واعظ 4
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
واعظ 4 کی وضاحت
The Explanation
واعظ کی کتاب کا مصنف، جسے روایتی طور پر سلیمان بادشاہ سمجھا جاتا ہے، اِس باب میں زندگی کو بغیر کسی نقاب کے دیکھتا ہے۔ وہ کوئی خوش کن کہانی نہیں سناتا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس نے "سورج تلے" یعنی اِس دنیا میں نظر ڈالی اور ظلم دیکھا۔ مظلوموں کے آنسو، اور کوئی تسلی دینے والا نہیں۔ یہ اِتنا تلخ منظر ہے کہ وہ کہتا ہے مُردے زندوں سے بہتر ہیں، بلکہ جو پیدا ہی نہیں ہوا وہ سب سے بہتر ہے، کیونکہ اُس نے یہ بدی دیکھی ہی نہیں۔
پھر وہ محنت کی طرف آتا ہے۔ لوگ سخت محنت کرتے ہیں، مگر اُس کی اصل وجہ حسد ہے، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش۔ یہ بھی باطل ہے، ہوا کو پکڑنے کی کوشش کے برابر۔ دوسری طرف وہ احمق کو دیکھتا ہے جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا اپنی زندگی برباد کر رہا ہے۔ نہ سست پن اچھا ہے، نہ حسد سے بھری محنت۔ سکون کے ساتھ تھوڑا کمانا زیادہ بہتر ہے۔
پھر ایک عجیب مثال آتی ہے، ایک اکیلا آدمی جس کا نہ بیٹا ہے نہ بھائی، مگر وہ بغیر رُکے کام کرتا رہتا ہے، اور خود سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ سب کس کے لیے ہے۔ اِس کے جواب میں مصنف تنہائی کے مقابلے میں ساتھ کی قدر بیان کرتا ہے۔ دو ایک سے بہتر ہیں۔ اگر ایک گرے تو دوسرا اُٹھاتا ہے۔ ٹھنڈ میں دو مل کر گرم رہتے ہیں۔ تین لڑیوں والی رسّی جلدی نہیں ٹوٹتی۔
آخر میں وہ بادشاہت کی بات کرتا ہے۔ ایک غریب لیکن دانش مند جوان ایک بوڑھے احمق بادشاہ سے بہتر ہے۔ مگر پھر وہی جوان بھی بوڑھا ہو جاتا ہے، اور نئی نسل اُس سے بھی خوش نہیں رہتی۔ یہاں تک کہ حکمت اور کامیابی بھی، وقت کے ساتھ، باطل ثابت ہوتی ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب کوئی آسان سبق نہیں دیتا۔ یہ ایک ایمان دار انسان کی آواز ہے جو دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور جھوٹ نہیں بولتا۔ ظلم واقعی ہوتا ہے، اور بعض اوقات کوئی تسلی دینے والا نہیں ہوتا۔ محنت، مقابلہ بازی، عہدہ، شہرت، یہ سب چیزیں جن کے پیچھے ہماری نسل بھاگتی ہے، مصنف کہتا ہے کہ اکیلے میں یہ سب کھوکھلی ہیں۔
مگر اِس اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن ہے، اور وہ ہے تعلق۔ انسان اکیلا زندہ رہنے کے لیے نہیں بنا۔ رسّی کی مثال گہری ہے، اکیلی لڑی کمزور ہے، مگر تین لڑیاں مل کر مضبوط بن جاتی ہیں۔ یہ صرف دوستی کی بات نہیں، یہ اِس حقیقت کی بات ہے کہ ہم اکیلے اپنی زندگی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔
The Common Thread
واعظ کی کتاب اِس دنیا کو "سورج تلے" دیکھتی ہے، یعنی بغیر آسمان کی روشنی کے۔ اور جب انسان صرف اِسی نظر سے زندگی دیکھے، تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو یہ باب بیان کرتا ہے، ظلم، حسد، تنہائی، اور آخر میں سب کچھ باطل۔ مگر خدا کا پاک کلام اِسی جگہ رُکتا نہیں۔
خداوند یسوع مسیح اُس اکیلے آدمی کی تصویر کے بالکل برعکس آئے۔ وہ خدا ہوتے ہوئے انسانوں کے درمیان رہنے آئے، مظلوموں کے آنسو پونچھنے، اور یہ کہنے کہ تسلی دینے والا ہے۔ جہاں یہ باب کہتا ہے "تسلی دینے والا کوئی نہیں"، وہاں انجیل کہتی ہے کہ خدا خود انسان بن کر ہمارے درمیان آ گئے۔ اور جہاں یہ باب تین لڑیوں والی رسّی کی طاقت بیان کرتا ہے، وہاں کلیسیا، یعنی مسیح پر ایمان لانے والوں کی جماعت، بالکل یہی حقیقت ہے۔ ہم اکیلے نہیں چھوڑے گئے۔ خداوند یسوع نے وعدہ فرمایا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے۔
For You
تم شاید اِس عمر میں اِس دباؤ کو محسوس کرتے ہو جو یہ باب بیان کرتا ہے، کامیاب ہونے کا دباؤ، دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش، سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی زندگیوں سے مقابلہ۔ اور شاید تم نے تنہائی بھی محسوس کی ہو، ایسی تنہائی جو ہجوم میں بھی ہو سکتی ہے۔
یہ باب تمہیں جھوٹی تسلی نہیں دیتا، مگر یہ سچ بولتا ہے۔ اگر تمہاری زندگی حسد اور مقابلہ بازی سے بھری ہوئی ہے، رُک کر پوچھو کہ تم آخر کس کے لیے یہ سب کر رہے ہو۔ اور اگر تم تنہا محسوس کرتے ہو، تو یہ باب تمہیں کہتا ہے کہ حقیقی رشتے بنانا کمزوری نہیں، بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔ کسی کو ڈھونڈو جو تمہیں گرنے پر اُٹھائے، اور خود بھی وہ بنو جو کسی اور کو اُٹھاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ جان لو کہ خدا وہ ہے جو کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔
Talk About It
کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ تمہاری محنت یا کامیابی دراصل حسد یا دوسروں سے مقابلے کی وجہ سے تھی؟ اُس وقت تمہیں کیسا لگا؟
اِس باب میں کون سی بات تمہیں سب سے زیادہ سچی لگی، تنہائی کی تلخی یا ساتھ کی طاقت؟ کیوں؟
Praying Together
اے خداوند خدا، یہ دنیا بعض اوقات ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی اِس باب میں بیان ہوئی ہے، ظلم سے بھری، اور تسلی دینے والا کوئی نہیں۔ ہمیں معاف فرما جب ہم حسد اور مقابلے میں الجھ جاتے ہیں۔ ہمیں سکھا کہ تنہائی سے نہ ڈریں بلکہ حقیقی رشتوں کو قدر دیں۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں یاد دلا کہ تُو خود ہمارا تسلی دینے والا ہے، اور خداوند یسوع مسیح میں ہم کبھی اکیلے نہیں۔ آمین۔
واعظ 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
واعظ 4 کس بارے میں ہے؟
واعظ 4 کیا کہتا ہے؟
واعظ 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان واعظ 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
واعظ 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
سلیمان نے ابھی اُس آدمی کا ذکر کیا تھا جو دن رات کماتا رہا مگر کبھی نہ پوچھا، "مَیں کس کے لئے محنت کر رہا ہوں؟" اِسی کے بعد وہ کہتا ہے، "دو ایک سے بہتر ہیں، کیونکہ محنت کرتے وقت اُنہیں اچھا اجر ملتا ہے۔" سوچ، تیری ساری بھاگ دوڑ کس کے لئے ہے؟ اگر کوئی تیرے ساتھ چلنے والا نہیں تو کامیابی بھی تنہائی کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔
بےشمار لوگ اُس کے پیچھے چلے، مگر اگلی نسل نے اُسے یاد بھی نہ رکھا۔ "توبھی جو بعد میں آئے وہ اُس سے خوش نہ ہوئے۔ یہ بھی باطل اور ہوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔" تالیاں دیر تک نہیں گونجتیں۔ سوچ کہ تُو کس کی واہ واہ کے لیے جی رہا ہے؟ جو خدا تجھے نام سے جانتا ہے، اُس کی نظر بھیڑ کے چلے جانے کے بعد بھی تجھ پر ٹکی رہتی ہے۔
احمق ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتا ہے اور یوں اپنا ہی گوشت کھا لیتا ہے۔" سست آدمی کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، وہ خود کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ سلیمان دوڑ دھوپ کی بےچینی کو بھی رد کرتا ہے اور بےکاری کو بھی۔ سوال یہ ہے: تُو آج کس چیز سے بھاگ رہا ہے، اور وہ ٹالنا تیرے دل کو کتنا خالی کر رہا ہے؟
قاتب یہ بات اُس آدمی کو دیکھ کر لکھتا ہے جو حسد کی آگ میں دن رات کماتا رہتا ہے اور جس کا کوئی بیٹا، کوئی بھائی نہیں۔ اِسی لیے وہ کہتا ہے، "ایک ہاتھ بھر آرام اِس سے بہتر ہے کہ دونوں ہاتھ محنت مشقت سے بھرے ہوں۔" ذرا سوچ، تیرے دونوں ہاتھ اِس وقت کس چیز سے بھرے ہیں؟ اگر وہ اِتنے بھرے ہوں کہ کسی کا ہاتھ تھام نہ سکیں، تو یہ کمائی نہیں، نقصان ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں