نحمیاہ 13
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
نحمیاہ 13 کی تشریح
The Explanation
یہ باب ایک ایسی کہانی ہے جو تعمیرِ فصیل کی خوشی کے کچھ عرصے بعد کی ہے۔ نحمیاہ بادشاہ کے دربار واپس چلا گیا تھا، لیکن جب وہ دوبارہ یروشلم آیا تو اُس نے دیکھا کہ سب کچھ بگڑ چکا ہے۔ امامِ اعظم اِلیاسب نے اپنے رشتے دار طوبیاہ کو، جو اسرائیل کا دشمن تھا، رب کے گھر کے اُس کمرے میں رہائش دے دی تھی جہاں پہلے قربانیوں کا سامان اور لاویوں کا حصہ رکھا جاتا تھا۔ سوچیں، خدا کی عبادت گاہ کے وسط میں ایک ایسے شخص کا سامان جو اُس قوم کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔ نحمیاہ کو یہ دیکھ کر اِتنا غصہ آیا کہ اُس نے طوبیاہ کا سارا سامان اپنے ہاتھوں سے باہر پھینک دیا۔
اِس کے علاوہ نحمیاہ کو معلوم ہوا کہ لاویوں اور گلوکاروں کو اُن کا حق نہیں مل رہا تھا، اِس لئے وہ رب کے گھر کی خدمت چھوڑ کر اپنے کھیتوں میں کام کرنے لگے تھے۔ نحمیاہ نے اِس بےترتیبی کو ٹھیک کیا اور ذمہ دار، قابلِ اعتماد لوگوں کو گوداموں پر مقرر کیا۔ پھر اُس نے دیکھا کہ لوگ سبت کے دن، جو خدا نے آرام اور عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا، عام دنوں کی طرح کاروبار کر رہے تھے۔ نحمیاہ نے دروازے بند کروا دیئے اور سختی سے تنبیہ کی۔
سب سے تلخ بات آخر میں آتی ہے۔ کئی یہودی مردوں نے غیرقوموں کی عورتوں سے شادیاں کر لی تھیں، یہاں تک کہ اُن کے بچے اپنی قوم کی زبان تک بھول چکے تھے۔ نحمیاہ کا ردِعمل شدید تھا۔ اُس نے اُنہیں جھڑکا، لعنت بھیجی، بعض کو مارا پیٹا اور اُن سے قَسم لی۔ باب ختم ہوتا ہے نحمیاہ کی ایک دعا پر، بار بار وہ کہتا ہے، ”اے میرے خدا، مجھے یاد کر۔“
What Does This Mean?
یہ باب سکھاتا ہے کہ ایمان کبھی ایک بار کا فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ روز کی جنگ ہے۔ یروشلم کی فصیل بن چکی تھی، عبادت دوبارہ شروع ہو چکی تھی، لوگوں نے خدا سے وعدہ بھی کیا تھا۔ اور پھر بھی، جیسے ہی نحمیاہ کی نظر ہٹی، سب کچھ بکھرنے لگا۔ یہ حقیقت پسندانہ ہے۔ کوئی بھی روحانی زندگی خودکار طور پر برقرار نہیں رہتی۔ غفلت، سمجھوتہ اور آسانی کی طرف رجحان انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
نحمیاہ کا غصہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن وہ کسی ذاتی تکبر سے نہیں بلکہ اِس درد سے آتا ہے کہ خدا کی مقدس چیزیں بےحرمت ہو رہی ہیں۔ سبت کی حرمت، عبادت گاہ کی پاکیزگی، قوم کی شناخت، یہ سب اُس کے نزدیک کھلونے نہیں تھے۔ اُس کی سختی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمارے دلوں میں بھی کبھی ایسی سنجیدگی ہوتی ہے، یا ہم ہر چیز کو ہلکا لے لیتے ہیں۔
The Common Thread
نحمیاہ باربار کہتا ہے، ”اے میرے خدا، مجھے یاد کر۔“ یہ ایک ٹوٹا ہوا آدمی کی دعا ہے جو جانتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ خدا اُس کی وفاداری کو دیکھے۔ یہ پوری کتاب کا مرکز ہے۔ انسان بار بار ناکام ہوتا ہے، شادیاں غلط ہوتی ہیں، سبت کی بےحرمتی ہوتی ہے، امام خود سمجھوتہ کرتے ہیں، اور پھر بھی خدا اپنی قوم کو چھوڑتا نہیں۔ سلیمان کا ذکر بھی یہی بتاتا ہے، سب سے حکیم اور محبوب بادشاہ بھی گر گیا۔ اگر انسان کی وفاداری ہی نجات کی بنیاد ہوتی تو کوئی امید نہ ہوتی۔ یہاں سے مسیح کی طرف راستہ کھلتا ہے، جو وہ حقیقی امامِ اعظم ہے جو کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا، جو خود اپنی زندگی کے ذریعے وہ وفاداری دکھاتا ہے جو نحمیاہ اور اُس کی قوم کبھی مکمل طور پر نہ دکھا سکے۔
For You
تم شاید سوچو کہ سبت کے قوانین یا قدیم شادیوں کے مسائل کا تمہاری زندگی سے کیا تعلق ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمہاری زندگی میں بھی وہ چیزیں گھس آئی ہیں جو خدا کے مقدس مقام میں نہیں ہونی چاہئیں۔ شاید وہ کوئی عادت ہے، کوئی رشتہ، کوئی سوچ کا انداز جسے تم جانتے ہو کہ غلط ہے مگر آہستہ آہستہ اُسے جگہ دیتے چلے گئے ہو۔ نحمیاہ کی کہانی یہ نہیں کہتی کہ ایک بار توبہ کر لو اور بس۔ وہ کہتی ہے کہ ایمان کی حفاظت مستقل کام ہے۔ ہر بار جب تم دیکھو کہ کوئی چیز غلط سمت جا رہی ہے، چاہے وہ تمہارے اپنے دل میں ہو، اُسے نظرانداز نہ کرو۔
Talk About It
نحمیاہ کا ردِعمل بہت سخت اور جذباتی لگتا ہے۔ کیا ایسا غصہ کبھی درست ہو سکتا ہے، اور کب یہ غلط ہو جاتا ہے؟
کیا تمہاری زندگی میں کوئی ایسی چیز ہے جسے تم جانتے ہو کہ خدا کے قریب رہنے میں رکاوٹ ہے، مگر تم نے اُسے نکالنے کی ہمت نہیں کی؟
Praying Together
اے خدا، ہم اکثر آسانی سے راستہ بھول جاتے ہیں۔ ہمیں دیکھنے کی آنکھ دے جہاں ہم غفلت میں پڑ گئے ہیں، اور ہمت دے جو غلط ہے اُسے نکال باہر کریں۔ ہمیں یاد کر، اپنی رحمت کے مطابق، نہ ہماری کمزوری کے مطابق۔ آمین۔
نحمیاہ 13 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نحمیاہ 13 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 13 کیا کہتا ہے؟
نحمیاہ 13 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان نحمیاہ 13 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نحمیاہ 13 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
نحمیاہ نے صرف نصیحت نہیں کی، اُس نے دروازے بند کروا دیے۔ اور غور کریں، شام ڈھلنے سے پہلے، سوداگروں کے پہنچنے سے پہلے۔ آزمائش کے دستک دینے کا انتظار نہیں کیا۔ آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا دروازہ ہے جسے وقت سے پہلے بند کرنا ضروری ہے؟ کچھ باتوں سے ہم لڑ کر نہیں جیتتے، اُنہیں اندر آنے ہی نہ دینے سے جیتتے ہیں۔
عمونیوں اور موآبیوں کا قصور کیا تھا؟ سب سے پہلے یہ کہ وہ "روٹی اور پانی لے کر اسرائیلیوں سے ملنے نہیں آئے تھے۔" بھوکے مسافر کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے رہنا بھی خدا کی نظر میں گناہ ہے۔ مگر آیت یوں ختم نہیں ہوتی: "ہمارے خدا نے لعنت کو برکت میں بدل دیا۔" جو لعنتیں تیرے خلاف خریدی گئیں، وہ اُس کے ہاتھ میں پہنچ کر بدل جاتی ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں