لوقا 7:38
متن
ایک فریسی کے دسترخوان پر، جہاں مہمان لیٹ کر کھانا کھا رہے تھے، شہر کی ایک بدنام عورت خاموشی سے اندر آ جاتی ہے۔ وہ سامنے سے نہیں آتی بلکہ ”پیچھے سے اُس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہو گئی۔“ پھر اُس کے ضبط کا بند ٹوٹ جاتا ہے: آنسو ٹپکنے لگتے ہیں اور خداوند کے پاؤں تر کر دیتے ہیں، اور جو رومال اُس کے پاس نہیں، اُس کی جگہ وہ اپنے کھلے بال استعمال کرتی ہے۔ وہ اُن پاؤں کو چومتی ہے اور بیش قیمت عطر اُن پر اُنڈیل دیتی ہے۔ ایک لفظ نہیں بولتی۔ پورا واقعہ آنسو، بال، بوسہ اور خوشبو سے کہا گیا ہے، زبان سے نہیں۔
اصل بات
یہاں مذہب کی وہ ترتیب اُلٹ جاتی ہے جو ہمیں فطری لگتی ہے: پہلے صفائی، پھر قربت۔ یہ عورت صاف ہو کر نہیں آئی، وہ اپنی گندگی سمیت آئی اور خداوند نے اپنے پاؤں پیچھے نہیں کھینچے۔ اُس کے آنسو کوئی کفارہ نہیں، ادائیگی نہیں؛ وہ اُس معافی کا جواب ہیں جو اُسے پہلے ہی مل چکی ہے، جیسا کہ عیسیٰ بعد میں شمعون کو سمجھاتے ہیں کہ ”جسے کم معاف کیا گیا ہو وہ کم محبت رکھتا ہے۔“ محبت قرض چکانے کی کوشش نہیں، رہائی کی رسید ہے۔ اور یہی فضل کا دھماکہ خیز پہلو ہے: خدا کی قربت اُن لوگوں کو ملتی ہے جن کے پاس پیش کرنے کو کچھ نہیں سوائے ٹوٹے ہوئے دل، بہتے آنسو اور ایک ایسی چیز کے جو اُن کی حیثیت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
کہانی کا تسلسل
چند آیتیں پہلے لوگ طنز کر رہے تھے: ”دیکھو یہ کیسا پیٹو اور شرابی ہے۔ اور وہ ٹیکس لینے والوں اور گناہ گاروں کا دوست بھی ہے۔“ آیت 38 اُس طعنے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ الزام سچ نکلا، مگر جس معنی میں الزام لگانے والوں نے سوچا بھی نہ تھا۔ یہی وہ دھاگا ہے جو پوری بائبل میں چلتا ہے: خدا اپنی پاکیزگی بچانے کے لیے فاصلہ نہیں رکھتا، بلکہ ناپاکی کے پاس جا کر اُسے پاک کرتا ہے۔ اِسی باب میں وہ جنازے کو چھو چکے ہیں، جو شریعت کے مطابق ناپاک کرنے والا لمس تھا، اور مُردہ اُٹھ بیٹھا۔ اب ایک ناپاک سمجھی جانے والی عورت اُنہیں چھوتی ہے، اور ناپاکی منتقل نہیں ہوتی؛ معافی منتقل ہوتی ہے۔ اور وہ عطر جو یہاں پاؤں پر گرتا ہے، آگے چل کر ایک قبر کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں یہ جسم واقعی خوشبو سے تیار کیا جائے گا۔
آئینہ
آپ کے پاس بھی ایک ایسی بات ہے جسے آپ دسترخوان پر بیٹھے لوگوں سے چھپاتے ہیں۔ شاید وہ ماضی کا کوئی رشتہ ہے، شاید موبائل کی تاریخ، شاید وہ نفرت جو آپ کسی بھائی کے لیے دل میں پالے ہوئے ہیں، شاید پیسوں کا وہ معاملہ جو آپ نے کبھی صاف نہیں کیا۔ اور آپ نے سیکھ لیا ہے کہ عبادت کیسے کی جائے بغیر اِس بات کو چھوئے: مناسب الفاظ، مناسب لہجہ، آنسو نہیں۔ یہ عورت آپ کے اُس سلیقے کو توڑ دیتی ہے۔ وہ بولتی نہیں، مگر اپنی پوری بےعزتی کمرے کے سامنے کھول دیتی ہے، اور خداوند اُسے روکتے نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے گناہ گار ہیں، سوال یہ ہے کہ آپ کتنا کم معاف شدہ ہونا پسند کرتے ہیں، کیونکہ زیادہ معافی کی قیمت زیادہ بےنقابی ہے۔
آج ہی دروازہ بند کر کے، اکیلے، اونچی آواز میں خداوند کے سامنے وہ ایک بات نام لے کر کہہ دیں جس کا ذکر آپ اپنی جماعت میں کبھی نہ کریں گے، اور پھر خاموش بیٹھے رہیں جب تک یہ یقین دل میں نہ اُتر جائے کہ اُنہوں نے اپنے پاؤں پیچھے نہیں کھینچے۔
مرکزی کردار
اِس عورت کا نام لوقا نہیں دیتا، صرف اُس کی شہرت دیتا ہے: ”بدچلن“۔ شہر اُسے اِسی نام سے جانتا تھا اور شاید وہ خود بھی۔ اُس کے پاس دو ہی چیزیں تھیں جو اُس کے پیشے کا سرمایہ تھیں: اُس کے بال اور اُس کا عطر۔ آیت 38 میں وہ دونوں خرچ کر دیتی ہے۔ جو بال کبھی گاہک کھینچتے تھے، اُن سے وہ خداوند کے پاؤں پونچھتی ہے؛ جو خوشبو کبھی گناہ کا سامان تھی، وہ عبادت بن جاتی ہے۔ یہ محض جذباتی لمحہ نہیں، یہ ایک پورا کیریئر قدموں میں اُنڈیل دینا ہے۔ اور اُس کی جگہ غور کریں: پیچھے، پاؤں کے پاس، منہ سامنے نہیں۔ وہ اپنے آپ کو کچھ ثابت نہیں کر رہی۔ وہ صرف اُس شخص کے قریب رہنا چاہتی ہے جس نے اُسے پہلے ہی قبول کر لیا ہے۔
بین المتون
اِسی باب کا رومی افسر عجیب طور پر اِس عورت کا جڑواں ہے۔ اُس نے کہلوا بھیجا تھا، ”خداوند، میرے گھر میں آنے کی تکلیف نہ کریں، کیونکہ مَیں اِس لائق نہیں ہوں۔“ ایک غیریہودی فوجی اور ایک بدنام عورت، دونوں کے پاس کوئی مذہبی حق نہیں، اور دونوں کے بارے میں عیسیٰ ایمان کی بات کرتے ہیں۔ لائق نہ ہونے کا اعتراف ہی وہ دروازہ نکلا جس سے دونوں اندر آئے۔ دوسری طرف یوحنا کی انجیل میں بیت عنیاہ کی مریم بھی عیسیٰ کے پاؤں پر بیش قیمت عطر ڈالتی ہے، مگر وہ گھر کی عزت دار بہن ہے اور یہاں شہر کی رسوا عورت۔ فضل دونوں کو ایک ہی جگہ لے آتا ہے: قدموں کے پاس، جہاں کوئی اپنی حیثیت کا حساب نہیں دیتا۔
سیاق و سباق
منظر گلیل کے کسی شہر کا ہے، ایک فریسی شمعون کا گھر، اور کھانا یونانی رواج کے مطابق: مہمان نیچی میزوں کے گرد ایک طرف ٹیک لگا کر لیٹے ہوئے، پاؤں باہر کی طرف۔ ایسے کھانوں کے دروازے کھلے رہتے تھے، شہر کے لوگ دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر استاد کی باتیں سن سکتے تھے۔ اِسی لیے وہ عورت اندر آ سکی۔ مگر میزبانی کے تین بنیادی آداب شمعون نے جان بوجھ کر چھوڑ دیے تھے: پاؤں دھونے کا پانی، استقبال کا بوسہ، سر پر تیل۔ یہ خاموش توہین تھی، جیسے کوئی مہمان کو بلائے مگر ہاتھ نہ ملائے۔ اور عوامی جگہ پر بال کھولنا شریف عورت کے لیے شرم کی بات تھی۔ یعنی آیت 38 میں دو رویّے آمنے سامنے ہیں: میزبان کا حساب شدہ فاصلہ، اور عورت کی بےحساب رسوائی۔
غور و فکر
آپ کی عبادت میں وہ کون سی چیز ہے جسے آپ صرف اِس لیے قابو میں رکھتے ہیں کہ کوئی دیکھ نہ لے؟
آپ کے پاس ”عطردان“ کیا ہے، یعنی وہ چیز جس میں آپ کی حیثیت اور تحفظ بندھا ہوا ہے، اور آپ اُسے قدموں میں اُنڈیلنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟
Luke 7:38 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 7:38 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 7:38 کس بارے میں ہے؟
لوقا 7:38 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 7:38 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 7:38 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے شمعون کو نام لے کر پکارا اور کہا، ”شمعون، مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔“ تُو میرے دل کی خاموش سوچوں کو بھی جانتا ہے اور مجھے شرمندہ کرنے کے بجائے نرمی سے مخاطب کرتا ہے۔ شکر کہ تُو آج بھی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں