صفنیاہ 2
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
کہانی کیا کہتی ہے؟
سنو، ایک بہت پرانی کہانی ہے۔ خدا کا ایک دوست تھا۔ اُس کا نام صفنیاہ تھا۔ خدا نے صفنیاہ سے بات کی۔
خدا کچھ اُداس تھا۔ اور تھوڑا ناراض بھی۔ کیوں؟ لوگ خدا کو بھول گئے تھے۔ وہ خدا سے پیار نہیں کرتے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم بہت بڑے ہیں۔ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
خدا نے کہا، "آؤ، میرے پاس واپس آؤ۔"
خدا نے اپنے لوگوں کو پکارا۔ اُس نے کہا، "میرے بچو، میری بات سنو۔ مجھے ڈھونڈو۔ میرے پاس آؤ۔ جو نرم دل ہیں، جو میری بات مانتے ہیں، وہ میرے پاس آئیں۔"
خدا کی آواز بہت پیار سے بھری تھی۔ جیسے ایک ابّو اپنے بچے کو پکارتا ہے۔
پھر خدا نے ایک بڑے شہر کے بارے میں بتایا۔ اُس شہر کا نام نینوہ تھا۔ نینوہ بہت بڑا شہر تھا۔ بہت خوبصورت۔ وہاں کے لوگ کہتے تھے، "ہم سب سے بڑے ہیں۔ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔"
لیکن اُنہوں نے خدا کو بھلا دیا۔ وہ خدا کو یاد نہیں کرتے تھے۔
اور دوسرے شہر بھی تھے۔ اُن کے لوگ خدا کے بچوں سے بُری باتیں کرتے تھے۔ وہ ہنستے تھے۔ وہ چڑاتے تھے۔
خدا نے سب دیکھا۔ خدا سب کچھ دیکھتا ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
خدا نے کہا، "میرے پیارے بچو، میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں تھامے رکھوں گا۔ میں تمہاری دیکھ بھال کروں گا۔"
خدا اپنے لوگوں سے بہت پیار کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے پاس آئیں۔ چھوٹے بچے کی طرح۔ نرم دل کے ساتھ۔
بڑی کہانی
بہت بہت سال بعد، خدا نے یسوع کو بھیجا۔ یسوع نے کہا، "چھوٹے بچو، میرے پاس آؤ۔"
یسوع کی گود بڑی تھی۔ اُس کے ہاتھ گرم تھے۔ بچے اُس کے پاس دوڑ کر جاتے تھے۔ اور یسوع اُنہیں اپنے سینے سے لگاتا تھا۔
خدا آج بھی پکارتا ہے۔ آج بھی۔ "میرے بچے، آؤ۔"
تمہارے لیے
کیا تم کبھی کبھی چھپ جاتے ہو؟ جب امّی پکارتی ہے، تو کیا تم دوڑ کر جاتے ہو؟
خدا بھی پکارتا ہے۔ بہت پیار سے۔ جب تم صبح اٹھو، خدا کہتا ہے، "صبح بخیر، میرے بچے۔" جب تم سونے جاؤ، خدا کہتا ہے، "سو جاؤ، میں تمہارے پاس ہوں۔"
تم چھوٹے ہو۔ اور خدا کو چھوٹے بچے بہت پیارے ہیں۔
بات چیت کرو
جب کوئی تمہیں پیار سے بلاتا ہے، تو تم کیا کرتے ہو؟
کیا تم جانتے ہو کہ خدا تم سے پیار کرتا ہے؟
مل کر دعا کریں
پیارے خدا، تُو مجھے پکارتا ہے۔ تُو مجھ سے پیار کرتا ہے۔ میں چھوٹا ہوں، لیکن تُو بہت بڑا ہے۔ مجھے اپنے پاس رکھ۔ آمین۔
صفنیاہ 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
صفنیاہ 2 کس بارے میں ہے؟
صفنیاہ 2 کیا کہتا ہے؟
صفنیاہ 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے صفنیاہ 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
صفنیاہ 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
فلستیوں کا ساحلی علاقہ سب سے محفوظ لگتا تھا۔ سمندر، بندرگاہیں، تجارت، مضبوط شہر۔ لیکن صفنیاہ کہتا ہے: ”رب کا کلام تیرے خلاف ہے۔“ دیواریں نہیں، لشکر نہیں، صرف ایک کلام۔ اور وہ کافی تھا۔
سوچ، تُو نے اپنی سلامتی کس چیز پر رکھی ہے؟ نوکری، رشتے، بچت؟ یہ سب اچھے ہیں، مگر کوئی بھی اُس کلام کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ بہتر ہے کہ وہ کلام تیرے خلاف نہیں بلکہ تیرے حق میں ہو۔
ایتھوپیا اُس زمانے میں دنیا کا آخری کنارہ سمجھا جاتا تھا، اِتنی دُور کہ کوئی خطرہ وہاں تک نہ پہنچے۔ پھر بھی کلام آتا ہے: ”تم بھی میری تلوار سے ہلاک ہو جاؤ گے۔“ صرف ایک جملہ، مگر کافی۔ جہاں تم اپنے آپ کو چھپا ہوا سمجھتے ہو، وہاں بھی وہ تمہیں جانتا ہے۔ سوچو، تمہارا ایتھوپیا کون سا ہے؟ وہ گوشہ جس کے بارے میں تم کہتے ہو کہ خدا کو کیا پتا؟
فلستیوں کے مضبوط شہر کبھی طاقت اور شور کی علامت تھے، لیکن خدا فرماتا ہے: ”ساحلی علاقہ چرواہوں کی چراگاہوں اور بھیڑبکریوں کے باڑوں میں تبدیل ہو جائے گا۔“ جہاں فصیلیں تھیں، وہاں اب بھیڑیں سکون سے چرتی ہیں۔ سوچیں، جس چیز پر آپ سب سے زیادہ فخر کرتے ہیں، وہ ایک دن گھاس بن سکتی ہے۔ اور شاید یہی خدا کی مہربانی ہو، کیونکہ چراگاہ میں حلیم لوگ آرام پاتے ہیں۔
صفنیاہ نبی یہوداہ کے لوگوں سے مخاطب ہے جب خداوند کے غضب کا دن قریب ہے۔ ہر طرف بت پرستی، ظلم اور غرور ہے۔ اسی اندھیرے میں ایک آواز اٹھتی ہے: "اے ملک کے تمام حلیمو، تم سب جو اُس کے احکام پر عمل کرتے ہو، اُس کے طالب ہو، صداقت کے طالب ہو، فروتنی کے طالب ہو، شاید تم خداوند کے قہر کے دن پناہ پاؤ۔"
غور کیجیے، وہ لوگ جو پہلے سے ہی اُس کے احکام پر عمل کر رہے ہیں، اُن سے بھی کہا جاتا ہے کہ صداقت اور فروتنی کے "طالب" رہیں۔ گویا نیکی کوئی منزل نہیں، ایک مسلسل تلاش ہے۔ اور لفظ "شاید" میں کوئی بےیقینی نہیں، بلکہ ایک نرم عاجزی ہے، کہ نجات ہمارا حق نہیں، اُس کا فضل ہے۔ آج آپ کس چیز کے طالب ہیں؟
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں