مرقس 7
متن
یروشلم سے تفتیش کرنے والا ایک وفد گلیل تک کا سفر طے کر کے آتا ہے، اور اُس کی نظر خداوند یسوع کے معجزوں پر نہیں بلکہ شاگردوں کے بغیر دھوئے ہاتھوں پر پڑتی ہے۔ اِسی نکتے سے وہ بحث شروع ہوتی ہے جس میں خداوند یسوع یسعیاہ نبی کا حوالہ دے کر اُن کے دلوں کی دُوری کو بےنقاب کرتے ہیں، قربانی کی مَنت کی آڑ میں ماں باپ کو نظرانداز کرنے کی چالاکی کو بےپردہ کرتے ہیں، اور پھر ہجوم کے سامنے پاکیزگی کی جگہ ہی بدل دیتے ہیں: ناپاکی باہر سے اندر نہیں جاتی، اندر سے باہر آتی ہے۔ اِس کے فوراً بعد وہ غیریہودی علاقے صور میں چلے جاتے ہیں، جہاں ایک سورفینیکی ماں کے جواب پر اُس کی بیٹی رِہا ہوتی ہے، اور دکپلس میں ایک بہرے آدمی کے کان ”اِفتح!“ کے ایک لفظ سے کھل جاتے ہیں۔
اصل بات
باب کی ترتیب ہی اُس کا الٰہیاتی دعویٰ ہے۔ پہلے خداوند یسوع کھانے کی پاکی اور ناپاکی کی دیوار گراتے ہیں، اور پھر بغیر کسی وقفے کے اُس سرحد کو پار کر جاتے ہیں جو یہودی اور غیریہودی کے درمیان کھڑی تھی۔ مرقس چاہتے ہیں کہ ہم دونوں باتوں کو ایک ساتھ پڑھیں: اگر ناپاکی معدے کا نہیں بلکہ دل کا مسئلہ ہے، تو پھر خدا کی میز پر غیرقوموں کے بیٹھنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ شریعت غلط تھی، بلکہ یہ کہ روایت اکثر شریعت کو ایسی جگہ پہنچا دیتی ہے جہاں وہ خدا کے حکم کو ہی ”منسوخ“ کر دیتی ہے۔ اور دل کی جو فہرست خداوند یسوع دیتے ہیں، ”بُرے خیالات، حرام کاری، چوری، قتل و غارت“، وہ کسی رسم سے نہیں دھوئی جا سکتی؛ اُسے صرف وہی صاف کر سکتا ہے جو دل کو نیا بناتا ہے۔
سلسلۂ کلام
پاکی اور ناپاکی کوئی معمولی رسم نہیں تھی؛ احبار کی کتاب میں یہ اسرائیل کی الگ پہچان کا نشان تھی، ایک قوم جو کھانے کی میز پر بھی یاد رکھتی تھی کہ وہ خدا کی ہے۔ خداوند یسوع اِس نشان کو ردی نہیں کہتے، وہ اُس کی جگہ بدل دیتے ہیں: پاکی اب دل میں طے ہوتی ہے۔ یہی بات انبیا کا وعدہ تھی، نیا دل اور نئی رُوح، شریعت پتھر پر نہیں بلکہ اندر لکھی ہوئی۔ اور جو باتیں خداوند یسوع دل سے نکلتی ہوئی گنواتے ہیں، وہی صلیب پر اُٹھائی گئیں۔ اِس لئے مرقس کا وہ چھوٹا سا جملہ، ”یہ کہہ کر عیسیٰ نے ہر قسم کا کھانا پاک صاف قرار دیا“، محض کھانے کا مسئلہ نہیں: یہ اُس دروازے کی چابی ہے جس سے غیرقومیں کلیسیا میں داخل ہوئیں۔
آئینہ
”قربان“ کی چال آج بھی زندہ ہے، صرف اُس کا لباس بدل گیا ہے۔ ہم کہتے ہیں: میں خدمت میں مصروف ہوں، اِس لئے بوڑھے والد کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں۔ ہم چندہ دیتے ہیں مگر بہن کو ادھار نہیں دیتے۔ ہم اپنے فرائض کو دین داری کی زبان میں لپیٹ کر معاف کرا لیتے ہیں، اور یہ اِتنے ”سلیقے“ سے ہوتا ہے کہ کسی کو شک تک نہیں ہوتا۔ خداوند یسوع کی فہرست کو ایک بار آہستہ پڑھیں: حسد، بہتان، غرور، لالچ۔ یہ گناہ باہر کی دنیا سے نہیں آئے، آپ کے دفتر کی سیاست، آپ کے واٹس ایپ گروپ اور آپ کے بجٹ میں سے نکلے ہیں۔ آج ہی اپنے والد یا والدہ کو، یا اُس بزرگ کو جس کی ذمہ داری واقعی آپ پر ہے، فون کریں اور ایک ٹھوس ضرورت پوچھ کر ایک کام طے کریں جو آپ اِسی ہفتے کریں گے۔
بین المتون
خداوند یسوع کی ساری بحث یسعیاہ کے اُس فقرے پر ٹِکی ہے کہ قوم ہونٹوں سے احترام کرتی ہے مگر دل دُور ہے؛ یعنی وہ فریسیوں کو کوئی نئی بات نہیں سناتے، وہ اُنہیں اُن کی اپنی کتاب سناتے ہیں۔ اِس کے بعد وہ توریت کے دو حکم رکھتے ہیں، ماں باپ کی عزت اور اُن پر لعنت کرنے کی سزا، تاکہ ثابت ہو کہ روایت پرست خود شریعت شکن ہیں۔ پھر ایک اَور گونج: ایلیاہ نبی بھی قحط کے دنوں میں صیدا کے علاقے کی ایک غیریہودی بیوہ کے پاس بھیجے گئے تھے، اور خداوند یسوع اُسی سرزمین پر روٹی اور کُتوں کی بات کرتے ہیں۔ اور آخر میں دو صدائیں ملتی ہیں: یسعیاہ کا وعدہ کہ بہروں کے کان کھلیں گے اور گونگے گائیں گے، اور پیدایش کی گونج جب لوگ کہتے ہیں، ”اِس نے سب کچھ اچھا کیا ہے“۔ نئی تخلیق شروع ہو چکی ہے۔
پس منظر
یروشلم سے آنے والے عالِم کوئی گاؤں کے مُلا نہیں، مرکز کے نمائندے ہیں؛ اُن کی آمد تفتیش ہے، ملاقات نہیں۔ ہاتھ دھونا صفائی کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ باپ دادا کی زبانی روایت کا، جو بازار میں غیریہودیوں سے لگی ہوئی ممکنہ ناپاکی کو دھو ڈالتی تھی۔ ”مَنت“ یا قربان کی رسم میں کوئی چیز ہیکل کے لئے وقف کر دی جاتی تھی، اور پھر شرعی طور پر والدین کے لئے دستیاب نہیں رہتی تھی، خواہ وہ بھوکے ہی کیوں نہ ہوں۔ صور اور صیدا شمال میں دولت مند صحرائی بندرگاہیں تھیں جو گلیل کے کسانوں کا اناج خریدتی تھیں؛ ”پہلے بچوں کو جی بھر کر کھانے دے“ اُس معاشی حقیقت پر بھی چوٹ ہے۔ دکپلس دس یونانی شہروں کا غیریہودی علاقہ تھا۔
مرکزی کردار
اِس باب میں خداوند یسوع دو بالکل مختلف لہجوں میں بولتے ہیں، اور دونوں سچے ہیں۔ مذہبی طاقت کے سامنے وہ بےرحم حد تک صاف ہیں: ”ریاکارو“۔ مگر ایک غیریہودی ماں کے سامنے وہ پہلے ایک سخت جملہ رکھتے ہیں اور پھر اُس کے جواب کے آگے جھک جاتے ہیں، ”تُو نے اچھا جواب دیا“۔ یہ شکست نہیں، دعوت تھی؛ وہ اُس کے ایمان کو زبان دیتے ہیں۔ اور بہرے آدمی کے ساتھ وہ ہجوم سے ہٹ کر جاتے ہیں، اُنگلیاں کانوں میں ڈالتے ہیں، تھوکتے ہیں، چھوتے ہیں: کوئی فاصلہ رکھنے والا پاک باز نہیں بلکہ ایسا خدا جو ناپاکی میں ہاتھ ڈالتا ہے۔ اور پھر ”آہ بھری“۔ یہ آہ بتاتی ہے کہ جو دنیا کو ٹھیک کرنے آیا ہے، وہ اُس کے ٹوٹنے پر بےحس نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
میری زندگی میں وہ کون سی ”روایت“ یا اصول ہے جو دیکھنے میں دین دارانہ ہے مگر عملاً مجھے کسی حقیقی ذمہ داری سے بری کر دیتا ہے؟
سورفینیکی عورت نے ٹھکرائے جانے والے لفظ کو پکڑ کر ایمان کی دلیل بنا لیا۔ خدا کے ساتھ میری کون سی گفتگو ابھی ادھوری ہے کیونکہ پہلا جواب مجھے سرد لگا؟
Mark 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 7 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 7 کس بارے میں ہے؟
مرقس 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ جب فریسی اور شریعت کے عالِم یروشلم سے آ کر تیرے گرد جمع ہوئے تو تُو نے اُنہیں دھتکارا نہیں۔ تُو اُن کے لیے بھی دستیاب رہا جو پرکھنے آئے تھے۔ اِس بات کا شکر کہ تیرے پاس آنے سے کوئی روکا نہیں جاتا، میں بھی نہیں۔
یسوع نے فریسیوں کی بحث کا رُخ ہاتھ دھونے سے دل کی طرف موڑ دیا: "جو کچھ انسان میں سے نکلتا ہے وہی اُسے ناپاک کر دیتا ہے۔" کتنا آسان ہے باہر کی صفائی پر محنت کرنا، اور اندر کے کڑواہٹ بھرے کمرے کو بند رکھنا۔ آج ذرا رُک کر پوچھ: میرے منہ سے جو نکلا، وہ کہاں سے آیا تھا؟ خُدا وہیں صفائی کرنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
