فِلپّیوں 1
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یہ خط ایک قیدی نے لکھا ہے۔ یاد رکھیں، جب پولس رسول لکھتے ہیں "مَیں مسیح کی خاطر قیدی ہوں"، تو یہ کوئی استعارہ نہیں ہے۔ وہ روم میں نظربند ہیں، پریٹوریُم کے سپاہی اُن کی نگرانی کر رہے ہیں، اور مقدمہ کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔ سزائے موت بھی ممکن ہے۔ اِس صورتِ حال میں لکھا گیا خط شکایت سے بھرا ہونا چاہیے تھا۔ مگر پہلی چند آیتوں میں ہی لفظ "خوشی" آ جاتا ہے: "آپ کے لئے تمام دعاؤں میں مَیں ہمیشہ خوشی سے دعا کرتا ہوں۔"
پولس اپنا تعارف "رسول" کے طور پر نہیں بلکہ "مسیح عیسیٰ کے غلام" کے طور پر کراتے ہیں۔ کوئی عہدہ نہیں، کوئی سی وی نہیں۔ صرف ایک شناخت: مَیں کسی اَور کا ہوں۔ پھر وہ فلپی کی چھوٹی سی جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ پہلے دن سے خوش خبری کے کام میں اُن کے شریک رہے۔ اور وہ ایک ایسا جملہ لکھتے ہیں جو صدیوں سے لوگوں کو سنبھالتا آیا ہے: "مجھے یقین ہے کہ اللہ جس نے آپ میں یہ اچھا کام شروع کیا ہے اِسے اُس دن تکمیل تک پہنچائے گا جب مسیح عیسیٰ واپس آئے گا۔"
اِس کے بعد پولس بتاتے ہیں کہ جیل میں کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی قید نے خوش خبری کو روکا نہیں، پھیلا دیا ہے۔ محل کے پہرے دار جانتے ہیں کہ یہ آدمی کیوں بندھا ہوا ہے۔ باقی ایمان دار پہلے سے زیادہ دلیری سے کلام سنا رہے ہیں۔ پھر وہ ایک بےحد ایمان دار بات لکھتے ہیں: کچھ لوگ حسد اور مخالفت کی وجہ سے مسیح کی منادی کر رہے ہیں، اور اُن کی نیت یہ ہے کہ پولس کی قید مزید تکلیف دہ بن جائے۔ کلیسیا میں گندی سیاست پہلی صدی میں بھی موجود تھی۔ پولس اُس پر پردہ نہیں ڈالتے۔ لیکن اُن کا ردِعمل حیران کن ہے: "لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے! اہم بات تو یہ ہے کہ مسیح کی منادی ہر طرح سے کی جا رہی ہے۔"
آخر میں وہ زندگی اور موت کو ترازو میں رکھتے ہیں۔ "میرے لئے مسیح زندگی ہے اور موت نفع کا باعث۔" وہ کہتے ہیں: مرنا میرے لیے سب سے بہتر ہوتا، کیونکہ اِس کا مطلب مسیح کے پاس ہونا ہے۔ مگر آپ لوگوں کی خاطر زندہ رہنا زیادہ ضروری ہے۔ اور فلپیوں سے اُن کی درخواست یہ ہے کہ وہ "آسمان کے شہریوں کے لائق زندگی" گزاریں، مخالفوں سے نہ ڈریں، اور یہ جان لیں کہ ایمان لانے کے ساتھ ساتھ دُکھ اُٹھانا بھی خدا کا فضل ہے۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
اِس باب کا سب سے بڑا دھچکا آیت 29 ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ایمان زندگی کو آسان بناتا ہے۔ پولس اِس کے برعکس لکھتے ہیں: تمہیں دو تحفے ملے ہیں، ایمان اور دُکھ۔ دونوں فضل ہیں۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے، اور اِسے جلدی سے میٹھا بنانے کی کوشش نہ کریں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کو تکلیف پسند ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص واقعی مسیح کے پیچھے چلتا ہے، وہ ایک ایسی دنیا میں چل رہا ہے جو مسیح کو مصلوب کر چکی ہے۔ مزاحمت اِس بات کی علامت ہے کہ آپ ٹھیک سمت میں چل رہے ہیں، نہ کہ اِس بات کی کہ کچھ خراب ہو گیا ہے۔
دوسری بات: آیت 6۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ "آپ نے شروع کیا ہوا اچھا کام آپ مکمل کریں گے۔" کام خدا کا ہے۔ وہ شروع کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ اگر آپ کارکردگی کے دباؤ میں جیتے ہیں، جہاں ہر نمبر، ہر تصویر، ہر جواب کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ آپ کافی ہیں، تو یہ آیت آپ کے پورے نظام پر سوال اُٹھاتی ہے۔ آپ ایک نامکمل عمارت ہیں، اور معمار بھاگا نہیں ہے۔
تیسری بات: آیت 9 اور 10۔ پولس محبت کے لیے دعا کرتے ہیں، مگر ایسی محبت جس میں "علم و عرفان اور ہر طرح کی روحانی بصیرت" کا اضافہ ہو، تاکہ آپ وہ باتیں چُن سکیں "جو بنیادی اہمیت کی حامل ہیں"۔ محبت اندھی نہیں ہوتی، وہ سوچتی ہے۔ اور ایک ایسے دور میں جہاں ہر روز ہزار آوازیں آپ کو بتاتی ہیں کہ کیا اہم ہے، یہ ایک ہنر ہے: فرق کرنا سیکھنا کہ کیا واقعی وزن رکھتا ہے اور کیا صرف شور ہے۔
مرکزی سلسلہ
"میرے لئے مسیح زندگی ہے۔" یہ جملہ سمجھنے کی کنجی ہے۔ پولس کی خوشی حالات پر منحصر نہیں، کیونکہ اُن کی زندگی کا مرکز اُن کے حالات میں نہیں بلکہ ایک شخص میں ہے۔ اور وہ شخص خود اُس راستے سے گزرا ہے: مسیح یسوع نے بھی خدا کی خاطر دُکھ اُٹھایا، بےعزتی سہی، اور موت کو نفع میں بدل دیا۔ جو پولس جیل میں تجربہ کر رہے ہیں، وہ اُس کی گونج ہے جو مسیح صلیب پر برداشت کر چکے ہیں۔
اِسی لیے پولس فلپی کے لوگوں کو، جو ایک رومی نو آباد شہر کے باشندے تھے اور اپنی رومی شہریت پر فخر کرتے تھے، ایک اَور شہریت یاد دلاتے ہیں: آسمان کی۔ خدا کا وعدہ صرف یہ نہیں کہ وہ آپ کو یہاں سنبھالے گا، بلکہ یہ کہ ایک دن آئے گا، "وہ دن جب مسیح عیسیٰ واپس آئے گا"، اور تب جو کچھ ادھورا ہے وہ مکمل کیا جائے گا۔
تمہارے لیے
سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔ سب سے مشکل سوال یہ ہے: آپ کے لیے زندگی کیا ہے؟ اُس جملے کو پورا کریں، ایمان داری سے۔ میرے لیے زندگی ہے… منظوری؟ نمبر؟ وہ ایک شخص جس کا جواب آپ فون پر انتظار کرتے رہتے ہیں؟ پولس کا جواب صرف تین لفظوں کا ہے، اور اُسی سے اُن کی بےخوفی نکلتی ہے۔ جس کے پاس کھونے کو سب سے قیمتی چیز محفوظ ہے، اُسے کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا۔
اور ایک اَور بات۔ پولس نے اُن لوگوں کو معاف کیا جو اُن کی تکلیف بڑھانا چاہتے تھے، صرف اِس بنیاد پر کہ مسیح کا نام تو سنایا جا رہا ہے۔ کسی گروپ چیٹ میں، کسی کلاس میں، کسی جماعت میں جہاں آپ کو نیچا دکھایا گیا ہے، اِس ہفتے یہ آزمائیں: بدلہ لینے کے بجائے یہ سوال پوچھیں کہ کیا واقعی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کمزوری نہیں۔ یہ اُس شخص کی طاقت ہے جو جانتا ہے کہ اُس کی قیمت کسی کے فیصلے پر منحصر نہیں۔
اِس پر بات کریں
آیت 29 کہتی ہے کہ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا بھی فضل ہے۔ کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں، یا آپ کے دل میں اِس پر اعتراض ہے؟ ایمان داری سے بتائیں کہ آپ کو اِس میں کیا کھٹکتا ہے۔
اگر آپ کو آج پولس کی طرح جملہ مکمل کرنا ہو، "میرے لیے زندگی ہے…"، تو آپ کے کام، وقت اور فون کی سکرین کے مطابق سچا جواب کیا ہو گا؟
مل کر دعا
اے خداوند یسوع مسیح، آپ جانتے ہیں کہ ہماری خوشی کتنی جلدی ہمارے حالات کے ساتھ ٹوٹ جاتی ہے۔ ہمیں سکھائیں کہ ہماری زندگی آپ ہیں۔ جو کام آپ نے ہم میں شروع کیا ہے، اُسے چھوڑ نہ دیجیے بلکہ اُس دن تک مکمل کیجیے جب آپ واپس آئیں گے۔ ہمیں ایسی محبت دیجیے جو سوچتی ہے، اور ایسی دلیری جو ڈرتی نہیں۔ آمین۔
فِلپّیوں 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
فِلپّیوں 1 کس بارے میں ہے؟
فِلپّیوں 1 کیا کہتا ہے؟
فِلپّیوں 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان فِلپّیوں 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
فِلپّیوں 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پولس قید میں بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے دو راستے ہیں: مرنا اور مسیح کے پاس جانا، یا جینا اور کام کرنا۔ وہ کہتا ہے، ”لیکن اگر مَیں زندہ رہوں اور یوں میری محنت پھل لائے تو مجھے معلوم نہیں کہ مَیں کیا چنوں۔“ غور کریں، اُس کی اُلجھن میں اپنی راحت کا سوال کہیں نہیں۔ دونوں پلڑوں میں صرف مسیح ہے۔ اگر آپ اپنی خواہشوں میں سے اپنا آرام نکال دیں تو پیچھے کیا بچے گا؟
پولس زنجیروں میں بیٹھا ہے، پھر بھی لکھتا ہے: "آپ سب میرے ساتھ اللہ کے فضل میں شریک ہیں۔" یعنی قید بھی فضل کا حصہ ہے؟ اُس کے نزدیک ہاں۔ اور جو دُور بیٹھے اُس کے لیے دعا اور مدد کرتے رہے، وہ بھی اُسی فضل کے شریک ٹھہرے۔ سوچیں، آج کسی کا بوجھ اُٹھانا محض ہمدردی نہیں، اُس پر آنے والے فضل میں شامل ہو جانا ہے۔
پولس زنجیروں میں ہے اور باہر کچھ لوگ جان بوجھ کر اُس کا نام خراب کرنے کے لیے منادی کر رہے ہیں۔ پھر بھی وہ لکھتا ہے، ”لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے! اہم بات یہ ہے کہ مسیح کی منادی ہو رہی ہے۔“ سوچیں، جب کوئی آپ کی جگہ لے کر آپ ہی کا کام کرے اور واہ واہ سمیٹے، تو کیا آپ کا دل خوش ہو سکتا ہے؟ پولس کا دل اِس لیے آزاد تھا کہ اُس کے مرکز میں اُس کا اپنا نام نہیں بلکہ مسیح کا نام تھا۔
پولس قید میں بیٹھا لکھتا ہے: ”مَیں دو طرف سے دباؤ میں ہوں۔ ایک طرف مَیں کوچ کر کے مسیح کے پاس ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ کہیں بہتر ہے۔“ عجیب بات یہ ہے کہ اُس کا دباؤ خوف اور موت کے درمیان نہیں تھا، بلکہ دو اچھی چیزوں کے درمیان۔ کیا مسیح تیرے لئے اِتنا حقیقی ہے کہ اُس کے پاس جانا نقصان نہیں بلکہ نفع لگے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں