نوحہ 2
متن
یہ باب ایک ہی ناقابلِ برداشت بات کے گرد گھومتا ہے: یروشلم کو دشمن نے نہیں، خداوند نے گرایا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ رب نے اپنی کمان تانی، اپنا دہنا ہاتھ روک لیا، فصیل کو فیتے سے ناپ ناپ کر ڈھایا، اور اپنی ہی سکونت گاہ کو ”باغ کی جھونپڑی کی طرح“ گرا دیا۔ عیدیں خاموش ہیں، شریعت نہیں رہی، نبیوں کو رویا نہیں ملتی، اور شہر کے چوکوں میں شیرخوار بچے ماں کی گود میں دم توڑ رہے ہیں۔ آخر میں شاعر ماتم کو دعا میں بدل دیتا ہے: اپنے دل کی ہر بات پانی کی طرح رب کے حضور اُنڈیل دے۔
اصل بات
اِس باب کا سب سے تیز جملہ یہ ہے: ”رب نے اسرائیل کا دشمن سا بن کر ملک کو … تباہ کر دیا ہے۔“ یہ محض شکایت نہیں، الٰہیات ہے۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ خدا کمزور تھا یا بابل زیادہ طاقتور۔ وہ کہتا ہے کہ خدا نے وہی کیا جو وہ ”بڑی دیر سے فرماتا آیا ہے“ (آیت 17)۔ عہد کی برکتیں اور عہد کی سزائیں ایک ہی زبان سے آئی تھیں؛ استثنا 28 میں یہ سب پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا کا غضب اُس کی وفاداری کا حصہ ہے، نہ کہ اُس کے مزاج کا اچانک بگاڑ۔ اور یہی سب سے تکلیف دہ تسلی ہے: جو ہاتھ مارتا ہے، وہ اجنبی ہاتھ نہیں۔
نجات کی کہانی کا سلسلہ
عبرانی میں یہ باب اُسی لفظ سے شروع ہوتا ہے جس سے پوری کتاب: ”ایکاہ“، یعنی ”ہائے“، ”یہ کیسے ہوا؟“ یہ ایک مرثیے کی چیخ ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خدا نے اِس چیخ کو اپنے کلام میں جگہ دی۔ صدیوں بعد ایک اور آواز اِسی شہر پر یوں روئی: ”اے یروشلم، اے یروشلم“ (لوقا 13:34)۔ مسیح نے اِس ماتم کو دہرایا، مگر اِس فرق کے ساتھ کہ اب رونے والا اور غضب سہنے والا ایک ہی شخص تھا۔ آیت 4 میں تیر صیون پر چلایا گیا؛ صلیب پر وہی تیر بےگناہ بیٹے پر لگا۔ اِس لیے نوحہ 2 مسیحی کے لیے متروک باب نہیں، بلکہ وہ جگہ ہے جہاں سے صلیب کی سنجیدگی سمجھ میں آتی ہے۔
آئینہ
آیت 14 آپ کی طرف اُنگلی اُٹھاتی ہے: نبیوں نے ”تیرا قصور تجھ پر ظاہر نہ کیا، حالانکہ اُنہیں کرنا چاہئے تھا تاکہ تُو اِس سزا سے بچ جاتی۔“ جھوٹ صرف یہ نہیں تھا کہ اُنہوں نے غلط پیش گوئی کی؛ جھوٹ یہ تھا کہ اُنہوں نے تسلی دی جہاں تنبیہ کی ضرورت تھی۔ ہم یہی کرتے ہیں۔ ہم اپنی بےترتیب مالی عادت کو ”مشکل دور“ کہتے ہیں، اپنی بدمزاجی کو ”تھکن“، اپنے ازدواجی سردمہری کو ”مصروفیت“۔ ہم اپنے آپ کو نرم نبی رکھتے ہیں جو ہمیں کبھی شرمندہ نہ کریں، اور ایسے دوستوں سے دور بھاگتے ہیں جو سچ بولیں۔ اور جب سب گر جاتا ہے، ہم حیران ہوتے ہیں۔
آج ہی ایک کام کریں: اپنی زندگی کا وہ ایک شعبہ لکھیں جس کے بارے میں آپ خود کو تسلی دیتے آئے ہیں، اور اُس کے نیچے صرف یہ جملہ لکھیں: ”اے خدا، مجھے یہاں سچ دکھا۔“ پھر وہ کاغذ کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں آپ اُسے کل بھی دیکھیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکزی کردار خدا ہے، مگر ایسی صورت میں جس سے ہم گھبراتے ہیں: کمان تانے ہوئے، آگ کے شعلے کی طرح، اپنی ہی قربان گاہ کو مسترد کرتے ہوئے۔ پھر بھی غور کریں کہ شاعر اُسے ”رب“ ہی کہتا رہتا ہے۔ وہ خدا کو نہ چھوڑتا ہے، نہ اُس کی صفائی پیش کرتا ہے۔ آیت 6 میں وہ کہتا ہے کہ رب نے ”اپنی سکونت گاہ“ گرائی، یعنی خدا نے اپنے ہی گھر کا نقصان اُٹھایا۔ یہ اُس خدا کی تصویر ہے جو اپنی پاکیزگی کے لیے اپنی سہولت قربان کر دیتا ہے۔ اُس کا قہر بےقابو غصہ نہیں؛ وہ ناپا ہوا ہے، فیتے سے ناپا ہوا (آیت 8)۔ اور یہی سب سے ہولناک ہے۔
مشکل سوال
آیت 20 وہ سوال پوچھتی ہے جسے ہم دبا دیتے ہیں: ”کیا یہ عورتیں اپنے پیٹ کا پھل، اپنے لاڈلے بچوں کو کھائیں؟“ گناہ بادشاہوں اور نبیوں کا تھا، مگر مرنے والے شیرخوار بچے تھے۔ یہ انصاف ہمیں انصاف نہیں لگتا، اور بائبل یہاں کوئی وضاحت پیش نہیں کرتی۔ شاعر اِسے حل نہیں کرتا؛ وہ اِسے خدا کے سامنے رکھ دیتا ہے: ”اے رب، دھیان سے دیکھ کہ تُو نے کس سے ایسا سلوک کیا ہے۔“ یہ ہمت والی دعا ہے، تقریباً گستاخ۔ اور یہی اِس باب کا سبق ہے: جب سمجھ نہ آئے، سوال خدا سے چھپانے کے بجائے اُس کے حضور اُنڈیل دیں۔ نوحہ 2 کا اختتام جواب پر نہیں، پکار پر ہوتا ہے۔
پہلے سننے والے
586 قبلِ مسیح کے بعد یہ الفاظ اُن لوگوں نے سنے جو ملبے کے درمیان رہ گئے تھے۔ اُن کے لیے آیت 9 کوئی شاعری نہیں تھی: ”اب نہ شریعت رہی، نہ صیون کے نبیوں کو رب کی رویا ملتی ہے۔“ ہیکل تھی، اُس میں قربانی تھی، اِس یقین کے ساتھ کہ خدا یہاں رہتا ہے۔ اب سب ختم۔ اور آیت 22 کا استعارہ اُن کے لیے کاٹ دار تھا: جیسے عید پر ہجوم شہر میں آتا ہے، ویسے دشمن آیا۔ جو دن خوشی کے تھے، وہی تصویر اب قتل کی تصویر بن گئی۔ اِن لوگوں نے سیکھا کہ خدا کو مذہبی نظام میں قید نہیں کیا جا سکتا، اور ماتم بھی عبادت ہو سکتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا سچ ہے جسے آپ کے قریبی لوگ آپ سے کہنے سے ڈرتے ہیں، اور آپ نے یہ خوف کیسے پیدا کیا؟
جب آپ کو تکلیف پہنچتی ہے، آپ خدا سے شکایت کرتے ہیں یا اُس کے بارے میں شکایت کرتے ہیں؟ اِن دونوں میں فرق آپ کی دعا میں کہاں نظر آتا ہے؟
Lamentations 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نوحہ 2 کا کیا مطلب ہے؟
نوحہ 2 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نوحہ 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوحہ 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Lamentations 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یروشلم کی دیواریں گرتے وقت ماتم کرنے والے کو ایک بات سمجھ آئی: ”جو کچھ اُس نے فرمایا تھا اُسے اُس نے پورا کیا، وہ کچھ جس کا حکم اُس نے قدیم زمانے میں دیا تھا۔“ صدیوں سے خدا خبردار کر رہا تھا، اور لوگ سمجھتے رہے کہ یہ محض باتیں ہیں۔ سوچ، کیا خدا کی کوئی بات تُو بھی سالوں سے شور سمجھ کر نظرانداز کر رہا ہے؟ مگر یاد رکھ، جو اپنی تنبیہ پوری کرتا ہے وہ اپنے رحم کے وعدے بھی ضرور پورے کرے گا۔
اے خُدا، جب اندھیرا بادل کی طرح ہم پر چھا جاتا ہے اور جو کچھ ہمارے لیے قیمتی تھا زمین پر گِرا پڑا ہے، تو ہم سمجھ نہیں پاتے۔ پھر بھی ہم تجھے ہی پکارتے ہیں۔ ہمیں مت بھول، اپنے غم زدہ لوگوں کی طرف نظر کر اور ہمیں تھام لے۔
اے خدا، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے تُو ہمارے خلاف ہو گیا ہے، اور غم پر غم بڑھتا جاتا ہے۔ میں سمجھ نہیں پاتا، پھر بھی تیرے سوا کہیں اور نہیں جا سکتا۔ اس ٹوٹے دل کو تھام لے، اور اندھیرے میں بھی مجھے اپنی محبت کا یقین دلا۔
یروشلم کے دشمن اُس کی راکھ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں، ”ہم نے اُسے ہڑپ کر لیا ہے۔ لو، یہ وہی دن ہے جس کے انتظار میں ہم رہے۔“ کتنا کڑوا ہے کہ کوئی برسوں سے تیری تباہی کا دن گِنتا رہا ہو۔ لیکن غور کر: شہر اُن کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا۔ جو تجھ پر ہنستے ہیں، وہ تیری کہانی کے مالک نہیں۔ تیرا معاملہ اُس کے ساتھ ہے جو توڑتا بھی ہے اور بحال بھی کرتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
