۱-پطرس 4
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
پطرس رسول یہ خط اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جو اپنے ہی معاشرے میں اجنبی بن چکے ہیں۔ وہ مسیح پر ایمان لائے، اور اُسی لمحے سے اُن کی زندگی مشکل ہو گئی۔ باب ۴ کی پہلی آیت میں وہ ایک عجیب سی بات کہتا ہے: "اب چونکہ مسیح نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا اِس لئے آپ بھی اپنے آپ کو اُس کی سی سوچ سے لیس کریں۔" لفظ "لیس کریں" فوجی زبان ہے۔ جیسے کوئی سپاہی زرہ پہنتا ہے، ویسے ہی ایمان دار کو ایک خاص ذہنیت پہننی ہے: یہ فیصلہ کہ میں تکلیف سے بھاگ کر گناہ کا آسان راستہ نہیں چنوں گا۔
پھر پطرس بےلاگ انداز میں ماضی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اُن کی پرانی زندگی کو خوبصورت نہیں بناتا: عیاشی، شہوت پرستی، نشہ بازی، شراب نوشی، رنگ رلیاں، بُت پرستی۔ اُس نے کہا کہ اُس میں کافی وقت گزر چکا، اب بس۔ اور یہاں وہ ایک ایسی بات کہتا ہے جو ہر دور میں سچ ہے: جب تم اُس دھارے میں چھلانگ لگانا بند کر دیتے ہو تو تمہارے دوست حیران ہوتے ہیں، اور پھر ناراض۔ آیت ۴ کے مطابق وہ "کفر بکتے ہیں"۔ یعنی مذاق، طعنے، اور بعض اوقات دشمنی۔ پطرس اِس حقیقت کو نرم نہیں کرتا، بلکہ اُسے ایک بڑے منظر میں رکھتا ہے: ہر انسان کو آخرکار اللہ کو جواب دینا ہے۔
آیت ۷ سے لہجہ بدلتا ہے۔ "تمام چیزوں کا خاتمہ قریب آ گیا ہے۔" کوئی سوچے گا کہ اب گھبراہٹ کی بات ہو گی، مگر پطرس بالکل سادہ ہدایات دیتا ہے: ہوش مند رہو، دعا کرو، ایک دوسرے سے لگاتار محبت رکھو، بغیر بڑبڑائے مہمان نوازی کرو، اور جو نعمت اللہ نے دی ہے اُس سے دوسروں کی خدمت کرو۔ بولنے والا ایسے بولے جیسے اللہ کے الفاظ بول رہا ہو، خدمت کرنے والا اُس طاقت سے خدمت کرے جو اللہ دیتا ہے۔ مقصد اپنی شہرت نہیں بلکہ یہ کہ اللہ کو عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے جلال ملے۔
آخری حصے میں پطرس ایذا رسانی کو "آگ" کہتا ہے۔ آگ جلاتی بھی ہے اور خالص بھی کرتی ہے۔ وہ کہتا ہے: تعجب نہ کرو، یہ سوچ کر پریشان نہ ہو کہ میرے ساتھ ہی کیوں۔ جو مسیح کے نام کی وجہ سے بےعزت ہوتا ہے وہ مبارک ہے، کیونکہ اللہ کا جلالی روح اُس پر ٹھہرا ہوا ہے۔ ساتھ ہی وہ ایک صاف شرط رکھتا ہے: تمہاری تکلیف اِس لیے نہ ہو کہ تم قاتل، چور، مجرم یا فسادی ہو۔ اور باب ایک گہری تسلی پر ختم ہوتا ہے: جو اللہ کی مرضی سے دُکھ اُٹھا رہے ہیں وہ نیکی کرنا نہ چھوڑیں بلکہ اپنی جان اُس کے حوالے کریں جو اُن کا وفادار خالق ہے۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
ہمیں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایمان زندگی کو آسان بنا دیتا ہے۔ پطرس اِس کے برعکس کہتا ہے: مسیح کے پیچھے چلنا تمہیں بعض جگہوں پر اکیلا کر دے گا۔ سب سے تکلیف دہ صورت وہ نہیں جب کوئی اجنبی مخالفت کرے، بلکہ جب وہی لوگ جن کے ساتھ تم بڑے ہوئے ہو تمہیں عجیب سمجھنے لگیں۔ پطرس اِس درد کا انکار نہیں کرتا، وہ اُسے نام دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ غیرمعمولی نہیں، یہ راستے کا حصہ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ برداشت کرنا کافی نہیں۔ پطرس ایک ایسی برادری کا نقشہ کھینچتا ہے جو دباؤ کے نیچے اور زیادہ گرم جوش ہو جاتی ہے۔ محبت، مہمان نوازی، خدمت، بغیر شکایت کے۔ کیونکہ جب باہر کی دنیا سرد ہو جائے تو کلیسیا کو گھر بننا پڑتا ہے، ورنہ ایمان دار ٹوٹ جاتے ہیں۔
اور تیسری بات: آیت ۱۷ کہتی ہے کہ عدالت اللہ کے اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ آیت خوشامد نہیں کرتی۔ خدا اپنے لوگوں کے ساتھ نرمی سے آنکھیں بند نہیں کرتا۔ وہ ہمیں سچائی میں کھڑا کرنا چاہتا ہے، اِسی لیے آزمائش کی آگ آتی ہے۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
پورا باب ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتا ہے: مسیح جس نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا۔ وہ صرف ہمارا نمونہ نہیں، وہ ہمارا نجات دہندہ ہے۔ اُس کا دُکھ گناہ کا قرض چکانے کے لیے تھا؛ ہمارا دُکھ ہمیں اُس کے ساتھ جوڑنے کے لیے۔ اِسی لیے پطرس کہتا ہے کہ ہم "مسیح کے دُکھوں میں شریک" ہوتے ہیں۔ یہ شراکت ہے، تنہائی نہیں۔
اور اِس کہانی کا اختتام صلیب پر نہیں ہوا۔ آیت ۱۳ ایک وعدہ رکھتی ہے: ایک دن مسیح کا جلال ظاہر ہو گا، اور جو آج شرمندگی اُٹھاتے ہیں وہ اُس دن خوشی منائیں گے۔ آخری آیت خدا کو "وفادار خالق" کہتی ہے۔ جس نے تمہیں بنایا وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں۔
تمہارے لیے
سب سے مشکل لمحہ عام طور پر ڈرامائی نہیں ہوتا۔ وہ اُس گروپ چیٹ میں ہوتا ہے جہاں تم جانتے ہو کہ خاموش رہنا آسان ہے۔ وہ اُس محفل میں ہوتا ہے جہاں سب ایک ہی سمت بہہ رہے ہیں اور تم فیصلہ کرتے ہو کہ چھلانگ لگاؤ گے یا نہیں۔ پطرس تم سے نہیں کہتا کہ لوگوں کو حقیر جانو۔ وہ کہتا ہے: خود کو لیس کرو۔ یعنی فیصلہ پہلے سے کر لو، دباؤ کے لمحے میں نہیں۔
دوسری بات: اپنی نعمت کو چھپا کر مت رکھو۔ تمہارے پاس کچھ ہے، کوئی صلاحیت، کوئی وقت، کوئی گہری ہمدردی۔ آیت ۱۰ کہتی ہے کہ یہ اللہ کے فضل کا انتظام ہے جسے وفاداری سے چلانا ہے۔ کلیسیا میں سب سے تنہا شخص کو ڈھونڈو اور اُس کے لیے گھر بن جاؤ۔
اور جب تمہیں مذاق کا سامنا ہو تو یہ سوال پوچھو: کیا مجھے واقعی مسیح کی وجہ سے کہا جا رہا ہے، یا میری اپنی سختی اور بدتمیزی کی وجہ سے؟ پطرس فرق کرتا ہے، اور یہ فرق ایماندارانہ خودشناسی مانگتا ہے۔ اگر بات واقعی مسیح کی ہے تو شرمندہ مت ہو۔ اپنی جان اُس کے حوالے کر دو جو وفادار خالق ہے، اور نیکی کرنا مت چھوڑو۔
بات چیت کے لیے
کون سی ایک جگہ ہے جہاں تم مسیح کے پیروکار ہونے پر خاموش رہ جاتے ہو، اور تمہارے خیال میں اصل خوف کیا ہے: مذاق، تنہائی، یا کچھ اور؟
پطرس کہتا ہے کہ عدالت اللہ کے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر آج خدا تمہارے ایمان کی سچائی کو جانچے تو وہ کیا پائے گا، اور کیا تم اُس سے بھاگتے ہو یا اُس کے سامنے کھڑے رہ سکتے ہو؟
مل کر دعا
اے وفادار خالق، تُو جانتا ہے کہ ہم کہاں کمزور پڑتے ہیں اور کہاں خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں مسیح کی سی سوچ سے لیس فرما، تاکہ ہم دباؤ میں بہہ نہ جائیں۔ ہمیں ایسی محبت دے جو دوسروں کو ڈھانپے، اور ایسی ہمت جو تیرے نام کی خاطر بےعزتی برداشت کر سکے۔ ہم اپنی جانیں تیرے حوالے کرتے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔
۱-پطرس 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-پطرس 4 کس بارے میں ہے؟
۱-پطرس 4 کیا کہتا ہے؟
۱-پطرس 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان ۱-پطرس 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-پطرس 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پطرس دُکھ اُٹھانے والے ایمان داروں کو لکھتا ہے: "اگر کوئی خدمت کرے تو اُس طاقت سے جو اللہ دیتا ہے۔" یعنی جو کچھ تُو دوسروں کے لیے کرتا ہے، وہ تیرے اپنے ذخیرے سے نہیں نکلتا۔ شاید تُو اِسی لیے تھک چکا ہے کہ اپنی طاقت سے خدمت کر رہا ہے۔ اور اِس کا انجام بھی سادہ ہے: تعریف تیری نہیں، اُس کی ہو گی۔ کیا تُو اِس پر راضی ہے؟
پطرس اُس جماعت کو لکھ رہا ہے جو دباؤ اور اذیت میں تھی، جہاں لوگ ایک دوسرے کی غلطیاں گننے لگتے ہیں۔ اُس نے کہا، ”سب سے بڑھ کر ایک دوسرے سے سرگرمی کے ساتھ محبت رکھیں، کیونکہ محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔“ محبت گناہ کا انکار نہیں کرتی، وہ اُسے مشہور کرنے سے انکار کرتی ہے۔ سوچ، تیرے دل میں کس کی خطا کی فہرست ابھی تک کھلی پڑی ہے؟
عدالت کا آغاز کہیں دور نہیں، ہمارے ہی گھر سے ہوتا ہے: "عدالت کا وقت آ گیا ہے، اور اِس کی ابتدا اللہ کے گھرانے سے ہو رہی ہے۔" پطرس ایمان داروں کی تکلیف کو سزا نہیں بلکہ چھانٹ کہتا ہے۔ باپ سب سے پہلے اپنے بچوں کو صاف کرتا ہے۔ سوچ، جو آگ تجھے آج تپا رہی ہے، کیا وہ تجھے جلانے آئی ہے یا کھرا بنانے؟
جب لوگ آپ کے بدلے ہوئے طرزِ زندگی پر ہنستے ہیں، تو پطرس آپ کو صفائی دینے کا مشورہ نہیں دیتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے، ”لیکن اُنہیں اُس خدا کو جواب دینا پڑے گا جو زندوں اور مُردوں کی عدالت کرنے کے لئے تیار ہے۔“ یعنی آپ کا مقدمہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر ایک منصف کے ہاتھ میں ہے۔ کیا اِس سے آپ کے دل کی کڑواہٹ کم ہوتی ہے؟ اور وہی عدالت آپ کی بھی ہوگی۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں