13 سال اور اس سے بڑے نوجوان کے لیے

امثال 30

نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

یہ باب باقی امثال سے مختلف ہے۔ یہاں ایک نیا نام آتا ہے، اجور بن یاقہ، مسّا کا رہنے والا ایک دانش مند آدمی۔ اور وہ حکمت کی باتیں سکھانے سے پہلے ایک حیران کن اعتراف کرتا ہے، "اے اللہ، مَیں تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔ یقیناً مَیں انسانوں میں سب سے زیادہ نادان ہوں۔" یہ کوئی جھوٹی عاجزی نہیں۔ وہ واقعی کہہ رہا ہے کہ اُس کے پاس خدا کے بارے میں مکمل علم نہیں۔ پھر وہ سوال پوچھتا ہے جن کا جواب کوئی انسان نہیں دے سکتا، کون آسمان پر چڑھا، کس نے ہَوا کو مُٹھی میں جمع کیا، کس نے زمین کی حدیں باندھیں۔ ان سوالوں کے پیچھے ایک اعتراف چھپا ہے، صرف خدا ہی یہ سب جانتا اور کرتا ہے۔

پھر اجور خدا کے کلام کی بات کرتا ہے، "اللہ کی ہر بات آزمودہ ہے، جو اُس میں پناہ لے اُس کے لئے وہ ڈھال ہے۔" اور وہ خبردار کرتا ہے کہ اُس کلام میں اپنی طرف سے کچھ نہ ملائیں۔ اس کے بعد ایک دعا آتی ہے جو پوری زندگی کے لئے ایک سیدھا سا اصول دیتی ہے، جھوٹ سے دُور رکھ، اور نہ غربت دے نہ دولت، بلکہ اُتنی روٹی جتنی میرا حق ہے۔ کیونکہ دولت انسان کو خدا سے دُور کر سکتی ہے، اور غربت چوری تک پہنچا سکتی ہے۔

باقی باب میں اجور مشاہدے کی حکمت دیتا ہے۔ وہ اُن نسلوں کی بات کرتا ہے جو والدین کی عزت نہیں کرتیں، جو اپنی نظر میں پاک ہیں مگر اندر سے گندی، جو تکبر سے دیکھتی ہیں، جو غریبوں کو ہڑپ کر جاتی ہیں۔ جونک کی مثال دی جاتی ہے، جو کبھی سیر نہیں ہوتی، بالکل پاتال اور آگ کی طرح۔ پھر وہ چیزیں گنتا ہے جو اُس کے لئے حیران کن ہیں، عقاب کی اُڑان، چٹان پر سانپ کا رینگنا، سمندر میں جہاز کا چلنا، اور مرد کا کنواری کے ساتھ راستہ۔ اور زناکار عورت کی بے شرمی کی تصویر کھینچی جاتی ہے جو غلطی کے بعد بھی کہتی ہے "مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔" آخر میں چھوٹی مگر دانش مند مخلوقات کا ذکر ہے، چیونٹیاں، بِجُو، ٹڈیاں، چھپکلیاں، اور وہ جاندار جو وقار سے چلتے ہیں۔ باب ایک آخری نصیحت پر ختم ہوتا ہے، اگر تُو نے غرور کیا ہے تو خاموش ہو جا، کیونکہ غصہ اور دباؤ آخر میں لڑائی پیدا کرتے ہیں۔

What Does This Mean?

اجور کی بات شروع ہی ایمانداری سے ہوتی ہے۔ وہ دکھاوا نہیں کرتا کہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ تمھارے لئے بھی اہم ہے۔ ایمان رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمھارے پاس ہر سوال کا جواب ہو۔ اجور جیسا دانش مند آدمی بھی خدا کی عظمت کے سامنے خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ کمزوری نہیں، یہ حقیقت پسندی ہے۔

اس کے بعد وہ ایک سیدھی بات کرتا ہے، خدا کا کلام ہی قابلِ بھروسہ بنیاد ہے، اور اُس میں کچھ نہ ملاؤ۔ یعنی حکمت اپنے خیالات سے نہیں بلکہ خدا کی بات سے شروع ہوتی ہے۔ باقی باب میں جو مثالیں دی گئی ہیں، وہ کوئی اخلاقی سبق نہیں بلکہ زندگی کے گہرے مشاہدے ہیں۔ غرور، لالچ، ناشکری، بے حیائی، ان سب کی تصویریں کھینچی گئی ہیں تاکہ تم اپنے دل میں انہیں پہچان سکو۔ اور چھوٹی مخلوقات کی مثال یہ بتاتی ہے کہ طاقت کی بجائے حکمت اہم ہے۔

The Common Thread

اجور کا سوال، "کون آسمان پر چڑھا اور واپس اُترا؟ اُس کا نام کیا ہے، اُس کے بیٹے کا کیا نام ہے؟" ایک ایسا سوال ہے جو پورا باب کھولے رکھتا ہے۔ اجور کے زمانے میں اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ لیکن خداوند یسوع مسیح نے خود فرمایا کہ وہی آسمان سے اُترا اور آسمان کو چڑھے گا۔ وہی وہ ہے جو خدا کو مکمل طور پر جانتا ہے، کیونکہ وہ خود خدا کا بیٹا ہے۔ جو سوال اجور ادھورا چھوڑتا ہے، وہ انجیل میں پورا ہوتا ہے۔

اور وہ دعا جو اجور کرتا ہے، نہ غربت نہ دولت، اُتنی ہی روٹی جتنا میرا حق ہے، یہ خداوند یسوع کی اُس دعا سے ملتی ہے جو اُنہوں نے سکھائی، "ہماری روزانہ کی روٹی آج ہمیں دے۔" یہ بھروسے کی زندگی ہے، نہ خود کفیل بننے کی کوشش، نہ ناامیدی، بلکہ روزانہ خدا پر انحصار۔

For You

تمھارے لئے بھی یہ باب دو راستے کھولتا ہے۔ پہلا، ایمانداری کا راستہ۔ اگر تمھارے دل میں سوالات ہیں، شک ہے، کچھ چیزیں سمجھ نہیں آتیں، تو یہ عیب نہیں۔ اجور جیسا شخص بھی یہی کہتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم اپنے سوالات کے ساتھ خدا کے سامنے جاؤ، اُس سے دُور نہ بھاگو۔

دوسرا، اپنے دل کا جائزہ لو۔ کیا تم میں وہ جونک جیسی طلب ہے جو کبھی مطمئن نہیں ہوتی، چاہے وہ تعریف کی بھوک ہو، چیزوں کی خواہش ہو، یا سوشل میڈیا پر توجہ کی طلب؟ کیا تمھاری زبان غصے میں دوسروں کو کاٹتی ہے؟ باب کے آخر میں دیا گیا اصول یاد رکھنے کے قابل ہے، اگر غرور یا غصہ بڑھے تو خاموش ہو جانا سیکھو، کیونکہ کھینچا ہوا ناک خون نکال دیتا ہے، اور غصہ دلائی ہوئی بات لڑائی بن جاتی ہے۔

Talk About It

کیا تمھارے ایمان میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب تمھیں نہیں ملتا؟ اجور کی طرح اُسے خدا کے سامنے کھلے دل سے رکھنے کا کیا مطلب ہوگا؟

جونک کی مثال میں "کبھی سیر نہ ہونے والی خواہش" کا ذکر ہے۔ تمھاری زندگی میں وہ کون سی خواہش ہے جو کبھی بھرتی نہیں؟

Praying Together

اے خداوند، ہم بھی اجور کی طرح اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے پاس تمام جوابات نہیں۔ ہمیں اُن سوالوں کے ساتھ بھی تیرے قریب رہنا سکھا جن کا جواب ہمیں نہیں ملتا۔ ہمارے دل کو لالچ، غرور اور ناشکری سے پاک کر، اور ہمیں سکھا کہ ہر دن تجھ پر بھروسہ رکھیں، جیسے روٹی مانگنے والا بھروسہ رکھتا ہے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

امثال 30 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

امثال 30 کس بارے میں ہے؟
یہ باب باقی امثال سے مختلف ہے۔ یہاں ایک نیا نام آتا ہے، اجور بن یاقہ، مسّا کا رہنے والا ایک دانش مند آدمی۔ اور وہ حکمت کی باتیں سکھانے سے پہلے ایک حیران کن اعتراف کرتا ہے، "اے اللہ، مَیں تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔ یقیناً مَیں انسانوں میں سب سے زیادہ نادان ہوں۔" یہ کوئی جھوٹی عاجزی نہیں۔ وہ واقعی کہہ رہا ہے کہ اُس کے پاس خدا کے بارے میں مکمل علم نہیں۔ پھر وہ سوال پوچھتا ہے جن کا جواب کوئی انسان نہیں دے سکتا، کون آسمان پر چڑھا، کس نے ہَوا کو مُٹھی میں جمع کیا، کس نے زمین کی حدیں باندھیں۔ ان سوالوں کے پیچھے ایک اعتراف چھپا ہے، صرف خدا ہی یہ سب جانتا اور کرتا ہے۔
امثال 30 کیا کہتا ہے؟
باقی باب میں اجور مشاہدے کی حکمت دیتا ہے۔ وہ اُن نسلوں کی بات کرتا ہے جو والدین کی عزت نہیں کرتیں، جو اپنی نظر میں پاک ہیں مگر اندر سے گندی، جو تکبر سے دیکھتی ہیں، جو غریبوں کو ہڑپ کر جاتی ہیں۔ جونک کی مثال دی جاتی ہے، جو کبھی سیر نہیں ہوتی، بالکل پاتال اور آگ کی طرح۔ پھر وہ چیزیں گنتا ہے جو اُس کے لئے حیران کن ہیں، عقاب کی اُڑان، چٹان پر سانپ کا رینگنا، سمندر میں جہاز کا چلنا، اور مرد کا کنواری کے ساتھ راستہ۔ اور زناکار عورت کی بے شرمی کی تصویر کھینچی جاتی ہے جو غلطی کے بعد بھی کہتی ہے "مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔" آخر میں چھوٹی مگر دانش مند مخلوقات کا ذکر ہے، چیونٹیاں، بِجُو، ٹڈیاں، چھپکلیاں، اور وہ جاندار جو وقار سے چلتے ہیں۔ باب ایک آخری نصیحت پر ختم ہوتا ہے، اگر تُو نے غرور کیا ہے تو خاموش ہو جا، کیونکہ غصہ اور دباؤ آخر میں لڑائی پیدا کرتے ہیں۔
امثال 30 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اس کے بعد وہ ایک سیدھی بات کرتا ہے، خدا کا کلام ہی قابلِ بھروسہ بنیاد ہے، اور اُس میں کچھ نہ ملاؤ۔ یعنی حکمت اپنے خیالات سے نہیں بلکہ خدا کی بات سے شروع ہوتی ہے۔ باقی باب میں جو مثالیں دی گئی ہیں، وہ کوئی اخلاقی سبق نہیں بلکہ زندگی کے گہرے مشاہدے ہیں۔ غرور، لالچ، ناشکری، بے حیائی، ان سب کی تصویریں کھینچی گئی ہیں تاکہ تم اپنے دل میں انہیں پہچان سکو۔ اور چھوٹی مخلوقات کی مثال یہ بتاتی ہے کہ طاقت کی بجائے حکمت اہم ہے۔
نوجوان امثال 30 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اور وہ دعا جو اجور کرتا ہے، نہ غربت نہ دولت، اُتنی ہی روٹی جتنا میرا حق ہے، یہ خداوند یسوع کی اُس دعا سے ملتی ہے جو اُنہوں نے سکھائی، "ہماری روزانہ کی روٹی آج ہمیں دے۔" یہ بھروسے کی زندگی ہے، نہ خود کفیل بننے کی کوشش، نہ ناامیدی، بلکہ روزانہ خدا پر انحصار۔
امثال 30 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسرا، اپنے دل کا جائزہ لو۔ کیا تم میں وہ جونک جیسی طلب ہے جو کبھی مطمئن نہیں ہوتی، چاہے وہ تعریف کی بھوک ہو، چیزوں کی خواہش ہو، یا سوشل میڈیا پر توجہ کی طلب؟ کیا تمھاری زبان غصے میں دوسروں کو کاٹتی ہے؟ باب کے آخر میں دیا گیا اصول یاد رکھنے کے قابل ہے، اگر غرور یا غصہ بڑھے تو خاموش ہو جانا سیکھو، کیونکہ کھینچا ہوا ناک خون نکال دیتا ہے، اور غصہ دلائی ہوئی بات لڑائی بن جاتی ہے۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 1

امثال کی کتاب میں اچانک ایک اجنبی آواز سنائی دیتی ہے، "اجور بن یاقہ کی باتیں"۔ نہ بادشاہ، نہ مشہور نبی، بس ایک ایسا آدمی جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ اور وہ اپنی بات اپنی حکمت کے دعوے سے نہیں بلکہ اپنی کمزوری کے اقرار سے شروع کرتا ہے۔ خدا نے اُس کے الفاظ اپنے کلام میں محفوظ رکھے۔ کیا تجھے لگتا ہے کہ تیری آواز بہت چھوٹی ہے؟ وہ گمنام لوگوں کی باتیں بھی سنبھال کر رکھتا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 32

اگر تُو احمق ہو کر اپنے آپ کو سرفراز کرے یا بُری سازشیں کرے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ!" کتنی سادہ سی نصیحت ہے، مگر کتنی مشکل۔ جب ہم پکڑے جاتے ہیں تو ہمارا پہلا ردِعمل صفائی پیش کرنا ہوتا ہے، ایک اور لفظ، ایک اور بہانہ۔ لیکن یہاں حکمت کہتی ہے: خاموش ہو جا۔ ہاتھ منہ پر رکھنا ہار نہیں، توبہ کی پہلی سانس ہے۔ کیا تُو آج کسی بحث میں اپنی زبان کو روک سکے گا؟

چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں