بائبل کی تشریح

یرمیاہ 15

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

خداوند یرمیاہ سے فرماتا ہے کہ اب یہوداہ کے لئے شفاعت بھی کارگر نہیں رہی، حتیٰ کہ موسیٰ اور سموایل بھی درمیان میں آئیں تو اُن کی سنی نہیں جائے گی۔ قوم پر تلوار، بھوک، قید اور موت کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔ اِس سنگین پیغام کے بیچ میں نبی خود ٹوٹ جاتا ہے، اپنی ماں کو کوستا ہے کہ اُس نے اُسے کیوں جنم دیا، اور خداوند سے شکایت کرتا ہے کہ تُو میرے لئے ”فریب دہ چشمہ“ بن گیا ہے۔ خداوند اُسے ڈانٹتا بھی ہے اور بحال بھی کرتا ہے، ”اگر تُو میرے پاس واپس آئے تو مَیں تجھے واپس آنے دوں گا“۔

مرکز

یہ باب اُس مقام کی بات کرتا ہے جہاں خدا کا صبر ختم ہو جاتا ہے۔ ”مَیں ہم دردی دکھاتے دکھاتے تنگ آ گیا ہوں“ ایک ایسا جملہ ہے جو ہماری ہلکی پھلکی دین داری کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ہم نے خدا کو ایسا سوچنا سیکھ لیا ہے جو بےانتہا برداشت کرتا رہے گا، جس کے سامنے ہمارے انتخاب کا آخر میں کوئی وزن نہیں۔ یرمیاہ 15 اِس کے برعکس بولتا ہے: انسانی انتخاب کا وزن ہے، بہت وزن ہے۔ منسّی کے گناہ نسلوں بعد بھی اثر رکھتے ہیں۔ اخلاقی زندگی کوئی نجی معاملہ نہیں، اُس کے نتائج تاریخ میں بہتے ہیں۔ یہاں فضل اور انصاف ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی سکہ ہیں، اور دونوں سنجیدہ ہیں۔

سلسلہ

جب خداوند کہتا ہے کہ موسیٰ اور سموایل بھی شفاعت کریں تو بھی سنی نہ جائے گی، تو ایک خالی جگہ رہ جاتی ہے، ایک ایسے شفیع کی طلب جو صرف الفاظ سے نہیں، اپنے وجود سے درمیان کھڑا ہو۔ یہ خالی جگہ صلیب پر بھری جاتی ہے۔ یرمیاہ خود ایک عکس ہے: تنہا، مسترد، لوگوں کی لعنت کا نشانہ، حالانکہ اُس نے ”نہ اُدھار دیا نہ لیا“۔ یہ بےگناہ دُکھ اُٹھانے والا نبی مسیح کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت 19 کا اصول، ”اگر تُو میرے پاس واپس آئے تو مَیں تجھے واپس آنے دوں گا“، وہی توبہ اور بحالی کا راستہ ہے جسے یسوع نے کھول کر ہر ایک کے لئے قابلِ رسائی بنا دیا۔

آئینہ

”مَیں ہم دردی دکھاتے دکھاتے تنگ آ گیا ہوں۔“ یہ آیت اُن رشتوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے جہاں ہم خود کو ہمیشہ معافی کے مستحق سمجھتے ہیں، بغیر تبدیلی کے۔ شوہر جو بار بار سخت زبان استعمال کرتا ہے اور سوچتا ہے بیوی برداشت کرتی رہے گی۔ ملازم جو چھوٹی چھوٹی بےایمانیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کمپنی کو فرق نہیں پڑے گا۔ والد جو بچوں کے لئے وقت نہیں نکالتا اور یقین رکھتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی قریب رہیں گے۔ ہر انسانی صبر کی ایک حد ہے، اور خدا کے صبر کی بھی۔ منسّی نے یہ سبق سیکھا۔ دوسری طرف، آیت 16 میں یرمیاہ کہتا ہے، ”جب بھی تیرا کلام مجھ پر نازل ہوا تو مَیں نے اُسے ہضم کیا۔“ کیا ہم کلام کو صرف پڑھتے ہیں، یا ہضم کرتے ہیں، یعنی وہ ہمارے فیصلوں کا گوشت اور خون بنتا ہے؟

سوال

آیت 18 چونکا دینے والی ہے۔ نبی خدا سے کہتا ہے، ”تُو میرے لئے فریب دہ چشمہ بن گیا ہے۔“ یعنی وہ ندی جو گرمیوں میں سوکھ جاتی ہے، جب پیاسے کو سب سے زیادہ ضرورت ہو۔ کیا خدا کو ایسا کہنا جائز ہے؟ اور خدا اُس پر بجلی نہیں گراتا۔ وہ اُسے سرزنش کرتا ہے، ”اگر تُو فضول باتیں نہ کرے“، لیکن ساتھ ہی بحال بھی کرتا ہے۔ یہاں ایک راز ہے: خدا کے سامنے دیانت داری سے شکایت کرنا خدا سے دُور جانا نہیں ہے۔ لیکن یہ شکایت شکایت کے لئے نہیں، لوٹنے کے لئے ہے۔ یرمیاہ کا درد ختم نہیں ہوتا، خدا اُس کا سیدھا جواب نہیں دیتا۔ کبھی کبھی وفاداری کا انعام آسانی نہیں، بلکہ ایک ”پیتل کی مضبوط دیوار“ بن جانا ہے۔

پروفائل

پہلے سننے والے یہوداہ کے وہ لوگ تھے جو یروشلم کے مندر پر بھروسا کر کے سمجھتے تھے کہ خدا ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔ وہ ابراہیم کی اولاد تھے، داؤد کے شہر کے باشندے۔ اُن کے لئے یہ سوچنا کہ موسیٰ اور سموایل، اُن کے قومی ہیرو، اُن کی شفاعت میں ناکام ہو سکتے ہیں، ایک زلزلہ تھا۔ منسّی کا نام سن کر اُن کے کان کھڑے ہو گئے ہوں گے، وہ بادشاہ جس نے مندر میں بت رکھے اور بچوں کو قربان کیا۔ اُن کو یہ پیغام دیا گیا کہ مذہبی وراثت اخلاقی ذمہ داری کی جگہ نہیں لے سکتی۔ خاندانی نام، کلیسیائی رکنیت، بپتسمہ کی سند، یہ سب اپنی جگہ ہیں، لیکن اِ

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 15 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 15 کا کیا مطلب ہے؟
خداوند یرمیاہ سے فرماتا ہے کہ اب یہوداہ کے لئے شفاعت بھی کارگر نہیں رہی، حتیٰ کہ موسیٰ اور سموایل بھی درمیان میں آئیں تو اُن کی سنی نہیں جائے گی۔ قوم پر تلوار، بھوک، قید اور موت کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔ اِس سنگین پیغام کے بیچ میں نبی خود ٹوٹ جاتا ہے، اپنی ماں کو کوستا ہے کہ اُس نے اُسے کیوں جنم دیا، اور خداوند سے شکایت کرتا ہے کہ تُو میرے لئے ”فریب دہ چشمہ“ بن گیا ہے۔ خداوند اُسے ڈانٹتا بھی ہے اور بحال بھی کرتا ہے، ”اگر تُو میرے پاس واپس آئے تو مَیں تجھے واپس آنے دوں گا“۔
یرمیاہ 15 کس بارے میں ہے؟
یہ باب اُس مقام کی بات کرتا ہے جہاں خدا کا صبر ختم ہو جاتا ہے۔ ”مَیں ہم دردی دکھاتے دکھاتے تنگ آ گیا ہوں“ ایک ایسا جملہ ہے جو ہماری ہلکی پھلکی دین داری کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ہم نے خدا کو ایسا سوچنا سیکھ لیا ہے جو بےانتہا برداشت کرتا رہے گا، جس کے سامنے ہمارے انتخاب کا آخر میں کوئی وزن نہیں۔ یرمیاہ 15 اِس کے برعکس بولتا ہے: انسانی انتخاب کا وزن ہے، بہت وزن ہے۔ منسّی کے گناہ نسلوں بعد بھی اثر رکھتے ہیں۔ اخلاقی زندگی کوئی نجی معاملہ نہیں، اُس کے نتائج تاریخ میں بہتے ہیں۔ یہاں فضل اور انصاف ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی سکہ ہیں، اور دونوں سنجیدہ ہیں۔
یرمیاہ 15 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
جب خداوند کہتا ہے کہ موسیٰ اور سموایل بھی شفاعت کریں تو بھی سنی نہ جائے گی، تو ایک خالی جگہ رہ جاتی ہے، ایک ایسے شفیع کی طلب جو صرف الفاظ سے نہیں، اپنے وجود سے درمیان کھڑا ہو۔ یہ خالی جگہ صلیب پر بھری جاتی ہے۔ یرمیاہ خود ایک عکس ہے: تنہا، مسترد، لوگوں کی لعنت کا نشانہ، حالانکہ اُس نے ”نہ اُدھار دیا نہ لیا“۔ یہ بےگناہ دُکھ اُٹھانے والا نبی مسیح کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت 19 کا اصول، ”اگر تُو میرے پاس واپس آئے تو مَیں تجھے واپس آنے دوں گا“، وہی توبہ اور بحالی کا راستہ ہے جسے یسوع نے کھول کر ہر ایک کے لئے قابلِ رسائی بنا دیا۔
یرمیاہ 15 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
”مَیں ہم دردی دکھاتے دکھاتے تنگ آ گیا ہوں۔“ یہ آیت اُن رشتوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے جہاں ہم خود کو ہمیشہ معافی کے مستحق سمجھتے ہیں، بغیر تبدیلی کے۔ شوہر جو بار بار سخت زبان استعمال کرتا ہے اور سوچتا ہے بیوی برداشت کرتی رہے گی۔ ملازم جو چھوٹی چھوٹی بےایمانیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کمپنی کو فرق نہیں پڑے گا۔ والد جو بچوں کے لئے وقت نہیں نکالتا اور یقین رکھتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی قریب رہیں گے۔ ہر انسانی صبر کی ایک حد ہے، اور خدا کے صبر کی بھی۔ منسّی نے یہ سبق سیکھا۔ دوسری طرف، آیت 16 میں یرمیاہ کہتا ہے، ”جب بھی تیرا کلام مجھ پر نازل ہوا تو مَیں نے اُسے ہضم کیا۔“ کیا ہم کلام کو صرف پڑھتے ہیں، یا ہضم کرتے ہیں، یعنی وہ ہمارے فیصلوں کا گوشت اور خون بنتا ہے؟
یرمیاہ 15 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آیت 18 چونکا دینے والی ہے۔ نبی خدا سے کہتا ہے، ”تُو میرے لئے فریب دہ چشمہ بن گیا ہے۔“ یعنی وہ ندی جو گرمیوں میں سوکھ جاتی ہے، جب پیاسے کو سب سے زیادہ ضرورت ہو۔ کیا خدا کو ایسا کہنا جائز ہے؟ اور خدا اُس پر بجلی نہیں گراتا۔ وہ اُسے سرزنش کرتا ہے، ”اگر تُو فضول باتیں نہ کرے“، لیکن ساتھ ہی بحال بھی کرتا ہے۔ یہاں ایک راز ہے: خدا کے سامنے دیانت داری سے شکایت کرنا خدا سے دُور جانا نہیں ہے۔ لیکن یہ شکایت شکایت کے لئے نہیں، لوٹنے کے لئے ہے۔ یرمیاہ کا درد ختم نہیں ہوتا، خدا اُس کا سیدھا جواب نہیں دیتا۔ کبھی کبھی وفاداری کا انعام آسانی نہیں، بلکہ ایک ”پیتل کی مضبوط دیوار“ بن جانا ہے۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Jeremiah 15 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 15

یرمیاہ کی یہ دعا کتنی ایماندار ہے۔ وہ خدا سے چھپاتا نہیں کہ اُس کا دل زخمی ہے۔ "اَے خُداوند تُو جانتا ہے مُجھے یاد کر اور میری خبر لے اور میرے ستانے والوں سے میرا انتقام لے۔"

کیا آپ نے کبھی خدا کے لیے کام کرتے ہوئے تکلیف اُٹھائی ہے؟ یرمیاہ سکھاتا ہے کہ اپنی شکایت خدا کے سامنے رکھ دو۔ وہ آپ کے آنسو گنتا ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟