نوحہ 4
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
نوحہ کی یہ چوتھی فصل یروشلم شہر کی تباہی کی ایک درد بھری تصویر ہے۔ لکھنے والا بیان کرتا ہے کہ جو کچھ پہلے خوبصورت اور قیمتی تھا، سونا، جواہر، شاندار کپڑے، اب گلیوں میں بکھرا اور بےقدر پڑا ہے۔ شہر میں کال پڑ گیا ہے۔ چھوٹے بچے پیاس اور بھوک سے بلبلا رہے ہیں مگر کوئی اُنہیں کھلانے والا نہیں۔ لکھنے والا کہتا ہے کہ جو لوگ پہلے صحت مند اور چمکدار جِلد والے تھے، اب اِتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اُن کی ہڈیوں پر جِلد لکڑی جیسی سوکھ گئی ہے۔ کال کی حالت اِتنی بھیانک ہو گئی تھی کہ ماؤں نے اپنے ہی بچوں کو کھانے پر مجبور ہونا پڑا، یہ بات پڑھ کر ہمیں گھبراہٹ ہوتی ہے، اور یہ ٹھیک ہے، کیونکہ یہ واقعی خوفناک ہے۔
آیت 13 میں وجہ بتائی گئی ہے: نبیوں اور اماموں نے، یعنی جو لوگ خدا کی بات سنانے اور اُس کی خدمت کرنے کے ذمہ دار تھے، بےگناہ لوگوں کا خون بہایا۔ اُن کے اپنے گناہ کی وجہ سے شہر پر یہ آفت آئی۔ اُنہیں اب کوئی چھونا بھی نہیں چاہتا۔ حتیٰ کہ بادشاہ، جسے خدا نے چن کر مسح کیا تھا، دشمن کے ہاتھ لگ گیا۔ فصل کے آخر میں لکھنے والا ادوم کی طرف مُڑتا ہے، اُس قوم کی طرف جو یروشلم کی تباہی پر ہنسی، اور اُسے خبردار کرتا ہے کہ اُس پر بھی خدا کا غضب آئے گا۔ لیکن صیون، یعنی یروشلم کے لیے ایک عجیب سی امید کی جھلک بھی ہے: اُس کی سزا کا وقت پورا ہونے والا ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں یہ سچائی بتاتا ہے جو سننا آسان نہیں: گناہ کے نتائج ہوتے ہیں، اور وہ نتائج پوری قوم کو، حتیٰ کہ بےگناہ بچوں کو بھی چھو سکتے ہیں۔ لکھنے والا اِس بات کو چھپاتا نہیں۔ وہ نہیں کہتا کہ "سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا" یا "اصل میں کوئی بات نہیں تھی۔" وہ کھلے دل سے کہتا ہے کہ یہ خدا کا غضب تھا، اور یہ غضب اُن لوگوں کے گناہ کی وجہ سے آیا جن پر سب سے زیادہ ذمہ داری تھی۔ لیکن اِس تکلیف کے درمیان ایک چھوٹی سی روشنی بھی ہے: آیت 22 کہتی ہے کہ صیون کی سزا کا "وقت پورا ہو گیا ہے۔" یعنی یہ سزا ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ خدا کا غضب حقیقی ہے، مگر وہ آخری لفظ نہیں ہے۔
The Common Thread
اِس باب میں ایک تلخ لمحہ ہے: "مسح کیا ہوا" بادشاہ، جو خدا کا چنا ہوا تھا، دشمن کے ہاتھ لگ جاتا ہے، اور لوگوں کی سب اُمید ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ ہمیں اُس دوسرے مسح کیے ہوئے بادشاہ کی یاد دلاتا ہے، خداوند یسوع مسیح کی، جو بھی پکڑے گئے اور دشمنوں کے حوالے کر دیے گئے۔ مگر فرق یہ ہے کہ یسوع مسیح نے یہ اپنے گناہ کی وجہ سے نہیں سہا، بلکہ ہمارے گناہوں کی سزا اپنے اوپر لے لی۔ جہاں یروشلم کے لوگ اپنے گناہ کے نتیجے میں تکلیف اُٹھاتے ہیں، وہاں یسوع مسیح نے بےگناہ ہوتے ہوئے وہ سزا اُٹھائی جو دراصل ہماری تھی۔ صیون کی سزا کا "وقت پورا" ہونا بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کا وعدہ ہمیشہ رحم کی طرف لوٹتا ہے، وہی وعدہ جو پورا ہونے کے لیے ہمیں مسیح تک لے جاتا ہے۔
For You
یہ باب پڑھنا آسان نہیں، اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے چھوٹے گناہ، جھوٹ بولنا، غصہ کرنا، کسی کا دل توڑنا، بےاثر ہیں۔ لیکن یہ باب دکھاتا ہے کہ گناہ کبھی صرف ہمارے اپنے تک محدود نہیں رہتا، وہ دوسروں کو بھی چھوتا ہے۔ اِس لیے ہمیں اپنی غلطیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا کہ خدا کا غضب ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ جب ہم اپنی غلطی مان لیتے ہیں اور خدا کے سامنے آتے ہیں، وہ ہمیں معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
Talk About It
کیا تم کو ایسا کوئی وقت یاد ہے جب کسی کی غلطی نے دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچایا؟ اُس وقت کیسا لگا؟
یہ باب کہتا ہے کہ صیون کی سزا کا "وقت پورا" ہو گیا۔ تمہارے خیال میں خدا کیوں سزا کو ہمیشہ کے لیے نہیں رکھتا؟
Praying Together
اے خدا، یہ باب پڑھ کر ہمارا دل بھاری ہو جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ کتنا دردناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں معاف کر دے جب ہم اپنی غلطیوں کو ہلکا سمجھتے ہیں۔ ہمیں شکر ہے کہ تیرا غضب آخری بات نہیں ہے، بلکہ تیری محبت اور معافی ہمیشہ رہتی ہے۔ ہمیں یسوع مسیح کی طرف دیکھنے میں مدد دے، جس نے ہماری سزا اپنے اوپر لے لی۔ آمین۔
نوحہ 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 4 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 4 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے نوحہ 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
رب خود اُنہیں منتشر کر چکا ہے، آئندہ وہ اُن کی پروا نہیں کرے گا۔“ سب سے ڈراونی بات سزا نہیں، نظرانداز ہو جانا ہے۔ جو امام اور بزرگ پہلے ادب پاتے تھے، اب کوئی اُن کا لحاظ نہیں کرتا۔ عزت لباس یا عہدے سے نہیں آتی، وہ وفاداری سے وزن پاتی ہے۔ ذرا سوچ، تُو اپنی عزت کس بنیاد پر کھڑی کر رہا ہے؟
رب کا مسیح جو ہماری زندگی کا سانس تھا دشمن کے گڑھوں میں پھنس گیا۔“ یرمیاہ اُس بادشاہ کا ماتم کر رہا ہے جس کے سائے میں قوم نے جینے کا خواب دیکھا تھا۔ سوچیں، جس کو تُو اپنا سانس بنا لیتا ہے، وہ خود ایک گڑھے میں گر سکتا ہے۔ آج تیری اُمید کس کے سائے پر ٹکی ہے؟ صرف ایک مسیح ہے جو گڑھے میں اُترا اور تیسرے دن باہر آ گیا۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں