موضوع

یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

تعارف

قبرستان کی ایک تازہ قبر کے کنارے کھڑے ہو کر جب کوئی ماں مٹی کی مٹھی اپنے بیٹے کے تابوت پر ڈالتی ہے، تو اُس لمحے میں دین کا سب سے بڑا سوال کسی کتاب سے نہیں، بلکہ اُس کے آنسوؤں سے نکلتا ہے: کیا یہ آخری بار ہے؟ کیا یہ جدائی مستقل ہے؟ اِسی طرح ایک بےروزگار باپ، ایک بیمار بہن، ایک ایسا شہر جہاں ناانصافی جیت رہی ہو، سب ایک ہی سوال کے مختلف روپ ہیں: کیا کوئی آنے والا ہے جو یہ سب ٹھیک کرے گا؟

بائبل اِس سوال کا جواب ایک نظریے سے نہیں دیتی۔ وہ ایک وعدہ دیتی ہے، اور وہ وعدہ ایک شخص کی صورت میں ہے۔ اِس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ خداوند یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کا اصل مطلب کیا ہے، پرانے عہدنامے سے مکاشفہ تک یہ اُمید کیسے بُنی ہوئی ہے، کن باتوں پر لوگ اکثر ٹھوکر کھاتے ہیں، اور یہ سچائی آج پیر کی صبح، دفتر، گھر اور ہسپتال کے کمرے میں آپ کو کیسے بدل دیتی ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

اِس رہنما میں ہم دوبارہ آمد کو تقویم کے سوال کے طور پر نہیں، بلکہ ملاقات کے وعدے کے طور پر پڑھیں گے۔ دنیا میں بےشمار تحریریں تاریخوں، نقشوں اور خفیہ حسابوں پر لکھی گئی ہیں؛ ہم اُس راستے پر نہیں چلیں گے۔ بائبل کا زور کبھی "کب" پر نہیں، ہمیشہ "کون" پر ہے۔

وہ دن ایک تاریخ نہیں، ایک شخص ہے۔

اور دوسری بات: مسیح کی واپسی دنیا سے فرار نہیں، دنیا کی بحالی ہے۔ وہ اپنی مخلوق کو کوڑے دان میں نہیں پھینکتے، وہ اُسے پاک کر کے نئی کرتے ہیں۔ اِن دو باتوں کو ساتھ رکھیں تو خوف اُمید میں، اور بےچینی وفاداری میں بدل جاتی ہے۔

بائبل یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

بائبل کی گواہی سیدھی ہے: جو یسوع مسیح جسم میں پیدا ہوئے، مصلوب ہوئے، جی اُٹھے اور آسمان پر اُٹھائے گئے، وہی شخص جسم میں، دکھائی دینے والے طور پر، جلال کے ساتھ واپس آئیں گے۔ یہ کوئی حاشیے کا عقیدہ نہیں؛ نئے عہدنامے میں تقریباً ہر خط اِس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اِس وعدے کی سب سے صاف بنیاد خود خداوند کے الفاظ ہیں۔ زیتون کے پہاڑ پر شاگردوں کے سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا: "اُس وقت اِبنِ آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور زمین کے سب قبیلے چھاتی پیٹیں گے اور اِبنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے" (متی 24:30)۔ غور کریں کہ یہ آمد چھپی ہوئی نہیں۔ پہلی آمد بیت لحم کی ایک چرنی میں، خاموشی اور غربت میں ہوئی؛ دوسری آمد آسمان کے بادلوں پر، قدرت اور جلال کے ساتھ ہو گی۔ جسے دنیا نے صلیب پر ٹھکرایا، اُسے دنیا بادشاہ کے طور پر دیکھے گی۔

مگر اُسی گفتگو میں یسوع نے وہ بات بھی کہی جو ہر تاریخ گننے والے کے لیے تالا ہے: "لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ" (متی 24:36)۔ یہ آیت ہمیں عجز سکھاتی ہے۔ اگر ابنِ آدم نے اپنی زمینی خدمت میں یہ علم اپنے پاس نہ رکھا، تو کون سا مبلغ، کون سا حساب، کون سا خواب اِس پردے کو اُٹھا سکتا ہے؟ نامعلوم وقت ہمیں مفلوج کرنے کے لیے نہیں، جاگتا رکھنے کے لیے ہے۔

پھر بالا خانے میں، جدائی کی رات، یسوع نے اپنے غمگین شاگردوں سے فرمایا: "اور اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں تو پھر آ کر تم کو اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو" (یوحنا 14:3)۔ یہاں دوبارہ آمد کا دل کھل جاتا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ آسمان پر کوئی جگہ خالی ہو جائے؛ مقصد یہ ہے کہ "جہاں میں ہوں تم بھی ہو"۔ یہ دولہا کی زبان ہے، شمار کرنے والے منتظم کی نہیں۔

آسمان پر اُٹھائے جانے کے دن، جب شاگرد اوپر تکتے رہ گئے، دو فرشتوں نے یہ وعدہ لفظوں میں باندھ دیا: "اَے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے" (اعمال 1:11)۔ دو لفظ سنبھال لیں: "یہی یسوع" اور "اِسی طرح"۔ کوئی دوسرا نہیں آئے گا، کوئی مبہم روحانی طاقت نہیں آئے گی۔ وہی زخم خوردہ ہاتھوں والا مسیح، جسمانی طور پر، دکھائی دینے والے طور پر واپس آئیں گے۔

پولوس رسول نے یہی وعدہ اُن لوگوں کے آنسو پونچھنے کے لیے استعمال کیا جن کے پیارے وفات پا گئے تھے: "کیونکہ خداوند خود آسمان سے للکار اور مقرّب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے پھونکے جانے پر اُترے گا اور جو مسیح میں مُوئے ہیں پہلے جی اُٹھیں گے" (1 تھسلنیکیوں 4:16)۔ "خداوند خود" یہ عبارت کا وزن ہے۔ نہ کوئی نمائندہ، نہ کوئی فرشتہ، بلکہ خود دولہا اپنی دلہن کو لینے آئے گا۔

پطرس رسول اِس دن کا دوسرا پہلو دکھاتے ہیں: "لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آ جائے گا۔ اُس دن آسمان بڑے شور و غُل کے ساتھ جاتے رہیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائیں گے اور زمین اور اُس پر کی سب چیزیں جل جائیں گی" (2 پطرس 3:10)۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آمد صرف میٹھی ملاقات نہیں، پاک کرنے والی آگ بھی ہے۔ مگر پطرس اِسے مایوسی کی طرف نہیں، بلکہ اُمید کی طرف موڑتے ہیں: چند آیات بعد وہ "نئے آسمان اور نئی زمین" کا انتظار کرتے ہیں "جن میں راستبازی بسی رہے گی" (2 پطرس 3:13)۔ آگ ختم کرنے کے لیے نہیں، سونے کو صاف کرنے کے لیے ہے۔

اور بائبل کے آخری صفحے پر خداوند خود مہر لگاتے ہیں: "دیکھ! میں جلد آنے والا ہوں اور ہر ایک کے کام کے مطابق اُسے بدلہ دینے کے لیے اجر میرے پاس ہے" (مکاشفہ 22:12)۔ کلامِ مقدّس ایک اطلاع پر ختم نہیں ہوتا، ایک آنے والے شخص کے قدموں کی آواز پر ختم ہوتا ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

یہ اُمید مکاشفہ میں پیدا نہیں ہوئی؛ وہ باغِ عدن کے دروازے پر ہی جنم لے چکی تھی۔ جب انسان گر گیا، خدا نے سانپ سے فرمایا: "وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی کو کاٹے گا" (پیدایش 3:15)۔ پہلی بشارت میں ہی ایک آنے والے کا وعدہ ہے جو بُرائی کا سر کچل دے گا۔ تب سے پوری بائبل ایک انتظار کی کتاب بن جاتی ہے۔

ایوب نے اپنی راکھ پر بیٹھ کر کہا: "لیکن مجھے معلوم ہے کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے اور آخرکار زمین پر کھڑا ہو گا" (ایوب 19:25)۔ زبور نویس ایک ایسے بادشاہ کے گیت گاتے ہیں جو راستی سے قوموں کی عدالت کرے گا۔ یسعیاہ نبی ایک ایسے دن کی تصویر کھینچتے ہیں جب "وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کرے گا اور خداوند خدا سب کے چہروں پر سے آنسو پونچھ ڈالے گا" (یسعیاہ 25:8)۔ دانی ایل نبی نے رات کی رویا میں دیکھا: "مَیں نے رات کو خواب میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا" (دانی ایل 7:13)۔ یہی وہ آیت ہے جس کے الفاظ یسوع نے متی 24:30 میں اپنے اوپر لگائے۔ جب انہوں نے کہا "اِبنِ آدم کو بادلوں پر آتے دیکھیں گے"، تو یہودی سننے والے سمجھ گئے کہ وہ خود کو دانی ایل کی رویا کا وہ شخص کہہ رہے ہیں جسے ہر قوم اور زبان پر ابدی سلطنت دی گئی۔

زکریاہ نبی مزید ٹھوس ہو جاتے ہیں: "اور اُس دن اُس کے پاؤں زیتون کے پہاڑ پر جو یروشلیم کے مشرق میں ہے ٹکیں گے" (زکریاہ 14:4)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعمال 1:11 کا واقعہ بھی زیتون کے پہاڑ پر پیش آیا۔ جہاں سے وہ اُٹھائے گئے، وہیں لوٹنے کا وعدہ ہے۔ ملاکی نبی کے آخری صفحوں پر یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ "صداقت کا آفتاب" طلوع ہو گا اور شفا اُس کے پروں میں ہو گی۔ پرانا عہدنامہ ایک کھلے دروازے پر ختم ہوتا ہے۔

پھر نیا عہدنامہ آتا ہے اور ہمیں ایک حیرت انگیز بات بتاتا ہے: انبیا کا وہ ایک "آنے والا دن" دراصل دو آمدوں میں بٹا ہوا ہے۔ عبرانیوں کا مصنف اِسے یوں کہتا ہے: "مسیح بھی بہتوں کے گناہ اُٹھا لینے کے لیے ایک بار قربان ہوا اور دوسری بار گناہ سے علیٰحدہ ہو کر اُن کو نجات دینے کے لیے دکھائی دے گا جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں" (عبرانیوں 9:28)۔ پہلی آمد میں وہ گناہ اُٹھانے آئے؛ دوسری آمد میں وہ نجات مکمل کرنے آئیں گے۔ صلیب پر انہوں نے وہ قیمت ادا کر دی جس کی بنیاد پر واپسی کا دن اُن کے لوگوں کے لیے عدالت کا نہیں، گلے ملنے کا دن ہو گا۔

اور کہانی کا اختتام کسی خلا میں نہیں، ایک نئے شہر میں ہوتا ہے: "دیکھ! خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے۔ وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا" اور "دیکھ! میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں" (مکاشفہ 21:3 اور مکاشفہ 21:5)۔ پیدایش میں خدا انسان کے ساتھ باغ میں چلتے تھے؛ مکاشفہ میں خدا انسان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بستے ہیں۔ اِسی لیے ہم کہتے ہیں کہ دوبارہ آمد فرار نہیں، بحالی ہے۔ کلام ہمیں مخلوق سے اُکھاڑ کر نہیں لے جاتا، مخلوق کو نئی کر کے ہمیں اُس میں بٹھاتا ہے۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی: "اگر ہم نشانیوں کو ٹھیک سے پڑھیں تو تاریخ نکال سکتے ہیں۔" ہر نسل میں کوئی نہ کوئی گراف اور حساب لے کر اُٹھتا ہے، اور ہر بار وہ تاریخ گزر جاتی ہے۔ متی 24:36 اِس دروازے کو بند کرتا ہے: "اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔" یسوع نے یہ الفاظ نشانیوں کی فہرست کے فوراً بعد کہے، یعنی نشانیاں ہمیں تیار رہنے کے لیے دی گئی ہیں، حساب لگانے کے لیے نہیں۔ اِسی لیے پطرس کہتے ہیں کہ وہ دن "چور کی طرح" آئے گا (2 پطرس 3:10)۔ چور اطلاع دے کر نہیں آتا۔ جس نے تاریخ مقرر کر لی، وہ باقی دنوں میں سو جائے گا؛ جس نے خداوند کی مرضی پر بھروسا رکھا، وہ ہر دن جاگتا رہے گا۔

دوسری غلط فہمی: "دوبارہ آمد پہلے ہی روحانی طور پر ہو چکی ہے، یا کسی خاص گروہ کو خفیہ طور پر ہو گی۔" بائبل اِس کے برعکس کہتی ہے۔ متی 24:30 کے مطابق "زمین کے سب قبیلے" اُسے دیکھیں گے۔ 1 تھسلنیکیوں 4:16 میں للکار، فرشتے کی آواز اور نرسنگے کا شور ہے؛ یہ خفیہ کارروائی کی زبان نہیں، شاہی جلوس کی زبان ہے۔ اور اعمال 1:11 کے فرشتے کہتے ہیں "اِسی طرح پھر آئے گا"، یعنی جیسے شاگردوں نے اپنی آنکھوں سے اُنہیں جاتے دیکھا۔ اِسی لیے یسوع نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی کہے کہ مسیح فلاں کوٹھری میں یا فلاں بیابان میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ جو آمد اشتہار کی محتاج ہو، وہ اُس کی آمد نہیں۔

تیسری غلط فہمی: "چونکہ سب کچھ جل جائے گا، اِس دنیا میں محنت کرنا فضول ہے۔" یہ غلط فہمی 2 پطرس 3:10 کو آدھا پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ پطرس آگ کی بات کرتے ہیں، مگر اُس کے بعد نئے آسمان اور نئی زمین کی، "جن میں راستبازی بسی رہے گی" (2 پطرس 3:13)۔ اور اِسی سے وہ ایک عملی نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہم پاک چال چلن اور دینداری میں محنت کریں۔ پولوس بھی 1 کرنتھیوں 15:58 میں قیامت کے پورے باب کے بعد کہتے ہیں کہ خداوند میں تمہاری محنت بےفائدہ نہیں۔ ماں کا اپنے بچے کو کھلانا، مزدور کی ایمانداری، کسی بیمار کے سرہانے کی راتیں، یہ سب اُس آنے والی بادشاہی کی طرف اشارے ہیں، ضائع ہونے والا وقت نہیں۔

چوتھی غلط فہمی: "دوبارہ آمد کا موضوع خوف کا موضوع ہے، جس سے دور رہنا بہتر ہے۔" یہ بات اُن کے لیے سچ ہے جو مسیح سے باہر ہیں، اور کلام اِس پر پردہ نہیں ڈالتا: مکاشفہ 22:12 کہتی ہے کہ ہر ایک کو اُس کے کام کے مطابق بدلہ ملے گا۔ مگر ایمان دار کے لیے یہ آیت وحشت نہیں، مزدوری کی خوشی ہے، کیونکہ جس نے اُس کا گناہ اُٹھا لیا ہے وہی اُس کا انصاف کرنے والا ہے۔ پولوس اِس دن کو "وہ مبارک اُمید" کہتے ہیں (ططس 2:13)، اور یوحنا لکھتے ہیں کہ ہر ایک جو یہ اُمید رکھتا ہے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے (1 یوحنا 3:3)۔ فرق واضح ہے: اجنبی کے لیے دستک ڈراؤنی ہے، بچے کے لیے باپ کے قدموں کی آواز ہے۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

اگر وہ دن ایک تقویم نہیں بلکہ ایک ملاقات ہے، تو اِس سچائی کا اثر عام دنوں پر پڑنا چاہیے، نہ صرف کانفرنسوں پر۔

سوچیں، آپ کسی دفتر یا دکان میں کام کرتے ہیں جہاں بےایمانی معمول ہے اور دیانت دار آدمی پیچھے رہ جاتا ہے۔ مکاشفہ 22:12 آپ کے کان میں کہتی ہے کہ "ہر ایک کے کام کے مطابق" اجر آنے والا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا وہ خاموش انکار، جو کسی نے نہیں دیکھا، ضائع نہیں ہوا۔ آپ کو ہر ناانصافی کا حساب اپنے ہاتھ سے چکانے کی ضرورت نہیں؛ ایک عادل بادشاہ راستے میں ہے۔ یہ سوچ آپ کو کڑواہٹ سے آزاد کرتی ہے۔

سوچیں، آپ کے گھر میں ایک قبر کا زخم ہے۔ آپ کی ماں، آپ کا بچہ، آپ کا شریکِ حیات مسیح میں سو گیا۔ 1 تھسلنیکیوں 4:16 آپ کے لیے لکھی گئی تھی: "خداوند خود آسمان سے . . . اُترے گا اور جو مسیح میں مُوئے ہیں پہلے جی اُٹھیں گے۔" پولوس اِس کے بعد کہتے ہیں کہ اِن باتوں سے ایک دوسرے کو تسلی دو۔ اِس لیے یہ آیت صرف پڑھنے کے لیے نہیں، ماتم کے کمرے میں بلند آواز سے کہنے کے لیے ہے۔ آپ کا غم حقیقی ہے، مگر آپ کی جدائی عارضی ہے۔

سوچیں، آپ کی زندگی وقت اور پیسے کی دوڑ میں پھنسی ہوئی ہے: قرض، مکان، ترقی، دکھاوا۔ متی 24:36 آپ کو ایک صحت مند غیر یقینی دیتا ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ کتنے دن باقی ہیں، اِس لیے آج کے دن کو خدا کی امانت کی طرح جینا سیکھیں۔ ایک شام کم کام اور زیادہ حاضری، ایک مہینے کا کچھ حصہ کسی ضرورت مند کے لیے، ایک فون کال اُس رشتے کو جوڑنے کے لیے جو برسوں سے ٹوٹا ہے۔

اور یوحنا 14:3 آپ کی تنہائی کے لیے ہے۔ کچھ لوگ ہر شام خالی کمرے میں لوٹتے ہیں۔ خداوند نے یہ نہیں کہا کہ "تم آخر میں کہیں پہنچ جاؤ گے"، بلکہ فرمایا "پھر آ کر تم کو اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو"۔ آپ کا انتظار خلا میں نہیں ہے؛ کوئی آپ کے لیے جگہ تیار کر رہا ہے، اور وہی خود آپ کو لینے آئے گا۔

تیاری کا مطلب حساب نہیں، وفاداری ہے۔

آئینہ

میں آپ سے ایک سیدھا سوال پوچھنا چاہتا ہوں: اگر خداوند یسوع آج رات آئیں، تو آپ کے دل کا پہلا احساس خوشی ہو گا یا گھبراہٹ؟ جواب جلدی نہ دیں۔ اِس سوال کا جواب یہ بتاتا ہے کہ آپ اُنہیں کیا سمجھتے ہیں: منصف اور محسن، یا محض ایک نگران جو غلطیاں گنتا ہے۔

آپ کے موبائل کی اسکرین، وہ خرچ جو آپ چھپاتے ہیں، وہ باتیں جو آپ اپنی بیوی یا شوہر سے نہیں کہتے، وہ ملازم جس کے ساتھ آپ نے انصاف نہیں کیا، وہ رشتہ جس میں آپ نے معافی روک لی ہے۔ دوبارہ آمد کی سچائی اِن سب پر روشنی ڈالتی ہے، مگر شرمندہ کرنے کے لیے نہیں، آزاد کرنے کے لیے۔ جو مالک آ رہا ہے، وہی مالک ہے جس نے آپ کے قرض کی قیمت اپنے خون سے ادا کی۔ اِس لیے اُس کی آمد سے پہلے کی زندگی چھپانے میں نہیں، سامنے آنے میں گزرنی چاہیے۔

اور دوسری طرف: کیا آپ تھک چکے ہیں؟ برسوں کی بیماری، اولاد کی ناشکری، وہ دعا جس کا جواب نہیں آیا، وہ جسم جو ہر سال کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے لیے یہ آیت دوا ہے: "دیکھ! میں جلد آنے والا ہوں" (مکاشفہ 22:12)۔ آپ کی وفاداری بےگواہ نہیں ہے۔ جو رات کو رو کر سوتا ہے، اُس کے آنسو ایک دن اُس ہاتھ سے پونچھے جائیں گے جس میں کیلوں کے نشان ہیں۔

اِس لیے آج فیصلہ کریں کہ آپ اِس اُمید کے ساتھ کیا کریں گے۔ کوئی حساب نہ لگائیں۔ کوئی تاریخ نہ ڈھونڈیں۔ ایک کام کریں: آج کسی ایک شخص سے معافی مانگیں، کسی ایک شخص کو معاف کریں، اور کسی ایک شخص کو یسوع کے بارے میں بتائیں۔ یہی جاگتے رہنے کی سب سے سیدھی شکل ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو دوبارہ آمد سمجھانے میں اکثر ہم دو غلطیاں کرتے ہیں: یا تو ڈراؤنی تصویریں دکھا دیتے ہیں، یا موضوع کو مکمل طور پر ٹال دیتے ہیں۔ بائبل کا لہجہ اِن دونوں سے مختلف ہے، اور بچوں کو یہی لہجہ چاہیے۔

ایک آسان راستہ یہ ہے کہ آپ اِسے انتظار کی خوشی کے ساتھ جوڑیں، جو ہر بچہ جانتا ہے۔ جب ابو سفر پر جاتے ہیں تو بچے کھڑکی سے دیکھتے رہتے ہیں کہ کب گاڑی کی روشنی گلی میں مڑے گی۔ یسوع نے بھی جانے سے پہلے یہی کہا تھا: "پھر آ کر تم کو اپنے ساتھ لے لوں گا" (یوحنا 14:3)۔ اِس لیے مسیحی گھرانا وہ گھر ہے جس کی روشنی جلتی رہتی ہے، کیونکہ کوئی آنے والا ہے۔ بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ وہ آ کر ہر ٹوٹی چیز ٹھیک کر دیں گے: بیماری، لڑائی، آنسو، موت۔ اور یہ کہ ہمیں تاریخ نہیں معلوم، مگر ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ سچے ہیں۔

جو سوال بچے پوچھتے ہیں، اُن سے نہ ڈریں۔ "کیا مجھے ڈر لگنا چاہیے؟" کا جواب یہی ہے کہ جو یسوع کا ہے، اُس کے لیے وہ دن گھر واپسی کا دن ہے۔

فیتھ نیٹ ورک پر اِس موضوع کی عمر کے مطابق وضاحتیں بھی دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال) بہت سادہ تصویری زبان میں، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) بائبلی آیات اور سوالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر) اُن شکوں اور سوالوں کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چنیں اور اُسے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یسوع کی دوبارہ آمد کا اصل مطلب کیا ہے؟

اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہی یسوع مسیح جو مصلوب ہوئے، جی اُٹھے اور آسمان پر اُٹھائے گئے، ایک دن جسم میں، دکھائی دینے والے طور پر اور جلال کے ساتھ زمین پر واپس آئیں گے تاکہ عدالت کریں، اپنے لوگوں کو اپنے پاس لے لیں اور سب چیزوں کو نیا بنائیں۔ اعمال 1:11 اِسے سب سے صاف کہتا ہے: "یہی یسوع . . . اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔" یہ کوئی علامتی خیال یا اندرونی تجربہ نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک آنے والا حقیقی واقعہ ہے۔

کیا بائبل دوبارہ آمد کی تاریخ بتاتی ہے؟

نہیں، اور یہ خود خداوند کا فیصلہ ہے۔ متی 24:36 میں انہوں نے فرمایا کہ اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ فرشتے نہ بیٹا، مگر صرف باپ۔ جو لوگ اعداد و شمار، نبوتی نقشوں یا خوابوں کی بنیاد پر تاریخیں بتاتے ہیں، وہ اُس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں جو یسوع نے اپنے لیے بھی نہیں کیا۔ بائبل ہمیں تاریخ کے بجائے تیاری دیتی ہے: جاگتے رہو، وفادار رہو، اور اپنے آقا کا کام کرتے ہوئے پائے جاؤ۔

اُٹھائے جانے اور دوبارہ آمد میں کیا فرق ہے؟

"اُٹھائے جانے" کی اصطلاح 1 تھسلنیکیوں 4:16 اور 4:17 سے آتی ہے، جہاں لکھا ہے کہ خداوند آسمان سے اُترے گا، مسیح میں مرے ہوئے پہلے جی اُٹھیں گے اور زندہ ایمان دار بادلوں پر خداوند سے ملنے کے لیے اُٹھائے جائیں گے۔ مسیحی روایات میں اِس بات پر اختلاف ہے کہ آیا یہ آمد کے ساتھ ایک ہی واقعہ ہے یا اُس سے پہلے کا ایک الگ مرحلہ۔ بنیاد یہ ہے کہ دونوں تعبیریں ایک ہی مرکزی سچائی پر متفق ہیں: خداوند خود آئیں گے اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ لے لیں گے۔ اِسی مرکز پر اپنی اُمید ٹکائیں۔

کیا مسیح کی واپسی جسمانی اور نظر آنے والی ہو گی؟

جی ہاں، اور کلام اِس پر بار بار زور دیتا ہے۔ متی 24:30 کہتی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اُسے بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں پر آتے دیکھیں گے، اور 1 تھسلنیکیوں 4:16 میں للکار، فرشتے کی آواز اور نرسنگے کا ذکر ہے۔ فرشتوں نے اعمال 1:11 میں "اِسی طرح" کہا، یعنی جس طرح شاگردوں نے اُنہیں اپنی آنکھوں سے جاتے دیکھا تھا۔ اِس لیے کوئی خفیہ، پوشیدہ یا صرف روحانی آمد بائبلی تعلیم نہیں ہے۔

آخری زمانے کی نشانیاں کیا ہیں؟

متی 24 میں یسوع نے جھوٹے مسیحوں، لڑائیوں، قحطوں، بھونچالوں، ایمان داروں کی ایذارسانی، بےدینی کے بڑھ جانے اور محبت کے ٹھنڈا ہو جانے کا ذکر کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہ بادشاہی کی خوشخبری تمام دنیا میں سنائی جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اِن باتوں کو "درد کا شروع" کہا، یعنی یہ الارم کی گھنٹی ہیں، ٹائم ٹیبل نہیں۔ ہر نسل نے اِن نشانیوں کو کسی نہ کسی صورت میں دیکھا ہے، اور ہر نسل کو اِنہی کی وجہ سے جاگتے اور خدمت کرتے رہنا ہے۔

کیا اِس دنیا کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا؟

2 پطرس 3:10 آسمان کے جاتے رہنے اور زمین کے جل جانے کی بات کرتی ہے، مگر یہ عبارت وہاں نہیں رُکتی۔ چند آیات بعد پطرس لکھتے ہیں کہ ہم "نئے آسمان اور نئی زمین" کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی، اور مکاشفہ 21:5 میں خداوند فرماتے ہیں کہ وہ سب چیزوں کو نیا بنا دیتے ہیں۔ اِس لیے مسیحی اُمید مخلوق کے مٹ جانے کی نہیں، اُس کے پاک ہو کر بحال ہو جانے کی ہے۔ آگ فنا کے لیے نہیں، صفائی کے لیے ہے۔

جو ایمان دار پہلے وفات پا چکے ہیں، اُن کا کیا ہو گا؟

پولوس اِسی سوال کا جواب دینے کے لیے 1 تھسلنیکیوں 4:16 لکھتے ہیں: خداوند خود اُترے گا "اور جو مسیح میں مُوئے ہیں پہلے جی اُٹھیں گے"۔ یعنی آپ کے وہ پیارے جو ایمان میں سو گئے، پیچھے نہیں رہ جائیں گے؛ وہ سب سے پہلے نئے جسموں کے ساتھ جی اُٹھیں گے۔ 1 کرنتھیوں 15 میں پولوس اِس تبدیلی کو "پلک مارتے ہی" ہونے والا کام کہتے ہیں۔ اِسی لیے مسیحی جنازہ ایک عجیب چیز ہے: وہاں آنسو بھی ہوتے ہیں اور گیت بھی۔

کیا ایمان دار کو عدالت کے دن سے ڈرنا چاہیے؟

مکاشفہ 22:12 کہتی ہے کہ خداوند ہر ایک کو اُس کے کام کے مطابق بدلہ دینے کے لیے آ رہے ہیں، اور یہ بات ہلکی نہیں۔ مگر جس شخص نے مسیح پر بھروسا رکھا ہے، اُس کا گناہ صلیب پر پہلے ہی نمٹا دیا گیا ہے، اِس لیے اُس کے لیے وہ دن سزا کا نہیں بلکہ اجر اور ملاقات کا دن ہے۔ پولوس اِسے "وہ مبارک اُمید" کہتے ہیں (ططس 2:13)۔ خوف کی جگہ ادب اور شکرگزاری لینی چاہیے، اور یہ ادب ہمیں پاک زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

ہزار سالہ بادشاہی کا کیا مطلب ہے؟

مکاشفہ 20 میں مسیح کے ساتھ ایک ہزار سال کی بادشاہی کا ذکر ہے، اور مسیحی روایت میں اِس کی تین بڑی تعبیرات موجود ہیں: کچھ اِسے مسیح کی واپسی کے بعد زمین پر ایک حقیقی دور سمجھتے ہیں، کچھ اِسے کلیسیا کے موجودہ زمانے کی علامتی تصویر مانتے ہیں، اور کچھ اِسے انجیل کی فتح کے دور سے جوڑتے ہیں۔ اِس معاملے میں دیانت داری یہی ہے کہ ہم عجز سے بات کریں اور اِس فرق کو ایمان کی بنیاد نہ بنائیں۔ جو بات سب مانتے ہیں وہ یہ ہے: مسیح آئیں گے، بُرائی کا خاتمہ ہو گا، اور وہ ہمیشہ بادشاہی کریں گے۔

مسیح مخالف یا دجّال کون ہے؟

2 تھسلنیکیوں 2 میں پولوس ایک "بےدین شخص" کا ذکر کرتے ہیں جو خدائی کا دعویٰ کرے گا اور جسے خداوند اپنی آمد سے ہلاک کر دیں گے، اور 1 یوحنا 2:18 بتاتی ہے کہ ایسی مخالف روحیں پہلے بھی کئی صورتوں میں موجود رہی ہیں۔ بائبل ہمیں کسی نام یا چہرے کی نشاندہی نہیں کرتی، اِس لیے سیاسی شخصیات پر لیبل لگانے کا کھیل کلام کے دائرے سے باہر ہے۔ اصل ہدایت یہ ہے کہ ہم سچی تعلیم میں قائم رہیں، تاکہ فریب ہمیں آسانی سے نہ بہا لے جائے۔

اتنے صدیوں کی دیر کیوں؟ کیا وعدہ ٹل گیا ہے؟

پطرس رسول اِس اعتراض سے واقف تھے اور اُن کا جواب دو حصوں میں ہے۔ پہلا، خدا کے پاس وقت کا پیمانہ ہمارا نہیں: اُس کے نزدیک ایک دن ہزار برس کی مانند ہے۔ دوسرا، اور یہ زیادہ اہم ہے، اُس کی صبر و تحمل کی ایک وجہ ہے: وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو، بلکہ یہ کہ سب کو توبہ کی مہلت ملے (2 پطرس 3:9)۔ اِس لیے یہ تاخیر بےپروائی نہیں، رحم ہے۔ جو دن آپ کو دیر لگتی ہے، وہ کسی کے لیے موقع ہے، شاید آپ ہی کے لیے۔

میں آج عملی طور پر کیسے تیار رہوں؟

تیاری کا مطلب پہاڑوں پر جانا یا سامان جمع کرنا نہیں۔ متی 24:45 اور 24:46 میں یسوع نے تیار خادم کی تصویر یہ دی کہ مالک آ کر اُسے اپنا کام کرتے ہوئے پائے۔ اِس لیے تیاری کی شکل بہت عام ہے: توبہ اور معافی میں تازہ رہنا، کلام اور دعا میں جڑا رہنا، اپنی کلیسیا کے ساتھ چلنا، اپنے کام اور رشتوں میں دیانت داری، اور اُن لوگوں سے مسیح کی بات کرنا جو ابھی اُسے نہیں جانتے۔ 1 یوحنا 3:3 کہتی ہے کہ جو یہ اُمید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔

اختتام میں

اگر آپ اِس صفحے سے صرف ایک بات لے جا سکیں، تو یہ لے جائیں: مسیح کی دوبارہ آمد ایک تاریخ کا معمّہ نہیں، ایک شخص کا وعدہ ہے۔ متی 24:36 ہمیں تقویم سے ہاتھ اُٹھانا سکھاتی ہے، اور یوحنا 14:3 ہمیں بتاتی ہے کہ اِس انتظار کے دوسری طرف کوئی خالی آسمان نہیں بلکہ ایک تیار کیا ہوا گھر ہے۔ اعمال 1:11 کے فرشتے آج بھی ہمیں سیدھا کر رہے ہیں: خالی آسمان کو تکتے رہنے کے بجائے، اُس کے گواہ بن کر جینا ہے۔ 1 تھسلنیکیوں 4:16 قبروں پر روشنی ڈالتی ہے، 2 پطرس 3:10 دنیا کے جھوٹے سہاروں پر، اور مکاشفہ 22:12 ہمارے ہر گمنام وفادار قدم پر۔

انتظار کرنے والا دل بےکار نہیں بیٹھتا۔

آگے کے مطالعے کے لیے متی 24 اور 25، 1 تھسلنیکیوں 4 اور 5، اور مکاشفہ 21 اور 22 کو ٹھہر کر پڑھیں، دعا کے ساتھ، قلم ہاتھ میں لے کر۔ اور جب پڑھ چکیں تو کلام کے آخری صفحے کی دعا اپنی زبان پر لے آئیں: "آمین۔ اَے خداوند یسوع، آ" (مکاشفہ 22:20)۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.121 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.785
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 106 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

دعا ادارتی کو نحمیاہ 6:18

اے خدا، میرے ارد گرد ایسے رشتے اور وفاداریاں ہیں جو مجھے آہستہ آہستہ تجھ سے دور کھینچتی ہیں۔ مجھے…

شکرگزاری ادارتی کو نوحہ 3:25

شکر ہے کہ تُو اُن پر مہربان ہے جو تجھ پر اُمید رکھتے ہیں۔ میرا انتظار رائیگاں نہیں گیا۔ جن…

بصیرت ادارتی کو زکریاہ 5:7

سیسے کا بھاری ڈھکنا اُٹھتا ہے اور اندر چھپی ہوئی عورت نظر آتی ہے۔ جو برائی ٹوکری میں دبا دی…

بصیرت ادارتی کو ناحوم 3:12

نینوہ کے قلعے دنیا کے لیے ناقابلِ تسخیر تھے، مگر خدا اُنہیں یوں دیکھتا ہے: ”تیرے تمام قلعے پکے پھل…

دعا ادارتی کو عزرا 7:26

اے خدا، تیرا کلام کوئی ہلکی بات نہیں۔ مجھے ایسا دل دے جو تیری مرضی کو سنجیدگی سے لے، سزا…

بصیرت ادارتی کو ۲-تیمُتھیُس 4:12

تُخِکُس کو مَیں نے اِفسُس بھیج دیا ہے۔“ بس اتنا سا جملہ، اور وہ بھی اُس وقت جب پولُس قید…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟