7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

مرقس 4

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

عبارت کی وضاحت

عیسیٰ جھیل کے کنارے کھڑے تھے اور اتنے لوگ جمع ہو گئے کہ آپ کشتی میں بیٹھ کر تعلیم دینے لگے۔ آپ نے تمثیلوں میں بات کی، یعنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں جن کے پیچھے گہری بات چھپی ہوتی ہے۔ پہلی کہانی ایک کسان کی ہے جو بیج بوتا ہے۔ کچھ بیج راستے پر گر کر پرندے کھا جاتے ہیں، کچھ پتھریلی زمین پر جل جاتے ہیں، کچھ کانٹوں میں دبے رہ جاتے ہیں، مگر کچھ زرخیز زمین میں گر کر بہت پھل لاتے ہیں۔ عیسیٰ نے بعد میں شاگردوں کو بتایا کہ بیج اللہ کا کلام ہے اور مختلف زمینیں مختلف قسم کے دل ہیں۔ کچھ دل کلام سنتے ہی بھول جاتے ہیں، کچھ خوشی سے قبول کرتے ہیں مگر مشکل آتے ہی چھوڑ دیتے ہیں، کچھ کو دنیا کی پریشانیاں اور لالچ نگل جاتی ہیں، اور کچھ دل حقیقتاً کلام کو تھام لیتے ہیں اور پھل لاتے ہیں۔

پھر عیسیٰ نے چراغ کی بات کی جسے چھپایا نہیں جاتا بلکہ شمع دان پر رکھا جاتا ہے تاکہ روشنی پھیلے۔ اس کے بعد ایک اور تمثیل، بیج خودبخود بڑھتا ہے، کسان کو سمجھ نہیں آتی کیسے، مگر فصل تیار ہو جاتی ہے۔ آخر میں رائی کے دانے کی مثال ہے، جو سب بیجوں میں چھوٹا ہے مگر بڑھ کر بڑا درخت بن جاتا ہے جس میں پرندے گھونسلے بناتے ہیں۔

باب کے آخر میں ایک اور منظر ہے۔ شام کو عیسیٰ اور شاگرد کشتی میں جھیل کے پار جا رہے تھے۔ اچانک سخت آندھی آئی، لہریں کشتی میں پانی بھرنے لگیں، مگر عیسیٰ سو رہے تھے۔ شاگردوں نے ڈر کر آپ کو جگایا۔ عیسیٰ نے آندھی کو ڈانٹا اور جھیل کو کہا خاموش ہو جا، اور فوراً سب ساکت ہو گیا۔ پھر آپ نے شاگردوں سے پوچھا کیوں گھبراتے ہو، کیا تمہارا ایمان اب تک نہیں؟ شاگرد ڈر گئے اور سوچنے لگے کہ یہ کون ہے جس کا حکم ہوا اور جھیل بھی مانتی ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے؟

یہ باب سوال پوچھتا ہے، تم کلام کیسے سنتے ہو؟ کیا تمہارا دل راستے جیسا ہے، پتھریلا، کانٹوں والا، یا زرخیز؟ عیسیٰ یہ نہیں کہتے کہ سننے والے ہمیشہ اچھے ہی نکلیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دل کلام کو تھام نہیں پاتے۔ یہ بات آرام دہ نہیں مگر سچی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ باب یہ بھی دکھاتا ہے کہ اللہ کی بادشاہی چھوٹے اور خفیہ طریقوں سے بڑھتی ہے، ایک چھوٹے دانے کی طرح جو خود بخود پھوٹتا ہے۔ ہم اسے بنا نہیں سکتے، مگر اللہ اسے بڑھاتا ہے۔

طوفان کا واقعہ ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے۔ شاگرد سالوں سے ماہی گیر تھے، پھر بھی ڈر گئے۔ عیسیٰ نے انہیں نہیں ڈانٹا کہ وہ ڈرے، بلکہ پوچھا کیا ایمان نہیں؟ یہ سوال ہمیں بھی چھو جاتا ہے۔

سلسلہ

یہ باب یسوع مسیح کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھاتا ہے جو صرف باتیں نہیں کرتا بلکہ خود اللہ کی بادشاہی کا بیج بونے والا ہے۔ جب وہ ہوا اور جھیل کو حکم دیتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں، تو شاگرد پوچھتے ہیں یہ کون ہے۔ پرانے عہد نامے میں صرف اللہ ہی سمندر کو حکم دے سکتا تھا۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ میں وہی طاقت ہے۔ رائی کے دانے کی تمثیل بھی اللہ کے وعدے کی طرح ہے، چھوٹی شروعات سے بڑی چیز نکلے گی، وعدہ یعنی خدا کا وہ کلام جو ضرور پورا ہوتا ہے۔

تمہارے لیے

جب تم کلام پاک سنتے یا پڑھتے ہو، سوچو کہ اس وقت تمہارا دل کیسی زمین ہے۔ کبھی ہم بھی جلدی خوش ہو جاتے ہیں پھر مشکل آتے ہی چھوڑ دیتے ہیں، یا کوئی اور چیز، کھیل، فون، خواہش، دل میں کلام کو دبا دیتی ہے۔ یہ ایمانداری سے تسلیم کرنا اچھا ہے۔ اور جب زندگی میں طوفان آئے، اسکول کا دباؤ، گھر کی پریشانی، ڈر، تو یاد رکھو کہ عیسیٰ کشتی میں موجود تھے، سو رہے تھے مگر بے پروا نہیں تھے۔ تم بھی اسے جگا سکتے ہو، یعنی دعا میں پکار سکتے ہو۔

بات چیت کریں

تمہارے خیال میں تمہارا دل اس وقت کون سی زمین جیسا ہے، اور کیوں؟

شاگرد ڈرے ہوئے تھے حالانکہ عیسیٰ ساتھ تھے۔ تمہیں کب ایسا لگا ہے کہ خدا خاموش ہے؟

دعا

اے خداوند یسوع مسیح، ہمارے دلوں کو زرخیز زمین بنا دیں تاکہ آپ کا کلام ہم میں پھل لائے۔ جب طوفان آئیں، ہمیں یاد دلائیں کہ آپ ساتھ ہیں، اور ہمارے ایمان کو مضبوط کریں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

مرقس 4 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

مرقس 4 کس بارے میں ہے؟
عیسیٰ جھیل کے کنارے کھڑے تھے اور اتنے لوگ جمع ہو گئے کہ آپ کشتی میں بیٹھ کر تعلیم دینے لگے۔ آپ نے تمثیلوں میں بات کی، یعنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں جن کے پیچھے گہری بات چھپی ہوتی ہے۔ پہلی کہانی ایک کسان کی ہے جو بیج بوتا ہے۔ کچھ بیج راستے پر گر کر پرندے کھا جاتے ہیں، کچھ پتھریلی زمین پر جل جاتے ہیں، کچھ کانٹوں میں دبے رہ جاتے ہیں، مگر کچھ زرخیز زمین میں گر کر بہت پھل لاتے ہیں۔ عیسیٰ نے بعد میں شاگردوں کو بتایا کہ بیج اللہ کا کلام ہے اور مختلف زمینیں مختلف قسم کے دل ہیں۔ کچھ دل کلام سنتے ہی بھول جاتے ہیں، کچھ خوشی سے قبول کرتے ہیں مگر مشکل آتے ہی چھوڑ دیتے ہیں، کچھ کو دنیا کی پریشانیاں اور لالچ نگل جاتی ہیں، اور کچھ دل حقیقتاً کلام کو تھام لیتے ہیں اور پھل لاتے ہیں۔
مرقس 4 کیا کہتا ہے؟
پھر عیسیٰ نے چراغ کی بات کی جسے چھپایا نہیں جاتا بلکہ شمع دان پر رکھا جاتا ہے تاکہ روشنی پھیلے۔ اس کے بعد ایک اور تمثیل، بیج خودبخود بڑھتا ہے، کسان کو سمجھ نہیں آتی کیسے، مگر فصل تیار ہو جاتی ہے۔ آخر میں رائی کے دانے کی مثال ہے، جو سب بیجوں میں چھوٹا ہے مگر بڑھ کر بڑا درخت بن جاتا ہے جس میں پرندے گھونسلے بناتے ہیں۔
مرقس 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
باب کے آخر میں ایک اور منظر ہے۔ شام کو عیسیٰ اور شاگرد کشتی میں جھیل کے پار جا رہے تھے۔ اچانک سخت آندھی آئی، لہریں کشتی میں پانی بھرنے لگیں، مگر عیسیٰ سو رہے تھے۔ شاگردوں نے ڈر کر آپ کو جگایا۔ عیسیٰ نے آندھی کو ڈانٹا اور جھیل کو کہا خاموش ہو جا، اور فوراً سب ساکت ہو گیا۔ پھر آپ نے شاگردوں سے پوچھا کیوں گھبراتے ہو، کیا تمہارا ایمان اب تک نہیں؟ شاگرد ڈر گئے اور سوچنے لگے کہ یہ کون ہے جس کا حکم ہوا اور جھیل بھی مانتی ہے۔
بچے مرقس 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یہ باب سوال پوچھتا ہے، تم کلام کیسے سنتے ہو؟ کیا تمہارا دل راستے جیسا ہے، پتھریلا، کانٹوں والا، یا زرخیز؟ عیسیٰ یہ نہیں کہتے کہ سننے والے ہمیشہ اچھے ہی نکلیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دل کلام کو تھام نہیں پاتے۔ یہ بات آرام دہ نہیں مگر سچی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ باب یہ بھی دکھاتا ہے کہ اللہ کی بادشاہی چھوٹے اور خفیہ طریقوں سے بڑھتی ہے، ایک چھوٹے دانے کی طرح جو خود بخود پھوٹتا ہے۔ ہم اسے بنا نہیں سکتے، مگر اللہ اسے بڑھاتا ہے۔
مرقس 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
طوفان کا واقعہ ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے۔ شاگرد سالوں سے ماہی گیر تھے، پھر بھی ڈر گئے۔ عیسیٰ نے انہیں نہیں ڈانٹا کہ وہ ڈرے، بلکہ پوچھا کیا ایمان نہیں؟ یہ سوال ہمیں بھی چھو جاتا ہے۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 27

کسان بیج بو کر اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے، "رات کو وہ سو جاتا اور دن کو جاگتا ہے، اور اِس دوران بیج اُگتا اور بڑھتا رہتا ہے، گو کسان نہیں جانتا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے۔" سب سے بڑا کام اُس وقت ہوتا ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے۔ تُو نے دعا کی، بات کی، محبت دکھائی۔ اب سو جا۔ خدا زمین کے اندھیرے میں کام کر رہا ہے، تیری بےخبری اُس کو نہیں روکتی۔

بصیرت ادارتی کو آیت 37

یسوع نے خود کہا تھا، ”آؤ، ہم جھیل کے پار چلیں۔“ اور اُسی راستے پر آندھی آ گئی۔ سوچنے کی بات ہے: طوفان ہمیشہ اِس کا ثبوت نہیں ہوتا کہ تُو غلط جگہ پر ہے۔ کبھی کبھی وہ عین اُس راہ پر ملتا ہے جس پر خداوند نے تجھے بھیجا۔ کشتی پانی سے بھر رہی تھی، مگر وہ اُسی کشتی میں تیرے ساتھ تھا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 14

بونے والا اللہ کا کلام بوتا ہے۔" یسوع نے تمثیل کھولی تو سب سے پہلے بیج کی وضاحت کی، مٹی کی نہیں۔ بیج ہر جگہ ایک ہی ہے، راستے پر بھی، پتھریلی زمین پر بھی۔ فرق زمین میں ہے، بیج میں نہیں۔

تو آج جب کلام سنتے ہوئے دل ٹھنڈا رہے، سوال یہ نہیں کہ خدا نے کم دیا، بلکہ یہ کہ میری زمین کیسی ہو گئی ہے۔ کیا کوئی سختی ہے جسے ہل چلانے کی ضرورت ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 30

یسوع خود ٹھہر کر سوچتے ہیں: ”ہم اللہ کی بادشاہی کو کیا قرار دیں؟ یا ہم اُسے کس تمثیل سے بیان کریں؟“ جو سب کچھ جانتا ہے وہ سوال پوچھ رہا ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہر تصویر سے بڑی ہے۔ اور پھر وہ سب سے چھوٹا بیج چنتے ہیں۔ شاید آج تیری زندگی میں بھی بادشاہی اُسی چھوٹی، نظرانداز کی گئی چیز میں چھپی ہو جسے تُو ناکافی سمجھ کر پھینکنے والا ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network