مرقس 14
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
مرقس کا چودھواں باب ایک ایسی رات کی کہانی ہے جس میں محبت اور غداری، سچائی اور دھوکا، ایمان اور کمزوری ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ فسح کی عید قریب ہے اور راہنما امام خفیہ طور پر عیسیٰ کو قتل کرنے کا موقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ اِسی دوران بیت عنیاہ میں ایک عورت آتی ہے اور نہایت قیمتی عطر عیسیٰ کے سر پر ڈال دیتی ہے، ایک کام جو دوسروں کو فضول لگتا ہے مگر عیسیٰ اُسے اپنی تدفین کی تیاری کہتے ہیں۔ پھر یہوداہ، بارہ شاگردوں میں سے ایک، عیسیٰ کو پیسوں کے عوض دشمنوں کے حوالے کرنے کا سودا کر لیتا ہے۔
فسح کے کھانے پر عیسیٰ روٹی توڑ کر کہتے ہیں، ”یہ میرا بدن ہے،“ اور مَے کا پیالہ دے کر کہتے ہیں، ”یہ میرا خون ہے، نئے عہد کا وہ خون جو بہتوں کے لئے بہایا جاتا ہے۔“ وہ صاف بتا دیتے ہیں کہ ایک شاگرد اُنہیں دھوکا دے گا اور پطرس بھی، جو سب سے زیادہ اعتماد سے دعویٰ کرتا ہے، اُنہیں تین بار جاننے سے انکار کر دے گا۔
باغِ گتسمنی میں عیسیٰ کی تکلیف کھل کر سامنے آتی ہے۔ وہ زمین پر گر کر دعا کرتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو یہ دُکھ کا پیالہ ٹل جائے، مگر ساتھ ہی کہتے ہیں، ”میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“ شاگرد جاگ نہیں سکتے، سو جاتے ہیں، اور آخر میں یہوداہ ایک بوسے سے عیسیٰ کی شناخت کروا دیتا ہے۔ سب شاگرد بھاگ جاتے ہیں۔ امامِ اعظم کے سامنے عیسیٰ پر جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں مگر وہ خاموش رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب سیدھا پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ مسیح ہیں، تو وہ جواب دیتے ہیں، ”جی، مَیں ہوں۔“ یہی جواب اُن کی موت کی سزا کا فیصلہ بن جاتا ہے۔ باہر صحن میں پطرس تین بار انکار کرتا ہے، اور مرغ کی بانگ کے ساتھ وہ رو پڑتا ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب کسی خیالی ہیرو کی کہانی نہیں ہے۔ یہاں ہر انسان اپنی حقیقی شکل میں نظر آتا ہے۔ یہوداہ کا لالچ، شاگردوں کی نیند، پطرس کی جھوٹی خودمختاری، سب کچھ ایسا ہے جو ہمارے اندر بھی موجود ہے۔ ہم بھی بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم کبھی دھوکا نہیں دیں گے، مگر جب دباؤ آتا ہے تو ہماری زبان بدل جاتی ہے۔ یہی پطرس کے ساتھ ہوا۔
مگر اِس باب کا مرکز عیسیٰ کی سچی انسانیت ہے۔ وہ گھبراتے ہیں، بےقرار ہوتے ہیں، اُن کا دل دُکھ سے دبا ہوا ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ سچائی ہے۔ عیسیٰ ڈرامہ نہیں کر رہے، وہ واقعی موت کے قریب کھڑے ہو کر خوفزدہ ہیں۔ اور پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ باپ کی مرضی پوری ہو۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فرمانبرداری کا اصل مطلب سامنے آتا ہے، نہ یہ کہ خوف نہ ہو، بلکہ یہ کہ خوف کے باوجود اعتماد قائم رہے۔
مشترکہ کڑی
یہ کھانا کوئی عام رات کا کھانا نہیں تھا۔ فسح کی عید یاد دلاتی تھی کہ اللہ نے اپنی قوم کو غلامی سے آزاد کیا تھا، اُس رات جب ایک لیلے کا خون گھر کے دروازوں پر لگایا گیا تھا۔ عیسیٰ اُس پرانی کہانی کو نئے معنی دیتے ہیں۔ وہ خود وہ لیلا بن جاتے ہیں جس کا خون بہایا جاتا ہے، مگر اِس دفعہ آزادی گناہ اور موت سے ملتی ہے۔ ”نئے عہد کا خون“ کا اعلان یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہمیشہ سے وعدہ کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی قوم سے نیا رشتہ باندھے گا، ایک ایسا رشتہ جو ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑ سکے۔
گتسمنی میں عیسیٰ کی دعا بھی اِس بڑی کہانی کا حصہ ہے۔ کلامِ مُقدّس پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ چرواہا مارا جائے گا اور بھیڑیں تتر بتر ہو جائیں گی۔ عیسیٰ جانتے ہیں کہ وہ خود وہ چرواہا ہیں۔ اُن کی موت کوئی حادثہ نہیں، بلکہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اللہ نے ہمیشہ سے انسان کو بچانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
آپ کے لیے
شاید آپ کبھی سوچتے ہوں کہ سچا ایمان یہ ہے کہ آپ کبھی نہ ڈریں، کبھی شک نہ کریں، کبھی کمزور نہ ہوں۔ اِس باب میں عیسیٰ خود ثابت کرتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ خوف اور دعا ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ درد اصلی ہے، اور پھر بھی اللہ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
پطرس کی کہانی بھی آپ کے لیے ہے۔ وہ سب سے زیادہ اعتماد سے بولنے والا شاگرد تھا، اور وہی سب سے زیادہ ناکام ہوا۔ اگر آپ نے کبھی اپنے ایمان کے بارے میں بڑی باتیں کی ہوں اور پھر خاموش رہے جب آپ کے دوستوں نے آپ کے مسیحی ہونے کا مذاق اُڑایا، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اِس کہانی کا اختتام یہ نہیں ہے کہ پطرس ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ رہا، بلکہ یہ کہ اُس نے رو کر اپنی غلطی کو تسلیم کیا۔ یہی راستہ آپ کے لیے بھی کھلا ہے۔
اِس پر بات کریں
کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے یقین دلایا کہ آپ کبھی کمزور نہیں پڑیں گے، اور پھر جب موقع آیا تو آپ نے مختلف طریقے سے ردعمل دیا؟ اُس وقت آپ نے کیا سیکھا؟
عیسیٰ گتسمنی میں کہتے ہیں کہ اُن کی روح تیار ہے مگر جسم کمزور۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ خوف اور اعتماد ایک ساتھ ہو سکتے ہیں، یا کیا آپ سوچتے تھے کہ ایمان کا مطلب ہے کبھی نہ ڈرنا؟
مل کر دعا
اے خدا، ہم اکثر بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں اور پھر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں سکھا کہ اپنی کمزوری کو تسلیم کریں، جس طرح آپ کے بیٹے نے گتسمنی میں کیا۔ ہمیں یہ ہمت دے کہ ہم اپنی مرضی نہیں بلکہ آپ کی مرضی چاہیں، چاہے راستہ مشکل ہو۔ اور جب ہم گر جائیں، جیسے پطرس گرا، ہمیں دوبارہ اُٹھنے کا راستہ دکھا۔ آمین۔
مرقس 14 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
مرقس 14 کس بارے میں ہے؟
مرقس 14 کیا کہتا ہے؟
مرقس 14 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان مرقس 14 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مرقس 14 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پیالہ اُن ہاتھوں میں تھما جو چند گھنٹوں بعد اُسے چھوڑ کر بھاگنے والے تھے۔ یسوع جانتا تھا، پھر بھی کہا، "یہ میرا خون ہے، عہد کا وہ خون جو بہتوں کے لئے بہایا جاتا ہے۔" وہ تیری وفاداری دیکھ کر نہیں، اپنی محبت دیکھ کر بہایا گیا۔ کیا تُو آج بھی سوچتا ہے کہ پہلے خود کو لائق بنا لے، پھر اُس کی میز پر بیٹھے؟
یہوداہ نے پہچان کے لیے کوئی اشارہ، کوئی نام، کوئی انگلی نہیں چنی۔ اُس نے کہا، ”جس کو مَیں بوسہ دوں گا وہی ہے۔“ محبت کی سب سے نرم علامت کو اُس نے گرفتاری کا ہتھیار بنا دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں سب سے گہرا زخم اُنہی سے ملتا ہے جو ہمارے قریب بیٹھے ہوں۔ اور یسوع نے اُس بوسے سے منہ نہ پھیرا۔
عدالت پہلے فیصلہ کر چکی تھی، اب صرف ثبوت کی تلاش باقی تھی۔ ”لیکن کوئی نہ ملی۔“ سوچیں، اُس کے دشمنوں نے پوری رات اُس کی زندگی کھنگالی اور ایک بھی داغ نہ ملا۔ جس بےقصور کو ہم پر الزام لگانے کا پورا حق تھا، وہ خاموش کھڑا رہا تاکہ آپ کے قصور کی سزا خود اُٹھا لے۔
ایک لمحہ پہلے ایک عورت نے قیمتی عطر انڈیل کر سب کچھ لُٹا دیا تھا، اور اب یہوداہ سودا کر رہا ہے: ”یہ سن کر وہ خوش ہوئے اور اُسے پیسے دینے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ یہوداہ اُسے پکڑوانے کا موقع ڈھونڈنے لگا۔“ غور کر، وہ فوراً نہیں، بلکہ موقع ڈھونڈتا رہا۔ گناہ اکثر جلدباز نہیں، صبر سے منصوبہ بناتا ہے۔ تُو آج کس چیز کا موقع ڈھونڈ رہا ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں