نوحہ 4
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
ایک شہر تھا۔ اُس کا نام یروشلم تھا۔ پہلے وہاں سب کچھ اچھا تھا۔ لوگ سونے جیسے خوبصورت کپڑے پہنتے تھے۔ بچوں کے گال گلابی تھے۔ گیہوں کی روٹی گھر گھر پکتی تھی۔ خوشبو ہر طرف پھیلی رہتی تھی۔
لیکن پھر ایک دن سب بدل گیا۔ دشمن آئے۔ بہت سے دشمن۔ شہر کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ گھروں میں آگ لگ گئی۔ روٹی ختم ہو گئی۔ کوئی روٹی نہ رہی۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے تھے۔ بہت بھوکے۔ وہ اپنی ماؤں سے روٹی مانگتے تھے۔ لیکن ماں کے پاس دینے کو کچھ بھی نہ تھا۔ بچوں کی زبان پیاس سے سوکھ گئی تھی۔ لوگ گلیوں میں بیٹھے رہتے تھے۔ اور روتے رہتے تھے۔ بہت آہستہ سے، بہت اداسی سے۔
What Does This Mean?
یہ ایک سچی کہانی ہے۔ لیکن دکھ سے بھری ہوئی۔ ایک آدمی نے یہ لکھی۔ اُس کا دل بہت دُکھا تھا۔ وہ رو رو کر لکھتا رہا۔ اُس نے کہا، لوگوں نے خدا کی بات نہ سنی۔ اِس لیے یہ سب ہوا۔
لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ خدا نے سب کچھ دیکھا۔ ایک آنسو بھی خدا سے چھپا نہ رہا۔ ایک بھوکا بچہ بھی خدا سے چھپا نہ رہا۔ خدا کبھی آنکھیں بند نہیں کرتا۔
The Common Thread
اِس کہانی کے آخر میں خدا نے ایک وعدہ کیا۔ اُس نے فرمایا، یہ سزا ہمیشہ نہیں رہے گی۔ ایک دن ختم ہو جائے گی۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے۔
بعد میں خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو بھیجا۔ یسوع بھوکوں کو روٹی دیتے تھے۔ یسوع پیاسوں کو پانی دیتے تھے۔ یسوع روتے ہوؤں کے پاس بیٹھتے تھے۔ اُنہوں نے فرمایا، میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام دوں گا۔ خدا اپنے لوگوں کو کبھی پوری طرح نہیں چھوڑتا۔
For You
کیا تم بھی کبھی اداس ہوتے ہو؟ کیا کبھی بہت بھوک لگتی ہے؟ خدا کو بتا دو۔ خدا سنتا ہے۔ اُس کے کان کبھی بند نہیں ہوتے۔
اور جب تمہارے پاس روٹی زیادہ ہو تو کیا کرو گے؟ اپنے دوست کو بھی دو۔ جیسے یسوع دیتے تھے۔
تم کیا کرو گے اگر تمہارا دوست بھوکا ہو؟ کیا تم خدا کو بتا سکتے ہو جب تم اداس ہو؟
Praying Together
پیارے خدا، کبھی کبھی ہم اداس ہوتے ہیں۔ کبھی ہم روتے ہیں۔ آپ ہمیں دیکھتے ہیں۔ آپ ہمیں کبھی نہیں بھولتے۔ ہمیں بھوکوں کو روٹی دینے میں مدد کریں۔ آمین۔
نوحہ 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 4 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 4 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے نوحہ 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
دنیا کے بادشاہوں بلکہ تمام جہان کے باشندوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ دشمن یا مخالف کبھی یروشلم کے دروازوں میں داخل ہو سکے گا۔“ سب کو یقین تھا کہ یہ شہر ناقابلِ شکست ہے۔ مگر دیوار باہر سے نہیں ٹوٹی، اندر سے گل گئی تھی۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ نبیوں اور اماموں کے گناہ اس کی وجہ تھے۔ تیری زندگی کی کون سی دیوار مضبوط دکھتی ہے مگر اندر سے کمزور پڑ چکی ہے؟
ہمارا تعاقب کرنے والے آسمان کے عقابوں سے بھی تیز تھے۔ وہ پہاڑوں پر ہمارے پیچھے پڑ گئے، ریگستان میں ہماری گھات میں بیٹھ گئے۔" یروشلم کے بچے ہوئے لوگ بھاگے، مگر نہ پہاڑ نے پناہ دی نہ ریگستان نے۔ کبھی کبھی زندگی ایسی ہی لگتی ہے، جہاں بھی جاؤ، وہی خوف پہلے سے وہاں بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ آیت تجھے کوئی آسان تسلی نہیں دیتی۔ وہ بس تیرے ساتھ بیٹھ کر کہتی ہے: ہاں، ایسا ہوتا ہے۔ اور یہی بات کہنے کے لیے خدا نے اسے اپنے کلام میں رہنے دیا۔
ادوم جشن منا رہا تھا۔ یروشلم جل رہا تھا اور پڑوسی تالیاں بجا رہے تھے۔ یرمیاہ طنز سے کہتا ہے، "اے ادوم بیٹی، خوشی منا، شادیانہ بجا!" لیکن ساتھ ہی یاد دلاتا ہے کہ پیالہ ایک ہی میز پر گھوم رہا ہے، اور تیری باری بھی آئے گی۔
کسی گرے ہوئے شخص کو دیکھ کر دل میں جو چھپی سی خوشی اُٹھتی ہے، اُسے پہچان۔ وہی پیالہ تیرے ہاتھ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔
ہائے، سونا کتنا بےرونق ہو گیا ہے، خالص سونا کتنا ماند پڑ گیا ہے! مقدِس کے جواہر تمام گلیوں میں بکھرے پڑے ہیں۔“ یرمیاہ پتھروں پر نہیں، لوگوں پر رو رہا ہے۔ جو کبھی خدا کے گھر کی زینت تھے، اب گلی کے کوڑے کی طرح پڑے ہیں۔ کیا تجھے اپنی وہ چمک یاد ہے جو کہیں کھو گئی؟ خدا بکھرے ہوئے جواہر کو پہچان لیتا ہے، چاہے مٹی نے اُنہیں ڈھانپ رکھا ہو۔
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں