7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

۲-سموئیل 2

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

ساؤل بادشاہ کے مرنے کے بعد داؤد نے سیدھا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اُس نے پہلے خداوند سے پوچھا، ”کیا مَیں یہوداہ کے کسی شہر میں واپس چلا جاؤں؟“ اور خداوند نے جواب دیا، ”ہاں، حبرون میں جا۔“ داؤد نے اپنی بیویوں، اپنے آدمیوں اور اُن کے خاندانوں کو ساتھ لے کر حبرون میں بسایا۔ وہاں یہوداہ کے قبیلے نے اُسے مسح کر کے اپنا بادشاہ بنا لیا۔

لیکن پوری قوم اُس کے پیچھے نہیں آئی۔ ساؤل کی فوج کے کمانڈر ابنیر نے ساؤل کے بیٹے اِشبوست کو محنائم میں بادشاہ بنا دیا، اور باقی تمام اسرائیل اُس کے ساتھ رہا۔ یوں ملک دو حصوں میں بٹ گیا، ایک طرف داؤد اور یہوداہ، دوسری طرف اِشبوست اور باقی اسرائیل۔

پھر ایک دن ابنیر اور یوآب، جو داؤد کی فوج کا کمانڈر تھا، جِبعون کے تالاب پر آمنے سامنے آ گئے۔ پہلے بارہ بارہ جوانوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور سب مر گئے۔ پھر پوری لڑائی چھڑ گئی۔ یوآب کا بھائی عساہیل، جو تیز دوڑنے والا تھا، ابنیر کے پیچھے پڑ گیا۔ ابنیر نے بار بار اُسے روکنے کی کوشش کی، مگر عساہیل نے پیچھا نہ چھوڑا، اور آخر ابنیر نے اُسے نیزے سے مار دیا۔

شام کو ابنیر نے یوآب سے پوچھا، ”کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ تک ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اُتارتے جائیں؟“ یوآب نے لڑائی روک دی۔ گنتی کرنے پر پتا چلا کہ داؤد کے صرف انیس آدمی مرے، مگر ابنیر کے تین سو ساٹھ۔ عساہیل کو اُس کے باپ کی قبر میں بیت لحم میں دفن کیا گیا۔

What Does This Mean?

یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ بادشاہی ایک دن میں نہیں آتی۔ داؤد کو خدا نے پہلے ہی بادشاہ بننے کا وعدہ دیا تھا، مگر اُس وعدے اور اُس کے پورا ہونے کے درمیان برسوں کا انتظار، تقسیم اور جنگ تھی۔ داؤد خود جلدی نہیں کرتا۔ وہ پہلے خداوند سے پوچھتا ہے، ”کیا مَیں جاؤں؟ کہاں جاؤں؟“ یہ بات اہم ہے۔ داؤد طاقت کے نشے میں نہیں آیا، وہ ابھی بھی خدا سے راہنمائی مانگتا ہے۔

مگر یہ باب یہ بھی نہیں چھپاتا کہ خدا کے لوگوں کے درمیان بھی خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ یہ دو قبیلوں کی، دو خاندانوں کی آپس کی جنگ ہے۔ ابنیر کا سوال، ”کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ تک ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اُتارتے جائیں؟“ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں بھی رکنے پر مجبور کرتا ہے۔ بعض اوقات لڑائی اِس لیے نہیں رُکتی کہ کوئی غلط ہو، بلکہ اِس لیے کہ دونوں طرف غصہ اور ضد بڑھ جاتی ہے۔

The Common Thread

خدا نے داؤد سے وعدہ کیا تھا کہ وہی اسرائیل کا بادشاہ ہو گا۔ یہ وعدہ، یعنی خدا کا پکا کلام جو ضرور پورا ہو گا، اِس باب میں پورا ہوتا نظر آتا ہے، مگر بہت سست رفتاری سے اور دکھ سے گزر کر۔ یہی طریقہ ہم بعد میں بھی دیکھتے ہیں۔ خدا کا سب سے بڑا وعدہ، کہ وہ ایک نجات دہندہ بھیجے گا، بھی سیدھا راستہ نہیں اپناتا۔ عیسیٰ مسیح، جو داؤد کی نسل سے آئے، بادشاہ بننے سے پہلے مصلوب ہوئے۔ خدا کے وعدے اکثر صلیب اور قبر سے گزر کر پورے ہوتے ہیں، فوراً نہیں۔ یہ بات سمجھنا مشکل ہے، مگر یہی اِس کہانی کا بھی سچ ہے۔

For You

کبھی کبھی تمہارے اور کسی دوست یا بھائی بہن کے درمیان جھگڑا اتنا بڑھ جاتا ہے کہ لگتا ہے رکنا ممکن نہیں۔ ابنیر کا سوال یاد رکھو، کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ لڑتے رہیں؟ کسی کو پہلے رکنے کی ہمت کرنی پڑتی ہے۔ داؤد کی طرح، اپنے فیصلوں سے پہلے خدا سے پوچھنا سیکھو، نہ کہ صرف اپنے دل کی سنو۔

Talk About It

عساہیل نے ابنیر کی بات کیوں نہ مانی؟ کیا تم بھی کبھی کسی بات پر اتنے ضدی ہو جاتے ہو کہ خطرہ نظر نہیں آتا؟

ابنیر کا سوال، "کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ لڑتے رہیں؟" تمہاری زندگی کے کس جھگڑے پر لاگو ہو سکتا ہے؟

Praying Together

اے خداوند، داؤد نے آپ سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں جائے، سکھا دیں کہ ہم بھی اپنے فیصلوں سے پہلے آپ سے پوچھیں۔ جب ہمارے دل میں غصہ اور ضد بھر جائے تو ہمیں رکنے کی ہمت دیں۔ ہمیں صبر دیں کہ آپ کے وعدے اپنے وقت پر پورے ہوتے ہیں، چاہے راستہ مشکل ہو۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

۲-سموئیل 2 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

۲-سموئیل 2 کس بارے میں ہے؟
ساؤل بادشاہ کے مرنے کے بعد داؤد نے سیدھا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اُس نے پہلے خداوند سے پوچھا، ”کیا مَیں یہوداہ کے کسی شہر میں واپس چلا جاؤں؟“ اور خداوند نے جواب دیا، ”ہاں، حبرون میں جا۔“ داؤد نے اپنی بیویوں، اپنے آدمیوں اور اُن کے خاندانوں کو ساتھ لے کر حبرون میں بسایا۔ وہاں یہوداہ کے قبیلے نے اُسے مسح کر کے اپنا بادشاہ بنا لیا۔
۲-سموئیل 2 کیا کہتا ہے؟
پھر ایک دن ابنیر اور یوآب، جو داؤد کی فوج کا کمانڈر تھا، جِبعون کے تالاب پر آمنے سامنے آ گئے۔ پہلے بارہ بارہ جوانوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور سب مر گئے۔ پھر پوری لڑائی چھڑ گئی۔ یوآب کا بھائی عساہیل، جو تیز دوڑنے والا تھا، ابنیر کے پیچھے پڑ گیا۔ ابنیر نے بار بار اُسے روکنے کی کوشش کی، مگر عساہیل نے پیچھا نہ چھوڑا، اور آخر ابنیر نے اُسے نیزے سے مار دیا۔
۲-سموئیل 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ بادشاہی ایک دن میں نہیں آتی۔ داؤد کو خدا نے پہلے ہی بادشاہ بننے کا وعدہ دیا تھا، مگر اُس وعدے اور اُس کے پورا ہونے کے درمیان برسوں کا انتظار، تقسیم اور جنگ تھی۔ داؤد خود جلدی نہیں کرتا۔ وہ پہلے خداوند سے پوچھتا ہے، ”کیا مَیں جاؤں؟ کہاں جاؤں؟“ یہ بات اہم ہے۔ داؤد طاقت کے نشے میں نہیں آیا، وہ ابھی بھی خدا سے راہنمائی مانگتا ہے۔
بچے ۲-سموئیل 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
خدا نے داؤد سے وعدہ کیا تھا کہ وہی اسرائیل کا بادشاہ ہو گا۔ یہ وعدہ، یعنی خدا کا پکا کلام جو ضرور پورا ہو گا، اِس باب میں پورا ہوتا نظر آتا ہے، مگر بہت سست رفتاری سے اور دکھ سے گزر کر۔ یہی طریقہ ہم بعد میں بھی دیکھتے ہیں۔ خدا کا سب سے بڑا وعدہ، کہ وہ ایک نجات دہندہ بھیجے گا، بھی سیدھا راستہ نہیں اپناتا۔ عیسیٰ مسیح، جو داؤد کی نسل سے آئے، بادشاہ بننے سے پہلے مصلوب ہوئے۔ خدا کے وعدے اکثر صلیب اور قبر سے گزر کر پورے ہوتے ہیں، فوراً نہیں۔ یہ بات سمجھنا مشکل ہے، مگر یہی اِس کہانی کا بھی سچ ہے۔
۲-سموئیل 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
عساہیل نے ابنیر کی بات کیوں نہ مانی؟ کیا تم بھی کبھی کسی بات پر اتنے ضدی ہو جاتے ہو کہ خطرہ نظر نہیں آتا؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 24

سورج غروب ہو رہا تھا، مگر یوآب اور ابی شے رُکے نہیں۔ "جب سورج غروب ہوا تو وہ امّہ پہاڑی کے پاس پہنچ گئے۔" ان کا بھائی عسائیل اِسی ضد میں مارا گیا تھا کہ وہ پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھا، اور اب وہی دوڑ بھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدلہ کبھی نہیں کہتا کہ بس، کافی ہے۔ تیرے دل میں بھی کوئی ایسا تعاقب ہے جو اندھیرا ہونے پر بھی ختم نہیں ہوتا؟

بصیرت ادارتی کو آیت 31

لیکن داؤد کے فوجیوں نے ابنیر کے 360 بن یمینی مردوں کو مار ڈالا تھا۔" یہ صرف ایک عدد ہے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک ماں تھی جو بیٹے کا انتظار کرتی رہی۔ اور مرنے والے دشمن نہیں تھے، وہی اسرائیل کے بھائی تھے۔ تخت کی لڑائی میں ہمیشہ عام لوگ قیمت چکاتے ہیں۔ آپ کے کسی ضد یا حق کی جنگ میں کون خاموشی سے قیمت ادا کر رہا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 19

عساہیل تیز رفتار تھا، اور اُس کی نظر صرف ایک ہدف پر جمی تھی: "وہ نہ دائیں، نہ بائیں مُڑا بلکہ سیدھا ابنیر کے پیچھے دوڑتا رہا۔" یہ لگن خوبصورت لگتی ہے، مگر تھوڑی دیر بعد وہی لگن اُس کی جان لے گئی، کیونکہ ابنیر کی وارننگ اُس کے کانوں تک نہ پہنچی۔ ذرا سوچ، تُو آج کس چیز کے پیچھے اِس قدر دوڑ رہا ہے کہ راستے میں خدا کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی؟ ہر رفتار برکت نہیں ہوتی۔

بصیرت ادارتی کو آیت 15

ابنیر اور یوآب نے تماشا دیکھنے کے لیے بارہ بارہ جوان چن لیے، جیسے مہرے گنے جا رہے ہوں۔ ان کے لیے یہ کھیل تھا، مگر تھوڑی دیر بعد چوبیس لاشیں زمین پر پڑی تھیں۔ جو فیصلے ہم ہلکے دل سے کرتے ہیں، ان کی قیمت اکثر کوئی اور چکاتا ہے۔ ذرا سوچ، تیرے کس "معمولی" ضد یا انا کے کھیل میں کوئی اور زخمی ہو رہا ہے؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network