۲-سموئیل 2
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
داؤد بادشاہ بنتا ہے
حقیقت کیا ہے؟
داؤد نے خداوند سے پوچھا، ”کیا میں جاؤں؟“ خداوند نے فرمایا، ”ہاں، حبرون میں جا۔“ داؤد گیا۔ اپنی بیویوں کو ساتھ لے گیا۔ اپنے آدمیوں کو بھی۔
حبرون میں لوگوں نے داؤد کو دیکھا۔ انہوں نے تیل لیا۔ میٹھا، خوشبودار تیل۔ انہوں نے داؤد کے سر پر ڈالا۔ اب داؤد بادشاہ تھا۔
لیکن دور ایک اور شہر میں، ایک اور بادشاہ بھی تھا۔ اُس کا نام اِشبوست تھا۔ ساؤل کا بیٹا۔ ابنیر نامی ایک آدمی نے اُسے بادشاہ بنایا۔
اب دو بادشاہ تھے۔ اسرائیل کے لوگ بٹ گئے۔ کچھ داؤد کے ساتھ۔ کچھ اِشبوست کے ساتھ۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
ایک دن دونوں فوجیں ملیں۔ ایک تالاب کے پاس۔ ابنیر کے آدمی ایک طرف۔ یوآب کے آدمی دوسری طرف۔ خاموشی تھی۔ پھر لڑائی شروع ہوئی۔
یہ بہت دکھ کی بات تھی۔ بھائی بھائی سے لڑے۔ ایک جوان تھا، اُس کا نام عساہیل تھا۔ وہ تیز دوڑتا تھا، ہرن کی طرح۔ وہ ابنیر کے پیچھے بھاگا۔ ابنیر نے کہا، ”رُک جا، عساہیل! مجھے تجھے مارنا نہیں۔“ لیکن عساہیل نہ رُکا۔ تو ابنیر نے اپنا نیزہ مارا۔ عساہیل گر گیا۔ وہ مر گیا۔
یہ بہت افسوس کی بات تھی۔ جنگ میں بہت لوگ مر گئے۔
مشترک کڑی
شام ہوئی۔ سورج ڈوبنے لگا۔ ابنیر نے یوآب کو آواز دی۔ اُس نے کہا، ”کیا ہم ہمیشہ لڑتے رہیں گے؟ یہ تو بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے۔“
یوآب نے نرسنگا بجایا۔ ایک بڑی، لمبی آواز۔ اور سب رُک گئے۔ لڑائی ختم ہوئی۔
خداوند نے داؤد کو چنا تھا۔ وہ بادشاہ بننے والا تھا، تمام اسرائیل کا۔ لیکن ابھی راستہ لمبا تھا۔ ابھی دکھ بھی تھا۔ پھر بھی خداوند کا وعدہ قائم تھا۔ بالکل اُسی طرح جیسے بعد میں، ایک اور بادشاہ آیا، خداوند یسوع مسیح۔ اُس کا راستہ بھی مشکل تھا۔ لیکن خداوند کا وعدہ کبھی نہیں ٹوٹا۔
تمہارے لئے
کبھی تم بھی اپنے بھائی یا دوست سے ناراض ہوتے ہو؟ لڑائی تکلیف دیتی ہے، نا؟ خداوند چاہتے ہیں کہ ہم صلح کریں۔ جیسے یوآب نے نرسنگا بجایا اور لڑائی رُک گئی، ویسے ہی ہم بھی کہہ سکتے ہیں، ”بس، اب لڑائی نہیں۔“
بات کریں
کیا تمہیں یاد ہے جب تم کسی سے ناراض تھے؟ پھر کیا ہوا؟
ابنیر نے عساہیل کو کہا تھا، ”رُک جا۔“ تمہیں لگتا ہے عساہیل کو رُک جانا چاہیے تھا؟
ساتھ دعا کریں
پیارے خدا، آپ نے داؤد کو بادشاہ بنایا۔ آپ سب کچھ جانتے ہیں۔ جب ہم ناراض ہوں، ہمیں صلح کرنا سکھائیں۔ ہمیں پیار کرنا سکھائیں۔ آمین۔
۲-سموئیل 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۲-سموئیل 2 کس بارے میں ہے؟
۲-سموئیل 2 کیا کہتا ہے؟
۲-سموئیل 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے ۲-سموئیل 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲-سموئیل 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
سورج غروب ہو رہا تھا، مگر یوآب اور ابی شے رُکے نہیں۔ "جب سورج غروب ہوا تو وہ امّہ پہاڑی کے پاس پہنچ گئے۔" ان کا بھائی عسائیل اِسی ضد میں مارا گیا تھا کہ وہ پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھا، اور اب وہی دوڑ بھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدلہ کبھی نہیں کہتا کہ بس، کافی ہے۔ تیرے دل میں بھی کوئی ایسا تعاقب ہے جو اندھیرا ہونے پر بھی ختم نہیں ہوتا؟
لیکن داؤد کے فوجیوں نے ابنیر کے 360 بن یمینی مردوں کو مار ڈالا تھا۔" یہ صرف ایک عدد ہے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک ماں تھی جو بیٹے کا انتظار کرتی رہی۔ اور مرنے والے دشمن نہیں تھے، وہی اسرائیل کے بھائی تھے۔ تخت کی لڑائی میں ہمیشہ عام لوگ قیمت چکاتے ہیں۔ آپ کے کسی ضد یا حق کی جنگ میں کون خاموشی سے قیمت ادا کر رہا ہے؟
عساہیل تیز رفتار تھا، اور اُس کی نظر صرف ایک ہدف پر جمی تھی: "وہ نہ دائیں، نہ بائیں مُڑا بلکہ سیدھا ابنیر کے پیچھے دوڑتا رہا۔" یہ لگن خوبصورت لگتی ہے، مگر تھوڑی دیر بعد وہی لگن اُس کی جان لے گئی، کیونکہ ابنیر کی وارننگ اُس کے کانوں تک نہ پہنچی۔ ذرا سوچ، تُو آج کس چیز کے پیچھے اِس قدر دوڑ رہا ہے کہ راستے میں خدا کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی؟ ہر رفتار برکت نہیں ہوتی۔
ابنیر اور یوآب نے تماشا دیکھنے کے لیے بارہ بارہ جوان چن لیے، جیسے مہرے گنے جا رہے ہوں۔ ان کے لیے یہ کھیل تھا، مگر تھوڑی دیر بعد چوبیس لاشیں زمین پر پڑی تھیں۔ جو فیصلے ہم ہلکے دل سے کرتے ہیں، ان کی قیمت اکثر کوئی اور چکاتا ہے۔ ذرا سوچ، تیرے کس "معمولی" ضد یا انا کے کھیل میں کوئی اور زخمی ہو رہا ہے؟
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں