لوقا 7
متن
کفرنحوم میں ایک رومی افسر اپنے مرتے ہوئے غلام کے لئے پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ گھر آنے کی زحمت نہ کریں، ”بس وہیں سے کہہ دیں تو میرا غلام شفا پا جائے گا“؛ نائن کے دروازے پر خداوند ایک بیوہ کے اکلوتے بیٹے کے جنازے کو روک کر اُس مُردے سے بات کرتے ہیں اور اُسے ماں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اِس کے بعد یحییٰ قید سے پوچھتے ہیں، ”کیا آپ وہی ہیں جسے آنا ہے؟“ اور باب کے آخر میں ایک بدچلن عورت ایک فریسی کے دسترخوان پر آ کر آنسوؤں اور عطر سے وہ کام کرتی ہے جو میزبان نے کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔ چار منظر، ایک ہی سوال: یہ کون ہے؟
مرکزی بات
اِس باب کا دھڑکتا دل وہ لفظ ہے جسے افسر نے سب سے پہلے پہچانا: اختیار۔ وہ فوجی زبان میں سوچتا ہے، حکم دینے اور حکم ماننے کی زبان میں، اور اُس نے جان لیا کہ عیسیٰ کا کلام بیماری پر اُسی طرح حکم چلاتا ہے جس طرح ایک افسر کا کلام اپنے ماتحت پر۔ نائن میں یہی اختیار موت کی سرحد پار کر جاتا ہے: ”اے نوجوان، مَیں تجھے کہتا ہوں کہ اُٹھ!“ اور شمعون کے گھر میں وہی کلام گناہ کے قرض کو منسوخ کر دیتا ہے، جس پر مہمان بجا طور پر چونک اُٹھتے ہیں، ”یہ کس قسم کا شخص ہے جو گناہوں کو بھی معاف کرتا ہے؟“ یہی سوال جواب ہے۔ بیماری، موت اور گناہ، انسان کی تین ناقابلِ تسخیر قیدیں، ایک ہی آواز کے تابع ہیں۔ نجات کوئی تدبیر نہیں، ایک شخص ہے جو بولتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
نائن کے دروازے پر جو ہوا، وہ اسرائیل کی یادداشت میں پہلے سے موجود تھا: ایلیاہ اور الیشع دونوں نے ایک بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو زندہ کر کے ماں کے حوالے کیا تھا۔ لوقا جان بوجھ کر وہی الفاظ دہراتا ہے، ”عیسیٰ نے اُسے اُس کی ماں کے سپرد کر دیا۔“ فرق یہ ہے کہ نبی لیٹ کر، چلّا کر، خدا سے التجا کرتے تھے؛ یہاں خداوند صرف بولتے ہیں۔ نبی خدا سے مانگتے تھے، یہ وہی ہیں جن سے مانگا جاتا ہے۔ اور یحییٰ کے سوال کا جواب اتفاقی نہیں: اندھے، لنگڑے، کوڑھی، بہرے، مُردے، غریب۔ یہ یسعیاہ کی وہ فہرست ہے جو بادشاہی کے آنے کی علامت تھی۔ عیسیٰ دلیل نہیں دیتے، وہ وعدے کو پورا ہوتا دکھاتے ہیں۔ نجات کی کہانی یہاں اپنے مرکز پر پہنچتی ہے: جس کا انتظار تھا، وہ آ چکا، اور تخت کے بجائے جنازے کے پاس کھڑا ہے۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر شمعون کے گھر میں بیٹھے ہیں، عورت کے قدموں پر نہیں۔ شمعون بُرا آدمی نہیں؛ اُس نے دعوت دی، وہ سیکھنا چاہتا ہے۔ اُس کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ اُسے اپنا قرض چھوٹا لگتا ہے۔ جب آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا ایمان سلیقہ مند ہے، آپ کا خاندان قابلِ عزت ہے، آپ کے دفتر کا رویہ بےداغ ہے، تو محبت خود بخود ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ ٹھنڈی عبادت بےایمانی کی نہیں، کم معافی کے احساس کی نشانی ہے۔ عیسیٰ شمعون سے وہ سوال کرتے ہیں جو ہمیں بھی چبھتا ہے، ”کیا تُو اِس عورت کو دیکھتا ہے؟“ آج ایک کام کیجئے: کاغذ پر اپنا وہ ایک گناہ لکھئے جسے آپ نے معمولی سمجھ کر کبھی سنجیدگی سے معاف کرائے بغیر چھوڑ دیا، اور اُسے بلند آواز میں خداوند کے سامنے نام لے کر کہہ دیجئے۔
سامعین کا خاکہ
لوقا غیریہودی قارئین کے لئے لکھ رہا ہے، ایسے لوگوں کے لئے جو مذہبی طور پر باہر کھڑے تھے۔ اُن کے لئے یہ باب حیران کن تھا: پہلا شخص جس کے ایمان کی خداوند تعریف کرتے ہیں، ایک قابض فوج کا افسر ہے، وہی فوج جس کے بوٹ گلیل کی سڑکوں پر تھے۔ یہودی بزرگ اُس کی سفارش اُس کی کارکردگی کی بنیاد پر کرتے ہیں، ”یہ آدمی اِس لائق ہے“، مگر افسر خود کہتا ہے، ”مَیں اِس لائق نہیں ہوں۔“ پہلی صدی کے سامع کے لئے یہ تضاد کان میں چبھتا تھا: لیاقت باہر سے ناپی جاتی ہے، ایمان اندر سے بولتا ہے۔ اور نائن کی بیوہ: بیٹا مر جانے کا مطلب صرف غم نہیں، کل کی روٹی کا ختم ہو جانا تھا۔ سننے والے جانتے تھے کہ اُس جنازے کے پیچھے ایک عورت کا پورا مستقبل جا رہا تھا۔
مرکزی کردار
اِس باب میں عیسیٰ کے چہرے کے دو رخ ساتھ ساتھ ہیں۔ ایک طرف وہ اختیار جو فاصلے سے حکم دیتا ہے اور موت کو خالی ہاتھ لوٹا دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ دل جو ایک اجنبی بیوہ کو دیکھ کر رُک جاتا ہے: ”اُسے دیکھ کر خداوند کو اُس پر بڑا ترس آیا۔“ کسی نے درخواست نہیں کی تھی۔ کوئی ایمان نہیں دکھایا گیا تھا۔ وہ خود آگے بڑھتے ہیں، جنازے کو چھوتے ہیں، یعنی جان بوجھ کر ناپاکی کی سرحد پار کرتے ہیں، اور ناپاکی اُن سے چمٹنے کے بجائے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس پر لوگ طعنہ کستے ہیں، ”دیکھو یہ کیسا پیٹو اور شرابی ہے۔“ خدا کی حکمت ایسی ہی دکھتی ہے: گناہ گاروں کے دسترخوان پر بیٹھی، رونے والی عورت کو اپنے پاؤں چھونے دیتی ہوئی۔
سوال
اگر یحییٰ سب سے بڑا تھا، تو وہ قید میں شک کیوں کرنے لگا؟ اور اگر عیسیٰ اختیار رکھتے تھے، تو انہوں نے اُسے چھڑایا کیوں نہیں؟ متن یہ سوال ٹالتا نہیں۔ جواب میں کوئی تسلی، کوئی رہائی، کوئی وضاحت نہیں، صرف ایک فہرست اور ایک عجیب سی مبارکباد، ”مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر کھا کر برگشتہ نہیں ہوتا۔“ گویا خداوند کہہ رہے ہوں: میں وہی ہوں، مگر میں وہ نہیں کروں گا جس کی تم نے توقع باندھی تھی۔ نائن کے جنازے کو انہوں نے روکا، یحییٰ کی پھانسی کو نہیں۔ یہ ہمیں تکلیف دیتا ہے اور دینا چاہئے۔ مسیح کا اختیار انکار سے نہیں، انتخاب سے چلتا ہے، اور اُس انتخاب کا مکمل مطلب ہمیں اب نہیں بتایا جاتا۔ ایمان اِسی خلا میں کھڑا رہنا سیکھتا ہے۔
غور و فکر
آپ کے دل میں شمعون کی وہ کون سی فہرست ہے جس کی بنیاد پر آپ خود کو ”اِس لائق“ سمجھتے ہیں، اور وہ آپ کی محبت کو کہاں ٹھنڈا کر رہی ہے؟
یحییٰ کی طرح آپ کی کون سی توقع پوری نہیں ہوئی، اور کیا آپ اُس نامکمل جواب کے ساتھ بھی مسیح کے پاس ٹھہر سکتے ہیں؟
Luke 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 7 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 7 کس بارے میں ہے؟
لوقا 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یسوع سوال کرتے ہیں، ”مَیں اِس نسل کے لوگوں کا کس سے موازنہ کروں؟“ اور جواب دُکھ بھرا ہے۔ یوحنا روزہ رکھتا آیا تو لوگوں نے کہا، بدروح گرفتہ ہے۔ یسوع کھاتے پیتے آئے تو کہا، پیٹو ہے۔ مسئلہ پیغام نہیں تھا، دل تھا۔ ذرا سوچ، کیا تُو بھی خدا سے بہانے مانگتا ہے یا اُس کی آواز؟ جو ماننا نہیں چاہتا، اُسے ہر صورت میں عیب مل جاتا ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے شمعون کو نام لے کر پکارا اور کہا، ”شمعون، مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔“ تُو میرے دل کی خاموش سوچوں کو بھی جانتا ہے اور مجھے شرمندہ کرنے کے بجائے نرمی سے مخاطب کرتا ہے۔ شکر کہ تُو آج بھی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
