روت 1
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
روت کی کتاب کا آغاز ایک تاریخ سے ہوتا ہے: ”اُن دنوں جب قاضی قوم کی راہنمائی کیا کرتے تھے۔“ یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بےترتیب دور تھا، جب ہر کوئی وہی کرتا تھا جو اُسے ٹھیک لگتا تھا۔ اور اُسی دور میں کال پڑا۔ کال کہاں؟ بیت لحم میں، جس کے نام کا مطلب ہی ”روٹی کا گھر“ ہے۔ روٹی کے گھر میں روٹی ختم ہو گئی۔ کہانی پہلی ہی سطر میں ایک زخم کھول دیتی ہے۔
اِلی مَلِک اپنی بیوی نعومی اور دو بیٹوں کو لے کر ملکِ موآب چلا جاتا ہے۔ موآب کوئی عام جگہ نہیں تھی؛ وہ اسرائیل کا پرانا حریف تھا، اجنبی دیوتاؤں کا ملک۔ بھوک انسان کو وہاں لے جاتی ہے جہاں وہ کبھی جانا نہیں چاہتا تھا۔ اور پھر تین قبریں کھدتی ہیں۔ پہلے شوہر، پھر تقریباً دس سال بعد دونوں بیٹے۔ متن بےرحم حد تک مختصر ہے: ”اب نعومی کا نہ شوہر اور نہ بیٹے ہی رہے تھے۔“ اُس زمانے میں یہ صرف جذباتی نقصان نہیں تھا، یہ معاشی اور سماجی موت تھی۔ ایک بوڑھی بیوہ، پردیس میں، بغیر کسی سہارے کے۔
پھر ایک خبر آتی ہے: ”رب اپنی قوم پر رحم کر کے اُسے دوبارہ اچھی فصلیں دے رہا ہے۔“ نعومی گھر کی طرف چل پڑتی ہے۔ راستے میں وہ اپنی دونوں بہوؤں کو واپس بھیجنے کی کوشش کرتی ہے، اور اُس کی دلیل ٹھنڈی منطق پر مبنی ہے: میرے ہاں اَور بیٹے پیدا نہیں ہوں گے، میرے ساتھ تمہارا کوئی مستقبل نہیں۔ عُرفہ روتی ہے، بوسہ دیتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔ اُسے ولن مت سمجھو؛ اُس نے وہی کیا جو اُس کی ساس نے دو بار کہا تھا۔ لیکن روت ”نعومی کے ساتھ لپٹی رہی“ اور وہ الفاظ کہتی ہے جو آج تک عہد کی سب سے خوبصورت تعریف ہیں: ”جہاں آپ جائیں گی مَیں جاؤں گی۔ جہاں آپ رہیں گی وہاں مَیں بھی رہوں گی۔ آپ کی قوم میری قوم اور آپ کا خدا میرا خدا ہے۔“
بیت لحم میں پورا شہر ہل جاتا ہے۔ عورتیں پوچھتی ہیں، ”کیا یہ نعومی نہیں ہے؟“ اور وہ جواب دیتی ہے: ”اب مجھے نعومی مت کہنا بلکہ مارہ“، یعنی مجھے ”خوشگوار“ نہیں، ”کڑوی“ کہو۔ باب ایک چھوٹے سے جملے پر ختم ہوتا ہے: جَو کی فصل کی کٹائی شروع ہو چکی تھی۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ نوٹ کرو کہ بائبل نعومی کی زبان بند نہیں کرتی۔ وہ کہتی ہے: ”رب نے خود میرے خلاف گواہی دی ہے، قادرِ مطلق نے مجھے اِس مصیبت میں ڈالا ہے۔“ یہ کوئی صاف ستھری، ایمان سے بھری گواہی نہیں ہے۔ یہ الزام ہے۔ اور کوئی راوی بیچ میں آ کر اُسے درست نہیں کرتا، کوئی نہیں کہتا کہ ”بہن، ایسا مت بولو۔“ خدا کا کلام ایک عورت کے غم کو سنسر کیے بغیر ریکارڈ کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان اور غصہ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ جو شخص خدا سے شکایت کرتا ہے وہ کم از کم اُسی سے بات کر رہا ہے۔ لاتعلقی، نہ کہ شکایت، ایمان کی اصل موت ہے۔
دوسری بات یہ کہ نعومی خود کو ”خالی ہاتھ“ کہتی ہے، حالانکہ اُس کے پہلو میں روت کھڑی ہے۔ درد ہمیں اندھا کر دیتا ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کا حساب اُس وقت لگاتے ہیں جب ہمارے پاس سب سے کم روشنی ہوتی ہے، اور پھر اُس حساب کو حتمی سچ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ تمہارا سب سے تاریک تجزیہ تمہاری کہانی کا آخری لفظ نہیں ہے۔
اور تیسری بات: روت ایک موآبی ہے۔ وہ اسرائیل کے خدا کو کسی شاندار معجزے کی وجہ سے نہیں چنتی، بلکہ ایک ٹوٹی ہوئی، کڑوی ساس کے ساتھ چلتے چلتے چنتی ہے۔ گواہی ہمیشہ کامیاب لوگوں سے نہیں پھیلتی۔ کبھی کبھی کوئی تمہارے خدا کو صرف اِس لیے دیکھتا ہے کہ تم نے اپنے سب سے برے دن میں بھی اُس کا نام لینا نہیں چھوڑا۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
آخری آیت کو نظرانداز مت کرو۔ ”جَو کی فصل کی کٹائی شروع ہو چکی تھی۔“ راوی خاموشی سے اشارہ کر رہا ہے: جہاں نعومی خالی پن دیکھ رہی ہے، وہاں خدا پہلے سے کھیت پکا چکے ہیں۔ اُس کھیت میں ایک بوعز ہے، اور بوعز اور روت سے عوبید پیدا ہوگا، عوبید سے یسّی، یسّی سے داؤد۔ اور صدیوں بعد اُسی بیت لحم میں، اُسی خاندان میں، خداوند یسوع مسیح پیدا ہوں گے۔
یعنی وہ موآبی عورت جسے شریعت کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا تھا، مسیح کے نسب نامے میں کھڑی ہے۔ فضل قوموں کی سرحدیں پار کرتا ہے۔ اور جو نعومی کہتی ہے کہ خدا نے اُسے خالی کر دیا، وہ بات ایک اَور طرح سے سچ ہوگی: مسیح خود اپنے آپ کو خالی کریں گے، بیت لحم سے صلیب تک، تاکہ ہم بھرے جائیں۔ خدا خالی ہاتھوں سے کام کرنا جانتے ہیں۔
تمہارے لیے
تمہارے لیے یہاں دو چیزیں ہیں۔ پہلی: دعا میں سچ بولنا سیکھو۔ اگر تم خدا سے ناراض ہو تو یہ اُنہیں بتاؤ۔ وہ نعومی کی زبان برداشت کر سکے، وہ تمہاری بھی برداشت کریں گے۔ مذہبی الفاظ کا نقاب پہن کر دعا کرنا دراصل خدا سے فاصلہ ہے۔
دوسری: وفاداری کا فیصلہ اکثر جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ روت کے پاس کوئی منطقی وجہ نہیں تھی؛ نعومی نے اُسے صاف بتا دیا تھا کہ ساتھ چلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اُس نے پھر بھی چنا۔ ہماری نسل رشتوں کو اُس وقت تک رکھتی ہے جب تک وہ ”کام کے“ ہوں۔ عہد اِس کے برعکس ہے: مَیں رہوں گا، چاہے مجھے کچھ نہ ملے۔
اور یہ رہی اصل چیلنج: کسی ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچو جو اِس وقت تمہاری زندگی میں ”فائدہ مند“ نہیں ہے۔ وہ جو ہمیشہ اداس رہتا ہے، جس کے ساتھ بیٹھنا تھکا دیتا ہے، جسے گروپ نے چھوڑ دیا ہے۔ اگلے ایک مہینے تک اُس کے ساتھ رہو، بغیر اِس اعلان کے کہ تم کوئی نیکی کر رہے ہو، اور بغیر کسی بدلے کی توقع کے۔ اگر یہ مشکل لگے تو ٹھیک ہے؛ روت کے لیے بھی یہ مشکل تھا۔
بات چیت کے لیے
کیا تم نے کبھی خدا سے کھل کر شکایت کی ہے، یا تم دعا میں صرف وہی کہتے ہو جو ”مناسب“ لگتا ہے؟ کیا چیز تمہیں ایماندار ہونے سے روکتی ہے؟
نعومی نے خود کو ”خالی ہاتھ“ کہا حالانکہ روت اُس کے ساتھ کھڑی تھی۔ تمہاری زندگی میں وہ کون سی نعمت ہے جسے تم اپنے درد کی وجہ سے دیکھ نہیں پا رہے؟
مل کر دعا
اے خداوند، آپ جانتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کہاں کال پڑا ہے اور کہاں قبریں کھدی ہیں۔ ہمیں سچ بولنے کی ہمت دیجیے، اپنے دل کی کڑواہٹ کے ساتھ بھی آپ کے حضور آنے کی جرأت دیجیے۔ ہمیں روت جیسی وفاداری عطا کیجیے، جو نفع دیکھے بغیر ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ اور جب ہمیں لگے کہ سب ختم ہو گیا ہے، تو ہمیں یاد دلائیے کہ آپ نے کہیں چپکے سے فصل پکانا شروع کر دی ہے۔ خداوند یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔
روت 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
روت 1 کس بارے میں ہے؟
روت 1 کیا کہتا ہے؟
روت 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان روت 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
روت 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
دس سال بعد نعومی واپس آئی تو شہر کی عورتیں اُسے پہچان نہ سکیں، ”کیا یہ نعومی ہے؟“ دُکھ چہرے پر لکھا جاتا ہے، اور کبھی کبھی ہم اُس صورت میں لوٹتے ہیں جس میں کوئی ہمیں دیکھنا نہیں چاہتا۔ لیکن وہ لوٹ تو آئی۔ خالی ہاتھ، ٹوٹی ہوئی، پھر بھی راستے پر۔ کیا تُو بھی خدا کے پاس ویسا ہی آنے کو تیار ہے جیسا تُو اِس وقت ہے؟
نعومی روت کو تیسری بار پیچھے دھکیلتی ہے: ”دیکھ، تیری دیورانی اپنی قوم اور اپنے دیوتاؤں کے پاس واپس چلی گئی ہے۔ اب تُو بھی ایسا ہی کر!“ سب سے مشکل آواز وہی ہوتی ہے جو کہے، دیکھ، باقی سب تو لوٹ گئے۔ اور سچ یہ ہے کہ عرفہ نے کچھ غلط نہیں کیا، وہ بس گھر چلی گئی۔ مگر روت نے خالی ہاتھ ساس کے ساتھ رہنا چنا۔ آج کوئی تجھے بھی نرمی سے کہہ رہا ہے کہ چھوڑ دے۔ تُو کیا جواب دے گا؟
نعومی خالی ہاتھ لوٹی تھی، اپنے دل میں کڑواہٹ لیے ہوئے۔ لیکن دیکھیں وہ کس وقت بیت لحم پہنچی: "جب وہ بیت لحم پہنچیں تو جَو کی فصل کی کٹائی شروع ہو چکی تھی۔" اُسے ابھی نظر نہیں آ رہا تھا، مگر خدا پہلے سے کھیت تیار کر چکا تھا۔ شاید آپ بھی خالی ہاتھ لوٹے ہیں۔ ذرا غور کریں، آپ کس موسم میں پہنچے ہیں؟
بیت لحم کا مطلب ہے "روٹی کا گھر"، مگر وہیں کال پڑا۔ سوچیں، جس جگہ کا نام ہی روٹی تھا وہاں روٹی نہ رہی۔ اِسی لیے ایک خاندان اپنا گھر چھوڑ کر موآب چلا گیا، اجنبیوں کے بیچ۔ کیا آپ بھی کبھی وہاں خالی ہاتھ رہ گئے جہاں سب کچھ ملنے کی اُمید تھی؟ یہ کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے، اور خدا اِسے چھوڑ کر نہیں جاتا۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں