۱-کُرِنتِھیوں 2
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
اس عبارت کی وضاحت
پولس رسول کرنتھس کے مسیحیوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ جب وہ پہلی بار اُن کے پاس آئے تھے تو کیسے آئے تھے۔ کرنتھس ایک ایسا شہر تھا جہاں بڑے بڑے فلسفی اور مقرر عزت پاتے تھے، جو شاندار الفاظ اور چمکدار دلائل سے لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔ پولس کہتے ہیں کہ وہ ایسے نہیں آئے۔ نہ موٹے موٹے الفاظ، نہ فلسفیانہ چمک۔ بلکہ وہ کمزور حالت میں، خوف کھاتے اور تھرتھراتے ہوئے آئے، اور اُن کے پاس بیان کرنے کے لیے صرف ایک بات تھی: عیسیٰ مسیح، اور وہ بھی مصلوب۔
یہ کوئی کمزوری کا اعتراف نہیں بلکہ ایک جان بوجھ کر کیا گیا فیصلہ تھا۔ پولس نہیں چاہتے تھے کہ لوگ اُن کی ذہانت یا فصاحت سے متاثر ہو کر ایمان لائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اُن کا ایمان اللہ کی قدرت پر کھڑا ہو، انسانی دلیل پر نہیں۔ پھر وہ ایک گہری بات کی طرف جاتے ہیں: ایک حکمت ہے جو اِس دنیا کی نہیں، جو ہمیشہ سے چھپی رہی، اور جسے دنیا کے بڑے بڑے حاکموں نے بھی نہیں پہچانا۔ اگر پہچانتے تو خداوند کو مصلوب نہ کرتے۔ یہ حکمت انسانی آنکھ نے نہیں دیکھی، کان نے نہیں سنی، لیکن اللہ نے اپنے روح کے ذریعے اُسے اُن پر ظاہر کیا جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔
آخر میں پولس ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہیں: جس طرح کوئی انسان کے دل کی باتوں کو نہیں جانتا سوائے اُس انسان کی اپنی روح کے، اُسی طرح کوئی اللہ کی باتوں کو نہیں جان سکتا سوائے اللہ کے روح کے۔ اور یہ روح ایمانداروں کو دیا گیا ہے۔ اِس لیے پولس کہتے ہیں: ہم مسیح کی سوچ رکھتے ہیں۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب دراصل اُس دباؤ کے خلاف کھڑا ہوتا ہے جو تمہیں بھی محسوس ہوتا ہوگا: یہ خیال کہ اگر تم کافی ذہین ہو، کافی الفاظ جانتے ہو، کافی دلیل دے سکتے ہو، تب ہی تمہاری بات اہم ہے۔ یہی دباؤ آج بھی ہے، بس شکل بدل گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر، کلاس روم میں، ہر جگہ یہ تاثر ملتا ہے کہ جو سب سے ہوشیار بات کرے وہی جیتتا ہے۔
پولس اِس پورے کھیل کو رد کرتے ہیں۔ وہ نہیں کہتے کہ سوچنا غلط ہے، وہ خود بہت گہرا سوچتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ انجیل کی سچائی انسانی ذہانت کی محتاج نہیں۔ صلیب پر مصلوب خداوند، یہ کوئی چمکدار فلسفہ نہیں، یہ ایک جھٹکا دینے والی حقیقت ہے جسے دنیا کی عقل نے سمجھنے سے انکار کر دیا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کی حکمت کام کرتی ہے، ایسی جگہ جہاں انسانی دماغ خود بخود نہیں پہنچ سکتا۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ایمان اندھا ہے یا سوچنے سے خالی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد تمہاری ذہانت یا کسی اور کی فصاحت نہیں، بلکہ خود اللہ کا کام ہے جو اُس کے روح کے ذریعے ہوتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
یہ پورا باب صلیب کے گرد گھومتا ہے۔ صلیب وہ جگہ ہے جہاں دنیا کی حکمت اور اللہ کی حکمت آمنے سامنے آتی ہیں۔ دنیا کی نظر میں مصلوب ہونا شکست، شرمندگی، کمزوری ہے۔ لیکن یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ نے اپنی سب سے بڑی محبت اور سب سے گہری حکمت ظاہر کی۔ یہ وہی بات ہے جو خدا نے ازل سے چھپا رکھی تھی اور اب اپنے روح کے ذریعے ظاہر کر دی۔
یہاں وہ پرانا وعدہ بھی گونجتا ہے جو نبیوں نے کیا تھا، کہ ایک دن اللہ اپنے لوگوں کے اندر اپنی روح ڈالے گا تاکہ وہ اُسے جان سکیں، نہ صرف اُس کے بارے میں سنیں۔ یہ وہی ہے جو پولس بیان کر رہے ہیں۔ یہ محض معلومات کی بات نہیں، یہ تعلق کی بات ہے۔ اللہ کا روح انسان کے اندر رہتا ہے اور اُسے وہ سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے جو خود سے کبھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
تمہارے لیے
شاید تم بھی کبھی محسوس کرتے ہو کہ تمہاری بات اُس وقت تک اہمیت نہیں رکھتی جب تک تم اُسے خوبصورتی سے، یقین سے، دلیل کے ساتھ پیش نہ کرو۔ شاید تمہیں لگتا ہے کہ ایمان کے بارے میں سوال پوچھنا کمزوری ہے، یا کہ اگر تمہارے پاس ہر جواب نہیں تو تمہارا ایمان ناقص ہے۔
پولس کی بات اِس دباؤ کو ہلکا کر دیتی ہے۔ تمہیں کوئی بڑا مقرر یا فلسفی بننے کی ضرورت نہیں۔ جو چیز اصل میں بدلتی ہے وہ تمہاری چمکدار باتیں نہیں بلکہ خود اللہ کا کام تمہارے اندر ہے۔ یہ تمہیں آزاد کرتا ہے کہ تم ایمانداری سے سوال پوچھو، شک کا اظہار کرو، اور پھر بھی جانو کہ یہ سفر تمہاری عقل کی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ کے روح پر کھڑا ہے۔
ساتھ ہی یہ تمہیں چیلنج بھی کرتا ہے۔ کیا تم صلیب کو واقعی حکمت سمجھتے ہو، یا تمہارے لیے بھی وہ صرف ایک پرانی مذہبی کہانی ہے جسے تم نے کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا؟ پولس کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں اصل پہچان ہوتی ہے کہ کوئی روحانی طور پر جاگ چکا ہے یا نہیں۔
بات چیت کے لیے
کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ تمہاری بات صرف اُس وقت سنی جاتی ہے جب تم اُسے بہت ہوشیاری سے پیش کرو؟ اِس باب کی روشنی میں اِس احساس کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟
پولس کہتے ہیں کہ صلیب دنیا کی عقل کے لیے بےوقوفی لگتی ہے۔ تمہارے لیے مسیح کی صلیب حکمت ہے یا ابھی تک ایک ایسا سوال جسے تم نے پوری طرح سمجھنے کی کوشش نہیں کی؟
ساتھ دعا
اے خداوند، ہم اکثر اپنی عقل اور الفاظ پر بھروسا رکھنے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنے روح کے ذریعے وہ حکمت دکھا جو صلیب میں چھپی ہے۔ جہاں ہمارا شک ہے وہاں ہمیں ایمانداری دے، اور جہاں ہمارا غرور ہے وہاں ہمیں نرمی دے۔ ہمیں مسیح کی سوچ عطا کر۔ آمین۔
۱-کُرِنتِھیوں 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 2 کس بارے میں ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 2 کیا کہتا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان ۱-کُرِنتِھیوں 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-کُرِنتِھیوں 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
رب کی سوچ کون جان سکا ہے؟ کون اُسے تعلیم دے سکتا ہے؟‘ جواب ہے، کوئی نہیں۔ مگر پولس یہیں نہیں رُکتا۔ وہ آگے کہتا ہے، ’لیکن ہم مسیح کی سوچ رکھتے ہیں۔‘ جس خدا کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا، اُس نے خود اپنے دل کی باتیں تجھ پر کھول دیں۔ تُو اُس کے بارے میں صرف اندازے نہیں لگاتا۔ تو پھر آج کے اُلجھے ہوئے فیصلے میں ایک لمحہ رُک کر پوچھ، مسیح اِس بارے میں کیا سوچتا ہے؟
پولس کہتا ہے کہ اللہ کی یہ پوشیدہ حکمت اُس نے "دنیا کی تخلیق سے پہلے ہی ہمیں جلال دینے کے لئے مقرر کی تھی۔" ذرا ٹھہر کر سوچ: تیرے وجود سے پہلے، تیری غلطیوں سے پہلے، تیرے نام سے پہلے اللہ کے ذہن میں تیرا جلال تھا۔ اور یہ منصوبہ ایک صلیب جیسا لگا، اِسی لئے دنیا اِسے پہچان نہ سکی۔ آج بھی اللہ کی حکمت اکثر ایسی جگہوں میں چھپی ہوتی ہے جہاں تُو دیکھنا نہیں چاہتا۔
روحانی شخص ہر بات کو پرکھ سکتا ہے جبکہ وہ خود کسی سے بھی پرکھا نہیں جاتا۔“ پولس یہ بات مغرور لوگوں کے لیے نہیں لکھ رہا۔ وہ اُس شخص کی بات کر رہا ہے جس کے اندر روح القدس بستا ہے۔ دنیا اُسے سمجھ نہیں پاتی، اِس لیے اُس کے فیصلے بےوقوفی لگتے ہیں۔ کیا تُو لوگوں کی رائے سے پہلے روح کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتا ہے؟
پولس کُرِنتھس میں مقرر بن کر نہیں آیا۔ اُس نے لکھا، ”میری تعلیم اور منادی میں دانش مندی کے قائل کرنے والے الفاظ نہیں تھے بلکہ اِن میں روح اور قدرت کا اظہار تھا۔“ وہ جانتا تھا کہ خوبصورت جملے دل کو متاثر تو کر سکتے ہیں، بدل نہیں سکتے۔ آپ بھی شاید سوچتے ہیں کہ آپ کے پاس الفاظ کم ہیں۔ فکر نہ کریں۔ خدا کی روح کو آپ کی فصاحت نہیں، آپ کی دستیابی چاہئے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں