مرقس 4
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
عیسیٰ جھیل کے کنارے کھڑے ہیں، اتنی بھیڑ جمع ہو چکی ہے کہ آپ کشتی میں بیٹھ کر تعلیم دیتے ہیں۔ آپ ایک کسان کی تمثیل سناتے ہیں: کچھ بیج راستے پر گر کر پرندوں کی خوراک بن جاتا ہے، کچھ پتھریلی زمین پر اُگ تو آتا ہے مگر جڑ نہ پکڑنے کے باعث سوکھ جاتا ہے، کچھ کانٹوں میں دبا رہ جاتا ہے، اور کچھ زرخیز زمین میں گر کر تیس، ساٹھ بلکہ سو گنا پھل لاتا ہے۔ بعد میں شاگرد پوچھتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے، اور عیسیٰ خود وضاحت فرماتے ہیں: بیج اللہ کا کلام ہے، زمین وہ دل ہیں جو یہ کلام سنتے ہیں۔ کچھ دل سنتے ہی بھول جاتے ہیں، کچھ خوشی سے قبول کرتے ہیں مگر مصیبت آتے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں، کچھ دنیا کی پریشانیوں اور دولت کے فریب میں کلام کو دبا دیتے ہیں، اور کچھ واقعی پھل لاتے ہیں۔
اس کے بعد عیسیٰ چراغ اور رائی کے دانے کی تمثیلیں سناتے ہیں: جو پوشیدہ ہے وہ ظاہر ہو جائے گا، اور جو چیز چھوٹی شروع ہوتی ہے وہ بڑی بن جاتی ہے۔ باب کے آخر میں طوفان کا واقعہ ہے۔ عیسیٰ کشتی میں سو رہے ہیں، اچانک سخت آندھی آتی ہے، شاگرد گھبرا کر آپ کو جگاتے ہیں، اور عیسیٰ محض ایک حکم سے ہوا اور پانی کو خاموش کر دیتے ہیں۔ شاگرد ڈرے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، "آخر یہ کون ہے؟"
اِس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب دراصل ایک سوال پوچھتا ہے جو تمہاری زندگی سے بھی جڑا ہے: جب تم کوئی بات سنتے ہو، خاص طور پر خدا کی بات، تو اُس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ عیسیٰ یہ نہیں کہتے کہ بیج، یعنی کلام، کمزور ہے۔ مسئلہ زمین کا ہے، یعنی سننے والے کے دل کا۔ کچھ لوگ سنتے ہیں مگر بات اُن کے اندر جڑ نہیں پکڑتی، شاید اس لئے کہ زندگی مصروف ہے، یا مشکل آتے ہی ایمان ماند پڑ جاتا ہے، یا کامیابی اور دولت کی دوڑ زیادہ حقیقی لگتی ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں، یہ بالکل آج کی بات ہے۔ تمہیں بھی بہت کچھ سننے کو ملتا ہے، سوشل میڈیا پر، دوستوں سے، خود اپنے آپ سے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا خدا بولتا ہے، سوال یہ ہے کہ تم کس قسم کی زمین بننے دیتے ہو۔
طوفان کا واقعہ اسی سوال کو ایک قدم آگے لے جاتا ہے۔ شاگرد خوفزدہ ہیں، اور عیسیٰ کا سوال تیز ہے: "تم کیوں گھبراتے ہو؟ کیا تم ابھی تک ایمان نہیں رکھتے؟" یہ سوال آرام دہ نہیں، یہ کھرا ہے۔ ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ طوفان کبھی نہیں آئے گا، بلکہ یہ کہ طوفان کے دوران بھی عیسیٰ کشتی میں موجود ہیں۔
مشترکہ کڑی
یہ پورا باب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: اللہ کی بادشاہی چھپے طور پر، آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر پھیلتی ہے، بالکل رائی کے دانے کی طرح جو چھوٹا شروع ہوتا ہے اور بڑا بن جاتا ہے۔ یہ وہی بادشاہی ہے جس کا اعلان عیسیٰ اپنی زندگی، موت اور جی اُٹھنے سے کرتے ہیں۔ اور آخری منظر، جھیل پر طوفان کا تھمنا، دراصل بتاتا ہے کہ یہ عیسیٰ کوئی عام استاد نہیں۔ پرانے عہد نامے میں صرف خدا کے پاس سمندر اور طوفان پر اختیار تھا۔ جب عیسیٰ ہوا اور جھیل کو حکم دیتے ہیں تو شاگردوں کا سوال، "آخر یہ کون ہے؟"، دراصل پورے باب کا مرکز ہے۔ یہ باب صرف کھیتی اور طوفان کی باتیں نہیں، یہ بتا رہا ہے کہ خدا خود انسانی جسم میں، ایک کشتی میں بیٹھا ہے۔
آپ کے لئے
تم شاید ایسی زمین بن چکے ہو جہاں بہت کچھ اُگتا ہے مگر بہت جلد سوکھ بھی جاتا ہے۔ کبھی وجہ مصروفیت ہوتی ہے، کبھی مذاق یا تنقید کا ڈر، کبھی یہ خواہش کہ زندگی میں سب کچھ ٹھیک اور کنٹرول میں لگے۔ اس باب کی ایمانداری یہ ہے کہ یہ تمہیں شرمندہ نہیں کرتا، بلکہ سوال کرتا ہے: کیا تمہاری زندگی میں کچھ جگہ ایسی ہے جہاں خدا کی بات کو واقعی جڑ پکڑنے کا وقت اور موقع ملتا ہے؟ یہ کوئی فوری حل نہیں، یہ ایک عادت ہے، بار بار سننے، سوچنے اور رکنے کی عادت۔ اور جب زندگی میں طوفان آئے، امتحان کا دباؤ ہو، تعلقات ٹوٹ جائیں، اکیلا پن محسوس ہو، تو یاد رکھو کہ عیسیٰ کا سوال شاگردوں سے آج بھی وہی ہے: تمہارا خوف اتنا بڑا کیوں لگتا ہے کہ ایمان اُس میں کھو جائے؟ یہ سوال تمہیں کمزور ثابت کرنے کے لئے نہیں پوچھا جاتا، بلکہ اس لئے کہ تم دوبارہ دیکھو کہ کشتی میں کون بیٹھا ہے۔
بات چیت کے لئے
تمہاری زندگی میں فی الحال کون سی زمین کے حالات کلام کی نشوونما کو روک رہے ہیں، مصروفیت، خوف، یا کامیابی کی دوڑ؟
جب عیسیٰ شاگردوں سے پوچھتے ہیں، "کیا تم ابھی تک ایمان نہیں رکھتے؟"، تمہارے اپنے طوفانوں میں یہ سوال تمہیں کیا جواب دینے پر مجبور کرتا ہے؟
مل کر دعا
اے خداوند یسوع مسیح، ہمارے دل اکثر پتھریلی زمین یا کانٹوں بھری زمین جیسے بن جاتے ہیں۔ ہمیں ایسی زمین بنا دیجئے جو آپ کے کلام کو جڑ پکڑنے دے۔ جب طوفان آئیں تو ہمیں یاد دلائیے کہ آپ کشتی میں ہمارے ساتھ ہیں۔ آمین۔
مرقس 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
مرقس 4 کس بارے میں ہے؟
مرقس 4 کیا کہتا ہے؟
مرقس 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان مرقس 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مرقس 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
کسان بیج بو کر اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے، "رات کو وہ سو جاتا اور دن کو جاگتا ہے، اور اِس دوران بیج اُگتا اور بڑھتا رہتا ہے، گو کسان نہیں جانتا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے۔" سب سے بڑا کام اُس وقت ہوتا ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے۔ تُو نے دعا کی، بات کی، محبت دکھائی۔ اب سو جا۔ خدا زمین کے اندھیرے میں کام کر رہا ہے، تیری بےخبری اُس کو نہیں روکتی۔
یسوع نے خود کہا تھا، ”آؤ، ہم جھیل کے پار چلیں۔“ اور اُسی راستے پر آندھی آ گئی۔ سوچنے کی بات ہے: طوفان ہمیشہ اِس کا ثبوت نہیں ہوتا کہ تُو غلط جگہ پر ہے۔ کبھی کبھی وہ عین اُس راہ پر ملتا ہے جس پر خداوند نے تجھے بھیجا۔ کشتی پانی سے بھر رہی تھی، مگر وہ اُسی کشتی میں تیرے ساتھ تھا۔
بونے والا اللہ کا کلام بوتا ہے۔" یسوع نے تمثیل کھولی تو سب سے پہلے بیج کی وضاحت کی، مٹی کی نہیں۔ بیج ہر جگہ ایک ہی ہے، راستے پر بھی، پتھریلی زمین پر بھی۔ فرق زمین میں ہے، بیج میں نہیں۔
تو آج جب کلام سنتے ہوئے دل ٹھنڈا رہے، سوال یہ نہیں کہ خدا نے کم دیا، بلکہ یہ کہ میری زمین کیسی ہو گئی ہے۔ کیا کوئی سختی ہے جسے ہل چلانے کی ضرورت ہے؟
یسوع خود ٹھہر کر سوچتے ہیں: ”ہم اللہ کی بادشاہی کو کیا قرار دیں؟ یا ہم اُسے کس تمثیل سے بیان کریں؟“ جو سب کچھ جانتا ہے وہ سوال پوچھ رہا ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہر تصویر سے بڑی ہے۔ اور پھر وہ سب سے چھوٹا بیج چنتے ہیں۔ شاید آج تیری زندگی میں بھی بادشاہی اُسی چھوٹی، نظرانداز کی گئی چیز میں چھپی ہو جسے تُو ناکافی سمجھ کر پھینکنے والا ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں