زبور 87
نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
زبور 87 قورح کی اولاد کا لکھا ہوا گیت ہے، اور یہ صیون یعنی یروشلم شہر کی تعریف میں گایا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اِس شہر کی بنیاد "مقدّس پہاڑوں پر" رکھی گئی ہے، یعنی یہ کوئی عام جگہ نہیں بلکہ وہ مقام ہے جہاں خدا خود رہتا ہے۔ رب صیون کے دروازوں کو یعقوب کی باقی تمام آبادیوں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ اِس کے بعد ایک عجیب بات آتی ہے۔ رب فرماتا ہے کہ وہ مصر اور بابل کو، فلستیہ، صور اور ایتھوپیا کو بھی اُن لوگوں میں شمار کرے گا جو اُسے جانتے ہیں، اور اِن کے بارے میں کہا جائے گا کہ اِن کی پیدائش یہیں یعنی صیون میں ہوئی ہے۔
یہ قوموں کے نام سُنیے۔ مصر اور بابل وہ سلطنتیں تھیں جنہوں نے اسرائیل کو غلام بنایا اور جلاوطن کیا۔ فلستی وہ دشمن تھے جن سے اسرائیل صدیوں لڑتا رہا۔ صور اور ایتھوپیا دُور کی قومیں تھیں۔ یہ سب اسرائیل کے لیے "باہر کے لوگ" تھے، کبھی دشمن، کبھی اجنبی۔ اور خدا کہتا ہے کہ ایک دن اِن سب کے نام کے آگے لکھا جائے گا: "یہ صیون میں پیدا ہوئے۔" جب رب قوموں کو اپنی کتاب میں درج کرے گا تو وہ یہی بات لکھے گا۔ آخر میں لوگ ناچتے ہوئے گاتے ہیں کہ ہمارے تمام چشمے، ہماری زندگی کا سرچشمہ، اُسی شہر میں ہے۔
What Does This Mean?
یہ زبور شناخت اور تعلق کے بارے میں ایک گہری بات کہہ رہا ہے۔ عام طور پر شناخت کا تعین اِس سے ہوتا تھا کہ آپ کہاں پیدا ہوئے، کس خون سے، کس قوم سے۔ لیکن یہاں خدا خود کہتا ہے کہ تعلق کا اصل معیار خون یا جائے پیدائش نہیں، بلکہ یہ کہ خدا نے آپ کا نام کس کتاب میں لکھا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں کبھی صیون میں پیدا نہیں ہوئے، خدا اُن کے بارے میں اعلان کرتا ہے کہ وہ وہاں کے شہری ہیں۔ یہ درخواست پر نہیں، کارکردگی پر نہیں، خدا کے فیصلے پر مبنی ہے۔
یہ بات نوجوانوں کی دنیا سے بالکل مختلف سوچ ہے۔ آج شناخت کچھ بنانا پڑتا ہے، ثابت کرنا پڑتا ہے، سوشل میڈیا پر دکھانا پڑتا ہے۔ لیکن زبور 87 کہتا ہے کہ خدا کے نزدیک تعلق ایک تحفہ ہے جو دیا جاتا ہے، ثابت نہیں کیا جاتا۔
The Common Thread
یہ صیون کا نقشہ آگے پوری کہانی میں کھلتا چلا جاتا ہے۔ متن میں صرف اُس کی جھلک ملتی ہے، مگر جو بیج یہاں بویا گیا ہے وہ یہ ہے: خدا کا شہر صرف ایک قوم کے لیے محدود نہیں رہے گا۔ مصر، بابل، فلستیہ، صور، ایتھوپیا، یعنی وہ سب جو باہر تھے، اندر لائے جائیں گے۔ خداوند یسوع مسیح میں یہی بات مکمل ہوتی ہے۔ صلیب پر اُس نے اُن سب دیواروں کو گرا دیا جو قوموں کو خدا کے گھر سے باہر رکھتی تھیں۔ اب کوئی بھی، کسی بھی قوم، کسی بھی پسِ منظر سے، خدا کے خاندان میں "پیدا" ہو سکتا ہے، نہ خون سے بلکہ روح سے۔
جب زبور کہتا ہے کہ رب اقوام کو کتاب میں درج کرے گا، تو یہ وہی کتاب ہے جس کا ذکر بائبل کے آخری صفحات میں بھی آتا ہے، جہاں خداوند کے پاس ہر قوم کے لوگوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ یسوع مسیح وہی ہے جو یہ نام لکھتا ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ جو کوئی اُس پر ایمان لاتا ہے، اُس کا نام زندگی کی کتاب میں درج ہوتا ہے۔ صیون کی تعریف دراصل اُس مستقبل کی جھلک ہے جو مسیح میں پوری ہونی تھی۔
For You
شاید تمہیں کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ تم کہیں فٹ نہیں ہوتے۔ نہ گھر میں پوری طرح، نہ دوستوں کے گروہ میں، نہ چرچ میں، نہ اپنی ہی سوچوں میں۔ شاید تمہارا پسِ منظر ٹوٹا ہوا ہے، یا تم محسوس کرتے ہو کہ تمہاری کہانی خدا کے قابل نہیں۔ زبور 87 کے "مصر اور بابل" کو دیکھو۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کی تاریخ سراسر دشمنی اور تباہی سے بھری ہوئی تھی۔ پھر بھی خدا کہتا ہے، اِن کا نام میں اپنے شہر کے شہریوں میں لکھوں گا۔
اگر خدا اُن کے ماضی کو نظرانداز کر کے اُنہیں اپنے شہر کا شہری بنا سکتا ہے، تو تمہارا ماضی، تمہاری ناکامیاں، تمہارا احساسِ کمتری، تمہیں خدا کے تعلق سے باہر نہیں رکھ سکتا۔ تعلق کارکردگی سے نہیں آتا۔ یہ اُس وقت آتا ہے جب خدا تمہارا نام اپنی کتاب میں لکھ دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تم خود کو کتنا قابل بناتے ہو، سوال یہ ہے کہ کیا تم اِس دعوت کو مان لیتے ہو۔
Talk About It
اگر خدا کے نزدیک شناخت پیدائش یا کارکردگی سے نہیں بلکہ اُس کے فیصلے سے بنتی ہے، تو تمہاری زندگی میں کون سی چیزیں ہیں جن سے تم اپنی قدر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو؟
کیا تم کبھی محسوس کرتے ہو کہ تمہارا ماضی یا پسِ منظر تمہیں خدا سے دور رکھتا ہے؟ یہ زبور اِس احساس کو کیسے چیلنج کرتا ہے؟
Praying Together
اے خدا، تُو نے اپنی کتاب میں ہمارے نام لکھنے کا وعدہ کیا ہے، چاہے ہمارا ماضی کیسا بھی ہو۔ ہمیں یہ یقین دے کہ ہمارا تعلق تیرے ساتھ ہماری کارکردگی پر نہیں بلکہ تیری محبت پر قائم ہے۔ ہمیں اپنے شہر کا شہری بنا اور ہمیں سکھا کہ ہماری زندگی کا سرچشمہ تیرے میں ہے۔ آمین۔
زبور 87 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
زبور 87 کس بارے میں ہے؟
زبور 87 کیا کہتا ہے؟
زبور 87 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان زبور 87 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
زبور 87 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں