۲-سلاطِین 17
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یہ باب اسرائیل کی کہانی کا سب سے تاریک موڑ ہے۔ شمالی بادشاہی اسرائیل کا آخری بادشاہ ہوسیع تھا، اور وہ اسور کے بادشاہ کے سامنے کمزور نکلا۔ پہلے اُس نے خراج ادا کیا، پھر مصر سے خفیہ مدد مانگنے کی کوشش کی، اور اسور نے اُسے پکڑ کر قید میں ڈال دیا۔ تین سال کے محاصرے کے بعد سامریہ، اسرائیل کا دار الحکومت، گر گیا۔ پوری قوم کو جلاوطن کر کے اسور کے دور دراز علاقوں میں بکھیر دیا گیا۔ یہ کوئی اچانک سزا نہیں تھی۔ مصنف رُک کر بتاتا ہے کہ یہ سب کیوں ہوا۔ اسرائیلیوں نے رب اپنے خدا کے خلاف گناہ کیا، باوجود اِس کے کہ اُس نے اُنہیں مصر کی غلامی سے خود نکالا تھا۔ وہ دوسری قوموں کے بُتوں کی پوجا میں مگن ہو گئے، اونچی جگہوں پر مندر بنائے، یسیرت دیوی کے کھمبے کھڑے کئے، اور کچھ تو اپنے بچوں کو بھی اپنے بُتوں کے لئے جلا دیتے تھے۔ رب نے بار بار اپنے نبیوں کو بھیجا تاکہ وہ لوٹ آئیں، مگر وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ آخرکار رب نے اُنہیں اپنے حضور سے خارج کر دیا۔ باب کے دوسرے حصے میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ اسور کے بادشاہ نے دوسری قوموں کو لا کر سامریہ کے خالی شہروں میں بسا دیا۔ یہ نئے باشندے رب کی عبادت کا طریقہ نہیں جانتے تھے، اِس لئے شیرببر اُنہیں پھاڑنے لگے۔ ایک امام کو واپس بھیجا گیا تاکہ وہ اُنہیں سکھائے، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے رب کی عبادت اور اپنے پرانے بُتوں کی پوجا کو ساتھ ساتھ ملا لیا۔ یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا دین آج تک، یعنی مصنف کے زمانے تک، جاری تھا۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب صرف تاریخ کا ایک افسوسناک ریکارڈ نہیں ہے۔ یہ ایک تفصیلی وجہ بتاتا ہے، گویا خدا خود چاہتا ہے کہ ہم سمجھیں کہ یہ سب کیوں ہوا۔ خدا کا غضب اچانک نہیں بھڑکا۔ اُس نے صبر کیا، نبی بھیجے، انتباہ دیا، موقع پر موقع دیا۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ ہم آسانی سے خدا کو ایسا تصور کر لیتے ہیں جیسے وہ تھوڑی سی غلطی پر فوراً غصے میں آ جاتا ہو۔ یہ متن اُس تصویر کو رد کرتا ہے۔ خدا طویل عرصے تک برداشت کرتا رہا۔ مگر صبر لامحدود نہیں ہوتا جب انسان مسلسل، جان بوجھ کر، منہ موڑتا رہے۔ یہ باب یہ بھی دکھاتا ہے کہ بُت پرستی کبھی واضح طور پر "میں خدا کو چھوڑ رہا ہوں" کی شکل میں نہیں آتی۔ یہ آہستہ آہستہ آتی ہے، تھوڑا سا سمجھوتہ، ایک اونچی جگہ، ایک اور دیوتا شامل کر لینا، جب تک کہ اصل عبادت پہچانی ہی نہ جا سکے۔ سامریہ کے نئے باشندوں کی کہانی اِس کی بدترین مثال ہے۔ وہ رب کی عبادت بھی کرتے تھے اور اپنے دیوتاؤں کی بھی۔ یہی آمیزش، یہ ملاوٹ شدہ عبادت، خدا کی نظر میں مکمل وفاداری سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
مشترکہ دھاگہ
یہ باب اسرائیل کی بے وفائی کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے، مگر اِس کے پیچھے ایک گہری سچائی چھپی ہے۔ خدا نے یعقوب کی اولاد سے عہد باندھا تھا، اُنہیں مصر سے نکالا، اور صرف ایک شرط رکھی: صرف اُسی کی عبادت کرو۔ انسان نے بار بار یہ عہد توڑا۔ یہاں تک کہ یہوداہ بھی، جو ابھی باقی رہ گیا تھا، اُسی راستے پر چلنے لگا۔ پوری قوم کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان اپنی طاقت سے وفادار نہیں رہ سکتا۔ ہمیں کسی ایسے کی ضرورت ہے جو عہد کو مکمل طور پر نبھائے، جو کبھی اونچی جگہوں کی طرف نہ مڑے، جو کبھی دو دیوتاؤں کے بیچ نہ بٹے۔ یسوع مسیح وہی ہیں۔ جہاں اسرائیل گرا، وہاں مسیح کھڑے رہے۔ جہاں قوم نے نبیوں کی بات رد کی، وہاں باپ نے اپنے بیٹے کو بھیجا، اور اُسے بھی رد کیا گیا، صلیب پر۔ مگر یہی صلیب وہ جگہ ہے جہاں خدا کا غضب اور خدا کی وفاداری ایک ساتھ ملتے ہیں۔ اسرائیل کی جلاوطنی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ گناہ کے حقیقی نتائج ہوتے ہیں، اور مسیح کی صلیب یاد دلاتی ہے کہ خدا نے خود وہ قیمت چکائی جو ہم کبھی نہیں چکا سکتے تھے۔
تمہارے لیے
تمہاری زندگی میں شاید کوئی لکڑی یا پتھر کا بُت نہ ہو، مگر ملاوٹ شدہ عبادت بالکل موجود ہے۔ وہ وقت جب تم خدا کی بات مانتے ہو مگر ساتھ ہی کسی اور چیز کو اپنی حقیقی سیکیورٹی بنا لیتے ہو، چاہے وہ کامیابی ہو، لوگوں کی تعریف ہو، یا کوئی رشتہ۔ یہی وہ "اونچی جگہیں" ہیں جو آج بھی ہمارے دلوں میں کھڑی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تم کس حد تک مذہبی نظر آتے ہو۔ سوال یہ ہے کہ تمہاری عبادت میں کتنی چیزیں شریک ہیں۔ یہ باب ایک آئینہ ہے۔ اِس میں دیکھو کہ تمہارا دل کہاں بٹا ہوا ہے۔
بات کریں
کیا تمہاری زندگی میں کوئی ایسی "اونچی جگہ" ہے، کوئی ایسی چیز جسے تم اپنی حقیقی سیکیورٹی بنا چکے ہو، جبکہ اوپر سے تم خدا پر یقین رکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہو؟
رب نے نبیوں کے ذریعے بار بار خبردار کیا مگر قوم نے سنا نہیں۔ وہ کون سی آوازیں ہیں جن کے ذریعے خدا شاید تمہیں آج خبردار کر رہا ہے؟
اکٹھے دعا
اے خداوند، ہم اکثر اپنے دل بانٹ دیتے ہیں، تیری طرف بھی اور کسی اور چیز کی طرف بھی۔ ہمیں معاف کر دے اور ہمیں اتنی ایمانداری دے کہ ہم اپنی اونچی جگہوں کو پہچان سکیں۔ ہمیں یاد دلا کہ یسوع مسیح نے وہ وفاداری دکھائی جو ہم کبھی نہیں دکھا سکے، اور اُسی کی خاطر ہمیں معاف کر۔ آمین۔
۲-سلاطِین 17 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۲-سلاطِین 17 کس بارے میں ہے؟
۲-سلاطِین 17 کیا کہتا ہے؟
۲-سلاطِین 17 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان ۲-سلاطِین 17 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲-سلاطِین 17 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
اُنہوں نے رب اپنے خدا کے تمام احکام ترک کر دیئے“ اور پھر خالی ہاتھ نہ رہے، فوراً اپنے لئے بچھڑے ڈھال لئے۔ دل کبھی خالی نہیں رہتا۔ جس جگہ سے تُو خدا کا کلام نکال دیتا ہے، وہاں کوئی اَور چیز بیٹھ جاتی ہے، شاید دھات کی نہیں بلکہ پیسہ، عزت یا کسی کا خوف۔ آج اپنے دن پر نظر ڈال، تیرا وقت اور فکر سب سے زیادہ کس کے لئے بہہ رہے ہیں؟
لیکن اُنہوں نے نہ سنا بلکہ اپنے پرانے دستور کے مطابق زندگی گزارتے رہے۔“ اُنہیں سب کچھ بتایا گیا تھا، وہ خدا کا نام بھی لیتے تھے، مگر رہنے کا انداز وہی پرانا رہا۔ سچائی سننا اور سچائی سے بدلنا دو الگ باتیں ہیں۔ آپ کے اندر کون سا پرانا دستور ہے جو خدا کے کلام کو سن کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا؟ آج اُسے نام دیجیے، اور خدا کے سامنے رکھ دیجیے۔
سامریہ میں بسائے گئے یہ لوگ رب کا خوف بھی مانتے تھے اور اپنے دیوتاؤں کی خدمت بھی کرتے تھے۔ اور سِفارِوائم کے لوگ "اپنے بچوں کو جلا کر" اپنے دیوتاؤں کو قربان کرتے تھے۔ جھوٹے خدا ہمیشہ قیمت مانگتے ہیں، اور وہ قیمت اکثر ہمارے سب سے پیاروں سے وصول ہوتی ہے۔ ذرا سوچ، تیری کامیابی، تیرا غصہ، تیری ضد کس کو جلا رہی ہے؟
اسرائیل کی جلاوطنی اچانک نہیں آئی۔ اُس سے پہلے صدیوں کی آوازیں تھیں: "رب نے اسرائیل اور یہوداہ کو اپنے تمام نبیوں اور غیب بینوں کی معرفت بار بار آگاہ کیا۔" بار بار۔ یہی لفظ سب سے زیادہ چبھتا ہے۔ خدا کے فیصلے سے پہلے اُس کا صبر ہوتا ہے۔
سوچ، تیری زندگی میں وہ کون سی بات ہے جو تُو کئی بار سن چکا ہے اور ہر بار ٹال دیا ہے؟ اُس کی آواز کا بار بار آنا سختی نہیں، رحم ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں