہ پھل لگائیں جو آپ کے پوتے کھائیں گے۔ یہ مان لینا پڑتا ہے: خدا کا ”اچھا مستقبل“ ہمیشہ میرے مستقبل جیسا نہیں ہوتا۔
ایک تفصیل
آیت ۷ اور آیت ۱۱ میں ایک ہی لفظ ہے: عبرانی شالوم، اردو میں ”سلامتی“۔ ”اُس شہر کی سلامتی کے طالب رہو“ اور ”تمہاری سلامتی کا باعث ہوں گے“۔ یہ اتفاق نہیں۔ خدا اپنی قوم کو جو سلامتی دینے والے ہیں، وہ اُس سلامتی سے الگ نہیں جس کی وہ بابل کے لیے دعا کرتے ہیں۔ متن خود یہ کہہ دیتا ہے: ”تمہاری سلامتی اُسی کی سلامتی پر منحصر ہے۔“ یعنی جس نظام نے تمہیں توڑا، اُس کی خیر مانگنا اب تمہاری روحانی ذمہ داری ہے۔ یہ اُس زمانے میں ناقابلِ تصور بات تھی؛ دشمن کے لیے دعا مذہبی وفاداری کی توہین لگتی تھی۔
دیگر کلام سے تعلق
دانی ایل ۹ میں ہم ایک ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو کئی دہائیوں بعد یرمیاہ کا یہی ستّر سال کا فرمان پڑھ رہا ہے اور اُس پر دعا میں جھک جاتا ہے: خط واقعی محفوظ رہا، پڑھا گیا، اور اُمید بن گیا۔ اور نئے عہد میں پطرس اپنی پہلی پتری بکھرے ہوئے مسیحیوں کو ”پردیسی“ کہہ کر لکھتا ہے اور اُنہیں یہی سکھاتا ہے: غیر قوموں کے درمیان اچھی زندگی گزارو۔ دونوں جگہ وہی منطق ہے: خدا کی قوم اقلیت میں رہ کر بھی برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا وہ کون سا حصہ ہے جس میں آپ ”عارضی“ سمجھ کر جڑ نہیں پکڑ رہے، اور خدا وہاں آپ سے کیا بنوانا چاہتے ہیں؟
جس جگہ یا اُس گروہ کی سلامتی مانگنا آپ کو سب سے مشکل لگتا ہے، وہ کون ہے، اور آپ اُس کے لیے دعا سے کیوں کتراتے ہیں؟
Jeremiah 29 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 29 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 29 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 29 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 29 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 29 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Jeremiah 29 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
