بائبل کی تشریح

یرمیاہ 6

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یرمیاہ شمال سے آنے والی فوج کا نرسنگا سنتا ہے اور یروشلم کے باشندوں کو بھاگنے کا اشارہ دیتا ہے؛ صیون بیٹی، جو "من موہن اور نازک" ہے، محاصرے میں گھِر جائے گی اور دشمن اُسے چراگاہ کی طرح چر ڈالیں گے۔ خدا اپنی قوم پر الزام لگاتے ہیں کہ ظلم اُس کے اندر سے تازہ پانی کی طرح اُبلتا ہے، کہ نبی اور امام دونوں جھوٹے ہیں، اور کہ اُنہوں نے "قدیم راہوں" پر چلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ باب کا اختتام ایک بھٹی کی تصویر پر ہوتا ہے: آگ خوب دہکتی ہے، مگر چاندی خالص نہیں نکلتی۔

مرکزی بات

آیت ۱۴ اِس پورے باب کی چابی ہے: "وہ میری قوم کے زخم پر عارضی مرہم پٹی لگا کر کہتے ہیں، ’اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے، اب سلامتی کا دور آ گیا ہے‘ حالانکہ سلامتی ہے ہی نہیں۔" یہاں خدا کا سب سے سخت الزام بت پرستی نہیں بلکہ جھوٹی تسلی ہے۔ مذہبی قیادت نے قوم کو یہ باور کرا دیا ہے کہ سب خیر ہے۔ خدا اِس تسلی کو جھوٹ کہتے ہیں، اور اُن کی قربانیوں کو رد کرتے ہیں: "تمہاری بھسم ہونے والی قربانیاں مجھے پسند نہیں۔" یہی وہ آواز ہے جو یسعیاہ اور عاموس میں بھی گونجتی ہے: عبادت کا ڈھانچہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ عہد کا دل مر چکا ہو۔ خدا رسم کے نہیں، رشتے کے طالب ہیں۔

سنہری دھاگا

آیت ۱۶ میں ایک وعدہ چھپا ہے جو صدیوں بعد دوبارہ سنائی دیتا ہے: "قدیم راہوں کی تفتیش کر کے پتا کرو کہ اُن میں سے کون سی اچھی ہے، پھر اُس پر چلو۔ تب تمہاری جان کو سکون ملے گا۔" یرمیاہ کے سامعین نے جواب دیا: "نہیں، ہم یہ راہ اختیار نہیں کریں گے!" متی کی انجیل میں خداوند یسوع بالکل یہی پیشکش دوبارہ اٹھاتے ہیں جب وہ تھکے ہوؤں کو اپنا جوا اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اُن کی جانوں کو آرام ملے۔ یعنی مسیح خود کو اُس پرانی، آزمودہ راہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جسے یرمیاہ کی نسل نے ٹھکرا دیا تھا۔ جو سکون قوم نے شریعت کو رد کر کے کھو دیا، وہ مسیح میں دوبارہ کھلتا ہے۔

آئینہ

سوچیے کہ آپ کی زندگی میں "عارضی مرہم پٹی" کہاں لگی ہوئی ہے۔ وہ شادی جس میں برسوں سے کوئی سچی بات نہیں ہوئی، مگر اتوار کو ساتھ چرچ جانے سے سب ٹھیک لگتا ہے۔ وہ حساب کتاب جس میں "غلط نفع" کی ایک لکیر ہے جسے آپ نے معمول مان لیا ہے۔ وہ عادت جس کے بارے میں آپ نے خود سے کہہ رکھا ہے کہ قابو میں ہے۔ یرمیاہ کا الزام اُن لوگوں پر نہیں جو زخمی ہیں، بلکہ اُن پر جو زخم کو زخم ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ خدا فرماتے ہیں: "اے یروشلم، میری تربیت کو قبول کر۔" تربیت تکلیف دیتی ہے، مگر جھوٹی سلامتی سے کہیں کم۔

مرکزی کردار

اِس باب کا اصل کردار وہ خدا ہیں جو تھک چکے ہیں۔ آیت ۱۱ میں نبی کہتا ہے: "مَیں اُسے برداشت کرتے کرتے اِتنا تھک گیا ہوں کہ اُسے مزید نہیں روک سکتا۔" یہ غصہ اچانک نہیں پھٹا؛ یہ برسوں کی روکی ہوئی صبر کا آخری قطرہ ہے۔ اور یہی خدا آیت ۹ میں انگور چننے والے کی طرح شاخوں پر ہاتھ دوبارہ پھیرتے ہیں، گویا اب بھی کوئی دانہ باقی ہو۔ یہاں کوئی سرد منصف نہیں بلکہ ایک زخم خوردہ رشتہ دار ہے، جس کے سامنے قوم کے زخم "لگاتار" رہتے ہیں۔ اُس کا غضب اُس کی محبت کے اُلٹ نہیں، اُسی محبت کی جلن ہے۔

پس منظر

یہ نبوّت غالباً یہویقیم کے دور کی ہے، بابل کے عروج کے سالوں میں، جب اسور کا زوال ہو چکا تھا اور شمال سے آنے والا خطرہ اب افواہ نہیں بلکہ فوجی حقیقت تھا۔ تقوع اور بیت کرم یروشلم کے جنوب میں تھے: نرسنگا اُس سمت پھونکا جا رہا ہے جدھر لوگ بھاگ سکتے ہیں۔ یروشلم کے باشندے یہ یقین رکھتے تھے کہ ہیکل شہر کی ضمانت ہے، خدا اپنے گھر کو گرنے نہیں دیں گے۔ اِسی سیاسی و مذہبی اعتماد کو یرمیاہ توڑتا ہے۔ اُس کا پیغام غداری لگتا تھا، اور اُسی لیے وہ کہتا ہے: "رب کا کلام اُنہیں مضحکہ خیز لگتا ہے۔"

ایک باریک نکتہ

آیت ۱۰ کا فقرہ "اُن کے کان نامختون ہیں" حیران کر دیتا ہے۔ ختنہ عہد کی نشانی تھی، جسم پر کندہ وابستگی۔ یرمیاہ اُسے کان پر منتقل کرتا ہے: عہد کی اصل علامت سننے کی صلاحیت ہے۔ جسم پر نشان ہے، مگر کان بند ہیں؛ باہر سے قوم خدا کی ہے، اندر سے بہری۔ صدیوں بعد ستفنس یہودی عدالت کے سامنے بالکل یہی الزام دہراتا ہے، اور اُسے پتھراؤ کر کے مار ڈالا جاتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یرمیاہ کا مسئلہ کسی ایک نسل کا مسئلہ نہیں تھا۔ سننا ایک اخلاقی عمل ہے، کوئی جسمانی حادثہ نہیں۔ ہم وہی سنتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں، اور یہی فیصلہ ہماری قسمت بن جاتا ہے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی زندگی میں وہ کون سی "قدیم راہ" ہے جسے آپ جانتے تو ہیں مگر برسوں سے اُس پر چلنے سے کتراتے رہے ہیں، اور اُس انکار کی اصل قیمت کیا رہی؟

کیا آپ کسی کے زخم پر "عارضی مرہم پٹی" لگا رہے ہیں، یعنی اُسے وہ تسلی دے رہے ہیں جو آسان ہے مگر سچی نہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 6 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ شمال سے آنے والی فوج کا نرسنگا سنتا ہے اور یروشلم کے باشندوں کو بھاگنے کا اشارہ دیتا ہے؛ صیون بیٹی، جو "من موہن اور نازک" ہے، محاصرے میں گھِر جائے گی اور دشمن اُسے چراگاہ کی طرح چر ڈالیں گے۔ خدا اپنی قوم پر الزام لگاتے ہیں کہ ظلم اُس کے اندر سے تازہ پانی کی طرح اُبلتا ہے، کہ نبی اور امام دونوں جھوٹے ہیں، اور کہ اُنہوں نے "قدیم راہوں" پر چلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ باب کا اختتام ایک بھٹی کی تصویر پر ہوتا ہے: آگ خوب دہکتی ہے، مگر چاندی خالص نہیں نکلتی۔
یرمیاہ 6 کس بارے میں ہے؟
آیت ۱۶ میں ایک وعدہ چھپا ہے جو صدیوں بعد دوبارہ سنائی دیتا ہے: "قدیم راہوں کی تفتیش کر کے پتا کرو کہ اُن میں سے کون سی اچھی ہے، پھر اُس پر چلو۔ تب تمہاری جان کو سکون ملے گا۔" یرمیاہ کے سامعین نے جواب دیا: "نہیں، ہم یہ راہ اختیار نہیں کریں گے!" متی کی انجیل میں خداوند یسوع بالکل یہی پیشکش دوبارہ اٹھاتے ہیں جب وہ تھکے ہوؤں کو اپنا جوا اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اُن کی جانوں کو آرام ملے۔ یعنی مسیح خود کو اُس پرانی، آزمودہ راہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جسے یرمیاہ کی نسل نے ٹھکرا دیا تھا۔ جو سکون قوم نے شریعت کو رد کر کے کھو دیا، وہ مسیح میں دوبارہ کھلتا ہے۔
یرمیاہ 6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِس باب کا اصل کردار وہ خدا ہیں جو تھک چکے ہیں۔ آیت ۱۱ میں نبی کہتا ہے: "مَیں اُسے برداشت کرتے کرتے اِتنا تھک گیا ہوں کہ اُسے مزید نہیں روک سکتا۔" یہ غصہ اچانک نہیں پھٹا؛ یہ برسوں کی روکی ہوئی صبر کا آخری قطرہ ہے۔ اور یہی خدا آیت ۹ میں انگور چننے والے کی طرح شاخوں پر ہاتھ دوبارہ پھیرتے ہیں، گویا اب بھی کوئی دانہ باقی ہو۔ یہاں کوئی سرد منصف نہیں بلکہ ایک زخم خوردہ رشتہ دار ہے، جس کے سامنے قوم کے زخم "لگاتار" رہتے ہیں۔ اُس کا غضب اُس کی محبت کے اُلٹ نہیں، اُسی محبت کی جلن ہے۔
یرمیاہ 6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت ۱۰ کا فقرہ "اُن کے کان نامختون ہیں" حیران کر دیتا ہے۔ ختنہ عہد کی نشانی تھی، جسم پر کندہ وابستگی۔ یرمیاہ اُسے کان پر منتقل کرتا ہے: عہد کی اصل علامت سننے کی صلاحیت ہے۔ جسم پر نشان ہے، مگر کان بند ہیں؛ باہر سے قوم خدا کی ہے، اندر سے بہری۔ صدیوں بعد ستفنس یہودی عدالت کے سامنے بالکل یہی الزام دہراتا ہے، اور اُسے پتھراؤ کر کے مار ڈالا جاتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یرمیاہ کا مسئلہ کسی ایک نسل کا مسئلہ نہیں تھا۔ سننا ایک اخلاقی عمل ہے، کوئی جسمانی حادثہ نہیں۔ ہم وہی سنتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں، اور یہی فیصلہ ہماری قسمت بن جاتا ہے۔
یرمیاہ 6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کیا آپ کسی کے زخم پر "عارضی مرہم پٹی" لگا رہے ہیں، یعنی اُسے وہ تسلی دے رہے ہیں جو آسان ہے مگر سچی نہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Jeremiah 6 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 6

درختوں کو کاٹ ڈالو اور یروشلم کے خلاف مٹی کے ڈھیر لگاؤ۔ یہ شہر ظلم سے بھرا ہوا ہے۔“ وجہ قربانیوں کی کمی نہیں تھی، بلکہ وہ ظلم جو گلیوں میں معمول بن گیا تھا۔ خدا اُس شہر کو نہیں بچاتا جو اپنے کمزوروں کو کچلتا ہے، چاہے وہاں ہیکل ہی ہو۔ ذرا سوچ، تیرے گھر اور محلے میں کون دبا ہوا ہے، اور تُو خاموش ہے؟

دعا ادارتی کو آیت 15

اے خدا، مجھے ایسا دل نہ دے جو غلط کام کرتے ہوئے شرمانا بھول جائے۔ جہاں میرا ضمیر سُن ہو چکا ہے، وہاں اسے دوبارہ نرم کر دے۔ مجھے یہ دیکھنے کی توفیق دے کہ میں کہاں تجھ سے دور ہٹ گیا ہوں، اور واپس لوٹنے کی ہمت بھی عطا کر۔

بصیرت ادارتی کو آیت 2

مَیں خوبصورت اور نازک صیون بیٹی کو تباہ کروں گا۔“ غور کر کہ خدا عدالت کے لمحے میں بھی اُسے کن ناموں سے پکارتا ہے: بیٹی، خوبصورت، نازک۔ محبت مری نہیں، مگر نازک ہونا حفاظت کی ضمانت نہیں بنتا۔ کیا تُو بھی یہ سوچ کر بےفکر ہے کہ تیری خوبیاں تجھے سنبھال لیں گی؟ خدا تجھے پیار سے پکارتا ہے اور اِسی پیار میں سچائی بھی بولتا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 20

سبا سے بخور منگوانا مہنگا تھا، دُوردراز ملک کا مسالا اَور بھی مہنگا۔ مگر خدا فرماتا ہے، "تمہاری بھسم ہونے والی قربانیاں مجھے پسند نہیں۔" وجہ اِس سے پہلی آیت میں ہے: اُنہوں نے اُس کی بات سننے سے انکار کیا تھا۔ سوچ، کہیں تُو بھی خدا کو وہ کچھ تو نہیں دے رہا جو دینا تجھے آسان لگتا ہے، اور وہی روک رہا ہے جو وہ مانگتا ہے، یعنی تیرا سننے والا دل؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟