بائبل کی تشریح

زبور 87

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یہ گیت ایک شہر سے شروع ہوتا ہے جس کی بنیاد خدا نے خود مُقدّس پہاڑوں پر رکھی، اور جس کے دروازوں کو رب یعقوب کی باقی تمام آبادیوں سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے۔ پھر اچانک شاعر کی آواز خاموش ہو جاتی ہے اور خود رب بولتے ہیں: مصر اور بابل، یعنی وہی قومیں جنہوں نے اسرائیل کو غلام بنایا اور جلاوطن کیا، اُن لوگوں میں شمار کی جائیں گی جو اُسے جانتے ہیں۔ فلستیہ، صور اور ایتھوپیا کے بارے میں بھی ایک حیران کن جملہ کہا جائے گا: ”اِن کی پیدائش یہیں ہوئی ہے۔“ آخر میں رب ایک رجسٹر کھولتے ہیں، قوموں کے نام لکھتے ہیں، اور ہر نام کے ساتھ یہی نوٹ درج کرتے ہیں: صیون میں پیدا ہوئی۔ اور گیت ناچتے ہوئے گانے والوں پر ختم ہوتا ہے: ”میرے تمام چشمے تجھ میں ہیں۔“

بنیادی بات

اِس زبور کا دل ایک ایسا فعل ہے جو عبرانی میں مفعولی صورت میں آتا ہے: یُلَّد، ”وہ پیدا کیا گیا“۔ کوئی اپنی پیدائش کا فیصلہ خود نہیں کرتا۔ آپ اپنے خاندان، اپنی زبان، اپنی قوم کا انتخاب نہیں کرتے؛ یہ سب آپ کو دیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ لفظ ہے جو خدا اُن قوموں پر لگاتے ہیں جو صیون سے سینکڑوں میل دور، دوسرے دیوتاؤں کے سائے میں پلی بڑھی تھیں۔ شہریت یہاں فتح سے نہیں، نسب سے نہیں، بلکہ ایک نئی پیدائش سے ملتی ہے جسے خدا خود رجسٹر میں درج کرتے ہیں۔ غور کریں کہ زبور یہ نہیں کہتا کہ مصر اور بابل اپنی بغاوت سے تائب ہو کر آئے؛ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ رب اُنہیں ”اُن لوگوں میں شمار“ کرتے ہیں جو اُسے جانتے ہیں۔ شمار کرنا خدا کا کام ہے۔ یہ فضل ہے، اور فضل ہمیشہ کسی اور کے قلم سے لکھا جاتا ہے۔

کہانی کا دھاگا

یہ رجسٹر بند نہیں ہوا۔ صدیوں بعد پولس رسول گلتیوں کو لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اوپر کا یروشلم آزاد ہے اور وہی ہم سب کی ماں ہے، اور اچانک زبور ۸۷ کی زبان ایک کلیسیا کے گرد کھڑی ہو جاتی ہے جس میں یونانی، رومی اور یہودی ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں۔ مسیح وہ بنیاد ہیں جس پر یہ شہر کھڑا ہے، اور اُن کی موت اور جی اُٹھنے میں وہ پیدائش ممکن ہوئی جس کا یہ زبور صرف اعلان کرتا ہے مگر وضاحت نہیں کرتا۔ غور کریں: زبور یہ نہیں بتاتا کہ مصری آدمی صیون میں پیدا کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ سوال کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسے کوئی دروازہ آدھا کھلا رہ جائے، اور صلیب پر جا کر ہی اُس کا جواب ملتا ہے۔

آئینہ

ہم سب اپنے اندر ایک چھوٹا سا رجسٹر رکھتے ہیں۔ اُس میں ہم لوگوں کو درج کرتے ہیں: یہ ہمارا، یہ پرایا؛ یہ قابلِ اعتبار، یہ مشکوک۔ وہ رشتہ دار جس نے جائیداد میں دھوکا دیا، وہ ہمسایہ جس کا مذہب ہمیں خطرہ لگتا ہے، وہ ساتھی جس نے دفتر میں آپ کی ساکھ خراب کی۔ زبور ۸۷ آپ کی فہرست کے مقابل خدا کی فہرست رکھ دیتا ہے، اور خدا کی فہرست میں بابل کا نام لکھا ہے۔ یہ تسلی نہیں، یہ چوٹ ہے۔ کیونکہ اگر خدا اُسے شمار کرتے ہیں جسے میں نے کاٹ دیا، تو میرا حساب کتاب اُن کے دفتر میں منظور نہیں ہوا۔ آج ہی ایک کاغذ پر اُس شخص یا اُس گروہ کا نام لکھیں جسے آپ دل میں ”اپنوں“ سے باہر رکھتے ہیں، اُس نام کے نیچے یہ جملہ لکھیں: ”اِن کی پیدائش یہیں ہوئی ہے“، اور وہ کاغذ ہاتھ میں پکڑ کر ایک منٹ خاموشی سے دعا کریں۔

کلام کی گونج

یسعیاہ نبی کے انیسویں باب میں ایک ایسا ہی دھماکہ ہوتا ہے: خدا مصر کو اپنی قوم اور اسور کو اپنے ہاتھوں کا کام کہہ کر اسرائیل کے ساتھ تیسرا شریک بنا دیتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں۔ اسرائیل کے صحیفوں میں ایک باریک مگر مسلسل دھارا بہتا ہے جو قوموں کو دشمنوں کی فہرست سے نکال کر خاندان کی فہرست میں رکھ دیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ یسعیاہ مستقبل کی بات کرتا ہے جبکہ ہمارا زبور ایک رجسٹر کھول کر دکھاتا ہے، گویا کام پہلے ہی ہو چکا ہو۔ اور آخری مصرع اِس سارے الہٰیات کو ایک جسمانی تصویر میں بدل دیتا ہے: ”میرے تمام چشمے تجھ میں ہیں۔“ بیابانی زمین کے لوگ جانتے تھے کہ چشمہ کیا ہوتا ہے۔ زندگی وہیں سے پھوٹتی ہے جہاں پانی ہو۔

مشکل سوال

اگر خدا مصر اور بابل کو بھی شہری لکھتے ہیں، تو صیون کا ”زیادہ پیار“ کس کام کا؟ زبور دونوں باتیں ایک ساتھ کہتا ہے اور اُنہیں آپس میں ملانے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ انتخاب کو ختم نہیں کرتا، وہ اُسے کھول دیتا ہے۔ مگر ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے جسے ہم آسانی سے نہیں دبا سکتے: کیا وہ قومیں بھی اِس فہرست میں ہیں جو آج بھی کلیسیا کو ستاتی ہیں؟ متن ہمیں تسلی دینے والا جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ قلم رب کے ہاتھ میں ہے۔ شاید یہی اِس زبور کی سب سے بڑی آزمائش ہے: ہمیں وہ فہرست پڑھنے کی اجازت نہیں، صرف اُس پر بھروسا کرنے کی۔

پہلے سننے والے

قورح کی اولاد یروشلم کی ہیکل میں گانے والے تھے۔ اُن کے سامعین وہ لوگ تھے جنہوں نے یا تو جلاوطنی دیکھی تھی یا اپنے دادا سے اُس کی کہانیاں سنی تھیں۔ بابل اُن کے لیے کوئی علامت نہیں، ایک زخم تھا؛ مصر وہ ملک تھا جس کی اینٹوں میں اُن کے آباؤاجداد کا پسینہ گُندھا ہوا تھا۔ اب یہ گانے والے مندر کے صحن میں کھڑے ہو کر گاتے ہیں کہ یہی دونوں نام خدا کے رجسٹر میں درج ہوں گے۔ سوچیں کہ یہ سننا کیسا لگا ہو گا: فخر اور چوٹ ایک ساتھ۔ ایک چھوٹی، تباہ شدہ قوم کو بتایا جا رہا تھا کہ اُس کا شہر دنیا کی جائے پیدائش ہے، اور ساتھ ہی یہ کہ اُس کے قاتل بھی وہیں پیدا ہوں گے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کے اندرونی رجسٹر میں کون سا نام ایسا ہے جسے آپ خدا کے قلم سے لکھا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے، اور یہ بات آپ کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

اگر آپ کی اصل شہریت پیدائش سے ہے نہ کہ کارکردگی سے، تو آج آپ کس بات کو ثابت کرنے کی کوشش چھوڑ سکتے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Psalms 87 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

زبور 87 کا کیا مطلب ہے؟
یہ گیت ایک شہر سے شروع ہوتا ہے جس کی بنیاد خدا نے خود مُقدّس پہاڑوں پر رکھی، اور جس کے دروازوں کو رب یعقوب کی باقی تمام آبادیوں سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے۔ پھر اچانک شاعر کی آواز خاموش ہو جاتی ہے اور خود رب بولتے ہیں: مصر اور بابل، یعنی وہی قومیں جنہوں نے اسرائیل کو غلام بنایا اور جلاوطن کیا، اُن لوگوں میں شمار کی جائیں گی جو اُسے جانتے ہیں۔ فلستیہ، صور اور ایتھوپیا کے بارے میں بھی ایک حیران کن جملہ کہا جائے گا: ”اِن کی پیدائش یہیں ہوئی ہے۔“ آخر میں رب ایک رجسٹر کھولتے ہیں، قوموں کے نام لکھتے ہیں، اور ہر نام کے ساتھ یہی نوٹ درج کرتے ہیں: صیون میں پیدا ہوئی۔ اور گیت ناچتے ہوئے گانے والوں پر ختم ہوتا ہے: ”میرے تمام چشمے تجھ میں ہیں۔“
زبور 87 کس بارے میں ہے؟
یہ رجسٹر بند نہیں ہوا۔ صدیوں بعد پولس رسول گلتیوں کو لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اوپر کا یروشلم آزاد ہے اور وہی ہم سب کی ماں ہے، اور اچانک زبور ۸۷ کی زبان ایک کلیسیا کے گرد کھڑی ہو جاتی ہے جس میں یونانی، رومی اور یہودی ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں۔ مسیح وہ بنیاد ہیں جس پر یہ شہر کھڑا ہے، اور اُن کی موت اور جی اُٹھنے میں وہ پیدائش ممکن ہوئی جس کا یہ زبور صرف اعلان کرتا ہے مگر وضاحت نہیں کرتا۔ غور کریں: زبور یہ نہیں بتاتا کہ مصری آدمی صیون میں پیدا کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ سوال کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسے کوئی دروازہ آدھا کھلا رہ جائے، اور صلیب پر جا کر ہی اُس کا جواب ملتا ہے۔
زبور 87 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ نبی کے انیسویں باب میں ایک ایسا ہی دھماکہ ہوتا ہے: خدا مصر کو اپنی قوم اور اسور کو اپنے ہاتھوں کا کام کہہ کر اسرائیل کے ساتھ تیسرا شریک بنا دیتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں۔ اسرائیل کے صحیفوں میں ایک باریک مگر مسلسل دھارا بہتا ہے جو قوموں کو دشمنوں کی فہرست سے نکال کر خاندان کی فہرست میں رکھ دیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ یسعیاہ مستقبل کی بات کرتا ہے جبکہ ہمارا زبور ایک رجسٹر کھول کر دکھاتا ہے، گویا کام پہلے ہی ہو چکا ہو۔ اور آخری مصرع اِس سارے الہٰیات کو ایک جسمانی تصویر میں بدل دیتا ہے: ”میرے تمام چشمے تجھ میں ہیں۔“ بیابانی زمین کے لوگ جانتے تھے کہ چشمہ کیا ہوتا ہے۔ زندگی وہیں سے پھوٹتی ہے جہاں پانی ہو۔
زبور 87 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
قورح کی اولاد یروشلم کی ہیکل میں گانے والے تھے۔ اُن کے سامعین وہ لوگ تھے جنہوں نے یا تو جلاوطنی دیکھی تھی یا اپنے دادا سے اُس کی کہانیاں سنی تھیں۔ بابل اُن کے لیے کوئی علامت نہیں، ایک زخم تھا؛ مصر وہ ملک تھا جس کی اینٹوں میں اُن کے آباؤاجداد کا پسینہ گُندھا ہوا تھا۔ اب یہ گانے والے مندر کے صحن میں کھڑے ہو کر گاتے ہیں کہ یہی دونوں نام خدا کے رجسٹر میں درج ہوں گے۔ سوچیں کہ یہ سننا کیسا لگا ہو گا: فخر اور چوٹ ایک ساتھ۔ ایک چھوٹی، تباہ شدہ قوم کو بتایا جا رہا تھا کہ اُس کا شہر دنیا کی جائے پیدائش ہے، اور ساتھ ہی یہ کہ اُس کے قاتل بھی وہیں پیدا ہوں گے۔
زبور 87 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر آپ کی اصل شہریت پیدائش سے ہے نہ کہ کارکردگی سے، تو آج آپ کس بات کو ثابت کرنے کی کوشش چھوڑ سکتے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Psalms 87 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 1

اے خدا، تُو نے اپنے شہر کی بنیاد مضبوط پہاڑوں پر رکھی ہے، اور میری زندگی کی بنیاد بھی تُو ہی ہے۔ جب سب کچھ ہلتا محسوس ہو، مجھے یاد دلا کہ جو تُو نے قائم کیا وہ گرتا نہیں۔ مجھے اپنی محبت کی چٹان پر تھامے رکھ۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں